🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. (كلام عمر بن عبد العزيز)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36248 ترقیم الشثری: -- 37832
٣٧٨٣٢ - حدثنا سعيد بن عثمان عن غيلان بن ميسرة ان (رجلا) (١) اتى ⦗٥١٠⦘ عمر ابن عبد العزيز فقال: زرعت زرعا فمر به جيش من اهل الشام فافسدوه، (قال) (٢) : فعوضه (منه) (٣) عشرة الاف (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عمر).
(٢) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٣) سقط في [هـ].
(٤) في [هـ]: زيادة (درهم).

حضرت غیلان بن میسرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں نے کھیتی کاشت کی تھی لیکن اس کے پاس سے اہل شام کا لشکر گزرا اور اس نے کھیتی خراب کردی۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس آدمی کو دس ہزار معاوضہ ادا کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37832]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37832، ترقيم محمد عوامة 36248)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36249 ترقیم الشثری: -- 37833
٣٧٨٣٣ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي ان عمر بن عبد العزيز اوصى عامله في الغزو ان لا يركب دابة إلا دابة (يضبط) (١) سيرها اضعف دابة في الجيش.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (تضبط).
حضرت اوزاعی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے عامل کو سفر جہاد میں یہ وصیت کی تھی کہ وہ صرف ایسی سواری پر ہی سوار ہو جس کی رفتار کو لشکر میں موجود کمزور ترین سواری بھی پاسکے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37833]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37833، ترقيم محمد عوامة 36249)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36250 ترقیم الشثری: -- 37834
٣٧٨٣٤ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى ان عمر بن عبد العزيز كان يبرد، قال: فحمل مولى له رجلا على البريد بغير إذنه، قال: فدعاه فقال: لا تبرح حتى تقومه ثم تجعله في بيت المال.
حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز قاصد روانہ کیا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عمر کے ایک آزاد کردہ غلام نے آپ کی اجازت کے بغیر ایک آدمی کو ڈاک کے گھوڑے پر سوار کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ چناچہ آپ رحمہ اللہ نے اس کو بلایا اور فرمایا: تم اسی طرح رہو یہاں تک کہ تم اس کی قیمت لگاؤ اور پھر اس کو بیت المال میں جمع کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37834]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37834، ترقيم محمد عوامة 36250)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36251 ترقیم الشثری: -- 37835
٣٧٨٣٥ - حدثنا (ابن) (١) مبارك عن جميع بن عبد الله المقرئ ان عمر بن عبد العزيز نهى البريد ان يجعل في طرف السوط حديدة ينخس بها الدابة، (قال) (٢) : ونهى عن اللجم الثقال.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (أبي).
(٢) سقط من: [ع].

حضرت جمیع بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے قاصد کو اس بات سے منع فرمایا کہ لاٹھی کے ایک جانب لوہا لگایا جائے جس کے ذریعہ جانور کو مارا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ نے بھاری لگاموں سے بھی منع کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37835]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37835، ترقيم محمد عوامة 36251)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں