مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
50. كلام عبيد بن عمير
حضرت عبید بن عمیر کا کلام
ترقیم عوامۃ: 36138 ترقیم الشثری: -- 37722
٣٧٧٢٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن حصين عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: كان (يقول) (١) : إذا جاء (الشتاء) (٢) يا اهل القرآن، طال الليل لصلاتكم، وقصر النهار لصيامكم، فاغتنموا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (يقال).
(٢) في [هـ]: (الثناء).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے جب سردی کا موسم آتا تو وہ کہتے اے اہل قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے رات لمبی ہوگئی ہے اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹا ہوگیا ہے۔ پس تم غنیمت سمجھو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37722]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37722، ترقيم محمد عوامة 36138)
ترقیم عوامۃ: 36139 ترقیم الشثری: -- 37723
٣٧٧٢٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: ما كان المجتهد فيكم إلا كاللاعب فيمن مضى.
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں تم میں سے جو خوب محنت کرنے والا ہے وہ پہلے لوگوں میں سے کھیلنے والے کی طرح ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37723]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37723، ترقيم محمد عوامة 36139)
ترقیم عوامۃ: 36140 ترقیم الشثری: -- 37724
٣٧٧٢٤ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: إن اهل القبور (١) يتوقعون الاخبار، فإذا لم تاتهم قالوا: إنا لله وإنا إليه راجعون، سلك به غير (طريقنا) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ع]: زيادة (ليتوقعون).
(٢) في [ط، هـ]: (طريقتنا).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بیشک قبروں والے خبروں کے منتظر رہتے ہیں۔ پھر جب ان کے پاس خبریں نہیں آتیں تو وہ انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے ہیں۔ یہ ہمارے راستہ کے علاوہ پر چل پڑے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37724، ترقيم محمد عوامة 36140)
ترقیم عوامۃ: 36141 ترقیم الشثری: -- 37725
٣٧٧٢٥ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: يؤتى بالرجل العظيم الطويل يوم القيامة فيوضع في الميزان، فلا يزن عند الله جناح بعوضة وقرا: ﴿فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا﴾ [الكهف: ١٠٥] .
حضرت بعید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک بڑے لمبے آدمی کو لایا جائے گا اور اس کو میزان میں رکھا جائے گا تو اللہ کے ہاں اس کا وزن مچھر کے پر جتنا بھی نہیں ہوگا۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: { فَلاَ نُقِیمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَزْنًا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37725]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37725، ترقيم محمد عوامة 36141)
ترقیم عوامۃ: 36142 ترقیم الشثری: -- 37726
٣٧٧٢٦ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير (١) : ﴿لكل اواب حفيظ﴾ [ق: ٣٢] ، قال: (للذي) (٢) لا يجلس مجلسا، ثم يقوم إلا استغفر الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (قال).
(٢) في [هـ]: (الذي).
حضرت عبید بن عمیر سے قرآن مجید کی آیت { لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ } کے بارے میں منقول ہے۔ وہ کہتے ہیں یہ اس آدمی کے بارے میں ہے جو کسی بھی مجلس میں بیٹھے پھر اٹھے تو اللہ سے معافی کا طلبگار رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37726]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37726، ترقيم محمد عوامة 36142)
ترقیم عوامۃ: 36143 ترقیم الشثری: -- 37727
٣٧٧٢٧ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عبيد بن عمير قال: من صدق الإيمان وبره إسباغ الوضوء في المكاره، (١) من صدق الإيمان وبره ان يخلو الرجل بالمراة (الحسنة) (٢) فيدعها، لا يدعها إلا لله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (و).
(٢) في [ط، هـ]: (الحسناء).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایمان کی سچائی اور نیکی میں سے یہ بات ہے کہ ناپسندیدہ اوقات میں وضو کو خوب اچھی طرح کرنا۔ ایمان کی سچائی اور نیکی میں سے یہ بات ہے کہ آدمی کسی حسین عورت کے ساتھ خلوت میں ہو پھر اس کو چھوڑ دے۔ اس کو صرف اللہ کے لیے چھوڑ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37727]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37727، ترقيم محمد عوامة 36143)
ترقیم عوامۃ: 36144 ترقیم الشثری: -- 37728
٣٧٧٢٨ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن ابي الزبير عن عبيد بن عمير في قوله: ﴿عتل بعد ذلك زنيم﴾ [القلم: ١٣] ، قال: هو الاكول الشروب، (القوي) (١) الشديد يوزن فلا يزن شعيرة، يدفع الملك من اولئك سبعين الفا دفعة واحدة في جهنم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
حضرت عبید بن عمیر سے ارشادِ خداوندی { عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِکَ زَنِیمٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں یہ زیادہ کھانے والا اور زیادہ پینے والا ہے۔ طاقتور اور سخت جان لیکن وزن کیا جائے تو وہ جو کے وزن کے برابر بھی نہیں ہوتا۔ فرشتہ اس جیسے ستر لوگوں کو ایک ہی مرتبہ میں جہنم میں پھینک دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37728]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37728، ترقيم محمد عوامة 36144)
ترقیم عوامۃ: 36145 ترقیم الشثری: -- 37729
٣٧٧٢٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد عن عبيد بن عمير: ﴿لكل اواب حفيظ﴾ [ق: ٣٢] ، قال: الذي يذكر ذنوبه في الخلاء فيستغفرها.
حضرت عبید بن عمیر سے { لِکُلِّ أَوَّابٍ حَفِیظٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں: یہ وہ آدمی ہے جو اپنے گناہوں کو خلوت میں یاد کرتا ہے پھر ان پر استغفار کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37729]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37729، ترقيم محمد عوامة 36145)
ترقیم عوامۃ: 36146 ترقیم الشثری: -- 37730
٣٧٧٣٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير: ﴿كل يوم هو في شان﴾ [الرحمن: ٢٩] ، قال: من شانه ان يفك عانيا او يجيب داعيا او يشفي سقيما او يعطي سائلا.
حضرت عبید بن عمیر سے { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِی شَأْنٍ } کے بارے میں روایت ہے وہ کہتے ہیں: اس کی شان میں سے یہ بات ہے کہ وہ قیدی کو رہائی دیتا ہے یا دعا کرنے والے کی قبول کرتا ہے، یا بیمار کو شفا دیتا ہے یا سوال کرنے والے کو عطا کرتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37730]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37730، ترقيم محمد عوامة 36146)
ترقیم عوامۃ: 36147 ترقیم الشثری: -- 37731
٣٧٧٣١ - [حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن عبيد بن عمير قال: إنكم مكتوبون عند الله باسمائكم وسيماكم (ومجالسكم) (١) وحلاكم] (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، هـ، ع]: (محاسنكم)، وانظر: حلية الأولياء ٣/ ٢٧١.
(٢) سقط الخبر في: [أ، ب، جـ]، وفي [هـ]: زيادة (مجالسكم).
حضرت عبید بن عمیر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ تم اللہ کے ہاں، اپنے ناموں، اپنی نشانیوں، اپنے ہم مجلسوں اور اپنے ظاہری حلیوں سمیت لکھے ہوئے ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37731]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37731، ترقيم محمد عوامة 36147)