🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. ما ذكر في (صفة) الجنة وما فيها مما أعد لأهلها
جنت کی صفات اور جنتیوں کیلئے جن چیزوں کا وعدہ ہے ان کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35144 ترقیم الشثری: -- 36718
٣٦٧١٨ - حدثنا ابو اسامة عن سفيان عن ابي (بلج) (١) قال: سمعت إبراهيم يقول: في الجنة (جماع) (٢) ما شاؤوا ولا ولد، قال: (فيلتفت) (٣) فينظر النظرة (فتنشا) (٤) له الشهوة، ثم ينظر النظرة (فتنشا) (٥) له شهوة اخرى.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (ملح).
(٢) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ط، هـ]: (فينشأ).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فينشأ).

حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جنتی جتنا مرضی چاہے ہمبستری کرے اولاد نہ ہوگی، وہ ایک لمحے کیلئے پلٹے گا تو اس کیلئے دوبارہ شہوت پیدا ہوجائے گی پھر ایک لمحے کیلئے توقف کے بعد اس کیلئے دوبارہ شہوت پیدا ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36718، ترقيم محمد عوامة 35144)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35145 ترقیم الشثری: -- 36719
٣٦٧١٩ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن منصور قال: سئل ابن عباس افي الجنة ولد؟ قال: إن شاؤوا (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ منصور لم يسمع من ابن عباس، وأخرجه ابن أبي حاتم (١٥٠١٩).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ کیا جنت میں اولاد ہوگی؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا: اگر وہ چاہیں تو ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36719]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36719، ترقيم محمد عوامة 35145)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35146 ترقیم الشثری: -- 36720
٣٦٧٢٠ - حدثنا زيد بن الحباب عن موسى بن عبيدة قال: حدثني محمد بن كعب عن عوف بن مالك الاشجعي قال: قال رسول الله ﷺ:"إني لاعلم آخر اهل الجنة دخولا الجنة، رجلا كان يسال الله ان يزحزحه عن النار، إذا دخل اهل الجنة الجنة واهل النار النار كان بين ذلك، فقال: يا رب ادنني من باب الجنة، فقيل: يا ابن آدم الم تسال ان تزحزح عن النار، (فقال) (١) : (يا رب) (٢) ومن مثلك؟ فادنني من باب الجنة (٣) ، فنظر إلى شجرة عند باب الجنة فقال: ادنني منها لاستظل بظلها وآكل من ثمرها، قال: يا ابن آدم الم تقل، فقال: يا رب ومن مثلك؟ فادنني منها (فراى) (٤) افضل من ذلك، فقال: يا رب ادنني (منها) (٥) ، فقال: يا ابن آدم الم تقل، حتي قال: يا رب ومن مثلك؟ فادنني، فقيل: اعد -قال ابو بكر: العدو: الشد- فلك ما بلغته قدماك وراته عيناك، قال: فيعدو حتى إذا بلح -يعني اعيا- قال: يا رب، هذا لي وهذا لي، فيقال: لك مثله واضعافه، فيقول: قد رضي عني ربي، فلو اذن لي في كسوة اهل الدنيا وطعامهم لاوسعتهم" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (قال).
(٢) سقط من: [ط، هـ].
(٣) في المطالب العالية (٤٥٤٣) زيادة: (فيدنى منها)، وفي [أ، ب]: زيادة (فقال: يا بأن آدم ألم تسال أن تزحزح عن النار، قال: ومن مثلك، فأدنني من باب الجنة)، وفي [جـ]: بدل (فقال): (فقيل).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (إل)، وفي [هـ]: (وإلى).
(٥) سقط من: [هـ].
(٦) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، أخرجه الطبراني ١٨/ (١٤٣)، والبزار (٢٧٦٠)، وابن المبارك في الزهد (١٢٦٥)، وأبو نعيم في صفة الجنة (٤٥٣).

حضرت عوف بن مالک سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جس کو جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شخص ہوگا جو اللہ سے سوال کرے گا کہ اس کو جہنم سے نکال دیا جائے یہاں تک کہ جب جنتیوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور جہنمی لوگ جہنم میں داخل ہوجائیں یہ ان کے درمیان ہوگا وہ عرض کرے گا اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا اے ابن ادم! کیا تو نے سوال نہیں کیا تھا کہ تجھ کو جہنم سے نکال دیا جائے؟ وہ عرض کرے گا آپ کی طرح کون ہے اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے۔ پھر وہ جنت کے دو وازے کے پاس درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا، مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور امن کا پھل کھا سکوں اللہ فرمائیں گے ابن آدم! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ پھر سوال نہ کروں گا؟ وہ عرض کرے گا اے اللہ! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، پھر وہ اس سے بھی اعلیٰ دیکھے گا تو عرض کرے گا اے میرے اللہ! مجھے اس کے قریب کر دے اللہ فرمائے گا اے ابن آدم! کیا تو نے نہیں کہا تھا کہ دوبارہ سوال نہ کروں گا؟ وہ عرض کرے گا اللہ جی! آپ کی طرح کون ہوسکتا ہے مجھے اس کے قریب کر دے، اس کو کہا جائے گا جنت کی طرف دوڑ جتنی جنت پر تیرے قدم پڑیں اور تیری آنکھیں جتنی جنت کو دیکھے وہ تیرے لیے ہے وہ دوڑے گا یہاں تک کہ تھک کر چکنا چور ہوجائے گا تو عرض کرے گا اے اللہ! کیا یہ اور وہ میرے لیے ہے؟ اللہ فرمائے گا اس کے مثل اور اس سے دو گنا بھی تیرے لیے ہے، وہ عرض کرے گا میرا رب مجھ سے راضی ہوگیا، اگر مجھے دنیا والوں کے لباس اور ان کی خوراک کی اجازت دی جائے تو میں اس پر قادر ہوسکتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36720، ترقيم محمد عوامة 35146)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35147 ترقیم الشثری: -- 36721
٣٦٧٢١ - حدثنا يحيى بن ابي (بكير) (١) قال: ثنا زهير بن محمد عن (سهيل) (٢) ابن ابي صالح عن النعمان بن ابي عياش عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله ﷺ قال:"إن ادنى اهل الجنة منزلة رجل صرف الله (٣) وجهه عن النار قبل الجنة، ومثل له شجرة ذات ظل فقال: اي رب! قدمني إلى هذه الشجرة اكون في ظلها، فقال الله: هل عسيت إن فعلت ان تسالني غيره؟ فقال: لا وعزتك، فقدمه الله إليها، ومثل له شجرة اخرى ذات ظل وثمرة فقال: اي رب! قدمني إلى هذه الشجرة (لاكون) (٤) في ظلها وآكل من ثمرها، فقال الله: هل عسيت إن (اعطيتك) (٥) ذلك ان تسالني غيره؟ فقال: لا وعزتك، فقدمه الله إليها، فتمثل له شجرة اخرى ذات ظل وثمر وماء فيقول: اي رب، قدمني إلى هذه الشجرة اكون في ظلها وآكل من ثمرها واشرب من مائها، (فيقول) (٦) : هل عسيت إن فعلت ان تسالني غيره؟ فيقول: لا وعزتك، لا اسالك غيره، فيقدمه الله إليها، قال: فيبرز له باب الجنة فيقول: اي رب! قدمني إلى باب الجنة فكون تحت (نجاف) (٧) الجنة وانظر إلى اهلها، فيقدمه الله إليها فيرى اهل الجنة وما فيها فيقول: اي رب! ادخلني الجنة، فيدخله الله الجنة فإذا دخل الجنة قال: هذا (وهذا) (٨) لي، فيقول الله: تمن، فيتمنى، ويذكره الله: سل من كذا وكذا، حتى إذا انقطعت به الاماني قال الله: هو لك وعشرة امثاله، قال: ⦗١٥٨⦘ ثم يدخل بيته فيدخل عليه زوجتاه من الحور العين فتقولان له: الحمد لله الذي اختارك لنا واختارنا لك، فيقول: ما اعطي احد مثل ما اعطيت" (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بكر).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (محمد).
(٣) في [أ]: زيادة (عن).
(٤) في [أ، ب]: (لآكل).
(٥) في [ط، هـ]: (أعطيت).
(٦) سقط من: [أ، ب]، وفي: [هـ] (فقال اللَّه).
(٧) أي: خشبة الباب السفلية، وفي: [هـ]: (ثمار).
(٨) سقط من: [ب].
(٩) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٨)، وأحمد (١١٢١٦)، وأصله عند البخاري (٧٠٠٠).

حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ادنیٰ جنتی کا رتبہ جنت میں یہ ہوگا کہ اللہ ایک شخص کا چہرہ جہنم سے جنت کی طرف پھیر دیں گے، اس کیلئے ایک سایہ دار درخت ظاہر کیا جائے گا وہ شخص عرض کرے گا اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے اس کے قریب کر دوں تو کیا تو اس کے علاوہ مجھ سے کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں تیری عزت کی قسم نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ اس شخص کو درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کو ایک اور درخت دکھایا جائے گا جو سایہ دار اور پھل دار ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر میں تجھے یہ عطا کر دوں تو اس کے علاوہ مجھ سے دوبارہ کچھ سوال کرے گا وہ عرض کرے گا تیری عزت کی قسم نہیں اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا پھر اس کیلئے ایک اور درخت ظاہر کیا جائے گا جو سایہ دار پھل دار اور پانی والا ہوگا وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ! مجھے اس درخت کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کرسکوں اور اس کا پھل کھا سکوں اور اس کا پانی پی سکوں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اگر تجھے دے دوں تو کیا تو دوبارہ مجھ سے سوال کرے گا وہ شخص عرض کرے گا تیری عزت کی قسم اس کے علاوہ سوال نہ کروں گا، اللہ تعالیٰ اس کو اس درخت کے قریب فرما دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس شخص کیلئے جنت کے دروازے کو ظاہر فرمائے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ! مجھے جنت کے دروازے کے قریب فرما دے تاکہ میں اس کی چوکھٹ کے نیچے بیٹھ کر اس کے رہنے والوں کو دیکھ سکوں اللہ تعالیٰ اس کو قریب فرما دے گا پھر وہ شخص جنتی لوگوں کو اور جنت کی نعمتوں کو دیکھے گا تو وہ شخص عرض کرے گا اللہ جی مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل فرما دے گا جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہے گا یہ میرے لیے ہے اور یہ بھی میرے لیے ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو خواہش کر وہ خواہش کرے گا، اللہ پاک اس کو یاد دلائیں گے کہ یہ یہ سوال کر، یہاں تک کہ جب اس کی تمام خواہشات مکمل ہوجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ بھی تیرے لیے ہے اور اس کی مثل دس گنا اور بھی پھر وہ اپنے گھر میں داخل ہوگا تو اس کے پاس اس کی دو بیویاں جو حورعین میں سے ہوں گی آئیں گی اور کہیں گی تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے آپ کو ہمارے لیے اور ہمیں آپ کے لیے منتخب کیا وہ جنتی کہے گا جس طرح مجھے عطا کیا گیا ہے اس جیسا کسی کو عطا نہیں کیا گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36721]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36721، ترقيم محمد عوامة 35147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35148 ترقیم الشثری: -- 36722
٣٦٧٢٢ - حدثنا ابو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن النعمان بن (سعد) (١) عن علي في هذه الآية: ﴿يوم نحشر المتقين إلى الرحمن وفدا﴾ [مريم: ٨٥] ، (قال) (٢) : ثم قال: هل تدرون على اي شيء يحشرون؟ اما والله ما يحشرون على اقدامهم، ولكنهم يؤتون بنوق لم تر الخلائق مثلها، عليها رحال الذهب، وازمتها الزبرجد، فيجلسون عليها، ثم ينطلق بهم حتى يقرعوا باب الجنة (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح]: (سعيد).
(٢) سقط من: [جـ، هـ].
(٣) مجهول؛ لجهالة النعمان بن سعد، أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في زيادات المسند (١٣٣٣)، والطبري في التفسير ١٦/ ١٢٦.

حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنِ وَفْدًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کس چیز پر ان کو جمع کیا جائے گا؟ خدا کی قسم ان کو قدموں کے بل (چل کر) نہیں جمع کیا جائے گا بلکہ وہ ایسے اونٹوں پر آئیں گے جن کے مثل لوگوں نے پہلے دیکھا نہ ہوگا ان پر سونے کے کجاوے ہوں گے، ان کی لگا میں زبر جد کی ہوں گی وہ متقین ان پر بیٹھیں ہوں گے پھر وہ جانور ان کو لے کر چلیں گے یہاں تک کہ وہ جنت کے دروازوں کو کھٹکھٹائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36722، ترقيم محمد عوامة 35148)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35149 ترقیم الشثری: -- 36723
٣٦٧٢٣ - حدثنا قراد ابو نوح قال: حدثنا شعبة عن إسماعيل بن ابي خالد (عن رجل) (١) عن ابي هريرة في قوله: ﴿يوم نحشر المتقين إلى الرحمن وفدا﴾ على الإبل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ح، هـ].
(٢) مجهول؛ لإبهام الراوي عن أبي هريرة.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ اونٹوں پر جمع کئے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36723، ترقيم محمد عوامة 35149)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35150 ترقیم الشثری: -- 36724
٣٦٧٢٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن إبراهيم عن عبيدة عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"اني لاعرف آخر اهل النار خروجا من النار رجل يخرج منها زحفا فيقال له: انطلق فادخل الجنة، قال: فيذهب فيدخل الجنة فيجد الناس قد اتخذوا المنازل فيرجع فيقول: يا رب قد اخذ الناس المنازل قال: فيقال له: اتذكر الزمان الذي كنت فيه، فيقول: نعم، قال: فيقال له: تمن، فيتمنى، فيقال ⦗١٥٩⦘ (له) (١) : لك الذي تمنيت وعشرة اضعاف الدنيا، قال: فيقول له: اتسخر بي وانت الملك؟" قال: لقد رايت رسول الله ﷺ ضحك حتى بدت نواجذه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (لك).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٥٧١)، ومسلم (١٨٦).

حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاد فرمایا: میں اس آخری شخص کو بھی جانتا ہوں جو جہنم سے نکلے گا یہ وہ شخص ہوگا جو جہنم سے گھسٹتا ہوا نکلے گا اس کو کہا جائے گا چلو اور جنت میں داخل ہوجاؤ وہ جائے گا اور جنت میں داخل ہوجائے گا وہ وہاں جائے گا تو لوگ پہلے ہی رتبہ حاصل کرچکے ہوں گے۔ وہ واپس لوٹے گا اور عرض کرے گا اے اللہ! لوگوں نے تو اپنے رتبے حاصل کرلیے ہیں اس سے کہا جائے گا کیا تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا؟ وہ عرض کرے گا جی اس سے کہا جائے گا تو تمنا اور خواہش کر وہ خواہش کرے گا اسے کہا جائے گا جو تو نے خواہش کی ہے یہ بھی تیرے لیے ہے اور دنیا سے دس گنا زیادہ بھی تیرے لیے ہے وہ شخص عرض کرے گا اے اللہ! آپ بادشاہ ہو کر مجھ سے مزاق کر رہے ہیں؟ راوی فرماتے ہیں کہ یہ بات بیان کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں مبارک میں نے دیکھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36724، ترقيم محمد عوامة 35150)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35151 ترقیم الشثری: -- 36725
٣٦٧٢٥ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن شيبان عن فراس عن عطية عن ابي سعيد عن النبي ﷺ قال:"اول زمرة تدخل الجنة على صورة القمر ليلة البدر، والثانية على لون احسن كوكب دري في السماء إضاءة، لكل واحد منهما زوجتان، على كل زوجة سبعون حلة، يبدو مخ ساقيها من ورائها" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لحال عطية العوفي، أخرجه أحمد (١١٢٦)، والترمذي (٢٥٢٢ و ٢٥٣٥)، والطبراني في الأوسط (٩١٩)، وأبو نعيم في صفة الجنة (٢٥١)، وابن عدي في الكامل ٦/ ٢٠٤٥، وأبو الشيخ في العظمة (٥٩٢)، والبغوي (٤٣٧٤).
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں کے چاند جیسے ہوں گے اور دوسرا گروہ موتی کی طرح چمکتے ہوئے تاروں کی طرح ہوں گے ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی کے ستر جوڑے ہوں گے اور ان کی پنڈلی کے اندر کا گودا ان ستر جوڑوں میں بھی نظر آ رہا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36725، ترقيم محمد عوامة 35151)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35152 ترقیم الشثری: -- 36726
٣٦٧٢٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن مجالد عن الشعبي عن المغيرة بن شعبة قال: قال موسى: يا رب (١) (ما لادنى) (٢) اهل الجنة منزلة؟ قال: رجل يبقى في الدمنة (حيث) (٣) (يحبس) (٤) الناس، قال: فيقال له: قم فادخل الجنة، قال: اين ادخل وقد سبقني الناس؟ قال: فيقال له: تمن اربعة ملوك من ملوك الدنيا ممن كنت تتمنى مثل ملكهم وسلطانهم، قال: فيقول: فلان، قال: فيعد اربعة ثم يقال له: تمن (بقلبك) (٥) ما شئت، قال: فيتمنى، قال: ثم يقال له: اشته ما شئت، قال: فيشتهي، قال: فيقال: لك هذا وعشرة اضعافه، قال: فقال موسى: ⦗١٦٠⦘ يا رب، فما لاهل صفوتك؟ قال: فقيل: هذا الذي اردت، قال: خلقت كرامتهم وعملتها بيدي، وختمت على خزائنها ما لا عين رات ولا خطر على قلب بشر، ثم تلا: ﴿فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون﴾ [السجدة: ١٧] (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (قالا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (مالا)، وفي [هـ]: (أي عبدك أدنى).
(٣) في [هـ]: (بعد أن).
(٤) في [ط، هـ]: (يجلس).
(٥) في [ط، هـ]: (بقليل).
(٦) ضعيف؛ لضعف مجالد، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٢٢٧)، وابن جرير في التفسير ٢١/ ١٠٤، وورد من طريق غيره، أخرجه مسلم (١٨٩)، وابن جرير ٢١/ ١٠٤، والطبراني ٢٠/ (٩٨٩)، وقد ورد مرفوعًا أخرجه مسلم (١٨٩)، والترمذي (٣١٩٨)، وابن حبان (٦٢١٦).

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ! ادنیٰ جنتی کا رتبہ کیا ہوگا؟ فرمایا ایک شخص جانوروں کے باڑہ میں باقی رہے گا (کوڑے خانے میں) اس طور پر کہ لوگوں نے اس کو محبوس کیا ہوگا، اس کو حکم ہوگا جنت میں داخل ہوجاؤ وہ عرض کرے گا کہاں سے داخل ہوجاؤں لوگوں نے تو مجھ سے سبقت کرلی ہے؟ اس کو کہا جائے گا دنیا کے چار بادشاہوں کی بادشاہت اور سلطنت کے بقدر تمنا اور خواہش کر وہ کہے گا فلاں بادشاہ پس وہ چار بادشاہوں کو گنے گا پھر اس کو کہا جائے گا اپنے دل میں جو جو چاہے خواہش کر وہ تمنا کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا جو چاہو خواہش کرلے، وہ خواہش کرے گا پھر اس کو کہا جائے گا یہ سب بھی تیرے لیے ہے اور دس گنا اور بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اے اللہ! آپ کے مخلص دوستوں کیلئے کیا نعمتیں ہیں؟ ان سے کہا گیا، یہ ہے جو میں نے ارادہ کیا ہے میں نے ان کے اکرام کیلئے بنایا ہے اور اپنے ہاتھ سے بنا کر ان پر مہر لگا دی ہے، جن نعمتوں کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی بشر کے دل پر ان کا خیال تک نہیں گزرا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: { فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36726، ترقيم محمد عوامة 35152)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35153 ترقیم الشثری: -- 36727
٣٦٧٢٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عاصم بن بهدلة عن خيثمة (ان) (١) عبد الله بن عمرو قال: إن لاهل عليين كوى يشرفون (منها) (٢) فإذا اشرف احدهم اشرفت الجنة، قال: فيقول اهل الجنة: قد اشرف رجل من اهل عليين (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (عن).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) جيد الإسناد، عاصم ثقة في غير زر وأبي وائل، وأخرجه الثعلبي في التفسير ١٠/ ١٥٥.

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ علیین والوں کیلئے کھڑکیاں ہوں گی جہاں سے وہ دیکھیں گے جب انہیں اوپر سے کوئی جنتی دیکھے گا تو اس کی وجہ سے جنت روشن ہوجائے گی جنتی لوگ کہیں گے علیین میں سے کسی نے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36727، ترقيم محمد عوامة 35153)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں