🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

73. كلام مجاهد
حضرت مجاہد کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36591 ترقیم الشثری: -- 38180
٣٨١٨٠ - حدثنا يحيى بن سليم عن ابن ابي نجيح عن مجاهد: ﴿فلانفسهم يمهدون﴾ [الروم: ٤٤] ، قال: في القبر.
مجاہد رحمہ اللہ سے آیت کریمہ { فَلأَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُونَ } کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ قبر کے بارے میں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38180]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38180، ترقيم محمد عوامة 36591)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36592 ترقیم الشثری: -- 38181
٣٨١٨١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد: ﴿ولمن خاف مقام ربه جنتان﴾ [الرحمن: ٤٦] ، قال: من خاف الله عند مقامه على المعصية في الدنيا.
مجاہد سے آیت کریمہ { وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ } کے بارے میں مروی ہے کہ جو شخص دنیا میں گناہ پر اصرار کرنے سے اللہ سے ڈرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38181]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38181، ترقيم محمد عوامة 36592)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36593 ترقیم الشثری: -- 38182
٣٨١٨٢ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الاعمش قال: كنت إذا رايت مجاهدا ظننت انه (خر بنده) (١) قد ضل حماره فهو مهتم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (خرج سدح)، وفي [ط]: (خرج تندح)، وفي [ع]: (حر بندح)، وسقط من: [هـ]، والخريندة: صاحب الحمار الذي يكاريه، وانظر: رحلة ابن بطوطة من ٢٤٦، والأنساب ٢/ ٣٤٧.
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ میں نے جب مجاہد کو دیکھا تو یہ سمجھا کہ شاید یہ کوئی کمہار ہے جس کا گدھا گم ہوگیا ہے جس کو یہ تلاش کر رہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38182]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38182، ترقيم محمد عوامة 36593)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36594 ترقیم الشثری: -- 38183
٣٨١٨٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا قطبة بن عبد العزيز عن الاعمش عن مجاهد قال: ما من يوم يمضي من الدنيا إلا قال: الحمد لله الذي اخرجني من الدنيا فلا اعود إليها ابدا.
حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ جب بھی دنیا سے کوئی دن گزر جاتا ہے تو وہ یہ کہتا ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ جس نے مجھے اس دنیا سے نکال دیا ہے اب میں کبھی اس کی طرف لوٹ کر نہیں آؤں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38183]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38183، ترقيم محمد عوامة 36594)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36595 ترقیم الشثری: -- 38184
٣٨١٨٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن مجاهد: ﴿ناتي الارض ننقصها من اطرافها﴾ [الرعد: ٤١] ، قال: الموت.
حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے { نَأْتِی الأَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ أَطْرَافِہَا } کی تفسیر میں مذکور ہے کہ اس سے مراد موت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38184]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38184، ترقيم محمد عوامة 36595)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36596 ترقیم الشثری: -- 38185
٣٨١٨٥ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا الاعمش عن مجاهد قال: كان بالمدينة اهل بيت (ذوو) (١) حاجة، عندهم راس شاة، فاصابوا شيئا فقالوا: لو بعثنا بهذا الراس إلى من هو احوج إليه منا، قال: فبعثوا به فلم يزل يدور بالمدينة، حتى رجع إلى اصحابه الذين خرج من عندهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (ذو).
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ضرورت مند اہل بیت رہتے تھے۔ ان کے پاس بکری کا سر تھا۔ ان کو کچھ وسعت ہوئی تو انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم اس سر کو کسی اپنے سے زیادہ محتاج کو دے دیں۔ تو انہوں نے اس کو بھیج دیا تو وہ سر مدینہ کے گھروں میں گھومتا رہا حتی کہ انہی کے پاس لوٹ آیا کہ جن سے وہ نکلا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38185]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38185، ترقيم محمد عوامة 36596)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36597 ترقیم الشثری: -- 38186
٣٨١٨٦ - حدثنا ابن علية عن ليث عن مجاهد قال: ذهب العلماء (فما) (١) بقي إلا المتعلمون، ما المجتهد فيكم (اليوم) (٢) إلا كاللاعب فيمن كان قبلكم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فلم).
(٢) في [أ، ب]: (لليوم).

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء ختم ہوچکے ہیں اور صرف طالب علم ہی باقی رہ گئے ہیں۔ تم میں آج مجاہدہ کرنے والا ایسے ہی ہے کہ جیسے پہلے لوگوں میں کھیل کود کرنے والا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38186]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38186، ترقيم محمد عوامة 36597)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36598 ترقیم الشثری: -- 38187
٣٨١٨٧ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا مالك بن مغول عن طلحة عن مجاهد قال: إذا التقى الرجل كل الرجل فضحك في وجهه، (تحاتت) (١) عنهما الذنوب كما (ينثر) (٢) الريح الورق اليابس من الشجر، قال: فقال رجل: (٣) إن هذا من العمل يسير، قال: فقال: ما سمعت قوله تعالى: ﴿لو انفقت ما في الارض جميعا ما الفت بين قلوبهم﴾ [التوبة: ٦٣] .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (تحافت).
(٢) في [أ، ب]: (تنثر)، وفي [ع]: (ينتر).
(٣) في [هـ]: زيادة (ويحك) من الحلية ٣/ ٢٩٧.

حضرت مجاہد کا ارشاد ہے کہ جب کوئی آدمی دوسرے کو مل کر مسکراتا ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں کہ جیسے ہوا خشک پتوں کو جھاڑ دیتی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ کسی نے سوال کیا کہ یہ تو بہت چھوٹا سا عمل ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا: { لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِی الأَرْضِ جَمِیعًا مَا أَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوبِہِمْ } کہ اگر آپ روئے زمین کی تمام اشیاء بھی صرف کردیتے تو ان میں آپس میں الفت نہ پیدا کرسکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38187]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38187، ترقيم محمد عوامة 36598)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36599 ترقیم الشثری: -- 38188
٣٨١٨٨ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن ليث عن مجاهد [قال: اعجب اهل الكوفة إلي اربعة: طلحة وزبيد ومحمد بن عبد الرحمن ويحيى بن عباد.
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے اہل کوفہ میں چار آدمی سب سے اچھے لگتے ہیں: طلحہ، زبید، محمد بن عبدالرحمن اور یحییٰ بن عباد۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38188]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38188، ترقيم محمد عوامة 36599)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36600 ترقیم الشثری: -- 38189
٣٨١٨٩ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن مجاهد] (١) قال: إن المسلم لو لم (يصب) (٢) من اخيه إلا ان حياءه منه يمنعه من المعاصي.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين في: [ب].
(٢) في [س]: (يصيب).

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں بیشک مسلمان اگر اپنے بھائی سے کوئی بھلائی نہ بھی ملے تو یہ بھلائی کافی ہے کہ وہ اس کی حیا کرتے ہوئے گناہ سے بچ جاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38189]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38189، ترقيم محمد عوامة 36600)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں