🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. ما حفظت في غزوة بني المصطلق
جو روایات میں نے غزوہ بنی المصطلق کے بارے میں محفوظ کی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37990 ترقیم الشثری: -- 39605
٣٩٦٠٥ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا عيسى بن يونس عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع اساله عن دعاء المشركين، فكتب إلي: اخبرني عبد الله بن عمر ان رسول الله ﷺ اغار على بني المصطلق وهم غارون، ونعمهم تسقى على الماء، فكانت جويرية بنت الحارث مما اصاب، وكنت في الخيل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ع، ي].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٥٤١)، ومسلم (١٧٣٠).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو المصطلق پر حملہ کیا جبکہ وہ غافل تھے اور ان کے جانور پانی پر آئے ہوئے تھے اور جویریہ بنت الحارث بھی متاثرین میں سے تھی اور میں گھوڑ سواروں میں تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39605]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39605، ترقيم محمد عوامة 37990)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37991 ترقیم الشثری: -- 39606
٣٩٦٠٦ - حدثنا يحيى بن إسحاق قال: (اخبرنا) (١) يحيى بن ايوب قال: حدثني ربيعة بن ابي عبد الرحمن عن محمد بن يحيى بن حبان عن ابن محيريز قال: دخلت ⦗٥١٢⦘ انا وابو صرمة المازني على ابي سعيد الخدري (فسالناه) (٢) عن العزل (فقال) (٣) : اسرنا كرائم العرب، اسرنا نساء بني (عبد) (٤) المصطلق فاردنا العزل، ورغبنا في الفداء [فقال بعضنا: (اتعزلون) (٥) ورسول الله ﷺ بين اظهركم؟ فاتيناه فقلنا: يا رسول الله ﷺ (٦) اسرنا كرائم العرب، اسرنا نساء بني المصطلق فاردنا العزل ورغبنا في الفداء، فقال (النبي) (٧) ﷺ] (٨) :" (لا) (٩) عليكم ان لا تفعلوا، فإنه ليس من نسمة كتب الله عليها ان تكون إلى يوم القيامة إلا وهي كائنة" (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (فسألنا).
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) كذا في النسخ.
(٥) في [س]: (وتقزلون).
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) في [ع]: (الرسول).
(٨) سقط ما بين المعكوفين في: [جـ].
(٩) في [أ، ب]: (ما).
(١٠) حسن؛ يحيى بن أيوب صدوق، وأخرجه البخاري (٤١٣٨)، ومسلم (١٤٣٨).

حضرت ابن محیریز کہتے ہیں کہ میں اور ابو صرمہ مازنی، حضرت ابو سعید خدری کے پاس حاضر ہوئے اور ہم نے ان سے عزل کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب میں ارشاد فرمایا: ہم نے عرب کی صاحب زادیاں قید کی تھی ہم نے بنو المصطلق کی عورتوں کو قید کیا اور ہم نے (ان کے ساتھ) عزل کا ارادہ کیا اور فدیہ لینے میں رغبت ظاہر کی۔ ہم میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے درمیان موجود ہیں اور تم عزل کرتے ہو؟ تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم نے عرب کی صاحبزادیاں قید کی ہیں۔ ہم نے بنو المصطلق کی عورتیں قیدی بنائی ہیں۔ اور ہم عزل کا ارادہ رکھتے ہیں اور فدیہ لینے میں رغبت رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نہیں! تم یہ کام نہ کرو۔ کیونکہ قیامت تک کوئی بھی جان جس کے ہونے کو اللہ تعالیٰ نے لکھ دیا ہے وہ بہر حال ہو کر رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39606]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39606، ترقيم محمد عوامة 37991)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37992 ترقیم الشثری: -- 39607
٣٩٦٠٧ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا هشام عن ابيه ان (اصحاب) (١) رسول الله ﷺ (في) (٢) غزوة بني المصطلق لما اتوا المنزل، وقد جلا اهله اجهضوهم، وقد بقي دجاج في المعدن فكان بين غلمان من المهاجرين وغلمان من الانصار [قتال، (فقال غلمان) (٣) من المهاجرين: يا (للمهاجرين) (٤) ، وقال غلمان من الانصار] (٥) : ⦗٥١٣⦘ (يا للانصار) (٦) ، فبلغ ذلك عبد الله بن ابي (بن) (٧) سلول فقال: اما والله لو انهم لم ينفقوا عليهم انفضوا من حوله، اما والله لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل، فبلغ ذلك النبي ﷺ فامرهم بالرحيل مكانه يشغلهم، فادرك (ركبا) (٨) من بني عبد الاشهل في المسير فقال لهم:"الم تعلموا ما قال المنافق عبد الله بن ابي؟" قالوا: (و) (٩) ماذا قال يا رسول الله؟ (قال) (١٠) :"قال: (اما) (١١) والله لو لم (ينفقوا) (١٢) عليهم (لانفضوا) (١٣) من حوله اما والله لئن رجعنا إلى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل"، قالوا: صدق يا رسول الله فانت والله العزيز وهو الذليل (١٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س].
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [س]: تكررت.
(٤) في [ع]: (المهاجدين).
(٥) سقط ما بين المعكوفين في: [ي].
(٦) في [ع]: (لأنصار).
(٧) سقط من: [أ، ب، س].
(٨) هكذا في: [ق، هـ]، وفي بقية النسخ: (ركب).
(٩) سقط من: [هـ].
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) في [أ، ب]: (أم).
(١٢) في [أ، ب، س، ع]: (ينفقوا).
(١٣) في [ع]: (أنفضوا).
(١٤) مرسل؛ عروة تابعي.

حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ غزوہ بنو المصطلق میں جب منزل پر پہنچے۔ تو مہاجرین اور انصار کے کم عمر لڑکوں میں کوئی جھگڑا ہوگیا۔ مہاجرین کے لڑکوں نے کہا۔ یا للمہاجرین۔ اور انصار کے لڑکوں نے کہا۔ یا للانصار۔ یہ خبر عبد اللہ بن ابی بن سلول کو پہنچی تو اس نے کہا۔ ہاں! بخدا! اگر انصار، مہاجرین پر خرچہ نہ کرتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد سے چلے جاتے۔ ہاں! بخدا! اگر ہم مدینہ کی طر ف واپس لوٹ گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے مدینہ سے ذلت والوں کو نکال دیں گے۔ پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو کوچ کرنے کا حکم دیا۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں مشغول کر رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوران سفر بنو عبد الاشہل میں ایک سوار جماعت کو پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا: تمہیں معلوم نہیں ہے کہ منافق عبد اللہ بن ابی نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اس نے کیا کہا ہیَ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے کہا ہے۔ ہاں! بخدا! اگر تم (انصار) ان (مہاجرین) پر خرچ نہ کرو تو یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے چلے جائیں گے۔ ہاں۔ بخدا! اگر ہم مدینہ واپس گئے تو البتہ ضرور بالضرور عزت والے، مدینہ سے ذلت والوں کو باہر نکال دیں گے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! سچ کہا۔ آپ اور اللہ تعالیٰ عزت والے جبکہ وہ ذلیل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39607]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39607، ترقيم محمد عوامة 37992)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں