🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. (كلام عمر بن عبد العزيز)
حضرت عمر بن عبدالعزیز کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36238 ترقیم الشثری: -- 37822
٣٧٨٢٢ - حدثنا حسين بن علي عن عبيد بن] (١) عبد الملك قال: اخبرني من راى عمر بن عبد العزيز واقفا بعرفة وهو يدعو وهو يقول باصبعه هكذا -يعني يشير بها: اللهم زد محسن امة محمد (٢) إحسانا، و (راجع) (٣) (بمسيئهم) (٤) إلى التوبة، ثم يقول -هكذا، ثم يدير (بإصبعه) (٥) -: اللهم وحط من وراءهم برحمتك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [س].
(٢) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٣) في [جـ]: (ورجع).
(٤) في [جـ، ع]: (نيسيهم).
(٥) في [ط، هـ]: (إصبعه).

حضرت عبید بن عبد الملک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مقام عرفہ میں وقوف کرتے دیکھا تھا اور آپ رحمہ اللہ دعا کر رہے تھے۔ اور آپ اپنی انگلی سے یوں اشارہ کررہے تھے۔ اے اللہ! اُمت محمد 5! کے ساتھ اچھائی کرنے والے کی اچھائی کو اور زیادہ کر اور امت محمد 5 کے ساتھ برائی کرنے والے کو توبہ کی طرف پھیر دے پھر آپ رحمہ اللہ نے اپنی انگلی کو پھیرا۔ اے اللہ! اور تو ان کے پیچھے سے اپنی رحمت کا احاطہ فرما لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37822]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37822، ترقيم محمد عوامة 36238)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36239 ترقیم الشثری: -- 37823
٣٧٨٢٣ - حدثنا عفان بن مسلم (قال) (١) : حدثنا جويرية بن اسماء (قال) (٢) : حدثنا نافع قال: قال عبد الملك بن عمر لعمر بن عبد العزيز: يا امير المؤمنين، ما يمنعك ان (تمضي) (٣) للذي تريد، فوالذي نفسي بيده ما ابا لي لو غلت بي وبك فيه القدور، قال: وحق هذا منك يا بني؟ قال: نعم والله، قال: الحمد لله الذي جعل لي من ذريتي (من) (٤) يعينني على امر ربي، يا بني لو (بدهت) (٥) الناس بالذي تقول لم آمن ان ينكروها، فإذا انكروها لم اجد بدا من السيف، ولا خير في خير لا ياتي إلا بالسيف، يا بني إني اروض الناس رياضة الصعب، فإن يطل بي (عمر) (٦) فإني ارجو ان ينفذ الله لي شيئا، وإن تعد علي منية فقد علم الله الذي اريد.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ، ب، ط، هـ]: (تقتضي).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [جـ]: (لذهب)، وفي [ع]: (بذهب).
(٦) في [ع]: (عمرا).

حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ عبدالملک بن عمر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا: اے امیر المومنین! آپ کو اپنے ارادہ کے پورے کرنے سے کیا شے رکاوٹ ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! مجھے اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کہ میرے اور آپ کے ذریعہ ہانڈیاں ابلیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! یہ بات تیری طرف سے درست ہے؟ عبدالملک نے کہا: جی ہاں، خدا کی قسم! آپ رحمہ اللہ نے فرمایا: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے میری نسل میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو حکم خداوندی میں میری معاونت کرتا ہے۔ اے میرے بیٹے! اگر میں یہ بات جو تم نے کہی ہے۔ لوگوں کے پاس اچانک لے کر آتا تو ان کی طرف سے اس بات کے انکار سے مجھے امن نہیں تھا۔ پھر جب وہ انکار کرتے تو میرے لیے تلوار کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ اور ایسی خیر میں کوئی بہتری نہیں ہے جو تلوار کے ذریعہ آئے۔ اے میرے بیٹے! میں لوگوں کے ساتھ مشکل سے قابو آنے والی اونٹنی کو قابو کرنے کی طرح کا معاملہ کررہا ہوں۔ چناچہ اگر میری عمر لمبی ہوئی تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے لیے کسی چیز کو نافذ کر دے گا اور اگر مجھ پر موت نے حملہ کردیا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے ارادہ کو جانتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37823]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37823، ترقيم محمد عوامة 36239)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36240 ترقیم الشثری: -- 37824
٣٧٨٢٤ - حدثنا عفان (قال) (١) : (حدثنا) (٢) جويرية بن اسماء عن إسماعيل بن ابي حكيم قال: غضب عمر بن عبد العزيز يوما فاشتد غضبه، وكانت فيه حدة، وعبد الملك ابنه حاضر، فلما راوه قد سكن غضبه قال: يا امير المؤمنين انت في قدر نعمة الله عليك، وفي موضعك الذي وضعك الله (فيه) (٣) ، وما ولاك الله من امر عباده يبلغ بك الغضب ما ارى، قال: كيف قلت؟ فاعاد عليه كلامه فقال: اما تغضب يا عبد الملك؟ قال: (٤) ما يغني عني سعة (جوفي) (٥) إن لم (اردد) (٦) فيه الغضب حتى لا يظهر منه شيء اكرهه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [س]: (أخبرنا).
(٣) في [ع]: (به).
(٤) في [هـ]: زيادة (قال).
(٥) في [أ، ب، س]: (حدثي)، وفي [جـ، ع]: (حدٍ).
(٦) في [أ، ب]: (أزدد).

حضرت اسماعیل بن عبدالحکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن عبدالعزیز کو غصہ آیا اور ان کا غصہ شدید ہوگیا اور اس میں کچھ تیزی بھی تھی۔ آپ کا بیٹا عبدالملک موجود تھا۔ چناچہ جب اس نے آپ کو دیکھا کہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا ہے تو اس نے کہا: اے امیر المومنین! آپ، اپنے اوپر خدا کی نعمت کی قدر کریں اور جس جگہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رکھا ہے آپ اسی جگہ رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو حکومت کا اختیار دیا ہے تو بندوں کے معاملہ میں آپ کا غصہ جہاں تک پہنچا تھا آپ کو اس کا اختیار نہیں جو میں دیکھتا ہوں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا: تم نے کیسے یہ بات کہی؟ چناچہ عبدالملک نے بات دہرائی۔ حضرت عمر نے پوچھا: اے عبدالملک! تمہیں غصہ نہیں آتا؟ انہوں نے فرمایا: میری اس وسعت قلبی کا کیا فائدہ؟ اگر میں اپنے غصہ کو واپس نہ کروں تاکہ اس کی وجہ سے کوئی ناپسندیدہ بات ظاہر نہ ہو؟“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37824]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37824، ترقيم محمد عوامة 36240)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36241 ترقیم الشثری: -- 37825
٣٧٨٢٥ - حدثنا حسين بن علي عن جعفر بن (برقان) (١) قال: كتب عمر بن عبد العزيز: اما بعد، فإن (اناسا) (٢) من الناس التمسوا الدنيا بعمل الآخرة. وإن اناسا من القصاص قد احدثوا من الصلاة على خلفائهم وامرائهم عدل صلاتهم على (النبي ﷺ، فإذا اتاك كتابي هذا فمرهم ان تكون) (٣) صلاتهم على النبيين، ودعاؤهم للمسلمين عامة، و (يدعون) (٤) ما سوى ذلك.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (برقال).
(٢) في [ع]: (ناسًا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [جـ]: (يدعوا).

حضرت جعفر بن برقان سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے خط لکھا۔ اما بعد! بیشک کچھ لوگ آخرت کے عمل سے دنیا کو تلاش کرتے ہیں اور کچھ قصہ گو لوگوں نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح اپنے خلفاء اور امراء پر درود بھیجنے کی بدعت نکال لی ہے۔ پس جب تمہارے پاس میرا یہ خط آئے تو تو لوگوں کو حکم دے کہ وہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء پر درود بھیجیں۔ اور عام مسلمان لوگوں کے لیے دعا ہے اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37825]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37825، ترقيم محمد عوامة 36241)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36242 ترقیم الشثری: -- 37826
٣٧٨٢٦ - حدثنا سعيد بن (عامر) (١) عن محمد بن عمرو قال: سمعت عمر بن عبد العزيز يقول: ما انعم الله على عبد من نعمة فانتزعها منه (فعاضه) (٢) مما انتزع منه صبرا، إلا كان الذي (عاضه) (٣) خيرا مما انتزع منه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عاصم).
(٢) في [أ، ب]: (فعاضهم).
(٣) في [ع]: (عاصه).

حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر بھی نعمت کرتا ہے پھر اس کو اس آدمی سے واپس لے لیتا ہے اور جس سے واپس لیتا ہے اس کو صبر دے دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کو جو صبر دیا ہوتا ہے وہ واپس لی ہوئی نعمت سے بہتر ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37826]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37826، ترقيم محمد عوامة 36242)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36243 ترقیم الشثری: -- 37827
٣٧٨٢٧ - حدثنا وكيع عن عبيد (الله) (١) بن موهب عن صالح بن (سعيد) (٢) المؤذن قال: بينما انا مع عمر بن عبد العزيز بالسويداء فاذنت (العشاء) (٣) ، فصلى ثم دخل القصر، فقلما لبث ان خرج، فصلى ركعتين خفيفتين، ثم جلس (فاحتبى) (٤) ، فافتتح الانفال فما زال يرددها ويقرا، كلما مر (بتخويف) (٥) تضرع، وكلما مر (بآية) (٦) رحمة دعا حتى اذنت للفجر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تم إثباتها في [هـ]، ومن الحلية ٥/ ٣٢٤، وتاريخ دمشق ٢٣/ ٣٣٢.
(٢) في [أ، ب، جـ، ع]: (سعد).
(٣) في [هـ]: (للعشاء الآخرة).
(٤) في [ب، س]: (فاحتبي).
(٥) في [هـ]: (بآية تخويف).
(٦) في [س]: (يأتيه).

حضرت صالح بن سعید مؤذن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ہمراہ مقام سویداء میں تھا۔ چناچہ میں نے عشاء کی اذان دی اور انہوں نے نماز ادا کی پھر محل میں چلے گئے۔ پھر تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے کہ باہر آگئے پھر دوہل کی سی رکعتیں پڑھیں اور پھر گھٹنے اٹھا کر (احتباء کی حالت میں) بیٹھ گئے۔ اور سورة انفال پڑھنا شروع کردی۔ آپ رحمہ اللہ مسلسل سورة انفال دہراتے رہے اور پڑھتے رہے۔ جب بھی کسی تخویف والی آیت سے گزرتے عاجزی کرتے اور جب کسی رحمت کی آیت سے گزرتے دعا کرتے۔ یہاں تک کہ میں نے فجر کی اذان دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37827]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37827، ترقيم محمد عوامة 36243)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36244 ترقیم الشثری: -- 37828
٣٧٨٢٨ - حدثنا ابن نمير عن طلحة بن يحيى قال: كنت جالسا عند عمر بن عبد العزيز فدخل عليه عبد الاعلى بن هلال فقال: ابقاك الله يا امير المؤمنين ما دام (البقاء) (١) خيرا لك، قال: قد فرغ من ذلك يا ابا النضر، ولكن قل: احياك الله (حياة) (٢) طيبة، وتوفاك مع الابرار.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (البقي)، وفي [أ]: (البقى).
(٢) في [أ، ب]: (الحياة).

حضرت طلحہ بن یحییٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس حضرت عبدالاعلیٰ بن ہلال تشریف لائے اور کہا: اے امیر المومنین! جب تک باقی رہنا آپ کے لیے بہتر ہو۔ اللہ آپ کو باقی رکھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے کہا: اے ابوالنضر! اس دعا سے تو فراغت ہوچکی ہے۔ لیکن تم یہ دعا کرو۔ اللہ تمہیں طیب زندگی عطا کرے اور تمہیں نیک لوگوں کے ساتھ وفات دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37828]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37828، ترقيم محمد عوامة 36244)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36245 ترقیم الشثری: -- 37829
٣٧٨٢٩ - حدثنا ابو خالد عن يحيي بن سعيد عن إسماعيل بن (ابي) (١) حكيم عن عمر بن عبد العزيز قال: إن الله لا يؤاخذ العامة بعمل في الخاصة، فإذا المعاصي ظهرت فلم تنكر استحقوا العقوبة جميعا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ عام لوگوں کو خاص لوگوں کے عمل کی وجہ سے مؤاخذہ نہیں کرتے۔ لیکن جب گناہ سرعام ہوتے ہیں اور ان پر انکار نہیں کیا جاتا تو پھر سب لوگ سزا کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37829]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37829، ترقيم محمد عوامة 36245)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36246 ترقیم الشثری: -- 37830
٣٧٨٣٠ - حدثنا محمد بن (١) عبد الله الاسدي (قال) (٢) : (حدثنا) (٣) سفيان عن عمر بن عبد العزيز قال: من لم يعد كلامه من عمله كثرت خطاياه، ومن عمل بغير علم كان ما يفسد اكثر مما يصلح.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: زيادة (أبي).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [س]: (أخبرنا).

حضرت عمر بن عبدالعزیز سے روایت ہے وہ کہتے ہیں جو آدمی، اپنے کلام کو اپنے عمل سے شمار نہیں کرتا اس کی خطائیں زیادہ ہوتی ہیں اور جو آدمی علم کے بغیر عمل کرتا ہے تو اس کے خراب عمل اس کے صحیح عملوں سے زیادہ ہوجاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37830]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37830، ترقيم محمد عوامة 36246)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36247 ترقیم الشثری: -- 37831
٣٧٨٣١ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ذكر ابو إسرائيل عمر بن عبد العزيز (قال) (١) : حدثني علي بن (بذيمة) (٢) قال: رايته بالمدينة وهو احسن الناس لباسا واطيب الناس ريحا و (من) (٣) اخيل الناس في مشيته (٤) ، [او (اخيل) (٥) الناس في مشيته] (٦) ، ثم رايته يعد يمشي مشية الرهبان، فمن حدثك ان المشي (سجية) (٧) فلا تصدقه بعد عمر بن عبد العزيز.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فقال).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (نديمة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [ع]: (مشية).
(٥) في [ط، هـ]: (أخبل)، وسقط من: [جـ].
(٦) سقط ما بين المعكوفين في: (جـ).
(٧) في [س، ع]: (شحية).

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن بذیمہ بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو مدینہ میں دیکھا تھا۔ وہ سب سے خوبصورت لباس والے تھے۔ اور سب سے عمدہ خوشبو والے تھے۔ اور اپنی چال میں سب سے زیادہ نخرے والے تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد راہبوں کی سی چال چلتے (بھی) دیکھا ہے۔ پس جو شخص تمہیں یہ کہے کہ چال انسان کی فطری عادت ہے تو اس کی عمر بن عبد العزیز کے بعد تصدیق نہ کرنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37831]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37831، ترقيم محمد عوامة 36247)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں