🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

72. الشعبي
حضرت شعبی کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36583 ترقیم الشثری: -- 38172
٣٨١٧٢ - حدثنا خلف بن خليفة عن عون بن شداد ان هرم بن (حيان) (١) العبدي لما نزل به الموت (قالوا) (٢) له: يا هرم (اوص) (٣) ، قال: اوصيكم ان تقضوا عني ديني، قالوا: بم توصي؟ قال: فتلا آخر سورة النحل: ﴿ادع إلى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة﴾ حتى بلغ: ﴿إن الله مع الذين اتقوا والذين هم محسنون﴾ [النحل: ١٢٥، ١٢٨] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (حبان).
(٢) في [أ، ب، س]: (قال).
(٣) في [أ، هـ]: (أوصني)، وانظر: تفسير ابن جرير ١٤/ ١٩٩، والحلية ٢/ ١٢١، وطبقات ابن سعد ٧/ ١٣١، وزهد هناد (٥١٢)، وزهد أحمد (٢٣٣).

حضرت عون بن شداد کہتے ہیں کہ جب ہرم بن حیان عبدی کے وصال کا وقت آیا تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اے ہرم! وصیت فرمادیجئے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم میرا قرض ادا کردینا۔ پھر لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں کیسے زندگی گزارنے کی وصیت کرتے ہیں؟ انہوں نے سورة النحل کی { ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ } سے لے کر {إنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَالَّذِینَ ہُمْ مُحْسِنُونَ } تک تلاوت فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38172]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38172، ترقيم محمد عوامة 36583)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36584 ترقیم الشثری: -- 38173
٣٨١٧٣ - حدثنا خلف بن خليفة عن إسماعيل بن ابي خالد قال: قال هرم: اللهم إني اعوذ بك من شر زمان: يتمرد فيه صغيرهم، ويامل فيه كبيرهم، وتقرب فيه آجالهم.
حضرت ہرم یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں ایسے زمانے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جس میں ان کا جوان سرکشی کا شکار ہے، بوڑھا امیدوں میں مبتلا ہے اور ان کی موتیں قریب آگئیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38173]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38173، ترقيم محمد عوامة 36584)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36585 ترقیم الشثری: -- 38174
٣٨١٧٤ - حدثنا خلف بن خليفة عن اصبغ الوراق عن ابي نضرة ان عمر بعث هرم بن حيان على الخيل، فغضب على رجل فامر به (فوجئت) (١) عنقه، ثم اقبل ⦗٣٠⦘ على اصحابه فقال: لا جزاكم الله خيرا ما نصحتموني حين قلت، ولا كففتموني (عن) (٢) غضبي، والله لا (الي) (٣) لكم عملا، ثم كتب إلى عمر: يا امير المؤمنين لا طاقة لي بالرعية فابعث إلى عملك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فوجبت)، وفي [أ، ب]: (فوجيت)، وفى الحلية ٢/ ١٢٠: (فوجئت).
(٢) في [س]: (على).
(٣) في [س]: (أي).
(٤) منقطع؛ أبو نضرة لا يروي عن عمر، أخرجه أبو نعيم في الحلية ٢/ ١٢٠، وابن الجوزي في المنتظم ٥/ ٢١٩.

حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ہرم بن حیان کو ایک لشکر کی قیادت دے کر روانہ فرمایا۔ پھر ہرم دشمنوں کے ایک آدمی پر غضب ناک ہوئے اور اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ اللہ تمہیں خیر سے محروم رکھے، جب میں نے یہ بات کی تو تم نے مجھے نصیحت کیوں نہ کی، اور تم نے مجھے میرے غصے سے کیوں نہ روکا، خدا کی قسم میں تمہارے کسی معاملے کا قائد نہیں بنوں گا۔ پھر انہوں نے حضرت عمرکو خط لکھا کہ اے امیر المومنین! میں رعیت کے کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ اس کام کے لئے کسی اور کو بھیج دیجئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38174]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38174، ترقيم محمد عوامة 36585)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36586 ترقیم الشثری: -- 38175
٣٨١٧٥ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن إسماعيل عن (الحسن) (١) ان (هرم) (٢) ابن حيان كان يقول: لم ار مثل النار نام هاربها، ولا مثل الجنة نام طالبها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الحسين).
(٢) في [ب]: (حرم).

حضرت ہرم بن حیان فرمایا کرتے تھے کہ میں جہنم کو ایسی چیز نہیں سمجھتا جس سے بھاگنے والے کو نیند آئے اور جنت کو ایسی چیز نہیں سمجھتاجس کو حاصل کرنے والا سو پائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38175]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38175، ترقيم محمد عوامة 36586)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36587 ترقیم الشثری: -- 38176
٣٨١٧٦ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثني سليمان بن المغيرة عن حصيد بن هلال قال: كان هرم بن حيان عاملا على بعض رساتيق الاهواز، فاستاذنه رجل من اصحابه إلى اهله، فابى ان ياذن له، قال: فقام هرم بن حيان يخطب يوم (جمعة) (١) إذ قال الرجل هكذا على انفه -امسك على انفه- (فاشار) (٢) إليه هرم بيده: اذهب، فانطلق الرجل حتى اتى اهله فقضى حاجته ثم رجع فقال له هرم: اين كنت؟ فقال: الم تر حين قمت فامسكت على انفي (فاشرت) (٣) إلي بيدك: اذهب، فقال هرم: اخر رجال السوء لزمان السوء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (الجمعة).
(٢) في [ع]: (وأشار).
(٣) في [س]: (فأشمت).

حمید بن ہلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حرم بن حیان ”اہواز“ علاقے کے بعض دیہاتوں کے گورنر تھے۔ ان سے ان کے کسی ساتھی نے اپنے گھر جانے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے اجازت دینے سے انکار کردیا۔ ”حمید بن ہلال“ کہتے ہیں کہ ہرم بن حیان جمعہ کے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک آدمی نے ناک پر ہاتھ رکھ کر اجازت طلب کی تو ”ہرم“ نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے کہا کہ چلا جا۔ وہ نکلا یہاں تک کہ اپنے گھر آیا اور اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے بعد لوٹا۔ ”ہرم“ نے اس سے پوچھا کہ ”آپ کہاں تھے“ تو اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا نہیں تھا کہ جب میں نے کھڑا ہو کر ناک کو روک رکھا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ چلا جا تو ہرم نے فرمایا کہ ”برے لوگوں کو برے زمانہ کے لیے چھوڑ دو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38176]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38176، ترقيم محمد عوامة 36587)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36588 ترقیم الشثری: -- 38177
٣٨١٧٧ - حدثنا عفان (قال: حدثنا) (١) جعفر بن سليمان [قال: اخبرني غالب ⦗٣١⦘ القطان عن بكر قال: إذا كان يوم القيامة لم يدع الله لمؤمن حاجة إلا قضاها، ولا يساله إلا ما يوافق رضاه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س]: (نا).
بکر فرماتے ہیں کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ مومن کی ہر حاجت کو پورا کرے گا۔ اور اس کی مرضی کے موافق اس سے سوال کیا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38177]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38177، ترقيم محمد عوامة 36588)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36589 ترقیم الشثری: -- 38178
٣٨١٧٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان] (١) قال: حدثنا سعيد الجريري قال: مر مؤرق العجلي على مجلس الحي فسلم عليهم، فردوا ﵇ وسالوه، فقال رجل من الحي: اكل حالك صالح؟ قال: وددنا ان العشر منه يصلح.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مورق العجلی قبیلہ حی کی مجلس سے گزرے تو ان کو سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور ایک آدمی نے ان سے پوچھا کہ ”آپ کی حالت بالکل درست ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”میں تو چاہتا ہوں کہ اس کا دسواں حصہ ہی ٹھیک ہوجائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38178]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38178، ترقيم محمد عوامة 36589)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36590 ترقیم الشثری: -- 38179
٣٨١٧٩ - حدثنا ابن فضيل عن حصين عن (بكر) (١) قال: لا يكون الرجل تقيا حتى يكون تقي الغضب، تقي الطمع.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (بكير).
بکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی پرہیزگار اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک کہ غصہ اور لالچ سے نہ بچے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38179]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38179، ترقيم محمد عوامة 36590)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں