🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. كلام ابن الزبير ﵁
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35971 ترقیم الشثری: -- 37555
٣٧٥٥٥ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: كان ابن الزبير إذا قام في الصلاة كانه وتد (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ وتقدم ٢/ ٣٤٠ برقم [٧٤٣٦] بلفظ: (كأنه عود)، وهكذا رواه عبد اللَّه بن أحمد في زوائد فضائل الصحابة (٢٣٠)، والمروزي في تعظيم الصلاة (١٤٤)، والبيهقي ٢/ ٢٨٠، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٣٥، وابن عساكر ٢٨/ ١٦٩، والفاكهي في أخبار مكة (١٥٧٨).
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوتے تو میخ کی طرح ہوتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37555]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37555، ترقيم محمد عوامة 35971)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35972 ترقیم الشثری: -- 37556
٣٧٥٥٦ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن ابي إسحاق قال: ما رايت سجدة اعظم من سجدته -يعني ابن الزبير (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه أحمد في العلل ٢/ ٤٧٠، والفاكهي (١٥٨١)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٢.
حضرت ابواسحاق سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان … ابن زبیر رضی اللہ عنہ … کے سجدے سے بڑا سجدہ نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37556]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37556، ترقيم محمد عوامة 35972)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35973 ترقیم الشثری: -- 37557
٣٧٥٥٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: اخبرنا هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الزبير (قال) (١) : ﴿خذ العفو﴾ [الاعراف: ١٩٩] قال: ما مر به من اخلاق الناس، وايم الله لآخذن به فيهم ما (صحبتهم) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب]: (أصبحتهم)، وفي [أ]: (أصحبتهم).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٦٤٣)، وأبو داود (٤٧٨٧).

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں { خُذِ الْعَفْوَ } فرمایا: آپ رضی اللہ عنہ کو لوگوں کے اخلاق سے ہی حکم دیا گیا۔ اور خدا کی قسم! جب تک میں لوگوں میں رہوں گا میں بھی اسی پر عمل کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37557]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37557، ترقيم محمد عوامة 35973)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35974 ترقیم الشثری: -- 37558
٣٧٥٥٨ - حدثنا ابو داود الطيالسي عن الاسود بن شيبان عن ابي نوفل بن ابي عقرب قال: دخلنا على ابن الزبير وهو مواصل لخمس عشرة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حضرت ابونوفل بن ابوعقرب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوئے تو وہ پندرہ روز سے صوم وصال رکھ رہے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37558]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37558، ترقيم محمد عوامة 35974)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35975 ترقیم الشثری: -- 37559
٣٧٥٥٩ - حدثنا ابو اسامة عن سعيد بن مرزبان قال: حدثنا محمد بن عبيد الله الثقفي قال: رايت ابن الزبير خطبهم (و) (١) قال: إنكم جئتم من بلدان شتى تلتمسون امرا عظيما، فعليكم بحسن الدعة وصدق النية (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) ضعيف؛ لحال سعيد بن مرزبان وهو أبو سعد البقال.

حضرت محمد بن عبید اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم متفرق شہروں سے آئے ہو اور ایک بڑی چیز کے متلاشی ہو۔ لہٰذا تم پر حسن دعا اور صدق نیت لازم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37559]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37559، ترقيم محمد عوامة 35975)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35976 ترقیم الشثری: -- 37560
٣٧٥٦٠ - حدثنا ابو اسامة عن هشام بن عروة عن وهب بن كيسان قال: كتب رجل من (اهل) (١) العراق إلى ابن الزبير حين بويع: سلام عليك فإني احمد (إليك الله) (٢) الذي لا إله إلا (هو) (٣) ، اما بعد فإن لاهل طاعة الله واهل الخير علامة يعرفون بها و (تعرف) (٤) فيهم من الامر بالمعروف والنهي عن المنكر والعمل بطاعة الله، واعلم (الناس) (٥) ان الإمام (مثل) (٦) السوق ياتيه ما (كان) (٧) فيه، فإن كان برا جاءه اهل البر ببرهم، وإن كان فاجرا جاءه اهل الفجور بفجورهم (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أرض).
(٢) في [س]: (اللَّه إليك).
(٣) في [أ، ب]: (اللَّه).
(٤) في [ط، هـ]: (يعرف).
(٥) هكذا في النسخ، وتقدم ١١/ ٩٧ برقم [٣٢٥٨٩] بدونها.
(٦) في [أ، ب]: (كا).
(٧) في [هـ]: (زكا).
(٨) صحيح؛ أخرجه هناد (٥٢٦)، وابن عساكر ٢٨/ ٢١٤.

حضرت وہب بن کیسان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو ایک عراقی آدمی نے آپ کو خط لکھا: ”تم پر سلامتی ہو۔ میں تمہارے سامنے اس خدا کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اما بعد! پس اللہ کی اطاعت کرنے والوں اور اہل خیر کی ایک علامت ہوتی ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ اور وہ چیزیں ان میں پہچانی جاتی ہیں۔ امر بالمعروف، نہی عن المنکر، خدا کی فرمانبرداری والے عمل اور جان لو کہ امام کی مثال بازار کی سی ہے۔ اس میں جو ہوگا وہی اس کے پاس آئے گا۔ اگر امام نیک ہوگا تو نیک لوگ اپنی نیکی کے ساتھ اس کے پاس آئیں گے اور اگر امام فاجر ہو تو اہل فجور اس کے پاس اپنے فجور کے ساتھ آئیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37560]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37560، ترقيم محمد عوامة 35976)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35977 ترقیم الشثری: -- 37561
٣٧٥٦١ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن سفيان عن يونس عن الحسن عن عتي عن ابي بن كعب قال: إن طعام ابن آدم ضرب مثلا، وإن ملحه ⦗٤٣٥⦘ و (قزحه) (١) علم (إلى) (٢) ما يصير (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: أكثر ثوابله، وفي [أ، ب، ط]: (فرحه).
(٢) في [ب]: (على).
(٣) صحيح؛ أخرجه الطيالسي (٥٤٨)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٥٤، وابن أبي الدنيا في التواضع (٢٢١١)، وأخرجه مرفوعًا ابن حبان (٧٠٢)، وعبد اللَّه بن أحمد (٢١٢٣٩)، وابن أبي عاصم في الزهد (٢٠٥)، والشاشي (١٥٠١)، والطبراني (٥٣١)، وأبو الشيخ في الأمثال (٢٦٩).

حضرت ابی بن کعب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن آدم کے کھانے کی مثال بیان کی گئی ہے کہ اگر اس میں خوب نمک مصالحے ڈالے جائیں گے تو جو انجام ہوگا وہ اس سے واقف ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37561]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37561، ترقيم محمد عوامة 35977)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35978 ترقیم الشثری: -- 37562
٣٧٥٦٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم (١) عن ابيه عن جده عبد الرحمن بن عوف انه اتي بطعام فقال عبد الرحمن: قتل حمزة ولم (يجد) (٢) ما (نكفنه) (٣) وهو خير مني، وقتل مصعب بن عمير وهو خير مني ولم (يجد) (٤) ما (نكفنه) (٥) ، وقد اصبنا منها ما اصبنا، ثم قال عبد الرحمن: (إني) (٦) لاخشى ان نكون قد عجلت لنا طيباتنا في الدنيا (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: زيادة (بن إبراهيم).
(٢) في [أ، ط]: (نجد).
(٣) في [س]: (يكفيه)، وفي [هـ]: (يكفنه).
(٤) في [أ، ط]: (نجد).
(٥) في [س]: (يكفيه)، وفي [هـ]: (يكفنه).
(٦) في [ب]: (أبي)، وفي [هـ]: (إلى).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٢٧٤)، وابن حبان (٧٠١٨).

حضرت عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا تو حضرت عبدالرحمن نے فرمایا: حضرت حمزہ قتل کیے گئے لیکن ہمارے پاس ان کے کفن دینے کے لیے کچھ موجود نہیں تھا جبکہ وہ مجھ سے بہتر تھے اور مصعب بن عمیر کو قتل کیا گیا وہ بھی مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ہمارے پاس ان کی تکفین کے لیے کچھ موجود نہ تھا۔ جبکہ ہمیں اس دنیا سے جو ملا ہے وہ تو ملا ہے پھر حضرت عبدالرحمن نے فرمایا: مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری پاکیزہ چیزیں ہمیں دنیا ہی میں تو پیشگی نہیں دے دی گئیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37562]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37562، ترقيم محمد عوامة 35978)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35979 ترقیم الشثری: -- 37563
٣٧٥٦٣ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر عن (معن) (١) عن عون بن عبد الله قال: بينا رجل في بستان بمصر في فتنة ابن الزبير جالس مهموم حزين ينكت في الارض، إذ رفع راسه فإذا صاحب مسحاة قائم بين يديه، فقال صاحب المسحاة: (ما لي اراك مهموما حزينا؟ فكانه ازدراه، فقال: لا شيء، (فقال) (٢) صاحب المسحاة) (٣) : إن ⦗٤٣٦⦘ (يكن) (٤) للدنيا (٥) ، فالدنيا عرض حاضر، ياكل منه البر والفاجر، وإن الآخرة اجل صادق، يحكم فيه ملك قادر، (٦) يفصل بين الحق والباطل، حتى ذكر ان لها مفاصل مثل مفاصل اللحم، من اخطا منها شيئا اخطا الحق، فلما سمع بذلك قال: اهتمامي بما فيه المسلمون، قال: فقال: فإن الله سينجيك بشفقتك على المسلمين، وسل من ذا الذي سال الله فلم يعطه؟ ودعا الله فلم يجبه؟ (وتوكل عليه فلم يكفه؟) (٧) ووثق به فلم ينجه؟ قال: فطفقت اقول: اللهم سلمني وسلم مني، قال: فتجلت ولم اصب (منها) (٨) بشيء (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب].
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) سقط من: [س].
(٤) ففي [أ، ب]: (يكون).
(٥) في [س، ع]: زيادة (في).
(٦) في [جـ، ع]: زيادة (حتى ذكر).
(٧) في [جـ]: (توكل على اللَّه).
(٨) في [جـ]: (منه).
(٩) انظر: الحادثة في الحلية ٤/ ٢٤٤، والفتن لنعيم (٥٠٨)، والدعاء للطبراني (١٣٣١)، والزهد لهناد (٧٨٤)، والهواتف لابن أبي الدنيا (١٢١).

حضرت عون بن عبداللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ فتنہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے وقت میں ایک آدمی مصر میں ایک باغ میں فکر مند، غمگین بیٹھا ہوا زمین پر کرید رہا تھا کہ اس دوران اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو ایک بیلچے والے آدمی کو اپنے سامنے کھڑے پایا۔ بیلچے والے نے کہا کیا بات ہے کہ میں تمہیں فکر مند اور غمگین پاتا ہوں؟ گویا کہ اس نے اس کو ہلکا سمجھتے ہوئے کہا: کوئی بات نہیں۔ اس پر بیلچے والے نے کہا: اگر تو یہ دنیا کی خاطر ہے تو دنیا ایک حاضر سامان ہے جس سے نیک اور بد کھاتا ہے۔ اور آخرت ایک سچا وقت ہے جس میں قدرت والا بادشاہ فیصلہ کرے گا۔ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ یہاں تک کہ اس نے ذکر کیا کہ اس کے گوشت کی طرح مفاصل ہیں۔ جوان میں سے کسی شے میں غلطی کرے گا وہ حق سے غلطی کر بیٹھے گا۔ جب اس آدمی نے یہ باتیں سنیں تو کہا میری فکر مندی مسلمانوں کے اندرونی مسئلہ میں ہے۔ راوی کہتے ہیں اس پر اس آدمی نے کہا: عنقریب اللہ تعالیٰ تجھے مسلمانوں پر شفقت کی وجہ سے نجات دے گا اور تم سوال کرو۔ وہ کون شخص ہے جس نے اللہ سے مانگا ہو پھر اس کو عطا نہ کیا گیا ہو؟ اس نے اللہ سے دعا کی ہو اور قبول نہ ہوئی ہو؟ خدا پر توکل کیا ہو اور خدا اس کو کافی نہ ہوا ہو؟ اور خدا پر بھروسہ کیا ہو اور خدا نے اس کو نجات نہ دی ہو؟ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ میں نے کہنا شروع کیا۔ اے اللہ! تو مجھے بھی سلامت رکھنا اور مجھ سے بھی سلامتی رکھنا۔ کہتے ہیں پس وہ فتنہ ختم ہوگیا اور مجھے اس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37563]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37563، ترقيم محمد عوامة 35979)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35980 ترقیم الشثری: -- 37564
٣٧٥٦٤ - حدثنا قبيصة بن عقبة عن مالك بن مغول عن (ابن ابجر) (١) عن سلمة ابن كهيل قال: لقيني ابو جحيفة فقال لي: يا سلمة ما بقي شيء مما كنت اعرف إلا هذه الصلاة، وما من نفس تسرني ان (تفديني) (٢) من الموت ولا نفس ذباب، قال: ثم بكى (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ابن أبجر)، وفي [س]: (أبي البحر).
(٢) في [س]: (تقديني).
(٣) صحيح؛ أخرجه الطبراني ٢٢/ (٣٢٥).

حضرت سلمہ بن کہیل سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوجحیفہ کی میرے ساتھ ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے کہا: اے سلمہ! میری پہچان والی چیزوں میں سے صرف یہ نماز ہی رہ گئی ہے۔ مجھے کوئی نفس موت سے چھڑا کر خوش نہیں کرتا اور نہ مکھی کا نفس۔ راوی کہتے ہیں پھر وہ رو پڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37564]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37564، ترقيم محمد عوامة 35980)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں