مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
72. الشعبي
حضرت شعبی کے آثار
ترقیم عوامۃ: 36573 ترقیم الشثری: -- 38162
٣٨١٦٢ - حدثنا عبد الله بن نمير عن مالك بن مغول عن ابي منصور عن زيد بن وهب قال: خرجت إلى (الجبانة) (١) فجلست فيها إلى جنب الحائط، فجاء رجل إلى قبر فسواه ثم جاء فجلس إلي، فقلت: من هذا؟ (فقال) (٢) : اخي، قال: قلت: اخ لك؛ قال: اخ لي في الإسلام رايته البارحة فيما يرى النائم فقلت: فلان قد ⦗٢٦⦘ عشت، الحمد لله رب العالمين، قال: قد قلتها، (قال) (٣) : (لان) (٤) اكون اقدر على ان اقولها، احب إلي من ملء الارض وما فيها، الم تر حين كانوا (يدفنونني) (٥) ، فإن فلانا قام فصلى ركعتين؛ لان اقدر (على) (٦) ان (اصليهما) (٧) احب إلي من الدنيا وما فيها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الجنابة).
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (لين).
(٥) في [ب]: (يدفنون)، وفي [أ]: (يدفنوني).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [أ]: (أصليها).
حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ قبرستان گیا اور ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے ایک قبر کو سیدھا کیا اور پھر میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ میرے بھائی کی قبر ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے بھائی کی؟ اس نے کہا کہ یہ میرا اسلامی بھائی ہے۔ میں نے اسے رات کو خواب میں دیکھا اور میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں تو زندہ رہے! تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ اس نے کہا کہ تو نے جو جملہ کہا ہے، اگر میں اس کے کہنے پر قادر ہوجاؤں تو یہ کہنے کے لئے ساری زمین بھی صدقہ کرنا پڑے تو صدقہ کردوں۔ کیا تم نے دیکھا کہ جب لوگ مجھے دفن کررہے تھے تو ایک آدمی نے کھڑے ہوکر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ اگر مجھے وہ دو رکعت پڑھنے کی قدرت مل جائے تو وہ مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38162]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38162، ترقيم محمد عوامة 36573)
ترقیم عوامۃ: 36574 ترقیم الشثری: -- 38163
٣٨١٦٣ - حدثنا ابن نمير عن هشام بن سعد عن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار قال: (للمقنطين) (١) (جسر) (٢) يطا الناس يوم القيامة على وجوههم.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [م، ع]: (المقنطين)، وفي [أ، ب، هـ]: (المقنطون).
(٢) كذا في النسخ هنا، وسبق ١٣/ ١٩١، بلفظ: (حبس).
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونے والوں کو قیامت کے دن محبوس رکھا جائے گا اور لوگ ان کے چہروں کو روندیں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38163، ترقيم محمد عوامة 36574)
ترقیم عوامۃ: 36575 ترقیم الشثری: -- 38164
٣٨١٦٤ - حدثنا ابو اسامة عن مسعر قال: حدثني (معاوية بن بشير) (١) قال: اراه عن ابيه قال: قال خباب: إنها ستكون صيحات (فاصيخوا) (٢) لها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، ولم يتبين لي من هو، ولعله: (معن بن عبد الرحمن).
(٢) في [هـ]: (فأصيخوا).
حضرت خباب فرماتے ہیں کہ عنقریب چیخیں ہوں گی ان کے لئے تیاری کرلو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38164، ترقيم محمد عوامة 36575)
ترقیم عوامۃ: 36576 ترقیم الشثری: -- 38165
٣٨١٦٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا (سليمان) (١) (عن) (٢) ثابت قال: قال ابن ابي ليلى: طفت هذه الامصار فما رايت (اكثر) (٣) (متهجدا) (٤) ، ولا (ابكر) (٥) على ذكر الله من اهل البصرة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (سليم).
(٢) في [ع]: (بن).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب، س، ع]: (متهجرًا).
(٥) في [أ، ب]: (أنكر).
حضرت ابن ابی بکرہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان شہروں میں چکر لگایا ہے، میں اہل بصرہ سے زیادہ تہجد گزار اور زیادہ ذکر کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38165]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38165، ترقيم محمد عوامة 36576)
ترقیم عوامۃ: 36577 ترقیم الشثری: -- 38166
٣٨١٦٦ - حدثنا إسحاق بن سليمان عن ابي سنان عن عطاء بن السائب عن ابي عبد الرحمن السلمي قال: إن الملك يجيء إلى احدكم كل (غداة) (١) بصحيفة بيضاء (فليمل) (٢) فيها خيرا، [فإذا طلعت الشمس فليقم (لحاجته) (٣) ، ثم إذا صلى العصر فليمل (فيها خيرا) (٤) ] (٥) ، فإنه إذا املي في اول صحيفته وآخرها خيرا، كان عسى ان (يكفى) (٦) ما بينهما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: (غدوة).
(٢) في [أ، ب، ع]: (فيملي)، وفي [س]: (فيحلي)، وفي [جـ]: (فليملي).
(٣) في [س]: (لحاجة).
(٤) في [ع]: (فيها خير).
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٦) في [هـ]: (يكفر).
حضرت ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ہر صبح فرشتہ تمہارے پاس سفید نامہ اعمال لے کر آتا ہے اور اس میں خیر لکھواتا ہے، جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو وہ اپنی حاجت کے لئے اٹھ جاتا ہے اور جب وہ عصر کی نماز پڑھ لیتا ہے تو اس میں خیر لکھواتا ہے، پس جب اعمال نامے کے شروع اور آخر میں خیر ہو تو امید ہے کہ ان دونوں حصوں کی خیر درمیانی حصے کو بھی کفایت کرجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38166]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38166، ترقيم محمد عوامة 36577)
ترقیم عوامۃ: 36578 ترقیم الشثری: -- 38167
٣٨١٦٧ - حدثنا ابن يمان عن سفيان عن ثور عن خالد بن معدان قال: يمرون على النار وهي خامدة فيقولون: اين النار التي وعدنا؟ قال: مررتم عليها وهي خامدة.
حضرت خالد بن معدان کہتے ہیں کہ لوگ آگ کے پاس سے گزریں گے تو وہ بجھی ہوئی ہوگی۔ وہ کہیں گے وہ آگ کہاں ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا؟ ان سے کہا جائے گا کہ جب تم اس کے پاس سے گزرے تھے تو وہ بجھی ہوئی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38167]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38167، ترقيم محمد عوامة 36578)
ترقیم عوامۃ: 36579 ترقیم الشثری: -- 38168
٣٨١٦٨ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا موسى بن مسلم عن عبد الرحمن ابن سابط قال: كان (سعيد بن عمرو) (١) بن حذيم اميرا على (مصر) (٢) فبلغ عمر بن الخطاب انه ياتي عليه حين لا يدخن في تنوره، فبعث إليه بمال، فاشترى ما يصلحه واهله، ثم قال لامراته: لو انا اعطيناها تاجرا لعله ان يصيب لنا فيها، قالت: فافعل، (قال) (٣) : فتصدق بها الرجل، واعطاها حتى لم يبق منها شيء، ثم ⦗٢٨⦘ احتاجوا فقالت له امراته: لو انك نظرت إلى تلك الدراهم فاخذتها، فإنا قد احتجنا إليها، فاعرض عنها، ثم عادت فقالت ايضا، فاعرض عنها، حتى استبان لها انه قد امضاها (قال) (٤) : فجعلت تلومه، قال: فاستعان عليها بخالد بن الوليد فكلمها، فقال: إنك قد آذيته فكانما (اغراها) (٥) به، فقالت له ايضا، فلما راى ذلك الرجل برك على ركبتيه فقال: ما يسرني ان (احبس) (٦) عن (العنق) (٧) الاول يوم القيامة (ولا) (٨) ان لي ما ظهر على الارض، و (لو) (٩) ان خيرة من الخيرات ابرزت اصابعها لاهل الارض من فوق السماوات لوجد ريحهن، فانا ادعهن لكن؟ لان ادعكن لهن احرى من ان ادعهن لكن، فلما رات ذلك كفت عنه (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وفي [ع]: (عمرو بن سعيد)، والمعروف أنه سعيد بن عامر، انظر: التاريخ الكبير ٣/ ٤٥٣، والجرح والتعديل ٤/ ٤٨.
(٢) كذا في النسخ، والمعروف أنه كان واليًا على حمص.
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب]: (قالت).
(٥) في [ع]: (أغداها)، وفي [أ، ب، هـ]: (أعداها).
(٦) في [أ، ب]: (أجلس).
(٧) أي الجيل الأول، وفي [أ، هـ]: (العنو).
(٨) في [أ، ب]: (ولو).
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) منقطع؛ ابن سابط لم يدرك عمر ولا ابن حذيم، وأخرجه ابن إسحاق كما في المطالب (٣١٧٢)، وابن عساكر ٢١/ ١٤٦، والطبراني (٥٥١١)، والفاكهي (٢١٦٥)، وأبو نعيم ١٠/ ٢٤٤.
حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عامر بن حذیم مصر کے امیر تھے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان پر بعض اوقات ایسے بھی آتے ہیں کہ ان کا چولہا نہیں جلتا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اور ان کے اہل و عیال کی کفالت کے لئے کچھ مال بھیجا۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے فرمایا کہ کیوں نہ ہم یہ مال ایسے تاجر کو دے دیں جو اس میں ہمارے لئے نفع کمائے؟ ان کی اہلیہ نے فرمایا کہ آپ ایسا کرلیجئے۔ پھر آپ نے وہ مال صدقہ کردیا اور اپنے پاس کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر کچھ عرصے بعد انہیں احتیاج ہوئی اور مال کی ضرورت پڑی تو ان کی بیوی نے کہا کہ اگر آپ ان دراہم میں سے کچھ اپنے پاس رکھ چھوڑتے تو اچھا ہوتا آج ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔ ان کی اہلیہ نے پھر وہی بات دہرائی، انہوں نے پھر اعراض کیا۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ توجہ نہیں کررہے توا نہیں ملامت کرنے لگیں۔ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے مدد چاہی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان سے بات کی اور فرمایا کہ تم نے حضرت سعید کو تکلیف پہنچائی ہے۔ حضرت سعید کی اہلیہ نے ان سے بھی یہی بات فرمائی۔ جب اس آدمی کو یہ بات معلوم ہوئی جس کو دراہم حاصل ہوئے تھے تو وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ قیامت کے دن مجھے پہلی جماعت میں داخل ہونے سے روک لیا جائے جبکہ اس کے بدلے میں مجھے دنیا کی ہر چیز ہی کیوں نہ مل جائے۔ اور اگر ایک حور اپنی انگلیاں زمین والوں کے لئے ظاہر کردے تو ان کی خوشبو سب کو محسوس ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38168]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38168، ترقيم محمد عوامة 36579)
ترقیم عوامۃ: 36580 ترقیم الشثری: -- 38169
٣٨١٦٩ - حدثنا (حسين) (١) بن علي عن مالك بن مغول قال: مر رجل بربيع بن ابي راشد، وهو جالس على صندوق من صناديق (الحذائين) (٢) فقال: لو دخلت المسجد فجالست إخوانك، فقال له ربيع: لو فارق ذكر الموت قلبي ساعة خشيت ان يفسد قلبي.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (حسن).
(٢) في [هـ]: (الحدادين).
حضرت مالک بن مغول فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ربیع بن راشد کے پاس سے گزرا، وہ موچیوں کے ایک کھوکھے کے پاس بیٹھے تھے۔ اس آدمی نے ان سے کہا کہ اگر آپ مسجد چلیں اور مسلمان بھائیوں سے بات چیت کریں تو اچھا ہو۔ حضرت ربیع نے ان سے فرمایا کہ اگر موت کی یاد ایک لمحے کے لئے بھی میرے دل سے جدا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دل خراب ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38169]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38169، ترقيم محمد عوامة 36580)
ترقیم عوامۃ: 36581 ترقیم الشثری: -- 38170
٣٨١٧٠ - حدثنا حسين بن علي عن إسماعيل بن شعيب قال: كان ⦗٢٩⦘ (ابي) (١) زميل ربيع بن ابي راشد إلى مكة فقال ذات يوم: لو اني اعلم احب العمل إلى ربي لعلي (اتكلفه) (٢) ، قال: فراى في منامه: الشكر والذكر.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (أبو).
(٢) في [ب]: (تكلفه).
حضرت اسماعیل بن شعیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو زمیل ربیع بن راشد ایک مرتبہ مکہ کی طرف جارہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ میرے رب کو میرا کون سا عمل سب سے زیادہ محبوب ہے تو میں اس کا بہت زیادہ اہتمام کروں گا۔ پھر انہوں نے خواب میں شکر اور ذکر کو دیکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38170]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38170، ترقيم محمد عوامة 36581)
ترقیم عوامۃ: 36582 ترقیم الشثری: -- 38171
٣٨١٧١ - حدثنا حسين بن علي عن عمر بن ذر قال: لقيني ربيع بن ابي راشد في (السدة) (١) في السوق فاخذ بيدي فصافحنى فقال: يا ابا ذر، من سال الله رضاه، فقد ساله امرا عظيما.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الشدة).
حضرت عمر بن ذر کہتے ہیں کہ حضرت ربیع بن ابی راشد مجھے سدہ کے ایک بازار میں ملے۔ انہوں نے مجھ سے مصافحہ کیا اور فرمایا کہ اے ابو ذر! جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس کی رضا کو مانگتا ہے وہ اللہ سے درحقیقت بہت عظیم چیز مانگتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38171]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38171، ترقيم محمد عوامة 36582)