🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

112. وذكر أن أبا حنيفة قال: لا يصلي
خطبہ کے دوران نماز کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37642 ترقیم الشثری: -- 39246
٣٩٢٤٦ - حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن ابيه عن زينب ابنة ام سلمة عن ام سلمة قالت: قال رسول الله ﷺ:"إنكم تختصمون إلي (١) ولعل بعضكم ان يكون (الحن بحجته) (٢) من بعض، وإنما اقضي بينكم على نحو مما اسمع منكم، فمن قضيت له من حق اخيه شيئا فلا ياخذه، فإنما اقطع له قطعة من (نار) (٣) ياتي بها يوم القيامة" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (وإنما أنا بشر).
(٢) في [أ، ب]: (بحجته ألحن).
(٣) في [جـ]: (النار).
(٤) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٦٨٠)، ومسلم (٧١٣).

حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میری طرف جھگڑے لے کر آتے ہو اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض، بعض سے بہتر اپنی حجت بیان کرسکتا ہو۔ اور میں تو تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو میں سنتا ہوں۔ پس جس کے لئے میں اس کے بھائی کے حصہ مں ں سے (کسی شئی کا) فیصلہ کروں تو وہ اس کو نہ لے۔ کیونکہ (اس صورت میں) میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ بروز قیامت حاضر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39246، ترقيم محمد عوامة 37642)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37643 ترقیم الشثری: -- 39247
٣٩٢٤٧ - حدثنا وكيع عن اسامة بن زيد عن عبد الله بن رافع عن ام سلمة قالت: جاء رجلان من الانصار يختصمان إلى رسول الله ﷺ في مواريث بينهما قد ⦗٣٢٩⦘ درست ليست بينهما بينة، فقال رسول الله ﷺ:"إنكم (تختصمون) (١) إلي وإنما انا بشر، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، وإنما اقضي بينكم، فمن قضيت له من حق اخيه شيئا فلا ياخذه فإنما اقطع له قطعة من النار ياتي بها (٢) يوم القيامة"، قال: فبكى الرجلان وقال كل واحد منهما: حقي لاخي يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"اما إذ فعلتما فاذهبا (فاقتسما) (٣) وتوخيا الحق، ثم ليحلل كل واحد منكما صاحبه" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يحتصمون).
(٢) في [هـ]: زيادة (على نحو مما أسمع منكم).
(٣) في [هـ]: (فاقسما).
(٤) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق، وأخرجه أحمد (٦٧١٧)، وأبو داود (٣٥٨٤)، وأبو يعلي (٦٨٩٧)، والحاكم ٤/ ٩٥، وإسحاق (١٨٢٣)، والطحاوي ٤/ ١٥٥، والدارقطني ٤/ ٢٣٨، وابن الجارود (١٠٠٠)، والبيهقي ٦/ ٦٦، والبغوي (٢٥٠٨)، والطبراني ٢٣/ (٦٦٣).

حضرت ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ انصار میں سے دو آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں باہم ایک قدیم وراثت کا، جس پر ان کے پاس گواہ نہیں تھے۔ جھگڑا لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک تم لوگ میرے پاس جھگڑا لے کر آتے ہو اور میں تو ایک بشر ہوں ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض، بعض سے بہتر اپنی حجت بیان کرسکتا ہو اور میں تمہارے درمیان فیصلہ کر دوں پس جس شخص کے لئے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کسی شئی کا فیصلہ کر دوں تو وہ اسے نہ لے۔ (اس صورت میں) میں اس کے لئے آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں جس کے ساتھ وہ بروز قیامت حاضر ہوگا۔ ام سلمہ کہتی ہیں۔ پس دونوں آدمی رو پڑے اور ہر ایک نے ان میں سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میر احق میرے بھائی کے لئے ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس پر راضی ہو تو جاؤ اور تقسیم کرلو اور ایک دوسرے کا حق پورا پورا ادا کرو اور ہر ایک اپنے بھائی کو معاف کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39247، ترقيم محمد عوامة 37643)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37644 ترقیم الشثری: -- 39248
٣٩٢٤٨ - حدثنا محمد بن بشر العبدي حدثنا محمد بن عمرو حدثنا ابو سلمة عن ابي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"إنما انا بشر، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض، فمن قضيت له من حق اخيه فإنما اقطع له قطعة من النار" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٨٣٩٤)، وابن ماجه (٢٣١٨)، وابن حبان (٥٠٧١)، والطحاوي ٤/ ١٥٤، وأبو يعلي (٥٩٢٠).
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں ایک بشر ہوں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے بعض، بعض سے بہتر انداز میں اپنی حجت بیان کرسکتا ہو۔ پس جس کو میں اس کے بھائی کے حق میں سے فیصلہ کر کے دوں تو میں اس کے لئے آگ کا ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔ اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ: اگر دو جھوٹے گواہ قاضی کے ہاں کسی آدمی کی بیوی کو طلاق پر گواہی دیں اور قاضی ان کی شہادت کی بنیاد پر میاں بیوی کے درمیان تفریق کر دے تو جھوٹے گواہوں میں سے کسی ایک کو عورت کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الرد على أبي حنيفة/حدیث: 39248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39248، ترقيم محمد عوامة 37644)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں