🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

28. (ما حفظت) في بني قريظة
بنو قریظہ کے بارے میں جو روایات میں نے محفوظ کی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37980 ترقیم الشثری: -- 39595
٣٩٥٩٥ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : (حدثنا) (٢) سفيان بن (عيينة) (٣) عن عمرو عن عكرمة ان النبي ﷺ بعث خوات (بن) (٤) (جبير) (٥) إلى بني قريظة على فرس يقال له جناح (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ق، ي].
(٢) في [ع]: (أخبرنا).
(٣) في [ي]: (عينة).
(٤) في [أ، ب]: (من).
(٥) في [ي]: (خبير).
(٦) مرسل؛ عكرمة تابعي وورد من حديث عكرمة عن ابن عباس، أخرجه الحاكم ٣/ ٤١٣.

حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خوَّات بن جبیر کو بنو قریظہ کی طر ف ایک جناح نامی گھوڑے پر سوار کر کے بھیجا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39595]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39595، ترقيم محمد عوامة 37980)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37981 ترقیم الشثری: -- 39596
٣٩٥٩٦ - حدثنا عبد الله بن نمير وعبدة عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة قالت: لما رجع رسول الله ﷺ يوم الخندق، ووضع (السلاح) (١) واغتسل، (اتاه) (٢) جبريل وقد عصب راسه الغبار، فقال: وضعت السلاح! فوالله ما وضعته، فقال رسول الله ﷺ:"فاين؟" قال: ههنا، واوما إلى بني قريظة، قال: فخرج رسول الله ﷺ إليهم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (الصلاة).
(٢) في [ع]: (فأتاه).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١١٧)، ومسلم (١٧٦٩).

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم الخندق سے واپس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلحہ رکھ دیا اور غسل فرما لیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور ان کے سر پر غبار تھا تو انہوں نے فرمایا۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ بخدا! میں نے تو اسلحہ نہیں رکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر کدھر؟ حضرت جبرائیل نے جواب دیا۔ اِدھر! اور انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنو قریظہ کی طرف نکل پڑے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39596]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39596، ترقيم محمد عوامة 37981)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37982 ترقیم الشثری: -- 39597
٣٩٥٩٧ - حدثنا ابو خالد الاحمر عن هشام عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ يوم قريظة:"الحرب خدعة" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي، وورد من حديث عروة عن عائشة عند الطبراني في الأوسط (٢٢١٦)، والصغير (٢٣)، وأبي يعلى (٤٥٥٩)، وابن عدي ٥/ ٢٠٦.
حضرت ہشام، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم قریظہ کو فرمایا: جنگ دھوکہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39597]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39597، ترقيم محمد عوامة 37982)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37983 ترقیم الشثری: -- 39598
٣٩٥٩٨ - حدثنا يزيد بن هارون (اخبرنا) (١) هشام عن محمد قال: عاهد (٢) حيي (بن اخطب) (٣) رسول الله ﷺ (ان لا) (٤) يظاهر عليه احدا وجعل (الله) (٥) عليه كفيلا، قال: فلما كان يوم قريظة اتي به وبابنه سلما، قال: فقال رسول الله ﷺ:"اوفي (الكفيل) (٦) "، فامر به فضربت عنقه وعنق ابنه (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (اللَّه).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [ع]: (إلا).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [ق، هـ]: (الكيل).
(٧) مرسل؛ محمد بن سيرين تابعي، وورد الخبر عن يزيد عن هشام عن الحسن مرسلًا عند أبي عبيد في الأموال (٤٦١)، والبلاذري في فتوح البلدان ص ٣٥.

حضرت محمد سے روایت ہے کہ حیی بن اخطب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس شرط پر معاہدہ کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف کسی کی مدد نہیں کرے گا اور اس بات پر اس نے اللہ تعالیٰ کو کفیل بنایا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر جب بنو قریظہ کا دن آیا۔ اس کو اور اس کے بیٹے کو لایا گیا۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا انہیں کفیل کے بدلے میں لایا گیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا۔ پس اس کی اور اس کے بیٹے کی گردن مار دی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39598]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39598، ترقيم محمد عوامة 37983)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37984 ترقیم الشثری: -- 39599
٣٩٥٩٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن عبد الله بن عروة عن عبد الله (بن الزبير) (١) عن الزبير قال: جمع لي رسول الله ﷺ بين ابويه يوم قريظة فقال:"فداك ابي وامي" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٧٢٠)، ومسلم (٢٤١٦).

حضرت زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو قریظہ والے دن میرے لئے (دعا میں) اپنے والدین کو جمع فرما کر ارشاد فرمایا: تم پر میرے ماں، باپ قربان ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39599]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39599، ترقيم محمد عوامة 37984)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37985 ترقیم الشثری: -- 39600
٣٩٦٠٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم عن ابي امامة بن سهل سمعه يقول: سمعت ابا سعيد الخدري يقول: نزل اهل قريظة على حكم سعد بن معاذ قال: فارسل رسول الله ﷺ إلى سعد، قال: فاتاه على حمار، قال: فلما ان دنا قريبا من المسجد قال رسول الله ﷺ:"قوموا إلى سيدكم او (خيركم) (١) "، ثم ⦗٥١٠⦘ قال:"إن هولاء (٢) نزلوا على حكمك"، قال: (تقتل) (٣) مقاتلتهم (وتسبى) (٤) ذراريهم، قال: (فقال) (٥) رسول الله ﷺ:"قضيت بحكم (٦) "، وربما قال:"قضيت بحكم الله" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (خبيركم).
(٢) في [ع]: زيادة (قد).
(٣) في [ب، ع]: (فتقتل).
(٤) في [ع]: (وتسبا).
(٥) في [جـ]: (قال).
(٦) الذي في بقية المصادر: (بحكم الملك).
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٢١)، ومسلم (١٧٦٨).

حضرت ابو سیدط خدری سے روایت ہے کہ اہل قریظہ، حضرت سعد بن معاذ کے فیصلہ پر اترے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد کی طرف کسی کو بھیجا۔ حضرت سعد، ایک گدھے پر تشریف لائے۔ راوی کہتے ہیں: پھر جب حضرت سعد، مسجد کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے سردار یا فرمایا: اپنے میں سے بہترین شخص۔ کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ بلاشبہ یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر اترے ہیں۔ حضرت معاذ نے فرمایا: ان لوگوں کے لڑنے والوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کرلیا جائے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے مالک (الملک) کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ کبھی راوی یہ قول نقل کرتے ہیں: تم نے خدا کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39600]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39600، ترقيم محمد عوامة 37985)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37986 ترقیم الشثری: -- 39601
٣٩٦٠١ - حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة قال: اخبرني ابي انهم نزلوا على حكم رسول الله ﷺ، فردوا الحكم إلى سعد بن معاذ فحكم فيهم سعد ابن معاذ ان تقتل مقاتلتهم وتسبى النساء والذرية، وتقسم اموالهم، قال هشام: قال ابي: فاخبرت ان رسول الله ﷺ قال:"لقد حكمت فيهم بحكم الله" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عروة تابعي، أصله في البخاري (٤١٢٢)، ومسلم (١٧٦٩) من حديث عروة عن عائشة.
حضرت ہشام بن عروہ، اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ بنو قریظہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ پر اترے۔ پھر انہوں نے فیصلہ کرنے کو، حضرت سعد بن معاذ کی طرف لوٹا دیا۔ تو حضرت سعد ابن معاذ نے ان کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا: کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قید کردیا جائے اور ان کے اموال کو تقسیم کردیا جائے۔ ہشام کہتے ہیں۔ میرے والد نے بتایا ہے کہ مجھے خبر ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (اے معاذ!) تو نے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39601]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39601، ترقيم محمد عوامة 37986)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37987 ترقیم الشثری: -- 39602
٣٩٦٠٢ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عطاء بن السائب عن عامر قال: رمى اهل قريظة سعد بن معاذ فاصابوا اكحله فقال: اللهم لا تمتني حتى تشفيني منهم، قال: فنزلوا على حكم سعد بن معاذ، فحكم ان تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم، قال: فقال رسول الله ﷺ:"بحكم الله حكمت" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ الشعبي تابعي.
حضرت عامر سے روایت ہے کہ بنو قریظہ نے حضرت سعد بن معاذ کو تیر مارا۔ اور انہوں نے آپ کے بازو کی رگ کو زخمی کردیا۔ حضرت معاذ نے دعا مانگی۔ اے اللہ! تو مجھے موت نہ دینا یہاں تک کہ تو مجھے ان سے شفاء دے دے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر وہ لوگ حضرت معاذ بن سعد کے فیصلہ پر اتر (راضی ہو) گئے۔ پس آپ نے یہ فیصلہ فرمایا: کہ ان کے مقاتلین کو قتل کردیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو قیدی بنایا جائے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے خدا کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39602]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39602، ترقيم محمد عوامة 37987)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37988 ترقیم الشثری: -- 39603
٣٩٦٠٣ - حدثنا (وكيع) (١) عن إسماعيل (عن) (٢) ابن ابي اوفى يقول: دعا رسول الله ﷺ على الاحزاب فقال:"اللهم منزل الكتاب، سريع الحساب، هازم ⦗٥١١⦘ الاحزاب، اهزمهم وزلزلهم" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٣٩٢)، ومسلم (١٧٤٢).

حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احزاب (کفار کے لشکروں) پر یہ بددعا فرمائی۔ اے اللہ! کتا ب کو نازل کرنے والی ذات، جلد حساب لینے والی ذات، لشکروں کو شکست دینے والی ذات، ان کو شکست دے اور ان کو ہلا کر رکھ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39603]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39603، ترقيم محمد عوامة 37988)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37989 ترقیم الشثری: -- 39604
٣٩٦٠٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر قال: حدثنا يزيد بن الاصم قال: لما كشف الله الاحزاب ورجع النبي ﷺ إلى بيته فاخذ يغسل راسه اتاه جبريل، فقال: عفا الله عنك، وضعت السلاح ولم تضعه ملائكة السماء، (ائتنا) (١) عند حصن بني قريظة، (فنادى رسول الله ﷺ في الناس:"ان ائتوا حصن بني قريظة") (٢) ، ثم اغتسل رسول الله ﷺ فاتاهم عند (الحصن) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (أتينا).
(٢) سقط من: [ب، جـ].
(٣) في [جـ]: (الحسن).
(٤) مرسل، يزيد بن الأصم تابعي، وأخرجه ابن سعد ٢/ ٧٥.

حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے لشکروں کو دور کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اپنے گھر ی طرف لوٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک دھونا شروع کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جبرائیل حاضر ہوئے اور کہا۔ اللہ تعالیٰ آپ سے درگزر فرمائے۔ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے۔ حالانکہ آسمان کے فرشتوں نے اسلحہ نہیں رکھا؟ آپ ہمارے ساتھ بنو قریظہ کے قلعہ کی طرف تشریف لائیے۔ تو نیا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں میں منادی کروائی کہ بنو قریظہ کے قلعہ پر پہنچو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان لوگوں کے پاس قلعہ پر تشریف لے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39604]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39604، ترقيم محمد عوامة 37989)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں