مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
74. كلام عكرمة
حضرت عکرمہ کے آثار
ترقیم عوامۃ: 36612 ترقیم الشثری: -- 38201
٣٨٢٠١ - حدثنا معتمر بن سليمان عن الحكم بن ابان عن عكرمة في قوله (تعالى) (١) : ﴿ (للذين) (٢) (يعملون) (٣) السوء بجهالة﴾ [النساء: ١٧] ، قال: الدنيا كلها قريب، كلها جهالة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ع].
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (الذين).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (عملوا).
حصرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ ارشاد { لِلَّذِینَ یَعْمَلُونَ السُّوئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوبُونَ مِنْ قَرِیبٍ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ دنیا تمام کی تمام قریب ہے اور تمام کی تمام جہالت ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38201]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38201، ترقيم محمد عوامة 36612)
ترقیم عوامۃ: 36613 ترقیم الشثری: -- 38202
٣٨٢٠٢ - حدثنا معتمر بن سليمان عن ابيه عن رجل عن عكرمة: ﴿سيماهم في وجوههم﴾ [الفتح: ٢٩] قال: (السهر) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (الشهرة).
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارشاد { سِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ } سے مراد شب بیداری ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38202]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38202، ترقيم محمد عوامة 36613)
ترقیم عوامۃ: 36614 ترقیم الشثری: -- 38203
٣٨٢٠٣ - حدثنا حكام الرازي عن ابي (سنان) (١) عن ثابت عن عكرمة: ﴿واذكر ربك إذا نسيت﴾ [الكهف: ٢٤] ، قال: إذا (عصيت) (٢) وقال بعضهم: إذا (غضبت) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (سيان).
(٢) في [ع]: (غضبت).
(٣) في [ع]: (عصن).
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ { وَاذْکُرْ رَبَّک إذَا نَسِیتَ } کا مطلب ہے کہ جب تو اللہ کی نافرمانی کرے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ جب تجھے غصہ آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38203]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38203، ترقيم محمد عوامة 36614)
ترقیم عوامۃ: 36615 ترقیم الشثری: -- 38204
٣٨٢٠٤ - حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمة: ﴿وبلغت القلوب الحناجر﴾ [الاحزاب: ٨] ، قال: إن القلوب لو تحركت او زالت خرجت نفسه، ولكن إنما هو الفزع.
حضرت عکرمہ قرآن مجید کی آیت { وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ دل اگر حرکت کریں تو سانس نکل جائے، وہ صرف گھبراہٹ ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38204]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38204، ترقيم محمد عوامة 36615)
ترقیم عوامۃ: 36616 ترقیم الشثری: -- 38205
٣٨٢٠٥ - حدثنا يحيى بن ابي بكير قال: اخبرنا شعبة عن سماك عن عكرمة: ﴿كما يئس الكفار من اصحاب القبور﴾ [الممتحنة: ١٣] ، قال: الكفار إذا دخلوا القبور (فعاينوا) (١) ما اعد الله لهم من الخزي يئسوا من رحمة الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (عاينوا).
حضرت عکرمہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ } کے بارے میں منقول ہے کہ کافر لوگ جب قبروں میں داخل ہوتے ہیں اور اس عذاب کو دیکھتے ہیں جو اللہ نے ان کے لیے تیار کر رکھا ہے تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38205]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38205، ترقيم محمد عوامة 36616)
ترقیم عوامۃ: 36617 ترقیم الشثری: -- 38206
٣٨٢٠٦ - حدثنا ابو معاوية عن ابي (عمرو) (١) (بياع) (٢) (الملاء) (٣) عن عكرمة: ﴿إن لدينا انكالا﴾ [المزمل: ١٣] ، قال: قيودا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س، ع]: (عمر)، وانظر: تهذيب الكمال ٢٥/ ٨٦.
(٢) في [أ، ب، س، ع]: (تباع).
(٣) في [أ، هـ]: (الملائي).
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد {إنَّ لَدَیْنَا أَنْکَالاً } سے مراد بیڑیاں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38206]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38206، ترقيم محمد عوامة 36617)
ترقیم عوامۃ: 36618 ترقیم الشثری: -- 38207
٣٨٢٠٧ - حدثنا يعلى بن عبيد قال: دخلنا على محمد بن سوقة فقال: احدثكم بحديث لعله ينفعكم فإنه قد نفعني، قال: قال (لنا) (١) عطاء بن ابي رباح: يا ابن اخي، إن من (٢) قبلكم كان يكره فضول الكلام، ما عدا كتاب الله تعالى: ان تقراه، او امرا بمعروف او نهيا عن منكر، وان تنطق بحاجتك في معيشتك التي لا بد لك منها، اتنكرون ان ﴿عليكم (لحافظين) (٣) (١٠) كراما كاتبين﴾ [الانفطار: ١٠] ، وان ﴿عن اليمين وعن الشمال قعيد (١٧) ما (يلفظ) (٤) من قول إلا لديه رقيب عتيد﴾ [ق: ١٧ - ١٨] ، اما يستحي احدكم لو نشر صحيفته التي (املى) (٥) صدر نهاره، واكثر ما فيها ليس من امر دينه ولا دنياه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (لي).
(٢) في [هـ]: زيادة (كان).
(٣) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (حافظين).
(٤) في [ب، ط، هـ]: (ينطق).
(٥) في [أ، ب]: (ملا).
حصرت یعلی رضی اللہ عنہ بن عبید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ محمد بن سوقہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں امید ہے کہ وہ تم کو نفع دے گی۔ اس لیے کہ اس بات سے مجھ کو نفع ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عطا بن رباح نے ہمیں فرمایا کہ ”اے میرے بھتیجے تم سے پہلے لوگ فضول باتوں سے بچتے تھے۔ سوائے اس کے کہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کرے یا کسی نیک کام کا حکم کرے یا برائی سے روکے اور یہ کہ تو اپنی ضروری معیشت کو خاطر بقدر ضرورت بات کرے۔ کیا تم لوگ قرآن پاک کی آیت { عَلَیْکُمْ حَافِظِینَ کِرَامًا کَاتِبِینَ } اور { عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ} کا انکار کرسکتے ہو۔ کیا تم کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ اگر تمہارے سارے دن کے اعمال ناموں کا صحیفہ کھولا جائے تو اس میں اکثر باتیں ایسی ہوں کہ جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دنیا سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38207]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38207، ترقيم محمد عوامة 36618)
ترقیم عوامۃ: 36619 ترقیم الشثری: -- 38208
٣٨٢٠٨ - حدثنا معتمر بن سليمان عن عمران عن (الرديني عن) (١) يحيى بن يعمر قال: ما (هاجت) (٢) الريح إلا (بعذاب ورحمة) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: بياض، وانظر: الأحاديث المختارة (٢١٥)، ومسند أبي يعلى (٢٤٤)، والبزار (١٧٢)، والتاريخ الكبير ٣/ ٣٣٠، واللباب ٢/ ٢٢، والثقات ٦/ ٣٠٩، والأنساب للسمعاني ٣/ ٥٥.
(٢) في [أ، ب]: (ماهت).
(٣) في [أ، ب]: (برحمة وعذاب).
حضرت یحییٰ بن یعمر فرماتے ہیں کہ تیز ہوا عذاب یا رحمت ہی کی وجہ سے چلتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38208]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38208، ترقيم محمد عوامة 36619)
ترقیم عوامۃ: 36620 ترقیم الشثری: -- 38209
٣٨٢٠٩ - حدثنا معتمر بن سليمان عن شبيب عن مقاتل بن حيان: ﴿اتخذ عند الرحمن عهدا﴾ [مريم: ٧٨] ، قال: العهد الصلاة.
حضرت مقاتل بن حیان فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَن عَہْدًا } سے مراد عہد نماز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38209]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38209، ترقيم محمد عوامة 36620)
ترقیم عوامۃ: 36621 ترقیم الشثری: -- 38210
٣٨٢١٠ - حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا مسعر عن ابي عون قال: كان اهل الخير إذا التقوا يوصي بعضهم بعضا بثلاث، وإذا غابوا كتب بعضهم إلى بعض بثلاث: من عمل (لآخرته) (١) كفاه الله دنياه، ومن اصلح ما بينه وبين الله كفاه الله الناس، ومن اصلح سريرته اصلح الله علانيته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الأخرة).
حضرت ابی عون فرماتے ہیں اچھے لوگ جب ملا کرتے تھے تو تین چیزوں کی نصیحت کیا کرتے تھے اور جب دور ہوتے تھے تو بھی تین چیزوں کو لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ جو شخص آخرت کے لیے عمل کرتا ہے اللہ اس کی دنیا کی کفایت کرتا ہے۔ B جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان معاملات کو درست کرتا ہے اللہ اس کو لوگوں سے کفایت کرتا ہے۔ C جو شخص اپنی پوشیدہ حالت کو درست کرتا ہے اللہ اس کی ظاہری حالت کو بھی درست کردیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38210]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38210، ترقيم محمد عوامة 36621)