مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
21. ما ذكر في كتب النبي ﷺ وبعوثه
وہ احادیث جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصدوں کا ذکر ہے
ترقیم عوامۃ: 37791 ترقیم الشثری: -- 39397
٣٩٣٩٧ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن (ابن) (١) إسحاق عن محمد بن جعفر بن الزبير ان رسول الله ﷺ بعث عبد الله بن انيس إلى خالد بن سفيان قال: فلما دنوت منه، وذلك في وقت العصر، خفت ان يكون دونه محاولة او مزاولة، فصليت وانا امشي (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (إبي).
(٢) مرسل؛ محمد بن جعفر تابعي، أخرجه أحمد (١٦٠٤٨)، وابن خزيمة (٩٨٣)، وابن حبان (٧١٦٠)، وأبو يعلى (٩٠٥)، وأبو داود (١٢٤٩)، وأبو نعيم في الدلائل (٤٤٥)، والبيهقي ٣/ ٢٥٦، وابن هشام في السيرة ٢/ ٦١٩، وابن أبي عصام في الآحاد (٢٠٣١).
حضرت محمد بن جعفر بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ بن انیس کو خالد بن سفیان کی طرف بھیجا۔ راوی کہتے ہیں۔ پس جب میں ان کے قریب پہنچا۔ اور یہ عصر کا وقت تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ ان سے پہلے ہی کوئی مشغولیت یا آغاز کار ہوجائے تو میں نے چلتے ہوئے نماز پڑھ لی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39397]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39397، ترقيم محمد عوامة 37791)
ترقیم عوامۃ: 37792 ترقیم الشثری: -- 39398
٣٩٣٩٨ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن قيس قال: بعث رسول الله ﷺ عمرا على جيش ذات السلاسل إلى لخم و (جذام) (١) ومسانف الشام، قال: وكان في اصحابه قلة، قال: فقال (لهم) (٢) عمرو: لا يوقدن احد منكم نارا، فشق ذلك عليهم، فكلموا ابا بكر ان يكلم عمرا فكلمه فقال: لا يوقد احد نارا إلا القيته فيها، فقابل العدو فظهر عليهم واستباح عسكرهم، فقال (له) (٣) الناس: الا نتبعهم؟ فقال: لا، إني اخشى ان يكون لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون (بها) (٤) المسلمين (٥) ، (فشكوه) (٦) (إلى) (٧) النبي ﷺ حين رجعوا فقال:"صدقوا يا عمرو"، (قال) (٨) : كان ⦗٤١٦⦘ في اصحابي قلة فخشيت ان يرغب العدو في قتلهم، فلما اظهرني الله عليهم قالوا: اتبعهم؟ قلت: اخشى ان (تكون) (٩) لهم وراء هذه الجبال مادة يقتطعون بها المسلمين، قال: (فكان) (١٠) النبي ﷺ حمد امره (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (حذام).
(٢) في [أ]: (له).
(٣) سقط من: [ط، هـ].
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [س، ي]: (المسلمون).
(٦) في [أ، ب، جـ، ي]: (فشكرره).
(٧) في [ي]: (آل).
(٨) في [ق]: (فقالوا)، وسقط من: [أ، ب].
(٩) في [ب، س، ي]: (يكون).
(١٠) في [أ، ب]: (وكان).
(١١) مرسل؛ قيس تابعي، وقد ورد الخبر من طريق قيس عن عمرو بن العاص، أخرجه ابن حبان (٤٥٤٠)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٨٠٤)، وابن عساكر ٢/ ٢٧.
حضرت قیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذات السلاسل کے لشکر کو لخم، جذام اور مسایف شام کی طرف حضرت عمرو کی امارت میں روانہ فرمایا۔ راوی کہتے ہیں۔ ان کے ساتھیوں کی قلت تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمرو نے لوگوں سے کہا۔ تم میں سے کوئی شخص آگ روشن نہ کرے۔ یہ بات لوگوں کو بہت شاق گزری تو لوگوں نے حضرت ابوبکر سے بات کی۔ کہ وہ حضرت عمرو سے بات کریں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمرو سے اس کے بارے میں بات کی تو آپ نے فرمایا: جو شخص آگ روشن کرے گا تو میں اس شخص کو اسی آگ میں دھکیل دوں گا۔ پھر حضرت عمرو نے دشمن سے لڑائی کی تو ان پر غلبہ پایا اور ان کے لشکر کی جڑ اکھاڑ ڈالی۔ لوگوں نے پوچھا: کیا ہم دشمن کا پیچھا نہ کریں؟ حضرت عمرو نے فرمایا: نہیں! مجھے اس بات کا خوف ہے کہ کہیں اس پہاڑ کے پیچھے ان کی کمک موجود نہ ہو۔ جس کے ذریعہ سے وہ مسلمانوں کو ٹکڑے کردیں۔ جب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں واپس لوٹے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حضرت عمرو کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اے عمرو! یہ سچ کہہ رہے ہیں؟ حضرت عمرو نے عرض کیا۔ میرے ساتھیوں کی قلّت تھی۔ مجھے یہ ڈر ہوا کہ دشمن ان میں ان کی قلت کی وجہ سے رغبت کرے گا (اس لئے آگ جلانے سے منع کیا) پس جب اللہ تعالیٰ نے مجھے ان پر غلبہ عطا کیا تو ان لوگوں نے کہا۔ ان کا پیچھا کرو۔ میں نے کہا؛ مجھے یہ خوف ہے کہ اس پہاڑ کی اوٹ میں دشمن کی کمک موجود ہوگی جو مسلمانوں کے ٹکڑے کر دے گی۔ راوی کہتے ہیں۔ گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمرو کی بات کی تعریف فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39398]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39398، ترقيم محمد عوامة 37792)
ترقیم عوامۃ: 37793 ترقیم الشثری: -- 39399
٣٩٣٩٩ - (حدثنا) (١) ابو اسامة قال: حدثنا إسماعيل عن (قيس) (٢) ان النبي ﷺ قال لبلال:"اجهزت الركب -او الرهط- البجليين؟"، قال: لا، قال:"فجهزهم وابدا بالاحمسيين قبل (القسريين) (٣) " (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (حدثني).
(٢) في [ي]: (أبي قيس).
(٣) في [ق]: (القسيين)، وفي [ط، هـ]: (القسيرين).
(٤) مرسل؛ قيس تابعي، وأخرجه أحمد في فضائل الصحابة (١٦٦٨)، وقد ورد بنحوه من حديث طارق بن شهاب أخرجه ابن أبي عاصم في الآحاد (٢٥٣٧)، والطبراني (٨٢١١)، والضياء في المختارة ٨/ (١٢٥)، وأحمد في المسند ٤/ ٣١٥ (١٨٨٥).
حضرت قیس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال سے پوچھا: کیا تم نے سواروں کو یا گروہ کو سامان سفر دے دیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا۔ نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ پھر تم انہیں سامان دو اور پختہ مذہب لوگوں جو جبری لوگوں سے پہلے شروع کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39399]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39399، ترقيم محمد عوامة 37793)
ترقیم عوامۃ: 37794 ترقیم الشثری: -- 39400
٣٩٤٠٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) إسرائيل عن ابي إسحاق عن الشعبي ان رسول الله ﷺ كتب إلى رعية السحيمي بكتاب (٢) ، فاخذ كتاب رسول الله ﷺ فرقع به دلوه، فبعث رسول الله ﷺ سرية فاخذوا اهله وماله، وافلت رعية على فرس له عريانا ليس عليه شيء، فاتى ابنته وكانت متزوجة في بني هلال، قال: وكانوا اسلموا فاسلمت معهم، وكانوا دعوه إلى الإسلام قال: فاتى ابنته ⦗٤١٧⦘ وكان يجلس القوم بفناء بيتها، فاتى البيت من وراء ظهره، فلما راته ابنته عريانا القت عليه ثوبا، قالت: مالك؟ قال: كل الشر، ما ترك لي اهل ولا مال، قال: اين بعلك؟ قالت: في الإبل، قال: فاتاه فاخبره، قال: خذ راحلتي برحلها ونزودك من اللبن، قال: لا حاجة لي فيه، ولكن اعطني قعود الراعي وإداوة من ماء، فإني ابا در (٣) محمدا (٤) لا يقسم اهلي ومالي، فانطلق وعليه ثوب إذا غطى به راسه خرجت إسته، وإذا غطى به إسته خرج راسه، فانطلق حتى دخل المدينة ليلا، فكان (بحذاء) (٥) رسول الله ﷺ، (فلما صلى رسول الله ﷺ) (٦) الفجر قال له: يا رسول الله ابسط يدك فلابايعك، فبسط رسول الله ﷺ يده فلما ذهب رعية ليمسح عليها قبضها رسول الله ﷺ، ثم قال (له رعية) (٧) : يا رسول الله ابسط يدك (فلابايعك، قال: فبسط رسول الله ﷺ يده، فلما ذهب ريعه ليمسح عليها) (٨) ، قال: ومن انت؟ قال: رعية السحيمي، قال: فاخذ رسول الله ﷺ بعضده فرفعها، ثم قال:"ايها الناس هذا رعية السحيمي الذي (كتبت) (٩) إليه فاخذ كتابي فرقع به دلوه، فاسلم"، ثم قال: يا رسول الله اهلي ومالي؟ (١٠) فقال رسول الله ﷺ:"اما مالك فقد قسم بين المسلمين، واما اهلك فانظر من قدرت عليه منهم"، قال: فخرجت فإذا ابن لي قد عوف الراحلة وإذا هو قائم عندها، فاتيت رسول الله ﷺ فقلت: هذا ابني فارسل ⦗٤١٨⦘ معي بلالا، فقال:"انطلق معه فسله ابوك هو؟ فإن قال: نعم، فادفعه إليه"، قال: فاتاه بلال فقال: ابوك هو؟ فقال: نعم، فدفعه إليه، قال: فاتى بلال النبي ﷺ فقالوا: والله ما رايت (واحدا) (١١) منهما مستعبرا إلى صاحبه فقال رسول الله ﷺ ذلك جفاء (الاعراب) (١٢) (١٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ي]: زيادة لفظ الجلال.
(٣) في [أ]: زيادة (لا).
(٤) في [أ، ب، س]: زيادة ﷺ.
(٥) في [أ، ب، س، ي]: (يحدار).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [أ]: (رعيته).
(٨) سقط من: [جـ، ط، هـ].
(٩) في [أ، ب]: (كتب).
(١٠) في [ي]: زيادة (ثم).
(١١) في [أ، ب، ط]: (أحدًا).
(١٢) في [ط، هـ]: (العرب).
(١٣) مرسل؛ الشعبي تابعي، أخرجه أحمد (٢٢٤٦٦)، وابن قانع ١/ ٢١٥، والطبراني (٤٦٣٥).
حضرت شعبی سے روایت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رعی السحیمی کی طرف ایک خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط پکڑا اور اس سے اپنے ڈول کو سی لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کرلیا۔ اور رعیہ اپنے ایک گھوڑے پر ننگی حال میں جبکہ اس پر کچھ بھی نہیں تھا سوار ہوا۔ پس یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی یہ بیٹی بنی ہلال میں متزوج تھی۔ راوی کہتے ہیں۔ یہ اپنی بیٹی کے پاس آیا۔ اور اس کی بیٹی کے گھر کے صحن میں لوگوں کی مجلس سجتی تھی۔ تو یہ گھر کی پشت کی طرف سے آیا۔ جب اس کو اس کی بیٹی نے عریاں حالت میں دیکھا تو اس نے اس پر کپڑا پھینک دیا۔ اور پوچھا۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ رعیہ نے جواب دیا۔ مکمل شر واقع ہوگیا ہے۔ میرے لئے میرے اہل اور مال نہیں چھوڑا گیا۔ پھر رعیہ نے پوچھا۔ تیرا شوہر کیا ں ہے؟ بیٹی نے جواب دیا۔ اونٹوں میں۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اس کا شوہر آیا اور رعیہ نے اس کو ساری بات بتائی۔ اس نے کہا: یہ میری سواری کجاوہ سمیت لے لو اور میں قوت میں تمہیں دودھ بھی دیتا ہوں؟ رعیہ نے کہا۔ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن تم مجھے ایک جوان اونٹ اور پانی کا برتن دے دو تاکہ میں جلدی سے محمد کے پاس پہنچوں کہ کہیں وہ میرے اہل و عیال اور مال کو تقسیم نہ کر دے۔ پس وہ اس حالت میں وہاں سے چلا کہ اس پر ایک کپڑا تھا۔ جب وہ اس کپڑے سے اپنا سر ڈھانپتا تھا تو اس کی سرین کھل جاتی تھی۔ اور جب وہ اپنی سرین کو ڈھانپتا تھا تو اس کا سر کھل جاتا تھا۔ پس یہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ رات کے وقت یہ مدینہ میں داخل ہوا۔ پھر یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے محاذات میں پہنچ گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز پڑھ چکے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ یا رسول اللہ! اپنا ہاتھ پھیلائیں تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک پھیلایا۔ پس جب رعیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو واپس کھینچ لیا۔ رعیہ نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اپنا ہاتھ پھیلائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا۔ رعیۃ السُّحَیمی ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلائی سے پکڑ کر اس کی کلائی کو بلند کیا پھر فرمایا: اے لوگو! یہ رعیۃ السُحیمی ہے جس کی طرف میں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اس سے اپنا ڈول سی لیا اب اسلام لے آیا ہے۔ پھر رعیہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے اہل و عیال اور میرا مال؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا مال تو مسلمانوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اور تیرے اہل و عیال۔ پس ان میں سے تو جس پر قادر ہو ان کو دیکھ لو (مل جائیں گے) رعیہ کہتے ہیں۔ میں باہر آیا تو میرا بیٹا جو کہ کجاوہ پہچان چکا تھا۔ وہ کجاوے کے پاس کھڑا ہوا تھا۔ پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کای۔ یہ میرا بیٹا ہے۔ پھر میرے ساتھ حضرت بلال کو بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ چلے جاؤ اور اس لڑکے سے پوچھو۔ تمہارا والد یہی ہے؟ پس اگر وہ کہے: ہاں! تو وہ لڑکا اس کو دے دو۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال اس جوان کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تمہارا باپ یہی ہے؟ نوجوان نے جواب دیا: ہاں! حضرت بلال نے وہ جوان رعیہ کے حوالہ کردیا۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت بلال نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: بخدا! میں نے ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپنے ساتھی کے دیدار پر روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہی تو اہل دیہات کا اکھڑ پن ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39400]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39400، ترقيم محمد عوامة 37794)