🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

74. كلام عكرمة
حضرت عکرمہ کے آثار
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36622 ترقیم الشثری: -- 38211
٣٨٢١١ - حدثنا سعيد بن شرحبيل عن (خلاد) (١) بن سليمان الحضرمي قال: سمعت خالد بن ابي عمران يقول: كان عبد الله بن الزبير لا يفطر من الشهر إلا ثلاثة ايام، قال خالد: مكث اربعين سنة لم ينزع ثوبه عن ظهره (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (خالد).
(٢) حسن؛ سعيد بن شرحيل صدوق، وأخرجه ابن معين كما في رواية الدروي ٣/ ٥٠، وابن عساكر ٢٨/ ١٧٧.

حضرت خالد بن ابی عمران فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر مہینہ میں صرف تین دن افطار کرتے تھے۔ خالد فرماتے ہیں چالیس سال تک انہوں نے اپنی کمر سے کپڑا نہیں اتارا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38211]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38211، ترقيم محمد عوامة 36622)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36623 ترقیم الشثری: -- 38212
٣٨٢١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابن عون وهشام جميعا عن محمد ابن سيرين قال: كنا عند ابي عبيدة بن (حذيفة) (١) في قبة له، فاتاه رجل فجلس معه على فراشه، فساره بشيء لم افهمه، فقال له ابو عبيدة: [فإني اسالك ان تضع إصبعك في هذه النار، وكانون بين ايديهم فيه نار، فقال الرجل: سبحان الله! فقال (له) (٢) ابو عبيدة: تبخل] (٣) علي باصبع من اصابعك في نار الدنيا، وتسالني ان اجعل جسدي كله في نار جهنم، قال: (فظننا) (٤) انه دعاه إلى القضاء.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (حنيفة).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٤) في [س]: (فظتنا)، وفي [ط]: (فظننت).

محمد بن سیرین فرماتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ کے پاس ان کے گنبد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی ان کے پاس آیا اور ان کے ساتھ ان کے بستر پر بیٹھ گیا۔ اس نے ابوعبیدہ رحمہ اللہ سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کی جو ہم نہ سمجھ سکے۔ ابوعبیدہ نے اس سے کہا کہ اپنی انگلی اس آگ میں ڈالو۔ ہمارے درمیان ایک انگیٹھی میں آگ جل رہی تھی۔ اس آدمی نے کہا سبحان اللہ تو ابوعبیدہ نے فرمایا کہ تو میرے لیے اس دنیا کی آگ میں ایک انگلی کے بارے میں بھی بخل کرتا ہے اور مجھ سے سوال کرتا ہے کہ میں اپنے تمام جسم کو جہنم کی آگ میں ڈال دوں۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے خیال میں اس آدمی نے ابوعبیدہ کو قاضی بننے کی دعوت دی تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38212]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38212، ترقيم محمد عوامة 36623)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36624 ترقیم الشثری: -- 38213
٣٨٢١٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد عن القاسم (ان) (١) عبيد الله بن عدي بن الخيار قال: اللهم سلمنا (وسلم) (٢) المؤمنين (منا) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بن)، والقاسم لم تثبت له رواية عن عبيد اللَّه بن عدي.
(٢) سقط من: [ب].
(٣) سقط من: [ب].

حضرت قاسم رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ عبید اللہ بن عدی بن خیار کا ارشاد ہے کہ اے اللہ ہمیں سلامتی میں رکھ اور مومنین کو ہم سے سلامتی میں رکھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38213]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38213، ترقيم محمد عوامة 36624)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36625 ترقیم الشثری: -- 38214
٣٨٢١٤ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابي سنان قال: سمعت عبد الله بن الحارث (١) يقول: الزبانية رؤوسهم في السماء وارجلهم في الارض.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو الزبيدي النجراني تابعي.
حضرت عبداللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ الزبانیہ سے مراد فرشتے ہیں کہ جن کے سر آسمان میں اور پاؤں زمین میں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38214]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38214، ترقيم محمد عوامة 36625)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36626 ترقیم الشثری: -- 38215
٣٨٢١٥ - حدثنا يحيى بن سعيد عن هشام عن عكرمة عن ابن عباس: ﴿ما يلفظ من قول (١)[ق: ١٨] ، قال: (٢) يكتب من قوله الخير والشر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: زيادة ﴿إِلَّا لَدَيْهِ﴾.
(٢) في [أ، ب]: زيادة (ما).
(٣) صحيح.

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ } کی تفسیر منقول ہے کہ آدمی کی ہر اچھی اور بری بات لکھی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38215]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38215، ترقيم محمد عوامة 36626)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36627 ترقیم الشثری: -- 38216
٣٨٢١٦ - [حدثنا يحيى بن سعيد عن عمران عن عكرمة قال: يكتب ما عليه وماله] (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر في: [أ، ب].
حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کے نفع اور نقصان کی ہر بات لکھی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38216]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38216، ترقيم محمد عوامة 36627)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36628 ترقیم الشثری: -- 38217
٣٨٢١٧ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عوف عن سعيد بن ابي الحسن: ﴿كانوا قليلا من الليل ما يهجعون﴾ [الذاريات: ١٧] ، قال: قل ليلة اتت عليهم (هجعوها) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (هجوعها).
حضرت سعید بن حسن سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { کَانُوا قَلِیلاً مِنَ اللَّیْلِ مَا یَہْجَعُونَ } کی تفسیر میں منقول ہے کہ بہت کم ہی کوئی ایسی رات آتی تھی کہ جس میں وہ سوتے ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38217]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38217، ترقيم محمد عوامة 36628)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36629 ترقیم الشثری: -- 38218
٣٨٢١٨ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن حسان بن عطية قال: بينما رجل راكبا على حمار إذ (عثر به) (١) فقال: تعست، فقال صاحب اليمين: ما هي بحسنة فاكتبها، وقال صاحب الشمال: ما هي بسيئة فاكتبها، فنودي صاحب الشمال: ان ما ترك صاحب اليمين فاكتبه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عير به)، وفي [جـ]: (عثرت به).
حضرت حسان بن عطیہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی گدھے پر سوار تھا اچانک وہ گرگیا تو اس نے کہا کہ میں گدھے سے گرگیا۔ تو دائیں جانب کے فرشتے نے کہا کہ یہ کوئی نیکی تو نہیں ہے کہ جس کو میں لکھوں اور بائیں جانب کے فرشتے نے کہا کہ یہ کون سی برائی ہے کہ جس کو میں لکھوں تو بائیں جانب کے فرشتہ کو آواز دی گئی کہ جس قول کو دایاں چھوڑ دے اس کو لکھ لو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38218]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38218، ترقيم محمد عوامة 36629)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36630 ترقیم الشثری: -- 38219
٣٨٢١٩ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي عن حسان بن عطية قال: من عادى اولياء الله فقد آذن الله بالمحاربة، ومن (حالت) (١) شفاعته (دون) (٢) حد من حدود الله فقد ضاد الله في امره، ومن اعان على خصومة لا علم له بها كان في سخط الله حتى ينزع، ومن (قفا) (٣) مؤمنا بما لا علم له به (وقفه) (٤) الله في ردغة الخبال حتى يجيء منها بالمخرج، ومن خاصم لضعيف حتى يثبت له حقه ثبت الله قدميه يوم (تزل) (٥) الاقدام، وقال: الله ما ترددت في شيء اريده تردادي في قبض نفس عبدي المؤمن: يكره الموت واكره مساءته ولا بد له منه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (مالت).
(٢) في [جـ]: (في).
(٣) أي: قذفه بما لا يعلم، وفي [أ، ط، هـ]: (فقأ).
(٤) في [أ، ب، س]: (وفقه).
(٥) في [جـ]: (تزول).

حضرت حسان بن عطیہ کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ کے دوستوں سے دشمنی کرتا ہے تو اللہ اس سے اعلانِ جنگ کرتا ہے اور جس شخص کی سفارش اللہ کے قانون وحدود میں آڑے بنتی ہے تو وہ شخص اللہ کے حکم میں رکاوٹ بن رہا ہے اور جو کوئی شخض کسی ایسے جھگڑے کی معاونت کرتا ہے جس کا اس کو علم ہی نہیں تو وہ اس جھگڑے سے نکلنے تک اللہ کے غصہ میں رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان پر ایسی تہمت لگاتا ہے جس کا اس کو علم ہی نہیں تو اللہ اس کو ہلاکت کی دلدل میں پھنسا دیتا ہے حتی کہ وہ خود اس سے راستہ نکال لے۔ اور جو کوئی شخص کسی کمزور کے حق میں جھگڑا کرتا ہے تاکہ اس کو اس کا حق دلوا دے تو اللہ ایسے دن کہ جب قدم لڑ کھڑائیں گے اس کو ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو کوئی تردد نہیں کرتا۔ سوائے اپنے مومن بندے کی جان قبض کرنے کے وقت کیونکہ وہ موت اور اس کی تکلیف سے گھبراتا ہے جبکہ اس سے کوئی چارۂ کار نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38219]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38219، ترقيم محمد عوامة 36630)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 36631 ترقیم الشثری: -- 38220
٣٨٢٢٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الاوزاعي (بن) (١) عبد ربه من (زيتون) (٢) عن ابن محيريز انه قال: الكلام في المسجد لغو إلا ⦗٤١⦘ (لمصل) (٣) (او) (٤) ذاكر ربه، او سائل خير، او معطيه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب]: (بن رسول)، وفي [جـ، ع]: (بن زينون)، وفي [س]: (بندرسون)، وفي [هـ]: (رسور)، وهو عبد ربه بن سليمان بن زيتون، انظر: الحلية ٥/ ١٤٣، والزهد لابن المبارك (٤١٥).
(٣) في [س]: (تحصل).
(٤) في [أ، ب]: (و).

حضرت ابن محریریز فرماتے ہیں کہ مسجد میں نمازی یا اللہ کے ذکر یا کسی اچھی چیز کی طلب یا عطا کے علاوہ تمام باتیں لغو ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38220]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38220، ترقيم محمد عوامة 36631)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں