مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته
جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35324 ترقیم الشثری: -- 36898
٣٦٨٩٨ - حدثنا شبابة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال قال: بلغني ان اهون اهل النار عذابا له نعل من نار يغلي منها دماغه (و) (١) يصيح قلبه ويقول: ما عذب احد (باشد) (٢) مما عذب به.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (بأشر).
حضرت حمید سے مروی ہے کہ سب سے ہلکا عذاب جس کو ہوگا اس کو آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جس سے اس کا دماغ ابلے گا اور اس کا دل چیخے گا اور پھٹنے کے قریب ہوگا اور وہ کہے گا کہ کسی کو اتنا سخت عذاب نہیں دیا گیا جتنے سخت عذاب میں اس کو مبتلا کیا گیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36898]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36898، ترقيم محمد عوامة 35324)
ترقیم عوامۃ: 35325 ترقیم الشثری: -- 36899
٣٦٨٩٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن سلمة عن سعيد بن جبير: ﴿فسحقا لاصحاب السعير﴾ [الملك: ١١] قال: واد في جهنم.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن کریم کی آیت { فَسُحْقًا لأَصْحَابِ السَّعِیرِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے جہنم کی وادی مراد ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36899]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36899، ترقيم محمد عوامة 35325)
ترقیم عوامۃ: 35326 ترقیم الشثری: -- 36900
٣٦٩٠٠ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن ابي إسحاق عن ابي الاحوص عن عبد الله: ﴿وهم فيها كالحون﴾ [المؤمنون: ١٠٤] قال: كما (يشيط) (١) الراس عند الرآس (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (يمشط)، والمراد حرق الرأس عند بائع الرؤوس.
(٢) ضعيف؛ يحيى بن يمان فيه ضعف.
حضرت عبد اللہ قرآن کریم کی آیت { وَہُمْ فِیہَا کَالِحُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جیسے سری فروخت کرنے والے کے پاس سری کو آگ پر گرم کیا جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36900]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36900، ترقيم محمد عوامة 35326)
ترقیم عوامۃ: 35327 ترقیم الشثری: -- 36901
٣٦٩٠١ - حدثنا ابو عبد الرحمن المقرئ عن سعيد بن ابي ايوب قال: سمعت دراجا (ابا) (١) السمح قال: سمعت ابا الهيثم يقول: سمعت ابا سعيد الخدري يقول: قال رسول الله ﷺ:"يسلط على الكافر في قبره تسعة وتسعون تنينا تنهشه وتلدغه حتى تقوم الساعة ولو ان تنينا منها نفخ في الارض ما انبتت خضراء" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (با).
(٢) ضعيف؛ لحال دراج، وأخرجه أحمد (١١٣٣٤)، وابن حبان (٣١٢١)، وعبد بن حميد (٩٢٩)، والدارمي ٢/ ٣٣١، والآجري في الشريعة (ص ٣٥٩)، كما أخرجه أبو يعلى (١٣٢٩)، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (٦١)، والطبري في التفسير ١٦/ ٢٢٧، نحوه موقوفًا على أبي سعيد.
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم 5 نے ارشاد فرمایا: کافر کے قبر میں اس پر ننانویں اژ دھے مسلط کردیے جائیں گے جو اس کو قیامت تک کاٹتے رہیں گے اگر ان میں سے ایک اژ دھا بھی زمین پر پھونک مار دے تو زمین میں سبزا اگنا ختم ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36901]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36901، ترقيم محمد عوامة 35327)
ترقیم عوامۃ: 35328 ترقیم الشثری: -- 36902
٣٦٩٠٢ - حدثنا يزيد بن هارون عن ابي الاشهب عن الحسن قال: ﴿إن عذابها كان غراما﴾ [الفرقان: ٦٥] قال: (علموا) (١) ان كل غريم (يفارق) (٢) (غريمه) (٣) إلا غريم جهنم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (اعلموا).
(٢) في [أ، ب]: (مفارق).
(٣) سقط من: [هـ].
حضرت حسن قرآن کریم کی آیت {إِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَامًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جان لو ہر قرض خواہ اپنے قرض دار سے جدا ہونے والا ہے سوائے جہنم کے قرض دار کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36902]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36902، ترقيم محمد عوامة 35328)
ترقیم عوامۃ: 35329 ترقیم الشثری: -- 36903
٣٦٩٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن الحسن: ﴿فضرب بينهم بسور له باب باطنه فيه الرحمة﴾ قال: الجنة: ﴿وظاهره من قبله العذاب﴾ [الحديد: ١٣] ، قال: النار.
حضرت حسن قرآن کریم کی آیت { فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُورٍ لَہُ بَابٌ بَاطِنُہُ فِیہِ الرَّحْمَۃُ } سے مراد ہے جنت اور { وَظَاہِرُہُ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ } سے مراد ہے جہنم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36903]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36903، ترقيم محمد عوامة 35329)
ترقیم عوامۃ: 35330 ترقیم الشثری: -- 36904
٣٦٩٠٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن اشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير قال: بعث موسى وهارون ابني هارون بقربان يقربانه (فقالا) (١) : اكلته النار (وكذبا) (٢) فارسل لله عليهما نارا؛ فاكلتهما، فاوحى الله إليهما: هكذا افعل باوليائي فكيف باعدائي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فقال).
(٢) في [أ، هـ]: (ولدنا).
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام نے حضرت ہارون کے دو بیٹوں کو قربانی کیلئے بھیجا انہوں نے آ کر جھوٹ بولا کہ اس کو آگ کھا گئی ہے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں پر آگ نازل فرمائی جس نے ان دونوں کو جلا دیا اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کی طر ف وحی فرمائی اور فرمایا میں اپنے اولیاء کے ساتھ ایسا کرتا ہوں تو اپنے دشمنوں کے ساتھ کیسا معاملہ کروں گا؟! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36904]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36904، ترقيم محمد عوامة 35330)
ترقیم عوامۃ: 35331 ترقیم الشثری: -- 36905
٣٦٩٠٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن إسماعيل عن الحسن ان هرم بن حيان كان يقول لم ار مثل النار نام هاربها، ولا مثل الجنة نام طالبها.
حضرت ہرم بن حیان فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اس آگ کے مثل نہیں دیکھا کہ جس سے بھاگنے والا سویا ہوا ہے اور میں نے جنت کے مثل نہیں دیکھا کہ اس کا طالب سویا ہوا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36905]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36905، ترقيم محمد عوامة 35331)
ترقیم عوامۃ: 35332 ترقیم الشثری: -- 36906
٣٦٩٠٦ - حدثنا عبد الاعلى بن عبد الاعلى عن محمد بن إسحاق قال: حدثني عبيد الله بن المغيرة عن سليمان بن عمرو بن عبد العتواري (احد بني) (١) ليث وكان في حجر ابي سعيد الخدري عن ابي سعيد الخدري قال: سمعته يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يوضع الصراط بين ظهراني جهنم عليه (حسك كحسك) (٢) السعدان، ثم (يستجيز) (٣) الناس فناج مسلم و (مخدوج) (٤) به ثم (ناج) (٥) (و) (٦) محتبس (٧) منكوس فيه، فإذا فرغ الله من القضاء بين العباد (يفقد) (٨) المؤمنون رجالا كانوا في (الدنيا) (٩) كانوا يصلون صلاتهم ويزكون زكاتهم ويصومون صيامهم ويحجون حجهم ويغزون غزوهم فيقولون: اي ربنا، عباد من عبادك، كانوا معنا في (الدنيا) (١٠) ، يصلون صلاتنا ويزكون زكاتنا ويصومون صيامنا ويغزون غزونا لا نراهم، قال: فيقول: اذهبوا إلى النار فمن وجدتم فيها فاخرجوه منها، (فيجدونهم) (١١) قد ⦗٢٠٥⦘ اخذتهم النار على قدر اعمالهم، فمنهم من اخذته إلى قدميه، ومنهم من اخذته إلى نصف ساقيه، (ومنهم من اخذته إلى ركبتيه، ومنهم من ازرته، ومنهم من اخذتهم إلى ثديه) (١٢) ، ومنهم من اخذته إلى عنقه ولم يغش الوجه، فيطرحونهم في ماء الحياة"، قيل يا رسول الله وما ماء الحياة؟ قال:"غسل اهل الجنة، فينبتون كما تنبت الزريعة في (غثاء) (١٣) السيل، ثم يشفع الانبياء فيمن كان يشهد ان لا إله إلا الله مخلصا، ثم يتحنن (الله) (١٤) برحمته على من فيها، فما يترك فيها عبدا في قلبه مثقال حبة من (ايمان) (١٥) إلا اخرجه منها" (١٦)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حدثني)، وفي [هـ]: (جد بني).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (حسل كحسل).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (يستجى).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (محدوح).
(٥) في [أ، ب، جـ]: (ناح).
(٦) سقط من [هـ]: (و).
(٧) في [هـ]: زيادة (به و).
(٨) في [أ، ب]: (تفقد).
(٩) في [أ]: (الدني).
(١٠) في [أ]: (الدني).
(١١) في [أ، ب، جـ]: (فيجددنهم)، وفي [هـ]: (فيجدون).
(١٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(١٣) في [أ، ب]: (عثاء).
(١٤) في [ب]: زيادة.
(١٥) في [هـ]: (الإيمان).
(١٦) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، أخرجه أحمد (١١٠٨١)، وابن ماجه (٤٢٨٠)، والحاكم ٤/ ٥٨٥، والطبري ١٦/ ١١٣، وابن خزيمة في التوحيد (ص ٣٢٥)، والمروزي في زيادات زهد ابن المبارك (١٢٦٨)، وأصله في البخاري (٤٥٨١)، ومسلم (١٨٣).
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائے گا۔ اس میں سعدان نامی بوٹی جیسے کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگ اسے عبور کرنا شروع کریں گے۔ بعض لوگ تو سلامتی کے ساتھ نجات پالیں گے۔ بعض ایسے ہوں گے جو اس سے مل کر نجات پالیں گے۔ بعض ایسے ہوں گے جو اس میں قید کرلیے جائیں گے اور اس میں پھینک دیے جائیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو اہل ایمان کو کچھ ایسے لوگ نظر نہ آئیں گے جو دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ روزے رکھا کرتے تھے، حج کرتے تھے اور جہاد کیا کرتے تھے۔ مومن کہیں گے: اے ہمارے رب! آپ کے بعض بندے ایسے ہیں جو دنیا میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ زکوٰۃ دیا کرتے تھے۔ روزے رکھا کرتے تھے، حج کرتے تھے اور جہاد کیا کرتے تھے۔ لیکن اب وہ ہمیں نظر نہیں آ رہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم جہنم کی طرف جاؤ، تمہیں ان میں سے جو نظر آئے اسے نکال لو۔ وہ جہنم کی طرف جائیں گے تو آگ نے لوگوں کو ان کے اعمال کے بقدر پکڑ رکھا ہوگا۔ بعض لوگ ایسے ہوں گے جن کے قدموں تک آگ ہوگی، بعض کی آدھی پنڈلیوں تک آگ ہوگی۔ بعض کے گھٹنوں تک، بعض کے پیٹ تک، بعض کے سینوں تک اور بعض کی گردن تک آگ میں لپٹا ہوگا۔ پھر انہیں آبِ حیات میں ڈالا جائے گا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آبِ حیات کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ پانی جس سے اہل جنت غسل کرتے ہوں گے۔ پھر وہ یوں اگ آئیں گے جیسے پانی میں کھیتی اگتی ہے۔ پھر انبیاء ان لوگوں کی شفاعت کریں گے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہا ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت مزید اہل جہنم پر فرمائیں گے اور ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیں گے جس کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36906]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36906، ترقيم محمد عوامة 35332)
ترقیم عوامۃ: 35333 ترقیم الشثری: -- 36907
٣٦٩٠٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا سعيد بن زيد قال: سمعت ابا سليمان العصري قال: حدثني عقبة بن صهبان قال: سمعت ابا (بكرة) (١) عن النبي ﷺ قال:"يحمل الناس على الصراط يوم القيامة فتقادع بهم (جنبتا) (٢) الصراط تقادع الفراش في النار قال: (فيتحنن) (٣) الله برحمته على من يشاء، قال: ثم يؤذن للملائكة والنبيين والشهداء ان يشفعوا، فيشفعون ويخرجون، ويشفعون ويخرجون، (ويشفعون ويخرجون) (٤) من ⦗٢٠٦⦘ كان في قلبه (ما يزن) (٥) ذرة من ايمان" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (تكر)، وفي [أ]: (بكر).
(٢) في [أ]: (جبنا).
(٣) في [هـ]: (فتحنن).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [أ، ب]: مكررة.
(٦) حسن؛ العصري ثقة واسمه كعب بن شيبب، وسعيد بن زيد صدوق، أخرجه أحمد وابنه (٢٠٤٤٠)، والبخاري في الكنى (ص ٣٧)، والبزار (٣٦٧١)، وابن أبي عاصم في السنة (٨٣٨)، والدولابي ١/ ١٩٥، والطبراني في الصغير (٩٢٩)، والخطيب في تاريخ بغداد ٣/ ٤٢٢.
حضرت ابوبکرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو قیامت کے دن پل صراط پر لایا جائے گا۔ لوگ اس پر سے یوں آگ میں گریں گے جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہے گا اپنی رحمت فرمائے گا۔ پھر فرشتوں، نبیوں اور شہداء سے کہا جائے گا کہ سفارش کرو۔ وہ سفارش کریں گے اور جہنمیوں کو جہنم سے نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر سفارش کریں گے پھر نکالیں گے۔ پھر ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36907]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36907، ترقيم محمد عوامة 35333)