🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها
جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35165 ترقیم الشثری: -- 36738
٣٦٧٣٨ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن جويبر عن الضحاك: ﴿اولئك يجزون الغرفة﴾ [الفرقان: ٧٥] قال: الغرفة الجنة.
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { أُولَئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَۃَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غرفہ سے مراد جنت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36738]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36738، ترقيم محمد عوامة 35165)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35166 ترقیم الشثری: -- 36739
٣٦٧٣٩ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن يعلى بن مسلم عن مجاهد ان عمر بن الخطاب قرا على المنبر: ﴿جنات عدن﴾ [التوبة: ٧٣] فقال: وهل تدرون ما جنات عدن؟ قال: قصر في الجنة له خمسة آلاف باب، على كل باب خمسة وعشرون الفا من الحور العين، لا يدخله إلا نبي، هنيئا لصاحب القبر -واشار إلى قبر رسول الله ﷺ وصديق هنيئا لابي بكر، وشهيد وانى لعمر (بالشهادة) (١) ، ثم قال: والذي اخرجني من (منزلي) (٢) ⦗١٦٤⦘ (بالجثمة) (٣) إنه لقادر على ان يسوقها إلي (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (شهادة).
(٢) في [هـ]: (ضري).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، هـ]، وفي [ع، م]: (با) ثم بياض، والجثمة: موضع بمكة قرب الحجون، وأصله الأكمة من الحجارة.
(٤) منقطع؛ مجاهد لم يسمع من عمر، أخرجه الحارث كما في بغية الباحث (٩٦٣)، وابن عساكر ٤٤/ ٤٠٥، والفاكهي في أخبار مكة (٢٥١٦).

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر قرآن کریم کی آیت جنات عدن تلاوت فرمائی اور فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو جنات عدن کیا ہیں؟ فرمایا وہ جنت میں ایک محل ہے جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی داخل ہوں گے، مبارک خوشخبری ہے اس قبر والے کیلئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف اشارہ فرمایا اور اس میں صدیق داخل ہوں گے خوشخبری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے اور اس میں شہید داخل ہوں گے اور بیشک میں شہادت کا منتظر ہوں وَأَنَّی لِعُمَرَ بِالشَّہَادَۃ پھر فرمایا، قسم اس ذات کی جس نے مجھے میرے گھر سے نکالا وہ اس بات پر قادر ہے کہ اس شہادت کو میری طرف لے آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36739]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36739، ترقيم محمد عوامة 35166)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35167 ترقیم الشثری: -- 36740
٣٦٧٤٠ - حدثنا وكيع قال: ثنا سفيان عن منصور عن ابي الضحى عن مسروق عن عبد الله ﴿جنات عدن﴾ قال: بطنان الجنة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنات عدن سے مراد جنت کا درمیان ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36740]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36740، ترقيم محمد عوامة 35167)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35168 ترقیم الشثری: -- 36741
٣٦٧٤١ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن حميد بن هلال عن (بشير) (١) بن كعب قال: قال كعب: إن في الجنة ياقوتة ليس فيها صدع ولا وصل فيها سبعون الف دار، في كل دار سبعون الفا من الحور العين، لا يدخلها إلا نبي او صديق او شهيد او إمام عادل او محكم في نفسه، قال: قلنا: يا كعب وما المحكم في نفسه؟ قال: الرجل (ياخذه) (٢) العدو فيحكمونه بين ان يكفر او يلزم الإسلام فيقتل، فيختار ان يلزم الإسلام.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بشر).
(٢) في [هـ]: (يأخذ).

حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنت میں ایک یا قوت ہے جس میں نہ سوراخ ہے اور نہ ہی جوڑ ہے جنت میں ستر ہزار گھر ہیں اور ہر گھر میں ستر ہزار حوریں ہیں اس میں صرف نبی، صدیق، شہید، عادل بادشاہ یا وہ شخص داخل ہوگا جو اپنے نفس پر فیصلہ کرنے والا ہوگا راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے کعب؟ محکم فی نفسہ کون شخص ہے؟ فرمایا وہ شخص جس کو دشمن پکڑ لیں پھر اس کو اختیار دیں کہ وہ کفر اختیار کرلے یا پھر اسلام کو لازم پکڑے تو اس کو شہید کردیا جائے اور وہ اسلام پر ثابت قدم رہنے کو لازم پکڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36741]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36741، ترقيم محمد عوامة 35168)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35169 ترقیم الشثری: -- 36742
٣٦٧٤٢ - حدثنا سفيان ابن عيينة عن عمرو (عن عمرو) (١) بن اوس عن عبد الله ابن (عمرو) (٢) يبلغ به النبي ﷺ قال:"إن المقسطين عند الله على منابر من نور عن يمين الرحمن -وكلتا يديه يمين- الذين يعدلون في حكمهم واهليهم وما ولوا" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (عمر).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٤٩٢)، ومسلم (١٨٢٧).

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انصاف کرنے والے لوگ قیامت کے دن الرحمن کے داہنی جانب نور کے منبروں پر ہوں گے، رحمن کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں منصفین وہ لوگ ہیں جو اپنے فیصلوں میں، اھل و عیال کے ساتھ اور جس چیز میں ان کو ولایت دی جائے اس میں انصاف کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36742]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36742، ترقيم محمد عوامة 35169)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35170 ترقیم الشثری: -- 36743
٣٦٧٤٣ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب عن عبد الله بن عمرو ان رسول الله ﷺ قال:"إن المقسطين في الدنيا على منابر من لؤلؤ يوم القيامة بين يدي الرحمن بما اقسطوا في الدنيا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٤٨٥)، والحاكم ١٣/ ١٢٨، ٤/ ٨٨، وبنحوه النسائي (٥٩١٧)، وأصله في مسلم (١٨٢٧).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا انصاف کرنے والے قیامت کے دن اپنے انصاف کی وجہ سے رحمن کے سامنے موتیوں کے منبروں پر ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36743]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36743، ترقيم محمد عوامة 35170)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35171 ترقیم الشثری: -- 36744
٣٦٧٤٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا ابو حيان عن ابي زرعة عن ابي هريرة عن النبي ﷺ قال:"والذي نفسي بيده إن ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وهجر، او كما بين مكة وبصرى" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٧١٢)، ومسلم (١٩٤).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت کے دروازوں کے کواڑ کا درمیانی فاصلہ اتنا ہوگا جتنا مکہ اور ہجر کے درمیان ہے یا مکہ اور بصریٰ کے درمیان ہے، یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر ارشاد فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36744]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36744، ترقيم محمد عوامة 35171)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35172 ترقیم الشثری: -- 36745
٣٦٧٤٥ - حدثنا وكيع عن قرة عن حميد بن هلال عن خالد بن عمير وعن ابي نعامة سمعه من خالد بن عمير قال: خطبنا عتبة بن غزوان فقال: إن ما بين المصراعين من ابواب الجنة لمسيرة اربعين عاما، ولياتين على ابواب الجنة يوم وليس منها باب إلا وهو كظيظ (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه الطبراني ١٧ (٢٨١)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٧١، وهناد في الزهد (٧٧٠)، والخطيب ٦١/ ١٨٢، وأخرجه مسلم (٢٩٦٧) بلفظ: (وذكر لنا).
حضرت خالد بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جنت کے دروازوں کے کواڑ کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہوگا اور ضرور بضرور جنت کے دروازوں پر ایک دن آئے گا ہر دروازہ بھرا ہوا ہو گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36745]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36745، ترقيم محمد عوامة 35172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35173 ترقیم الشثری: -- 36746
٣٦٧٤٦ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن ابي عثمان عن كعب قال: ما بين مصراعي الجنة اربعون خريفا للراكب المجد، ولياتين عليه يوم وهو كظيظ الزحام.
حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنت کے دو کو اڑوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس خریف ہے سر گرم اور تیز سوار کیلئے اور ان پر ایک دن ایسا آئے گا وہ ازدحام کی وجہ سے بھر جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36746]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36746، ترقيم محمد عوامة 35173)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35174 ترقیم الشثری: -- 36747
٣٦٧٤٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ابي المهزم قال: سمعت ابا هريرة قال: دار المؤمن في الجنة من لؤلؤة، فيها اربعون بيتا، في وسطها شجرة تنبت الحلل، فياتيها فياخذ باصبعه سبعين حلة ⦗١٦٦⦘ (منطقة) (١) باللؤلؤ والمرجان (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في: [هـ] (ممنطقة)، وفي الزهد لهناد (١٢٥): (منقطة)، وفي زيادات الزهد لابن المبارك (٢٦٢): (منظمة)، وفي الدر المنثور ٧/ ٧٢٢: (ممنطقة)، وفي تفسير ابن زمنين ٤/ ٣٤: (منظمة).
(٢) ضعيف جدًا؛ أبو المهزم متروك

حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: جنت میں مومن کا گھر موتیوں کا ہوگا، اس میں چالیس کمرے ہوں گے ان کے درمیان ایک درخت ہے جس پر کپڑے لگتے ہیں وہ جنتی اس درخت کے پاس آئے گا اور اپنی انگلی پر ستر جوڑے پکڑے گا، جن کی پٹی موتیوں اور مرجان کے ساتھ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36747]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36747، ترقيم محمد عوامة 35174)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں