Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب كَرَاهَةِ تَفْضِيلِ بَعْضِ الأَوْلاَدِ فِي الْهِبَةِ:
باب: بعض لڑکوں کو کم دینا اور بعض کو زیادہ دینا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4177
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِهِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَارْجِعْهُ ".
امام مالک نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حمید بن عبدالرحمان اور محمد بن نعمان بن بشیر سے روایت کی، وہ دونوں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے کہا: ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام تحفے میں دیا ہے جو میرا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے واپس لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4177]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا باپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا، اور عرض کیا، میں نے اپنے اس بچہ کو اپنا غلام ہبہ کر دیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اپنی تمام اولاد کو اسی قسم کا عطیہ دیا ہے؟ تو اس نے کہا، نہیں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس (غلام) کو واپس لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4177]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4178
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَتَى بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا، فَقَالَ: أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ، قَالَ: لَا قَالَ: فَارْدُدْهُ "،
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے۔ تو آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو (ایسا) تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے واپس لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4178]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا باپ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام کا عطیہ دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تو نے تمام اولاد کو عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے واپس لے لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4178]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4179
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا يُونُسُ، وَمَعْمَرٌ، فَفِي حَدِيثِهِمَا أَكُلَّ بَنِيكَ، وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ أَكُلَّ وَلَدِكَ وَرِوَايَةُ اللَّيْثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ بَشِيرًا جَاءَ بِالنُّعْمَانِ.
ابن عیینہ، لیث بن سعد، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، البتہ یونس اور معمر کی حدیث میں تمام بیٹوں کو کے الفاظ ہیں اور لیث اور ابن عیینہ کی حدیث میں تمام اولاد کو ہے اور محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمان سے روایت کردہ لیث کی روایت (یوں) ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ (اپنے بیٹے) نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4179]
امام صاحب اپنے بہت سے اساتذہ کی سندوں سے امام زہری ہی کے واسطہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، امام زہری کے شاگرد معمر اور یونس کہتے ہیں، (أكل بنيك) [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4179]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4180
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ: " وَقَدْ أَعْطَاهُ أَبُوهُ غُلَامًا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا هَذَا الْغُلَامُ؟ قَالَ: أَعْطَانِيهِ أَبِي، قَالَ: فَكُلَّ إِخْوَتِهِ أَعْطَيْتَهُ كَمَا أَعْطَيْتَ هَذَا، قَالَ: لَا، قَالَ: فَرُدَّهُ ".
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کیسا غلام ہے؟ انہوں نے کہا: یہ میرے والد نے مجھے دیا ہے۔ (پھر) آپ نے (نعمان رضی اللہ عنہ کے والد سے) پوچھا: تم نے اس کے تمام بھائیوں کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے جیسے اس کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اسے واپس لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4180]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے باپ نے اسے ایک غلام دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، یہ غلام کیوں آیا ہے؟ میں نے کہا، مجھے میرے باپ نے دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے سب بھائیوں کو بھی اس طرح دیا ہے، جیسے اسے دیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غلام لوٹا دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4180]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4181
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: " تَصَدَّقَ عَلَيَّ أَبِي بِبَعْضِ مَالِهِ، فَقَالَتْ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى صَدَقَتِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَعَلْتَ هَذَا بِوَلَدِكَ كُلِّهِمْ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا فِي أَوْلَادِكُمْ " فَرَجَعَ أَبِي فَرَدَّ تِلْكَ الصَّدَقَةَ.
حصین نے شعبی سے، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا (یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا: میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ (ہبہ) پر گواہ بنائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم نے یہ (سلوک) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو۔ چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ (ہبہ) واپس لے لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4181]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ : " أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي، فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بَشِيرُ أَلَكَ وَلَدٌ سِوَى هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَكُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ".
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی: مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ، (عمرہ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے، ان کے مال میں سے، اپنے بیٹے کے لیے (باغ، زمین وغیرہ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا، انہوں نے اسے ایک سال تک التواء میں رکھا، پھر انہیں (اس کا) خیال آیا تو انہوں (والدہ) نے کہا: میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما، میں ان دنوں بچہ تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر مجھے گواہ نہ بناؤ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4182]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4183
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَكَ بَنُونَ سِوَاهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ هَذَا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ".
اسماعیل نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے سوا بھی تمہارے بیٹے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ان سب کو بھی تم نے اس جیسا عطیہ دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4183]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اس کے سوا، تیرے بیٹے ہیں؟ اس نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو کیا سب کو اسی طرح دیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4183]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4184
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لِأَبِيهِ لَا تُشْهِدْنِي عَلَى جَوْرٍ ".
عاصم احول نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا: مجھے ظلم پر گواہ مت بناؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4184]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے باپ سے فرمایا: مجھے ظلم پر گواہ نہ بنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4184]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4185
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ جميعا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: انْطَلَقَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا مِنْ مَالِي، فَقَالَ: أَكُلَّ بَنِيكَ قَدْ نَحَلْتَ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، ثُمَّ قَالَ: أَيَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلَا إِذًا ".
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ۔ پھر فرمایا: کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی (حسنِ سلوک) کرنے میں برابر ہوں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تو پھر (تم بھی ایسا) نہ کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4185]
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بیان کرتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ میرا باپ مجھے اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! گواہ ہو جائیے کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے یہ یہ دیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو نعمان جیسا عطیہ دیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بنا لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ تیرے ساتھ وفا کرنے میں یکساں ہوں؟ اس نے کہا، کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تب، ایسا نہ کر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4185]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1623 ترقیم شاملہ: -- 4186
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا ثُمَّ أَتَى بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمُ الْبِرَّ مِثْلَ مَا تُرِيدُ مِنْ ذَا؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: إِنَّمَا تَحَدَّثْنَا، أَنَّهُ قَالَ: قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ ".
ابن عون نے ہمیں شعبی سے، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا، پھر مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اپنے سب بچوں کو یہ (اسی طرح کا) تحفہ دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ آپ نے پوچھا: کیا تم ان سب سے اسی طرح کا نیک سلوک نہیں چاہتے جس طرح اس (بیٹے) سے چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں (ظلم پر) گواہ نہیں بنتا۔ (کیونکہ اس عمل کی بنا پر پہلے تمہاری طرف سے اور پھر جواباً ان کی طرف سے ظلم کا ارتکاب ہو گا۔) ابن عون نے کہا: میں نے یہ حدیث محمد (بن سیرین) کو سنائی تو انہوں نے کہا: مجھے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اپنے بیٹوں کے درمیان یکسانیت روا رکھو (لفظی معنی ہیں: تقریباً ایک جیسا سلوک) یعنی ان کو اس بات کا عادی بناؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4186]
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، کہ میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا تو نے اپنی سب اولاد کو یہ دیا ہے؟ اس نے کہا، نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان سے اس طرح کا حسن سلوک نہیں چاہتا، جیسا کہ اس سے چاہتا ہے؟ اس نے کہا، کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں گواہ نہیں بنتا۔ ابن عون کہتے ہیں، میں نے یہ روایت محمد بن سیرین کو سنائی، تو اس نے کہا، ہمیں یوں بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد میں مساوات رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْهِبَاتِ/حدیث: 4186]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1623
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں