مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
74. كلام عكرمة
حضرت عکرمہ کے آثار
ترقیم عوامۃ: 36652 ترقیم الشثری: -- 38241
٣٨٢٤١ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة قال: حدثنا ثابت عن مسلم ابن يسار انه قال: (ما) (١) ادري ما (حسب) (٢) إيمان عبد لا يدع شيئا يكرهه الله.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (لا).
(٢) في [ب]: (أحسب)، وفي [أ]: (حسبت).
حضرت مسلم بن یسار کا ارشاد ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ اس شخص کے ایمان کا کیا درجہ ہوگا کہ جو ایسی چیزوں کو نہیں چھوڑتا کہ جن کو اللہ ناپسند کرتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38241]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38241، ترقيم محمد عوامة 36652)
ترقیم عوامۃ: 36653 ترقیم الشثری: -- 38242
٣٨٢٤٢ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد عن ثابت عن مسلم بن يسار قال: كان احدهم إذا برا قيل له: ليهنئك الطهر.
حضرت مسلم بن یسار فرماتے ہیں کہ اسلاف میں سے جب کوئی بیماری سے صحت یاب ہوتا تو اسے کہا جاتا تھا: بیماری سے پاک ہونا تمہارے لیے راحت کا سبب بنے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38242]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38242، ترقيم محمد عوامة 36653)
ترقیم عوامۃ: 36654 ترقیم الشثری: -- 38243
٣٨٢٤٣ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد قال: اخبرنا ثابت ان ابا بكر كان يتمثل هذا البيت: ⦗٤٦⦘ لا (تزال) (١) (تنعى) (٢) (حبيبا) (٣) حتى تكونه … وقد يرجو الفتى (رجا) (٤) يموت دونه (٥)
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (تزل).
(٢) في [ع]: (تبغي).
(٣) في [س]: (حبيبها)، وفي الزهد لأحمد (ص ١١٣): (ميتًا).
(٤) في [هـ]: (الرجا).
(٥) منقطع؛ ثابت لم يدرك أبا بكر، وأخرجه أحمد في الزهد ص ١١٣، وابن سعد في الطبقات ٣/ ١٩٨، وأبو نعيم في جزء أشيب (٣٤)، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٥٩٩)، وابن عساكر ٣٠/ ٤٢٣.
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ثابت نے بتایا ہے کہ ابوبکر کی مثال شعر کی سی ہے۔ ”تو ہمیشہ اپنے محبوب کو پکارتا رہا۔ یہاں تک کہ تو خود محبوب بن گیا، اور کبھی انسان ایسی چیز کی خواہش کرتا ہے کہ اس کے حصول سے قبل اس کو موت آجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38243]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38243، ترقيم محمد عوامة 36654)
ترقیم عوامۃ: 36655 ترقیم الشثری: -- 38244
٣٨٢٤٤ - حدثنا عفان قال: حدثنا جعفر بن سليمان قال: حدثنا مالك بن دينار قال: سالت جابر بن زيد قلت قول الله (تعالى) (١) : ﴿ولولا ان ثبتناك لقد كدت تركن إليهم شيئا قليلا (٧٤) إذا لاذقناك ضعف الحياة وضعف الممات ثم لا تجد لك علينا نصيرا﴾ [الإسراء: ٧٤ - ٧٥] ، (ما ضعف الحياة وضعف الممات قال جابر: ضعف عذاب الدنيا وضعف عذاب الآخرة: ﴿ثم لا تجد لك علينا نصيرا﴾) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ع].
(٢) سقط من: [جـ].
حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن زید سے اللہ کے ارشاد { وَلَوْلاَ أَنْ ثَبَّتْنَاک لَقَدْ کِدْت تَرْکَنُ إلَیْہِمْ شَیْئًا قلِیلاً إذًا لأَذَقْنَاک ضِعْفَ الْحَیَاۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَک عَلَیْنَا نَصِیرًا } میں ضعف الحیات اور ضعف الممات کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ دنیا کے عذاب کا دگنا اور آخرت کے عذاب کا دگنا مراد ہے۔ پھر تو اپنے لیے کوئی مددگار نہیں پائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38244]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38244، ترقيم محمد عوامة 36655)
ترقیم عوامۃ: 36656 ترقیم الشثری: -- 38245
٣٨٢٤٥ - حدثنا عفان قال: حدثنا سليمان بن المغيرة قال: سمعت ثابتا قال: كنا عند جابر بن زيد فراى جملا فقال: لو قلت لكم: اني (لا اعبد) (١) هذا (٢) الجمل ما امنت ان اعبده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (لأعبد).
(٢) في [ب]: زيادة (هذا).
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت جابر بن زید کے پاس تھے آپ رحمہ اللہ نے ایک اونٹ دیکھ کر فرمایا: اگر میں تم لوگوں سے کہوں کہ میں ہرگز اس اونٹ کی عبادت نہیں کروں گا میں پھر بھی مامون نہیں ہوں گا اس کی عبادت کے بچنے سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38245]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38245، ترقيم محمد عوامة 36656)
ترقیم عوامۃ: 36657 ترقیم الشثری: -- 38246
٣٨٢٤٦ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن (زيد) (١) عن ايوب عن (الحسن) (٢) قال: ما اشبه القوم بعضهم ببعض، ما اشبه الليلة بالبارحة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (سلمة).
(٢) في [ع]: (الحسين).
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ قوم ایک دوسرے کے مشابہ نہیں ہوتی اور نہ ہی گزشتہ رات موجودہ کے مشابہہ ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38246، ترقيم محمد عوامة 36657)
ترقیم عوامۃ: 36658 ترقیم الشثری: -- 38247
٣٨٢٤٧ - حدثنا عفان قال: حدثنا جرير عن شعيب عن ابي العالية قال: اكثر رياحين الجنة: الحناء.
حضرت ابی العالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جنت کے اکثر خوشبو دار پودے سبز رنگ کے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38247، ترقيم محمد عوامة 36658)
ترقیم عوامۃ: 36659 ترقیم الشثری: -- 38248
٣٨٢٤٨ - حدثنا عفان قال: حدثنا عبد (الواحد) (١) بن زياد قال: حدثنا عبد الله ابن الربيع بن خثيم قال: حدثنا ابو عبيدة بن عبد الله (قال: كان) (٢) الربيع بن (خثيم) (٣) إذا دخل على عبد الله لم يكن عليه يومئذ إذن حتى يفرغ كل واحد منهما من صاحبه، قال: وقال له عبد الله: يا ابا يزيد إن رسول الله ﷺ لو رآك احبك، وما (رايتك) (٤) إلا ذكرت المخبتين (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط، ع]: (الرحمن)، وفي [هـ]: (الرحمن عن عبد الواحد).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (خيثم).
(٤) في [جـ]: (رأيت).
(٥) منقطع؛ أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، وعبد اللَّه بن الربيع فيه جهالة، قال البخاري في التاريخ ٥/ ٩١: "مرسل"، والأثر أخرجه ابن سعد ٦/ ١٨٢، والدولابي ٣/ ١١٧٧، والطبراني (١٠٢٨٦)، وأبو نعيم في الحلية ٢/ ١٠٦، وابن أبي جرادة في بغية الطلب ٨/ ٣٥٦٩، وابن الجوزي في المنتظم ٦/ ٨.
حضرت ابوعبید بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ربیع بن خثیم جب عبداللہ کے پاس آتے تو کسی کو ان کے پاس جانے کی اجازت نہ ہوتی تھی تاوقتیکہ وہ دونوں ایک دوسرے سے فارغ ہوجائیں۔ ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ ان کو عبد اللہ نے کہا کہ اے ابویزید اگر رسول اللہ آپ کو دیکھتے تو آپ سے محبت کرتے اور میں نے آپ کو عاجزین کا ذکر کرتے ہی دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38248، ترقيم محمد عوامة 36659)
ترقیم عوامۃ: 36660 ترقیم الشثری: -- 38249
٣٨٢٤٩ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا مالك بن مغول عن طلحة قال: قيل: من الذي يسمن في الخصب والجدب؟ ومن الذي يهزل في الخصب والجدب؟ ومن الذي هو احلى من العسل ولا ينقطع؟ قال: اما الذي يسمن في الخصب ⦗٤٨⦘ والجدب فالمؤمن الذي إن اعطي شكر، وإن ابتلي صبر، واما الذي يهزل في الخصب والجدب فالكافر او الفاجر إن اعطي لم يشكر، وإن ابتلي لم يصبر، واما الذي هو احلى من العسل ولا ينقطع (فهي) (١) الفة الله التي الف بين قلوب المؤمنين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فهو).
حضرت طلحہ سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سی چیز ہے جو قحط اور فراوانی دونوں حالتوں میں پھلتی پھولتی ہے؟ اور وہ کون سی شے ہے جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے؟ اور وہ کون سی چیز ہے جو شہد سے بھی میٹھی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں پھلتی اور پھولتی ہے وہ مومن ہے کہ اگر اس کو مل جائے تو شکر کرتا ہے اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر کرتا ہے اور وہ چیز جو قحط اور فراوانی دونوں صورتوں میں سوکھ جاتی ہے وہ کافر ہے یا گناہ گار شخص ہے کہ جس کو دیا جائے تو شکر نہیں کرتا اور اگر آزمائش میں پڑجائے تو صبر نہیں کرتا۔ اور وہ چیز جو شہد سے بھی زیادہ میٹھی اور کبھی ختم نہ ہونے والی ہے اللہ تعالیٰ کی الفت ہے جس نے تمام مومنین کے دلوں میں محبت پیدا کردی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38249، ترقيم محمد عوامة 36660)
ترقیم عوامۃ: 36661 ترقیم الشثری: -- 38250
٣٨٢٥٠ - حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن ثابت عن ابي ثامر وكان رجلا عابدا ممن يغدو إلى المسجد فراى في المنام كان الناس قد عرضوا على الله، فجيء بامراة عليها ثياب رقاق، فجاءت ريح فكشفت ثيابها، فاعرض الله عنها وقال: اذهبوا بها إلى النار، فإنها كانت من المتبرجات حتى انتهى الامر إلي فقال: دعوه، فإنه كان يؤدي حق الجمعة.
حضرت ابوثامر سے مروی ہے جو کہ ایک عابد انسان تھے اور مسجد کو صبح سویرے چلے جایا کرتے تھے کہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ گویا لوگوں کو اللہ جل شانہ کے روبرو پیش کیا جارہا ہے۔ پس ایک عورت لائی گئی جس پر بہت باریک کپڑے تھے اچانک ہوا چلی اور اس کے کپڑے کھل گئے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے روگردانی کرلی اور حکم دیا کہ اس کو جہنم میں لے جاؤ۔ کیونکہ یہ زینت کرنے والوں میں سے تھی یہاں تک کہ میری باری آئی تو اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ شخص جمعہ کا حق ادا کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38250، ترقيم محمد عوامة 36661)