مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
33. (كلام أبي موسى ﵁)
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کا کلام
ترقیم عوامۃ: 35959 ترقیم الشثری: -- 37543
٣٧٥٤٣ - حدثنا (ابو) (١) معاوية عن الاعمش عن شقيق (٢) عن ابي موسى قال: إنما (اهلك) (٣) من كان قبلكم هذا الدينار والدرهم وهما مهلكاكم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (أبي).
(٢) في [هـ]: زيادة (عن أبي وائل).
(٣) في [جـ]: (هلك).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسدد كما في المطالب (٣١٧٧)، وهناد (٦٨٣)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦١، والبيهقي في الشعب (١٠٢٩٣)، وقد ورد مرفوعمًا، أخرجه ابن حبان (٦٩٤)، والدارقطني في العلل ٧/ ٢٢٩، والطبراني في الأوسط (٢٠٤٣)، وابن عساكر ٦١/ ٢٥٤، والقزويني في التاريخ ١/ ٢٨١.
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم سے پہلے جو لوگ تھے انہیں اس دینار اور درہم نے ہلاک کیا تھا اور یہی دو تمہیں بھی ہلاک کرنے والے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37543، ترقيم محمد عوامة 35959)
ترقیم عوامۃ: 35960 ترقیم الشثری: -- 37544
٣٧٥٤٤ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن ابي عمران الجوني عن (ابن) (١) (ابي) (٢) موسى عن ابيه: ﴿ولمن خاف مقام ربه جنتان﴾ [الرحمن: ٤٦] قال: جنتان من ذهب للسابقين، وجنتان من فضة للتابعين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [س].
(٣) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٢/ ٤٧٤، والبيهقي في البعث (٢٤١)، وورد مرفوعًا بدون ذكر السابقين والتابعين عند البخاري (٧٤٤٤)، ومسلم (١٨٠).
حضرت ابن ابی موسیٰ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ) فرمایا: سابقین کے لیے دو سونے کی جنتیں ہوں گی اور تابعین کے لیے دو چاندی کی جنتیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37544، ترقيم محمد عوامة 35960)
ترقیم عوامۃ: 35961 ترقیم الشثری: -- 37545
٣٧٥٤٥ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي ظبيان عن ابي موسى قال: الشمس فوق رؤوس الناس يوم القيامة واعمالهم تظلهم (او) (١) (تضحيهم) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (و).
(٢) أي: تتركهم في الشمس، وفي [ط، هـ]: (تضيعهم)، وفي [س]: (تصحبهم).
(٣) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦١، وهناد في الزهد (٣٣١)، والمروزي في زوائد زهد ابن المبارك (١٣٢٥).
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن سورج لوگوں کے سروں پر ہوگا اور لوگوں کے اعمال لوگوں پر سایہ کریں گے یا ان کو سورج کے لیے چھوڑیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37545، ترقيم محمد عوامة 35961)
ترقیم عوامۃ: 35962 ترقیم الشثری: -- 37546
٣٧٥٤٦ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن ابي الضحى عن مسروق قال: كنا مع ابي موسى (قال) (١) : فجئنا الليل إلى بستان (خرب) (٢) ، قال: فقام ابو موسى من الليل يصلي، فقرا قراءة حسنة ثم قال: اللهم انت مؤمن تحب المؤمن مهيمن تحب المهيمن، سلام تحب السلام، صادق تحب الصادق (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ع].
(٢) في [أ، ب]: (حرث)، وفي [س]: (حزب)، وفي [جـ]: (خرب).
(٣) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٥٩، وابن عساكر ٣٢/ ٨٨.
حضرت مسروق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہتے ہیں: پس ہم رات کو ایک ویران باغ میں آئے۔ مسروق کہتے ہیں حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ رات کو کھڑے ہوئے، نماز پڑھی، خوبصورت قراءت کی پھر کہا: اے اللہ! تو مومن ہے اور مومن کو پسند کرتا ہے۔ مہیمن ہے اور مہیمن کو پسند کرتا ہے۔ سلام ہے اور سلامتی کو پسند کرتا ہے۔ سچا ہے اور سچے کو پسند کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37546]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37546، ترقيم محمد عوامة 35962)
ترقیم عوامۃ: 35963 ترقیم الشثری: -- 37547
٣٧٥٤٧ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عاصم عن شقيق عن ابي موسى قال: تخرج نفس المؤمن وهي اطيب (ريحا من) (١) المسك، قال: (فيصعد) (٢) بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا (معكم؟) (٣) فيقولون: فلان -ويذكرونه باحسن عمله، فيقولون: حياكم الله وحيا من معكم، قال: فتفتح له ابو اب السماء، قال: فيشرق وجهه فياتي الرب ولوجهه برهان مثل الشمس، قال: واما الآخر فتخرج نفسه وهي انتن من الجيفة، فيصعد بها الملائكة الذين يتوفونها فتلقاهم ملائكة دون السماء فيقولون: من هذا ⦗٤٣٠⦘ ( (معكم؟) (٤) فيقولون: فلان) (٥) -ويذكرونه باسوا اعماله، قال: فيقولون: ردوه فما ظلمه الله شيئا (٦) ، قال: وقرا ابو موسى: ﴿ولا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياط﴾ [الاعراف: ٤٠] (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (من ريح).
(٢) في [أ، ب]: (فتصعد).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) سقط من: [جـ، س].
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [جـ]: بياض لكلمة (فيقولون فلان).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) ضعيف؛ لضعف عاصم بن أبي النجود في أبي وائل، أخرجه أبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦٢، والبيهقي في إثبات عذاب القبر (٢٢٨).
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مومن کی روح نکلتی ہے تو وہ مشک سے زیادہ خوشبو والی ہوتی ہے۔ راوی کہتے ہیں پھر جن فرشتوں نے اس روح کو نکالا ہوتا ہے وہ فرشتے اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کو آسمان سے پہلے ہی اور فرشتے ملتے ہیں اور پوچھتے ہیں: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ یہ فرشتے جواب دیتے ہیں کہ فلاں ہے اور فرشتے اس کا ذکر اس کے بہترین عمل کے ذریعہ سے کرتے ہیں۔ اس پر سوال کرنے والے فرشتے کہتے ہیں: خدا تعالیٰ تم پر بھی رحمت کرے اور جو تمہارے ساتھ ہے اس پر بھی رحمت کرے۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر اس کا چہرہ روشن ہوجاتا ہے۔ پس وہ پروردگار کے پاس آتا ہے تو اس کے چہرے میں سورج کی مثل دلیل موجود ہوتی ہے۔ فرمایا: اور جو دوسرا ہے اس کی روح نکلتی ہے جبکہ وہ مردار سے زیادہ بدبودار ہوتی ہے۔ جو فرشتے اس کو نکالتے ہیں وہ اس کو لے کر اوپر جاتے ہیں تو آسمان سے پہلے کچھ فرشتے انہیں ملتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں فلاں ہے۔ اور اس کے بدترین عمل کا ذکر کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس پر وہ فرشتے کہتے ہیں: اس کو واپس کردو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوئی ظلم نہیں کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: { وَلاَ یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ حَتَّی یَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ } [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37547، ترقيم محمد عوامة 35963)
ترقیم عوامۃ: 35964 ترقیم الشثری: -- 37548
٣٧٥٤٨ - حدثنا معاذ عن ابن عون عن محمد قال: كتب ابو موسى إلى عامر من عبد الله بن قيس (إلى عامر بن عبد الله الذي وإن يدعى عامر بن عبد قيس) (١) : اما بعد: فإني عهدتك على امر وبلغني انك تغيرت، فإن كنت على ما عهدت فاتق (الله) (٢) ودم، وإن كنت تغيرت فاتق الله ومحمد (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [س].
(٣) منقطع؛ ابن سيرين عن أبي موسى منقطع، وأخرجه يعقوب بن سفيان في المعرفة ٢/ ٤٦، وأحمد في الزهد (ص ٢٢٤)، وابن عساكر ٢٦/ ٣٩.
حضرت محمد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت عامر کو خط لکھا عبداللہ بن قیس کی طرف سے عامر بن عبداللہ کی طرف … جس کو پہلے عبد قیس کہا جاتا تھا … اما بعد! پس میں نے تمہارے ساتھ ایک بات پر عہد کیا تھا اور مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم بدل گئے ہو۔ لہٰذا اگر تم میرے کیے ہوئے معاہدہ پر ہو تو خدا سے ڈرو اور مداومت رکھو۔ اور اگر تم بدل گئے ہو تو خدا سے ڈرو اور واپس آجاؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37548، ترقيم محمد عوامة 35964)
ترقیم عوامۃ: 35965 ترقیم الشثری: -- 37549
٣٧٥٤٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عاصم عن ابي (كبشة) (١) عن ابي موسى قال: الجليس الصالح خير من الوحدة، والوحدة خير من جليس السوء، الا إن مثل (الجليس الصالح) (٢) كمثل العطر، (إلا) (٣) (يحذك) (٤) (يعبق) (٥) بك من ⦗٤٣١⦘ ريحه، الا (وإن) (٦) مثل جليس السوء كمثل (الكير) (٧) (إلا) (٨) يحرقك يعبق بك من ريحه، الا وإنما سمي القلب من تقلبه، الا وإن مثل القلب مثل ريشة متعلقة بشجرة في فضاء من الارض فالريح تقلبها ظهرا وبطنا (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (كشبة).
(٢) في [جـ]: (جليس الصالح)، وفي [هـ]: (جليس الخير).
(٣) في [ع]: (لا).
(٤) في [أ، ب، جـ]: (يجدك)، وفي [س]: (يخذك).
(٥) في [س]: (يعتق).
(٦) في [أ، جـ، ع]: (وإنما).
(٧) في [ع]: (الكيران).
(٨) في [ع]: (لا).
(٩) مجهول؛ لجهالة أبي كبشة، أخرجه ابن المبارك في الزهد (٣٥٨)، وهناد في الزهد (١٢٣٧)، وورد مرفوعًا عند أحمد (١٩٦٦٠)، وأصله عند البخاري (٢١٠١)، ومسلم (٢٦٢٨).
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اچھا ہم نشین، خلوت سے بہتر ہوتا ہے اور خلوت، برے ہم نشین سے بہتر ہے۔ خبردار! اچھے ہم نشین کی مثال عطر کی سی ہے اگر وہ تجھے نہ بھی دے تو بھی خوشبو لگ کر تم مہک جاؤ گے۔ اور خبردار! برے ہم نشین کی مثال بھٹی کی دھونی کی سی ہے اگر وہ تمہیں نہ جلائے تو اس کی بو تمہیں پہنچ جائے گی۔ خبردار! دل کو دل اس کے پلٹنے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ خبردار! دل کی مثال زمین کے اوپر فضا میں درخت کے ساتھ لٹکے ہوئے پر کی سی ہے۔ کہ ہوا اس کو اوپر، نیچے کی جانب پلٹتی رہتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37549، ترقيم محمد عوامة 35965)
ترقیم عوامۃ: 35966 ترقیم الشثری: -- 37550
٣٧٥٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن ثابت البناني عن انس قال: (كنا) (١) مع ابي موسى في (منزله) (٢) فسمع الناس يتكلمون فسمع فصاحة وبلاغة، قال: فقال: يا انس هلم فلنذكر الله (ساعة) (٣) ، فإن هؤلاء يكاد احدهم ان (يفري) (٤) الاديم بلسانه، ثم قال: يا انس ما ثبط الناس عن الآخرة؟ ما ثبطهم عنها؟ قال: قلت: الدنيا والشهوات، قال: لا، ولكن غيبت الآخرة، وعجلت الدنيا، ولو عاينوا ما عدلوا بينهما (ولا ميلوا) (٥) (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (كنت).
(٢) في [هـ]: (مسير له).
(٣) في [أ، ب]: (بساعة).
(٤) في [هـ]: (يغري).
(٥) في [أ، ب]: (ملكوا)، وفي [جـ، س]: (مثلوا).
(٦) صحيح؛ أخرجه أبو نعيم ١/ ١٥٩، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٦٦٧)، وابن عساكر ٣٢/ ٩٠.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ان کے گھر پر تھے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو باتیں کرتے سنا اور انہوں نے فصاحت و بلاغت کے ساتھ سنا۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے فرمایا: اے انس! آؤ، ہم کچھ دیر اللہ کا ذکر کرلیں۔ کیونکہ یہ تو ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک اپنی زبان سے چمڑے کو کاٹ دے پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کس چیز نے لوگوں کو آخرت سے روکا ہے؟ کس چیز نے انہیں اس سے روکا ہے؟ راوی کہتے ہیں میں نے کہا: دنیا اور خواہشات۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ آخرت آنکھوں سے غائب ہے اور دنیا حاضر ہے۔ اگر لوگ معائنہ کرلیں تو ان کے درمیان عدل نہ کریں اور نہ متردد ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37550، ترقيم محمد عوامة 35966)
ترقیم عوامۃ: 35967 ترقیم الشثری: -- 37551
٣٧٥٥١ - حدثنا غندر عن شعبة عن زياد بن مخراق عن ابي إياس عن ابي (كنانة) (١) عن ابي موسى الاشعري انه قال: (إن) (٢) هذا القرآن ⦗٤٣٢⦘ (كائن) (٣) لكم اجرا، وكائن لكم ذكرا، وكائن (عليكم) (٤) وزرا، فاتبعوا القرآن ولا يتبعكم، فإنه من يتبع القرآن يهبط به (٥) رياض الجنة، ومن يتبعه القرآن يزخ في قفاه فيقذفه في جهنم (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ب]: (عن).
(٣) في [أ، ب، ع]: (كاين).
(٤) في [أ، ب]: (لكم).
(٥) في [هـ]: زيادة (على).
(٦) مجهول؛ لجهالة أبي كنانة القرشي، وأخرجه الدارمي (٣٣٢٨)، وسعيد بن منصور ٢/ (٨)، والخطيب في تاريخ بغداد ١٣/ ٨٥، ومسدد كما في المطالب العالية (٣٥٠٣)، وأبو نعيم ١/ ٢٥٧، والبيهقي في الشعب (٣٠٢٣).
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: بیشک یہ قرآن تمہارے لیے اجر ہوگا اور تمہارے لیے ذکر ہوگا۔ اور تمہارے اوپر بوجھ ہوگا۔ پس تم قرآن کی پیروی کرو اور قرآن کو اپنے پیچھے نہ لگاؤ۔ کیونکہ جو شخص قرآن کی پیروی کرے گا تو وہ اس کو جنت کے باغ میں اتار دے گا اور جس کے پیچھے قرآن لگ جائے گا وہ اس کو اس کی گدی سے پکڑ کر جہنم میں گرا دیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37551، ترقيم محمد عوامة 35967)
ترقیم عوامۃ: 35968 ترقیم الشثری: -- 37552
٣٧٥٥٢ - حدثنا الفضل بن دكين عن سفيان عن عطاء بن السائب عن ابي عبد الرحمن عن ابي موسى قال: إذا اصبح إبليس بعث جنوده فيقول: لم ازل به حتى شرب، قال: انت، قال: لم ازل به حتى زنى، قال: انت، قال: لم ازل به حتى قتل، قال: انت (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ رواية سفيان عن عطاء قبل اختلاطه، وأخرجه ابن الجوزي في تلبيس إبليس (ص ٤٣)، والشبلي في آكام الرجان (ص ٢٢٦)، ونسبه القرطبي ١٠/ ٤٢٢ المسند أحمد، وقد ورد مرفوعًا، أخرجه ابن حبان (٦١٨٩)، والحاكم ٤/ ٣٩٠، وأبو نعيم في الحلية ٨/ ١٢٨، والطبراني كما في مجمع الزوائد ١/ ١١٤.
حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابلیس صبح کرتا ہے تو اپنے لشکر کو بھیجتا ہے۔ ایک کہتا ہے: میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے شراب پی لی۔ شیطان کہتا ہے تو ٹھیک ہے۔ ایک دوسرا کہتا ہے۔ میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے زنا کرلیا۔ ابلیس کہتا ہے: تو ٹھیک ہے۔ ایک کہتا ہے: میں مسلسل ساتھ رہا یہاں تک کہ اس نے قتل کرلیا۔ ابلیس کہتا ہے۔ تو ٹھیک ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37552]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37552، ترقيم محمد عوامة 35968)