مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. ما ذكر فيما أعد لأهل النار وشدته
جہنمیوں کیلئے اﷲ نے جو عذاب تیار کیا ہے اس کی شدت کا بیان
ترقیم عوامۃ: 35314 ترقیم الشثری: -- 36888
٣٦٨٨٨ - حدثنا يحيى بن ابي بكير قال: حدثني نعيم بن ميسرة النحوي عن عيينة بن (الغصن) (١) قال: قال الحسن: إن الاغلال لم تجعل في اعناق اهل النار لانهم اعجزوا الرب، ولكن إذا (طفئ) (٢) بهم اللهب (ارسبتهم) (٣) في النار، قال: ثم (اجفل) (٤) الحسن (مغشيا) (٥) عليه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط]: (الفيض).
(٢) في [ب]: (طغي)، وفي [أ، هـ]: (طغى)، وفي [س]: (طغا).
(٣) في [أ، ب]: (أرستهم)، وفي [جـ]: (أرسبهم).
(٤) في [أ، ب]: (أجعل)، وفي [هـ]: (أجفل).
(٥) في [أ، ب]: (معشيًا).
حضرت حسن سے مروی ہے کہ جہنمیوں کی گردنوں میں طوق نہ ہوں گے کیوں کہ انہوں نے رب کو عاجز پایا لیکن جب چنگاری بجھے گی تو ان کو آگ میں داخل کردیا جائے گا پھر حضرت حسن زمین پر گرپڑے اور ان پر غشی طاری ہوگئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36888]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36888، ترقيم محمد عوامة 35314)
ترقیم عوامۃ: 35315 ترقیم الشثری: -- 36889
٣٦٨٨٩ - حدثنا محمد بن فضيل عن حصين عن (حسان) (١) بن ابي المخارق عن ابي عبد الله الجدلي قال: اتيت بيت المقدس فإذا عبادة بن الصامت وعبد الله بن عمرو (و) (٢) كعب الاحبار يتحدثون في بيت المقدس، قال: فقال عبادة: إذا كان يوم القيامة جمع الناس في صعيد واحد فينفذهم البصر ويسمعهم الداعي ويقول الله: ﴿هذا يوم الفصل جمعناكم والاولين (٣٨) فإن كان لكم كيد فكيدون﴾ [المرسلات: ٣٨ - ٣٩] ، اليوم لا ⦗١٩٩⦘ ينجو مني جبار عنيد، ولا شيطان مريد، قال: فقال عبد الله بن عمرو: إنا نجد في الكتاب انه يخرج يومئذ عنق من النار فينطلق (معنقا) (٣) حتى إذا كان بين ظهراني الناس قال: يا ايها الناس إني بعثت إلى ثلاثة، انا اعرف بهم من (الوالد بولده) (٤) ومن الاخ باخيه، (لا يغنيهم) (٥) مني ورد ولا تخفيهم مني خافية: الذي جعل مع الله إلها آخر، وكل جبار عنيد، وكل شيطان مريد، قال: فينطوي عليهم فيقذفهم في النار قبل الحساب باربعين. قال حصين: (و) (٦) إما اربعين عاما او اربعين يوما، قال: ويهرع قوم إلى الجنة فتقول لهم الملائكة قفوا للحساب، (قال) (٧) : فيقولون: والله ما كانت لنا اموال وما كنا بعمال، قال: فيقول الله: صدق عبادي، انا (احق من) (٨) اوفى بعهده، ادخلوا الجنة، قال: فيدخلون الجنة قبل الحساب باربعين، إما قال: عاما وإما يوما (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: (حسين).
(٢) في [أ، ب]: (بن).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (معنا).
(٤) في [ك]: (الولد بوالده).
(٥) في [ب]: (لأنفسهم).
(٦) في [أ، ب، جـ]: زيادة (و).
(٧) في [ب]: (قا).
(٨) سقط من: [جـ].
(٩) مجهول؛ لجهالة حسان بن أبي مخارق.
حضرت ابو عبد اللہ الجدلی فرماتے ہیں کہ جب میں بیت المقدس آیا تو وہاں پر میں نے حضرت عبادہ بن صامت، حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ ما اور حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو آپس میں گفتگو کرتے ہوئے پایا۔ حضرت عبادہ نے کہا کہ قیامت کے دن لوگوں کو ایک میدان میں جمع کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور پچھلے لوگوں کو جمع کیا ہے اگر تمہارے پاس کوئی تدبیر ہے تو کرو۔ آج مجھ سے کوئی سرکش ظالم اور شیطان نہیں بچ سکتا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں کتاب میں ملتا ہے کہ جہنم سے ایک گردن نکلے گی اور کہے گی کہ اے لوگو! مجھے تین قسم کے گناہ گاروں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ میں انہیں خوب جانتی ہوں۔ انہیں مجھ سے کوئی چیز نہیں بچا سکتی۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے کی طرف بھیجا گیا ہے۔ ہر ظالم سرکش کی طرف بھیجا گیا ہے اور ہر باغی شیطان کی طرف بھیجا گیا ہے پھر وہ گردن ان لوگوں کو اچک لے گی اور حساب شروع ہونے سے چالیس دن یا چالیس سال پہلے انہیں آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک قوم تیزی سے جنت کی طرف جا رہی ہوگی۔ فرشتے ان سے کہیں گے حساب کے لیے ٹھہرو۔ وہ کہیں گے کہ ہم نہ تو مال دار تھے اور نہ حکمران تھے۔ ہمارا حساب کیسا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندوں نے سچ کہا۔ میں وعدے کو پورا کرنے والا ہوں۔ جنت میں داخل ہو جاؤ پھر وہ حساب شروع ہونے سے چالیس دن پہلے یا چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36889]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36889، ترقيم محمد عوامة 35315)
ترقیم عوامۃ: 35316 ترقیم الشثری: -- 36890
٣٦٨٩٠ - حدثنا عبدة بن سليمان عن جويبر عن الضحاك: ﴿لا جرم ان لهم النار وانهم مفرطون﴾ [النحل: ٦٢] قال: منسيون في النار.
حضرت ضحاک قرآن کریم کی آیت { لاَ جَرَمَ أَنَّ لَہُمُ النَّارَ وَأَنَّہُمْ مُفْرَطُونَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ آگ میں داخل کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36890]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36890، ترقيم محمد عوامة 35316)
ترقیم عوامۃ: 35317 ترقیم الشثری: -- 36891
٣٦٨٩١ - حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين (عن الحسن) (١) : ﴿ونسوق المجرمين إلى جهنم وردا﴾ [مريم: ٨٦] قال: [ظماء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الجهني)، وفي [ز]: (عن الحوضي)، وفي [جـ]: (المجهني)، وفي [هـ]: (الجهني عن الحسن)، وانظر: الزهد لهناد (٢٨٧).
حضرت الحوضی رضی اللہ عنہ قرآن کریم کی آیت { وَنَسُوقُ الْمُجْرِمِینَ إِلَی جَہَنَّمَ وِرْدًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ پیاسے داخل ہوں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36891]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36891، ترقيم محمد عوامة 35317)
ترقیم عوامۃ: 35318 ترقیم الشثری: -- 36892
٣٦٨٩٢ - حدثنا مروان بن معاوية عن جويبر عن الضحاك: ﴿ونسوق المجرمين إلى جهنم وردا﴾ قال: عطاشا] (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [أ، ب، جـ، هـ].
حضرت ضحاک رضی اللہ عنہ بھی وردا کی تفسیر پیاس سے کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36892]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36892، ترقيم محمد عوامة 35318)
ترقیم عوامۃ: 35319 ترقیم الشثری: -- 36893
٣٦٨٩٣ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا شيبان قال: قال قتادة: سمعت ابا نضرة يحدث عن سمرة بن جندب انه سمع نبي الله ﷺ (يقول) (١) :"إن منهم من تاخذه النار إلى كعبيه، ومنهم من تاخذه النار إلى ركبتيه، ومنهم من تاخذه إلى حجزته، ومنهم من تاخذه إلى ترقوته" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٨٤٥)، وأحمد (٢٠١٠٣).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض لوگوں کو آگ ٹخنوں تک پکڑے گی بعض کو گھٹنوں تک پکڑے گی بعض کو کمر تک اور بعض کو گردن تک آگ پکڑے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36893]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36893، ترقيم محمد عوامة 35319)
ترقیم عوامۃ: 35320 ترقیم الشثری: -- 36894
٣٦٨٩٤ - حدثنا عبد الله بن نمير (قال) (١) : حدثنا فضيل بن غزوان عن محمد الراسبي عن بشر بن عاصم قال: كتب عمر بن الخطاب (عهد بشر) (٢) بن عاصم فقال: لا حاجة لي فيه إني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إن الولاة (يجاء) (٣) بهم يوم القيامة (فيوقفون) (٤) على جسر جهنم، فمن كان مطواعا لله تناوله الله بيمينه حتى ينجيه، ومن كان عاصيا لله (انحرف) (٥) به الجسر إلى واد من نار يلتهب التهابا"، قال: فارسل عمر إلى سلمان وابي ذر فقال لابي ذر: انت سمعت هذا الحديث من رسول الله ﷺ؟ قال: نعم والله، وبعد الوادي واد آخر من نار، قال: وسال سلمان فلم يخبر بشيء، فقال عمر: من ياخذها بما فيها؟ فقال: ابو ذر: من ⦗٢٠١⦘ سلب الله (انفه) (٦) وعينيه و (اضرع) (٧) خده إلى الارض (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [هـ]: (عهد البشر)، وفي [س، ط]: (عهدًا لبشر).
(٣) في [أ]: (تجاء).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (فيقفون).
(٥) في [س]: (انحرق).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [هـ]: (أصرع).
(٨) مجهول؛ لجهالة محمد الراسبي، وذكر ابن عبد البر في الاستيعاب ١/ ١٧٢: "أنه محمد بن سليم لكن طبقته مغايرة لطبقة هذا"، وقال ابن حجر في الإصابة ١/ ٢٩٨: "ومحمد هذا ذكر ابن عبد البر أنه اب سليم الراسبي، فإن كان كما قال فالإسناد منقطع؛ لأن لم يدرك بشر بن عاصم"، والخبر أخرجه أبو نعيم في معرفة الصحابة (١١٧٥)، وأحمد بن منيع كما في المطالب العالية (٢٠٩٩)، ورواه بنحوه ابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٩١)، والطبراني (١٢١٩).
حضرت محمد راسبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت بشر بن عاصم کو گورنری سونپی تو حضرت بشر نے لکھا کہ مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حکمرانوں کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور جہنم کے پل پر کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ کے فرماں بردار حکمران کو اللہ تعالیٰ نجات عطا کرے گا اور نافرمان کو جہنم کی وادی میں جلنے کے لیے ڈال دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو حضرت سلمان نے لاعلمی کا اظہار فرمایا اور حضرت ابوذر نے کہا کہ ہاں میں اس حدیث کو جانتا ہوں۔ اور جہنم کی ایک وادی اور بھی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس میں کس کو ڈالا جائے گا۔ حضرت ابوذر نے فرمایا کہ جس کے ناک اور آنکھوں کو اللہ نے خاک آلود کیا اور اس کے رخسار کو زمین پر مل دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36894، ترقيم محمد عوامة 35320)
ترقیم عوامۃ: 35321 ترقیم الشثری: -- 36895
٣٦٨٩٥ - حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي عن ابي (سنان) (١) عن عمرو بن مرة عن ابي صالح قال: يحاسب يوم القيامة الذين ارسل إليهم الرسل، فيدخل الله الجنة من اطاعه ويدخل النار من عصاه، (ويبقى) (٢) قوم من الولدان والذين هلكوا في الفترة ومن غلب على (عقله فيقول الله ﵎: إنكم قد رايتم انما ادخلت الجنة من اطاعني، وادخلت) (٣) النار من عصاني وإني آمركم ان تدخلوا هذه النار، فيخرج لهم عنق منها، فمن دخلها كانت نجاته، ومن نكص فلم يدخلها كانت هلكته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (حنان).
(٢) في [ب]: (وتبقى).
(٣) سقط من: [أ، جـ، ط، هـ].
حضرت ابو صالح فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کی طرف رسول بھیجے ہیں ان کا حساب فرمائیں گے، پھر اللہ ان لوگوں کو جنت میں داخل فرمائے گا جنہوں نے اس کی اطاعت کی ہے۔ اور جنہوں نے نافرمانی کی ہوگی ان کو جہنم میں داخل فرمائے گا پھر بچے باقی رہ جائیں گے اور وہ لوگ جو فترۃ الوحی کے زمانے میں فوت ہوئے ہوں گے اور وہ لوگ جو مجنوں تھے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے بیشک تم نے دیکھ لیا جس نے میری نافرمانی کی اس کو جہنم میں داخل کردیا پس میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اس آگ میں داخل ہوجاؤ پھر ان کیلئے اس میں سے ایک گردن نمو دار ہوگی پس جو اس میں داخل ہوگا اس کیلئے نجات ہوگی اور جو رکے گا اور داخل نہ ہوگا اس کیلئے ہلاکت ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36895]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36895، ترقيم محمد عوامة 35321)
ترقیم عوامۃ: 35322 ترقیم الشثری: -- 36896
٣٦٨٩٦ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح قال: لما مرض ابو طالب قالوا (له) (١) : ارسل إلى ابن اخيك هذا فياتيك بعنقود من جنته، لعله يشفيك به، قال: فجاء الرسول وابو بكر عند النبي ﷺ جالس، فقال ابو بكر: إن الله حرمها على الكافرين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) مرسل؛ أبو صالح تابعي.
حضرت ابو صالح سے مروی ہے کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اپنے بھتیجے کے پاس کسی کو بھیجو تاکہ وہ تمہارے پاس جنت سے انگور کا کوئی خوشہ لائے شاید کہ اس سے آپ کو شفاء مل جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اس وقت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہانحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر اس کو (جنت کی نعمتوں کو) حرام کردیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36896]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36896، ترقيم محمد عوامة 35322)
ترقیم عوامۃ: 35323 ترقیم الشثری: -- 36897
٣٦٨٩٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا الازرق ابن (قيس) (١) قال: حدثني رجل من بني تميم قال: كنا عند ابي العوام فقرا هذه الآية ﴿تسعة عشر﴾ [المدثر: ٣٠] فقال: ما تقولون: (اتسعة) (٢) عشر الف ملك او تسعة عشر ملكا؟ قال: فقلت لا، بل تسعة عشر ملكا قال: ومن اين تعلم ذلك؟ فقلت: لان الله يقول: ﴿وما جعلنا عدتهم إلا فتنة للذين كفروا﴾ [المدثر: ٣١] قال: صدقت بيد كل ملك مرزبة من حديد لها شعبتان فيضرب الضربة (فهوى) (٣) بها سبعين الف (ملك) (٤) ما بين منكبي كل (ملك) (٥) منهم مسيرة كذا وكذا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ]: (خنيس)، وفي [أ]: (حنس).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (تسعة).
(٣) في [أ، ب]: (فيهوي).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) سقط من: [أ، ب، جـ].
بنو تمیم کے ایک شخص سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ابو عوام کے پاس تھے انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی { عَلَیْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ } اور فرمایا تم لوگ کیا کہتے ہو؟ انیس ہزار فرشتے ہیں یا صرف انیس؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا انیس انہوں نے دریافت فرمایا تمہیں کہاں سے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ اس لیے کہ اللہ فرماتے ہیں { وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَہُمْ إِلاَّ فِتْنَۃً لِلَّذِینَ کَفَرُوا } انہوں نے فرمایا کہ تو نے ٹھیک کہا ہر فرشتہ کے ہاتھ میں ایک ہتھوڑا ہے جو لوہے کا ہے اور اس کے دو کونے ہیں وہ اس سے ایک مرتبہ مارتا ہے تو اس سے ستر ہزار فرشتے گرتے ہیں ہر فرشتے کے دو کندھوں کے درمیان اتنی اتنی مسافت ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنة/حدیث: 36897]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36897، ترقيم محمد عوامة 35323)