🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

49. (يحيى بن جعدة)
حضرت یحییٰ بن جعدہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36129 ترقیم الشثری: -- 37713
٣٧٧١٣ - حدثنا محمد بن بشر (قال: حدثنا مسعر) (١) قال: حدثنا حبيب بن ابي ثابت عن يحيى بن جعدة قال: كان يقال: اعمل وانت مشفق، ودع العمل وانت (تشتهيه) (٢) ، عمل صالح قليل تدوم عليه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: تكرر.
(٢) في [ب]: (يشتيهيه).

حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے کہ وہ کہا کرتے تھے تم عمل کرو درآنحالیکہ تم ڈر رہے ہو اور عمل کو چھوڑ دو جبکہ تمہیں اس کی چاہت ہو۔ عمل صالح تھوڑا بھی ہو تم اس پر مداومت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37713]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37713، ترقيم محمد عوامة 36129)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36130 ترقیم الشثری: -- 37714
٣٧٧١٤ - حدثنا يحيى بن سعيد وابن مهدي عن سفيان عن حبيب عن يحيى بن جعدة (١) قال يحيى: إذا سجد، وقال ابن مهدي: إذا وضع الرجل جبهته (٢) فقد برئ من الكبر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (قال: يحيى بن جعدة).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (على الأرض).

حضرت یحییٰ بن جعدہ سے روایت ہے حضرت یحییٰ کہتے ہیں جب آدمی سجدہ کرے اور حضرت ابن مہدی کہتے ہیں جب آدمی اپنی پیشانی کو رکھ دیتا ہے تو وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37714]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37714، ترقيم محمد عوامة 36130)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36131 ترقیم الشثری: -- 37715
٣٧٧١٥ - حدثنا وكيع عن الاعمش قال: سمعتهم يذكرون عن شريح انه راى جيرانا له تحولوا، فقال: ما لكم؟ قالوا: فزعنا، قال: وبهذا امر (الفزاع) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الفراع)، مراده أن من فزع في منزله فإن دواءه ليس بالانتقال من منزله، وإنما بالأوراد الشرعية.
حضرت اعمش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو حضرت شریح کے حوالہ سے ذکر کرتے سنا کہ انہوں نے اپنے ایک پڑوسی کو دیکھا جو جارہے تھے۔ پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم فارغ ہوگئے ہیں۔ شریح نے کہا: فارغ آدمی کو یہی حکم ہے؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37715]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37715، ترقيم محمد عوامة 36131)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36132 ترقیم الشثری: -- 37716
٣٧٧١٦ - حدثنا ابن إدريس عن هارون بن (ابي) (١) إبراهيم عن عبد الله بن عبيد ابن عمير قال: إن ايسر (النسك) (٢) اللباس (والمشية) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب]: (البأس).
(٣) في [س]: (والمسبة).

حضرت عبداللہ بن عبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک آسان ترین قربانی لباس اور چال ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37716]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37716، ترقيم محمد عوامة 36132)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36133 ترقیم الشثری: -- 37717
٣٧٧١٧ - حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا (ابو عوانة قال: حدثنا) (١) ابو سنان قال: اشتكى عبد الله بن ابي الهذيل يوما ذنوبه فقال له رجل: يا ابا المغيرة الست التقي؟ قال: فقال: اللهم إن عبدك (٢) اراد ان يتقرب إلي وإني اشهدك على (مقته) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (هذا).
(٣) في [أ، ب، جـ]: (مقتله)، وفي [س]: (مقبله).

حضرت ابوسنان بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ابوالہذیل ایک دن اپنے گناہوں کی شکایت کررہے تھے تو ان سے ایک آدمی نے کہا: اے ابوالمغیرہ! کیا تم متقی نہیں ہو۔ راوی کہتے ہیں انہوں نے کہا: اے اللہ! تیرا ایک بندہ میرے قریب ہو رہا ہے اور میں تجھے اس کے غصہ پر گواہ بناتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37717]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37717، ترقيم محمد عوامة 36133)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36134 ترقیم الشثری: -- 37718
٣٧٧١٨ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا إسماعيل بن ابي خالد عن عبد الملك ابن عمير عن ربعي بن (حراش) (١) قال: اتيت فقيل لي: قد مات اخوك، فجئت سريعا وقد سجي بثوبه، فانا عند راس اخي استغفر له واسترجع (إذ) (٢) كشف الثوب عن وجهه فقال: السلام عليكم، فقلنا: وعليك السلام، سبحان الله، قال: سبحان الله، إني قدمت على الله بعدكم، فتلقيت بروح وريحان ورب غير غضبان، وكساني ثيابا خضرا من سندس وإستبرق، ووجدت الامر ايسر مما تظنون، ولا تتكلوا، وإني استاذنت ربي اخبركم وابشركم، احملوني إلى رسول الله ﷺ فإنه عهد إلي ان لا ابرح حتى آتيه، ثم طفئ مكانه قال: واخذ حصاة فرمى بها، قال: فما ادري اهو كان اسرع ام هذه؟

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س، ع]: (خراش).
(٢) في [ب، س]: (إذا).

حضرت ربعی بن حراش سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میرے پاس کوئی آیا اور مجھے کہا تمہارا بھائی مرگیا ہے۔ پس میں جلدی سے آیا۔ اس کو اس کے کپڑوں میں ڈھانپ دیا گیا تھا اور میں اپنے بھائی کے سر کے پاس کھڑا اس کے لیے استغفار کررہا تھا۔ اور انا للہ پڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کے چہرے سے کپڑا ہٹا اور اس نے کہا: السلام علیکم! ہم نے جواب میں کہا۔ وعلیک السلام۔ سبحان اللہ۔ اس نے کہا: سبحان اللہ۔ میں تمہارے بعد اللہ کے پاس حاضر ہوا تھا۔ وہاں میرا استقبال باد نسیم اور ریحان کے ساتھ اور ایسے پروردگار نے کیا جو غصہ میں نہیں تھا۔ اور مجھے سندس اور ریشم کا سبز لباس پہنایا۔ اور میں نے تمہارے گمان سے بھی آسان معاملہ پایا۔ اور تم بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جاؤ۔ میں نے اپنے رب سے اس بات کی اجازت لی ہے کہ میں تمہیں خبر دوں اور بشارت دوں۔ تم مجھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے چلو۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عہد کیا ہے کہ میں تمہارے آنے تک یہیں رہوں گا۔ پھر یہ صاحب اسی جگہ فوت ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں اس نے ایک کنکری پکڑی اور پھینک دی۔ راوی کہتے ہیں۔ مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ وہ زیادہ تیز تھے یا یہ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37718]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37718، ترقيم محمد عوامة 36134)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36135 ترقیم الشثری: -- 37719
٣٧٧١٩ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن (ابي) (١) عون قال: كان اهل الخير إذا التقوا يوصي بعضهم بعضا بثلاث، وإذا غابوا كتب بعضهم إلى بعض: من عمل لآخرته كفاه الله دنياه، ومن اصلح فيما بينه وبين الله كفاه الله ⦗٤٧٥⦘ الناس، ومن اصلح سريرته اصلح (الله) (٢) علانيته.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (ابن).
(٢) سقط من: [ب].

حضرت ابوعون سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل خیر جب باہم ملتے تھے تو ان میں سے بعض، بعض کو تین باتوں کی وصیت کرتے تھے اور جب یہ غائب ہوتے تو پھر ایک دوسرے کو یہ تحریر کرتے۔ جو شخص اپنی آخرت کے لیے عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے لیے اس کو کافی ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان معاملہ درست رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی طرف سے کفایت کرجاتے ہیں۔ جو شخص اپنی خلوت کو درست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی جلوت کو درست کردیتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37719]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37719، ترقيم محمد عوامة 36135)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36136 ترقیم الشثری: -- 37720
٣٧٧٢٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: (حدثنا) (١) قطبة عن الاعمش عن عبد الله بن سنان انه راى صاحبا له في النوم فقال (٢) : اي شيء رايت افضل حين اطلعت الامر؟ قال: سجدات المسجد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: زيادة (له).

حضرت عبداللہ بن سنان سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے ایک دوست کو خواب میں دیکھا۔ تو اس سے پوچھا جب تم نے معاملہ دیکھا تو کون سی چیز تمہیں سب سے افضل نظر آئی؟ انہوں نے کہا: مسجد کے چند سجدے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37720]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37720، ترقيم محمد عوامة 36136)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36137 ترقیم الشثری: -- 37721
٣٧٧٢١ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن طعمة عن عبد الله بن عيسى قال: كان فيمن كان قبلكم رجل عبد الله اربعين سنة في البر، ثم قال: يا رب قد اشتقت ان اعبدك في البحر، فاتى قوم فاستحملهم فحملوه، وجرت بهم سفينتهم ما شاء الله ان تجري، ثم قامت فإذا شجرة في ناحية الماء، قال: فقال: ضعوني على هذه الشجرة، قال: فقالوا: ما يعيشك على هذه؟ قال: إنما استحملتكم فضعوني حيث اريد، فوضعوه وجرت بهم سفينتهم، فاراد ملك ان يعرج إلى السماء فتكلم بكلامه الذي كان يعرج به فلم يقدر على ذلك، فعلم ان ذلك لخطيئة كانت منه، فاتى صاحب الشجرة فساله ان يشفع له إلى ربه، قال: فصلى ودعا للملك، قال: وطلب إلى ربه ان يكون هو يقبض نفسه (ليكون) (١) اهون عليه من ملك الموت، فاتاه حين حضر اجله فقال: إني طلبت إلى ربي ان يشفعني فيك كما شفعك في، وان اكون انا اقبض نفسك، فمن حيث شئت قبضتها قال: فسجد سجدة فخرجت (دمعة) (٢) من عينه فمات.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يكون).
(٢) في [جـ]: (معده).

حضرت عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم سے پہلے لوگوں میں ایک آدمی تھا جس نے چالیس سال تک خشکی میں اللہ کی عبادت کی۔ پھر اس نے دعا کی۔ اے پروردگار! میں سمندر میں آپ کی عبادت کرنے کا شوق رکھتا ہوں۔ چناچہ کچھ لوگ آئے اور اس نے ان سے سوار کرنے کو کہا: انہوں نے اس کو (کشتی میں) سوار کرلیا۔ پھر جب تک خدا کی مشیت تھی کشتی انہیں لے کر چلتی رہی۔ پھر کشتی ٹھہر گئی۔ وہاں پانی کے کنارے میں ایک درخت تھا۔ راوی کہتے ہیں اس آدمی نے (کشی والوں سے) کہا: مجھے اس درخت کے پاس اتار دو۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: تم اس جگہ کیسے زندہ رہو گے؟ اس نے کہا: میں نے تمہیں اجرت پر اٹھانے کو کہا تھا پس جہاں میرا دل چاہے تم مجھے وہیں اتارو۔ چناچہ ان لوگوں نے اس کو وہاں اتار دیا اور کشتی بقایا لوگوں کو لے کر پھر چل پڑی۔ پھر ایک فرشتے نے آسمان پر چڑھنا چاہا اور اس نے وہ کلمات پڑھے جن کے ذریعہ وہ آسمان پر چڑھتا تھا لیکن وہ آسمان پر نہ چڑھ سکا۔ اسے معلوم ہوا کہ یہ اس کی کسی غلطی کا نتیجہ ہے۔ چناچہ وہ درخت والے کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ وہ اس کے پروردگار کے پاس اس کی سفارش کرے۔ راوی کہتے ہیں۔ اس آدمی نے نماز پڑھی اور فرشتے کے لیے دعا کی۔ راوی کہتے ہیں: اس عابد نے خدا سے یہ دعا بھی کی کہ اس کی روح یہ فرشتہ قبض کرے تاکہ ملک الموت سے ہلکی تکلیف ہو۔ چناچہ جب اس آدمی کی موت آئی تو یہ فرشتہ حاضر ہوا اور اس نے کہا میں نے اپنے رب سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ تیرے بارے میں میری بھی شفاعت قبول کریں جس طرح انہوں نے میرے بارے میں تیری شفاعت قبول کی تھی اور یہ کہ میں ہی تمہاری روح قبض کروں۔ پس جیسے تم چاہو گے میں تمہاری روح قبض کروں گا۔ راوی کہتے ہیں پھر اس عابد نے سجدہ کیا اور اس کی آنکھ سے آنسو نکلا اور وہ مرگیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37721]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37721، ترقيم محمد عوامة 36137)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں