مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته
جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35264 ترقیم الشثری: -- 36838
٣٦٨٣٨ - حدثنا إسماعيل ابن علية عن ابي هارون عن حطان بن عبد الله قال: قال علي: اتدرون كيف ابواب النار؟ قالوا: نعم، نحو هذه الابواب، قال: ⦗١٨٥⦘ لا، ولكنها هكذا -فوصف إطباق بعضها فوق بعض (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أبو هارون إبراهيم بن العلاء الغنوي ثقة.
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو جہنم کے دروازے کیسے ہیں؟ لوگوں نے کہا جی ہاں ان دروازوں کی طرح ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ وہ یوں ہیں اس کے بعض طبقات کو بعض کے اوپر رکھا گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36838]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36838، ترقيم محمد عوامة 35264)
ترقیم عوامۃ: 35265 ترقیم الشثری: -- 36839
٣٦٨٣٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا محمد بن عمرو قال: حدثني يحيى ابن عبد الرحمن بن حاطب عن ابيه قال: جلسنا إلى كعب الاحبار في المسجد وهو يحدث، فجاء عمر فجلس في ناحية القوم فناداه فقال: ويحك يا كعب خوفنا، فقال: والذي نفسي بيده إن النار لتقرب يوم القيامة لها زفير وشهيق حتى إذا ادنيت وقربت زفرت زفرة ما خلق الله من نبي ولا صديق ولا شهيد إلا وجثا لركبتيه ساقطا، حتى يقول كل نبي وكل صديق وكل شهيد: اللهم لا اكلفك اليوم إلا نفسي، ولو كان لك يا ابن الخطاب عمل سبعين نبيا لظننت ان لا تنجو، قال عمر: (والله) (١) إن الامر لشديد (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) حسن؛ محمد بن عمرو بن علقمة صدوق.
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت کعب بن احبار رحمہ اللہ کے پاس مسجد میں بیٹھے تھے وہ حدیث بیان کر رہے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور لوگوں کے کنارے پر تشریف فرما ہوگئے پھر ان کو پکارا اور کہا اے کعب تیرا ناس ہو، آج آپ نے ہمیں خوف زدہ کردیا حضرت کعب نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، قیامت کے دن آگ قریب ہوجائے گی اس کیلئے چیخ و پکار ہوگی یہاں تک کہ جب وہ قریب ہوجائے گی تو وہ ایک مرتبہ سانس لے گی اس کی ہیبت کی وجہ سے تمام انبیاء صدیقین اور شہداء گھٹنوں کے بل جھک جائیں گے، اور پھر ہر نبی صدیق اور شہید کہے گا: اے اللہ آج میں آپ سے صرف اپنا ہی سوال کرتا ہوں اور اے ابن خطاب! اگر تیرے لیے نبیوں کا عمل بھی ہو پھر بھی تجھے خوف ہوگا کہ تیری نجات نہ ہوگی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم معاملہ بہت زیادہ سخت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36839]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36839، ترقيم محمد عوامة 35265)
ترقیم عوامۃ: 35266 ترقیم الشثری: -- 36840
٣٦٨٤٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن شهر بن حوشب عن ام الدرداء عن ابي الدرداء قال: يلقى على اهل النار الجوع حتى يعدل عنهم ما هم فيه من العذاب، قال: فيستغيثون فيغاثون بالضريع لا يسمن ولا يغني من جوع فيستغيثون فيغاثون بطعام ذي غصة فيذكرون انهم كانوا يجيزون الغصص بالشراب، فيستغيثون فيغاثون بماء من حميم في كلاليب من حديد، فإذا ادنوه إلي وجوههم شوى وجوههم، فإذا ادخلوه بطونهم قطع ما في بطونهم، قال: فينادون: ﴿دعوا ربكم يخفف عنا يوما من العذاب﴾ قال: فيجابون: ﴿اولم تك تاتيكم رسلكم بالبينات قالوا بلى (قالوا) (١) فادعوا وما دعاء الكافرين إلا في ضلال﴾ [غافر: ٤٩ و ٥٠] قال: فيقولون: نادوا مالكا فينادون: ﴿يامالك ليقض علينا ربك﴾ قال: فاجابهم: ⦗١٨٦⦘ ﴿إنكم ماكثون﴾ [الزخرف: ٤٣] قال: فيقولون ادعوا ربكم فلا شيء ارحم بكم من ربكم قال: فيقولون: ﴿ربنا اخرجنا منها فإن عدنا فإنا ظالمون﴾! قال: فيجيبهم: ﴿اخسئوا فيها ولا تكلمون﴾ [المؤمنون: ١٠٧ و ١٠٨] قال: فعند ذلك يئسوا من كل خير وياخذون في الويل والشهيق والثبور (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (قال).
(٢) منقطع حكمًا؛ شهر مدلس، أخرجه ابن أبي الدنيا في صفة النار (٨٤)، وابن جرير ١٨/ ٥٩، وقد ورد مرفوعًا أخرجه الترمذي (٢٥٨٦)، وابن جرير ١٨/ ٥٩، والثعلبي في التفسير ٨/ ٢٤٥، والدينوري في المجالسة (٨٤٦).
حضرت ابو الدرداء سے مروی ہے کہ جہنمیوں کو بھوک ستائے گی، پھر وہ مدد طلب کریں گے، ان کی ضریع سے مدد کی جائے گی جو ان کا پیٹ نہیں بھرے گی اور نہ ہی ان کو صحت مند کرے گی وہ پھر مدد طلب کریں گے تو ان کی طعام ذی غصۃ سے مدد کی جائے گی (جو گلے میں اٹک جاتی ہے) پھر وہ یاد کریں گے کہ گلے میں اٹک جانے والی چیز کو پینے والی چیز سے دور کرتے تھے، پھر وہ طلب کریں گے پھر ان کو لوہے کے برتنوں میں گرم کھولتا پانی پیش کیا جائے گا، جب وہ اس کو قریب کریں گے تو وہ ان کے چہروں کو جلا دے گا، اور جب اس کو پییں گے تو ان کے پیٹ کے تمام اعضاء کو کاٹ ڈالے گا، پھر وہ پکاریں گے { اُدْعُوَا رَبَّکُمْ یُخَفِّفْ عَنَّا یَوْمًا مِنَ الْعَذَابِ } ان کو جواب دیا جائے گا کہ { أَوَلَمْ تَکُ تَأْتِیکُمْ رُسُلُکُمْ بِالْبَیِّنَاتِ، قَالُوا بَلَی، قَالُوا فَادْعُوَا، وَمَا دُعَائُ الْکَافِرِینَ إِلاَّ فِی ضَلاَلٍ } پھر وہ کہیں گے مالک کو آواز دو تو وہ کہیں گے { یَا مَالِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّک } مالک ان کو جواب دے گا {إِنَّکُمْ مَاکِثُونَ } پھر وہ کہیں گے اپنے رب کو پکارو، بیشک تمہارے رب سے زیادہ کوئی چیز رحم کرنے والی تم پر نہیں ہے، پھر وہ کہیں گے { رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْہَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ } ان کو جواب دیا جائے گا کہ { اِخْسَؤُوا فِیہَا وَلاَ تُکَلِّمُونِ } پھر وہ ہلاکت و بربادی اور چیخ و پکار کو لازم پکڑیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36840]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36840، ترقيم محمد عوامة 35266)
ترقیم عوامۃ: 35267 ترقیم الشثری: -- 36841
٣٦٨٤١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن الرقاشي عن انس قال: قال رسول الله ﷺ:"يلقى البكاء على اهل النار فيبكون حتى ينفد الدموع، قال: ثم يبكون الدم حتى انه ليصير في وجوههم اخدودا لو ارسلت فيه السفن لجرت" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبان الرقاشي، أخرجه ابن ماجة (٤٣٢٤)، وهناد في الزهد (٣١١)، وأبو يعلى (٤١٣٤)، وابن المبارك (٢٩٥)، والبيهقي في البعث (٥٩٤)، والخطيب ١١/ ٢٨٢، وابن عدي ٤/ ٢٤٥، وابن أبي الدنيا في صفة النار (٢٠٨).
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: جہنمیوں پر رونا، دھونا ڈال دیا جائے گا، وہ اتنا روئیں گے کہ ان کے آنسو خشک ہوجائیں گے پھر وہ خون کے آنسو روئیں گے ان کے چہروں پر گڑھے (کنویں کی مانند) پڑجائیں گے اگر ان آنسوؤں پر کشتیوں کو چلایا جاتا تو البتہ وہ چل پڑتیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36841]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36841، ترقيم محمد عوامة 35267)
ترقیم عوامۃ: 35268 ترقیم الشثری: -- 36842
٣٦٨٤٢ - حدثنا يزيد بن هارون (قال) (١) : عن سلام بن مسكين عن قتادة عن ابي بردة عن ابي موسى قال: إن اهل النار ليبكون في النار حتى لو اجريت السفن في دموعهم لجرت، ثم إنهم ليبكون الدم بعد الدموع وبمثل ما هم فيه (فليبك له) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦١، والخطيب ٥/ ٤٤٧، وورد مرفوعًا أخرجه الحاكم ٤/ ٦٠٥.
حضرت ابو موسیٰ سے مروی ہے کہ جہنمی لوگ جہنم میں روئیں گے یہاں تک کہ اگر ان کے آنسوؤں میں کشتیوں کو چلایا جاتا تو ہ بھی چل پڑتیں، پھر آنسوؤں کے بعد خون کے آنسو روئیں گے اور اسی کے مثل ان کو رلایا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36842]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36842، ترقيم محمد عوامة 35268)
ترقیم عوامۃ: 35269 ترقیم الشثری: -- 36843
٣٦٨٤٣ - حدثنا ابو اسامة عن الاعمش عن ابي إسحاق عن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله ﷺ:"إن اهون اهل النار عذابا من له نعلان وشراكان (من ⦗١٨٧⦘ نار) (١) يغلي منهما دماغه كما يغلي المرجل، ما يرى ان احدا اشد عذابا منه، وإنه لاهونهم عذابا" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) صحيح؛ صرح أبو إسحاق بالتحديث عند أحمد (١٨٣٩٠)، وأخرجه البخاري (٦٥٦٢)، ومسلم (٢١٣).
حضرت نعمان بن بشیر سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اس کو ہوگا جس کو آگ کے جوتے پہنائیں جائیں گے اور اس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا جیسے ہانڈی ابلتی ہے وہ شخص نہیں دیکھے گا کہ کسی کو اس سے زیادہ سخت عذاب ہو رہا ہو، بیشک وہ سب سے کم اور ہلکے عذاب والا ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36843، ترقيم محمد عوامة 35269)
ترقیم عوامۃ: 35270 ترقیم الشثری: -- 36844
٣٦٨٤٤ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: قال رسول الله ﷺ:"إن ادنى اهل النار عذابا لرجل عليه نعلان يغلي منهما دماغه كانه مرجل، مسامعه جمر، واضراسه جمر، واشفاره لهب النار، ويخرج احشاء جنبيه من قدميه، وسائرهم (كالحب) (١) القليل في الماء الكثير فهو يفور" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (كالجب).
(٢) مرسل؛ عبيد تابعي، وأخرجه هناد (٣٥٩)، وأبو نعيم في الحلية ٣/ ٢٧٤.
حضرت عبید اللہ بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: جہنم میں سب سے کم عذاب اس شخص کو ہوگا کہ جس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا اس کے کان انگارے کے ہوں گے اس کی ڈاڑھیں انگارے کی ہوں گی اس کے ہونٹ آگ کے ہوں گے اس کی ایڑیاں پاؤں کی طرف سے نکل جائیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36844، ترقيم محمد عوامة 35270)
ترقیم عوامۃ: 35271 ترقیم الشثری: -- 36845
٣٦٨٤٥ - حدثنا يحيى بن ابي بكير قال: حدثنا زهير بن محمد عن سهيل بن ابي صالح عن النعمان بن ابي عياش عن ابي سعيد الخدري ان رسول الله ﷺ قال:" (١) ادنى اهل النار عذابا ينتعل بنعلين من نار يغلى دماغه من حرارة نعليه" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (إن).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١١)، وأحمد ١٣/ ٣ (١١١١٥).
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: جہنمیوں میں سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس کی حرارت کی وجہ سے اس کا دماغ ابلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36845]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36845، ترقيم محمد عوامة 35271)
ترقیم عوامۃ: 35272 ترقیم الشثری: -- 36846
٣٦٨٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت عن ابي عثمان عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ قال:"إن اهون اهل النار عذابا ابو طالب وهو منتعل بنعلين من نار" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١٢)، وأحمد (٢٦٣٦).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: سب سے ہلکا عذاب ابو طالب کو ہوگا اس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36846، ترقيم محمد عوامة 35272)
ترقیم عوامۃ: 35273 ترقیم الشثری: -- 36847
٣٦٨٤٧ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك عن النعمان بن بشير قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو على المنبر يقول:"انذركم النار -حتى سقط إحدى عطفي ردائه ⦗١٨٨⦘ عن منكبيه- وهو يقول: انذركم النار، حتى لو كان في مكاني هذا لاسمع اهل السوق او من شاء الله منهم" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٨٣٦٠)، وابن حبان (٦٤٤)، والحاكم ١/ ٢٨٧، والطيالسي (٧٩٢)، والدارمي (٢٨١٢)، والبيهقي ٣/ ٢٠٧، والبزار (٣٢٢٤/ كشف)، وعبد اللَّه ابن أحمد في الزهد (ص ٢٩).
حضرت نعمان بن بشیر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم 5 کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ: تم لوگوں کو آگ سے ڈراتا ہوں یہاں تک کہ آپ کی چادر مبارک آپ کے ایک کندھے سے گرگئی پھر فرمایا: تم لوگوں کو آگ سے ڈراتا ہوں، یہاں تک کہ اگر میری اس جگہ پر ہوتا تو میں بازار والوں کو سنوا دیتا، یا انہیں سے جس کو اللہ چاہتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36847]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36847، ترقيم محمد عوامة 35273)