مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
74. كلام عكرمة
حضرت عکرمہ کے آثار
ترقیم عوامۃ: 36632 ترقیم الشثری: -- 38221
٣٨٢٢١ - حدثنا ابن علية عن رجاء بن ابي سلمة قال: بلغني ان ابن محيريز دخل على رجل من البزازين فاشترى منه شيئا فقال رجل للبزاز: اتدري من هذا؟ هذا ابن محيريز، فقام فقال: إنما جئنا نشتري بدراهمنا، ليس بديننا.
حضرت ابن محریز ایک مرتبہ ایک کپڑا فروش کے پاس گئے اور اس سے کچھ خریدا تو ایک آدمی نے کپڑے فروش سے کہا کہ یہ تو جانتا ہے یہ کون ہیں؟ تو یہ ابن محریز ہیں تو وہ کپڑا فروش کھڑا ہوگیا۔ حضرت ابن محریز نے فرمایا کہ ہم اپنے دراہم کے بدلہ میں خریدنے آئے ہیں اپنے دین کے بدلے خریدنے نہیں آئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38221]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38221، ترقيم محمد عوامة 36632)
ترقیم عوامۃ: 36633 ترقیم الشثری: -- 38222
٣٨٢٢٢ - حدثنا ابو اسامة عن (وهيب) (١) عن موسى بن عقبة قال: (سمعت) (٢) ابن محيريز ونحن معه بالرملة وهو يقول: ادركت الناس (وإذا) (٣) مات منهم الميت من المسلمين قالوا: الحمد لله (الذي) (٤) (توفى) (٥) فلانا على الإسلام، ثم انقطع ذلك فليس احد اليوم يقول ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (وهب).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، ع].
(٣) في [ع]): (فإذا)، وفي [س]: (إذا).
(٤) سقط من: [أ، ب، س].
(٥) في [جـ]: (توفانا).
حضرت موسیٰ بن عقبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین میں تھے کہ میں نے ابن محریز رحمہ اللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”میں نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جب کوئی مسلمان مرتا تو لوگ کہتے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کو اسلام پر موت عطا کی۔ پھر یہ زمانہ ختم ہوگیا اور اب کوئی بھی اس طرح نہیں کہتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38222]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38222، ترقيم محمد عوامة 36633)
ترقیم عوامۃ: 36634 ترقیم الشثری: -- 38223
٣٨٢٢٣ - حدثنا حسين بن علي عن مجمع بن يحيى قال: كان مجمع بن (جارية) (١) يقول: اللهم إني اسالك موتا سجيحا (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (حارثة).
(٢) أي: سهلًا.
حضرت مجمع بن جاربہ رحمہ اللہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں تجھ سے نرم وآسان موت کا سوال کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38223]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38223، ترقيم محمد عوامة 36634)
ترقیم عوامۃ: 36635 ترقیم الشثری: -- 38224
٣٨٢٢٤ - حدثنا يحيى بن يمان عن اسامة بن زيد عن ابيه في قوله: ﴿خافضة﴾ [الواقعة: ٣] ، من انخفض يومئذ لم يرتفع ابدا ومن ارتفع يومئذ لم ينخفض ابدا.
حضرت اسامہ بن زید اپنے والد سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد (خَافِضَۃٌ) کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس دن پست ہوگیا وہ کبھی بھی بلند نہیں ہوسکے گا اور جو شخص اس دن بلندی حاصل کرے گا وہ کبھی بھی پست نہ ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38224]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38224، ترقيم محمد عوامة 36635)
ترقیم عوامۃ: 36636 ترقیم الشثری: -- 38225
٣٨٢٢٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن مسلم عن عثمان بن عبد الله بن ⦗٤٢⦘ اوس عن (عمرو) (١) بن اوس قال: (المخبتون) (٢) الذين لا يظلمون وإن ظلموا لم ينتصروا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (عمر).
(٢) في [هـ]: (المخبتون) أخذًا من الدر المنثور ٦/ ٤٨، وهي كذلك في تفسير ابن جرير ١٧/ ١٦١، والزهد لأحمد (من ٣٨١)، وتاريخ بغداد ١٤/ ٢٢٦، وشعب الإيمان للبيهقي (٨٠٨٨)، وفي بقية النسخ: (المحسنون).
حضرت عمرو بن اوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احسان کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظلم نہیں کرتے اور اگر ان پر ظلم کیا جائے تو بدلہ نہیں لیتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38225]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38225، ترقيم محمد عوامة 36636)
ترقیم عوامۃ: 36637 ترقیم الشثری: -- 38226
٣٨٢٢٦ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عمران عن ابي العلاء بن الشخير قال: قال (فلان) (١) : تمشون على قبوركم؟ قلت: نعم، قال: (فكيف) (٢) تمطرون؟
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [جـ]: (وكيف).
حضرت ابو علاء بن الشخیر فرماتے ہیں کہ فلاں شخص نے کہا: تم لوگ تو اپنی قبروں پر چلتے ہو۔ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: تو پھر کیسے تم پر بارش اترے!!! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38226]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38226، ترقيم محمد عوامة 36637)
ترقیم عوامۃ: 36638 ترقیم الشثری: -- 38227
٣٨٢٢٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن عبد الله بن مسلم عن سعيد بن جبير عن ابن عباس في قوله (تعالى) (١) : ﴿فالتقمه الحوت﴾ [الصافات: ١٤٢] ، قال: لما التقمه ذهب به حتى وضعه في الارض السابعة، فسمع الارض تسبح، قال: فهيجته على التسبيح فقال: ﴿لا إله إلا انت سبحانك إني كنت من الظالمين﴾ [الانبياء: ٨٧] ، قال: فاخرجه حتى (القاه) (٢) على الارض بلا شعر ولا ظفر مثل الصبي المنفوس، فانبت الله عليه شجرة تظله، وياكل من تحتها من حشرات الارض، فبينما هو نائم تحتها (فتساقط) (٣) عليه ورقها قد يبست، فشكى ذلك إلى ربه، فقيل له: اتحزن على شجرة، ولا تحزن على مائة الف او يريدون (قد) (٤) يعذبون (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ع].
(٢) في [جـ]: (ألقته).
(٣) في [س]: (فتساطت)، وفي [أ، ب، هـ]: (فتساقطت).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه بن مسلم بن هرمز، وأخرجه ابن جرير ٢٣/ ١٠٢.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَالْتَقَمَہُ الْحُوتُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب پیغمبر کو مچھلی نے نگل لیا تو ان کو ساتویں زمین میں لے جا کر رکھ دیا۔ وہاں انہوں نے زمین کو تسبیح کرتے ہوئے سنا۔ اس بات نے ان کو تسبیح کرنے پر برانگیختہ کیا تو انہوں نے { لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک إنِّی کُنْت مِنَ الظَّالِمِینَ } کہنا شروع کیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مچھلی نے پیغمبر کو نکالا اور زمین پر بغیر بالوں اور ناخنوں کے پیدائشی بچہ کی طرح ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس ایک درخت سایہ کرنے کے لیے ان کے پاس اگا دیا۔ اور وہ اس درخت کے نیچے کیڑے مکوڑے کھایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ اس درخت کے سائے میں سوئے ہوئے تھے کہ اس درخت کا ایک پتہ جو کہ خشک ہوچکا تھا گرا تو پیغمبر علیہ السلام نے اپنے رب سے اس کی شکایت کی تو ان کو جواب ملا کہ تو ایک درخت پر تو بہت غمگین ہوتا ہے اور ایک لاکھ یا اس سے زائد پر غمگین کیوں نہیں ہوتا جن کو عذاب دیا جارہا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38227]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38227، ترقيم محمد عوامة 36638)
ترقیم عوامۃ: 36639 ترقیم الشثری: -- 38228
٣٨٢٢٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا ابو هلال محمد بن سليم (الراسبي) (١) عن (الحسن) (٢) (٣) قال: قال ابو الصهباء: طلبت المال من حله فاعياني إلا رزق يوم بيوم، فعلمت انه قد خير لي، وايم الله ما من عبد اوتي رزق يوم بيوم فلم يظن انه (قد) (٤) خير له إلا كان عاجزا او غبي الراي (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (الرازي).
(٢) في [ع]: (الحسين).
(٣) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: زيادة (في قوله).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) تقدم أثر الحسن ١٣/ ٥٠٠ برقم [٣٩٧٣١]، وانظر: حلية الأولياء ٢/ ٢٤١، وشعب الإيمان (١٢٨٧)، والزهد لابن المبارك (٥٦٥).
حضرت ابوالصہبا فرماتے ہیں کہ میں نے مال کو حلال طریقہ سے تلاش کیا تو اس نے مجھے تھکا دیا سوائے یومیہ روزی کے تو میں نے جان لیا کہ میرے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی قسم جس شخص کو یومیہ روزی دی جاتی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے تو وہ شخص ناقص رائے رکھتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38228]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38228، ترقيم محمد عوامة 36639)
ترقیم عوامۃ: 36640 ترقیم الشثری: -- 38229
٣٨٢٢٩ - حدثنا عفان قال: حدثنا بكير بن ابي (السميط) (١) قال: حدثنا قتادة عن عبد الله بن مطرف انه كان يقول: إنك (لتلقى) (٢) الرجلين: احدهما اكثر صوما وصلاة، والآخر اكرمهما على الله بونا بعيدا، قالوا: وكيف يكون ذلك يا ابا جزء؟ قال: يكون اورعهما في محارمه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (الشميط).
(٢) في [ب]: (تقي)، وبعدها في [أ، ب، س، ط، هـ]: (بين).
حضرت عبداللہ بن مطرف فرماتے ہیں کہ تو دو شخصوں کو دیکھے گا کہ ان میں سے ایک زیادہ نماز اور روزے والا ہوگا اور دوسرا ان میں سے اللہ کے نزدیک زیادہ معزز ہوگا لوگوں نے سوال کیا کہ اے ابا جزء یہ کیسے ہوسکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ محرمات سے زیادہ بچنے والا ہوتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38229]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38229، ترقيم محمد عوامة 36640)
ترقیم عوامۃ: 36641 ترقیم الشثری: -- 38230
٣٨٢٣٠ - [حدثنا ابو اسامة عن جويبر عن الضحاك في قوله: ﴿وبشر (المخبتين) (١) ﴾ [الحج: ٣٤] ، قال: (المتواضعين) (٢) (٣) ] (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (المخبثين).
(٢) في [ب]: (المواضعين).
(٣) في [ط]: زيادة (للَّه).
(٤) في [ط]: تأخر هذا الخبر عن الذي يليه.
حضرت ضحاک رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَبَشِّرَ الْمُخْبِتِینَ } کے بارے میں مروی ہے کہ اس سے مراد عاجزی کرنے والے لوگ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 38230]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 38230، ترقيم محمد عوامة 36641)