🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38013 ترقیم الشثری: -- 39628
٣٩٦٢٨ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة قال: اخبرني ابو مرة مولى ام هانئ عن ابن عمر قال: لما كان الهدي دون الجبال التي تطلع على وادي الثنية عرض له المشركون، فردوا وجوه بدنه، فنحر رسول الله ﷺ حيث حبسوه، وهي الحديبية، (وحلق) (٢) وائتسى به ناس فحلقوا، وتربص آخرون، قالوا: لعلنا نطوف بالبيت، فقال رسول الله ﷺ:"رحم الله المحلقين"، قيل: والمقصرين قال:"رحم الله المحلقين" -ثلاثا- (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا)، وفي [ع]: (أخبرني).
(٢) في [أ]: (وخلق).
(٣) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، وأخرجه ابن جرير في التفسير ٢/ ٢٢١، و ٢٦/ ٩٧، وأصل الخبر أخرجه البخاري (١٦٤٠)، ومسلم (٢٦٣٨)، بذكر تفضيل المحلقين.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ہدی کے جانور (ابھی) ان پہاڑوں سے پیچھے تھے جن پہاڑوں پر ثنیۃ وادی دکھائی دیتی ہے۔ تو مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کے رُخ پھیر دیئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسی مقام پر نحر کیا جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روکا تھا۔ اور یہ مقام حدیبیہ تھا۔ اور (پھر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حلق فرمایا اور لوگوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حلق کروایا۔ اور کچھ دیگر لوگ انتظار میں رہے۔ اور انہوں نے کہا۔ ہوسکتا ہے کہ ہم بیت اللہ کا طواف کرلیں۔ (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) کہا گیا۔ اور قصر کروانے والے …؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (پھر) ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ حلق کروانے والوں پر رحم فرمائے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39628، ترقيم محمد عوامة 38013)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38014 ترقیم الشثری: -- 39629
٣٩٦٢٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) الدستوائي عن يحيى بن ابي كثير عن ابي إبراهيم الانصاري عن ابي سعيد الخدري ان النبي ﷺ حلق يوم الحديبية هو واصحابه إلا عثمان (وابا) (٢) قتادة، فقال رسول الله ﷺ:"يرحم الله المحلقين"، قالوا: والمقصرين (يا رسول الله؟) (٣) ، قال:"يرحم الله المحلقين"، قالوا: والمقصرين ⦗٥٤٣⦘ يا رسول الله؟، قال:"يرحم الله المحلقين"، قالوا: والمقصرين يا رسول الله قال:"والمقصرين" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (وأبو).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة أبي إبراهيم الأنصاري، وأخرجه أحمد ٣/ ٨٩ (١١٨٦٥)، والطيالسي (٢٢٢٤)، وأبو يعلى (١٢٦٣)، والطحاوي ٢/ ٢٥٦، وابن حبان (١٦٩)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ١٥١، وابن عبد البر في الاستذكار ٤/ ٣١٣.

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حدیبیہ کے دن حلق کروایا سوائے عثمان اور ابو قتادہ کے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم کرے۔ لوگوں نے سوال کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اور کتروانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے (سہ بارہ) سوال کیا۔ اور بال کترانے والوں پر؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے (حلق) والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ اور کتروانے والوں پر؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے فرمایا: کتروانے والوں پر (بھی رحم فرمائے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39629، ترقيم محمد عوامة 38014)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38015 ترقیم الشثری: -- 39630
٣٩٦٣٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد الله بن عمرو بن اسلم عن ناجية بن جندب بن ناجية قال: لما (كنا) (٢) بالغميم لقي رسول الله ﷺ (خبر) (٣) قريش: انها بعثت خالد بن الوليد في (جريدة) (٤) خيل (تتلقى) (٥) رسول الله ﷺ، (فكره رسول الله ﷺ) (٦) ان يلقاه، وكان (بهم) (٧) رحيما، فقال:"من (رجل) (٨) يعدلنا عن الطريق؟" فقلت: انا بابي انت وامي يا رسول الله (٩) ، قال: فاخذت بهم في طريق (قد) (١٠) كان مهاجري بها فدافد وعقاب (١١) ، فاستوت (بي) (١٢) الارض حتى انزلته على الحديبية وهي نزح، قال: فالقى فيها ⦗٥٤٤⦘ سهما او سهمين من كنانته ثم بصق فيها ثم دعا، (قال) (١٣) : فعادت عيونها حتى اني لاقول -او نقول: لو شئنا (لاغترفنا) (١٤) (باقداحنا) (١٥) (١٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (كان).
(٣) في [س]: (خير).
(٤) في [ق]: (جريد).
(٥) في [س]: (يتلقى).
(٦) سقط من: [ي].
(٧) في [جـ]: بياض.
(٨) في [أ، ب]: (دخل).
(٩) في [ق، هـ]: زيادة ﷺ.
(١٠) في [جـ]: بياض.
(١١) الفدافد: الأرض الصعبة، والعقاب: الطرق بين الجبال المرتفعة.
(١٢) في [أ، ب]: (في).
(١٣) سقط من: [ي].
(١٤) في: [ع، هـ]: (لاغترقنا).
(١٥) في [أ، ب]: (بأقدامنا).
(١٦) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه الأسلمي، وأخرجه الطبراني (١٧٢٧)، وأبو نعيم في دلائل النبوة (٣١٩)، والسمهمي في تاريخ جرجان ص ١٦٢، وورد حق من طريق آخر، أخرجه النسائي (٤١٣٥)، وابن جرير ٢/ ٢٢١.

حضرت ناجیہ بن جندب بن ناجیہ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم مقام غمیم میں (پہنچے) تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قریش کی اطلاع ملی کہ انہوں نے خالد بن ولید کو گھڑ سواروں کے ایک دستہ کے ہمراہ روانہ کیا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند فرمایا کہ آپ ان سے ملاقات کریں۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر بہت رحم کھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون آدمی ہے جو ہمیں اس راستہ سے ہٹا دے؟ (یعنی دوسرے راستہ پر لے جائے) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ میں لے جاؤں گا۔ فرماتے ہیں: پس میں نے انہیں ایک ایسے کٹھن راستہ پر ڈال دیا۔ جس میں گھاٹیاں اور اتار چڑھاؤ تھا۔ پھر جب ہموار زمین آئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مقام حدیبیہ میں پڑاؤ کروایا اور اس جگہ کا پانی ختم تھا۔ ناجیہ فرماتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے کنویں میں اپنے ترکش سے ایک یا دو ترا ڈالے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا لعاب مبارک ڈالاپھر دعا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: پس اس کے چشمے لوٹ آئے یہاں تک کہ میں نے …یا ہم لوگوں نے … کہا اگر ہم چاہیں تو اپنے پیالے (برتن) سے پانی بھر لیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39630]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39630، ترقيم محمد عوامة 38015)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38016 ترقیم الشثری: -- 39631
٣٩٦٣١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) محمد بن إسحاق عن ابن ابي نجيح عن مجاهد عن ابن عباس ان رسول الله ﷺ قال يوم الحديبية:"يرحم الله المحلقين"، قالوا: يا رسول الله، والمقصرين؟ قال:" (يرحم) (٢) الله المحلقين" -ثلاثا- قالوا: والمقصرين يا رسول الله؟ قال:"والمقصرين"، قالوا: (يا رسول الله) (٣) ما بال المحلقين ظاهرت لهم الترحم؟ قال:"إنهم لم يشكوا" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [هـ]: (رحم).
(٣) سقط من: [ق، هـ].
(٤) حسن؛ ابن إسحاق صدوق، صرح ابن إسحاق بالتحديث عند أحمد وابن ماجه، أخرجه أحمد (٣٣١١)، وابن ماجه (٣٠٤٥)، والطحاوي ٢/ ٢٥٥، والطبري في التاريخ ٢/ ٦٣٧، والطبراني (١١١٥٠)، والبيهقي في دلائل النبوة ٤/ ١٥١، وأبو يعلى (٢٤٧٦).

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا: اللہ پاک سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ نے سوال کیا: یا رسول اللہ! بال کتروانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دوبارہ) ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے… یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی… صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! قصر کروانے والوں پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قصر کروانے والوں پر (بھی رحم فرما)۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! سر منڈانے (حلق) والوں کی کیا وجہ تھی کہ آپ نے ان پر رحم کی دعا زیادہ (تین بار) فرمائی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہوں نے کسی درجہ میں بھی شک نہیں کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39631، ترقيم محمد عوامة 38016)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38017 ترقیم الشثری: -- 39632
٣٩٦٣٢ - حدثنا غندر عن شعبة عن جامع بن شداد قال: سمعت عبد الرحمن ابن ابي علقمة قال: سمعت عبد الله بن مسعود قال: اقبلنا مع رسول الله ﷺ من الحديبية، فذكروا انهم نزلوا دهاسا من الارض -يعني بالدهاس: الرمل- قال: فقال رسول الله ﷺ:"من يكلؤنا؟"، قال: فقال بلال: انا، قال: فقال رسول الله ﷺ:"إذن (ننام) (١) "، قال: فناموا حتى طلعت الشمس، فاستيقظ اناس فيهم ⦗٥٤٥⦘ فلان وفلان، وفيهم عمر، قال: فقلنا: (اهضبوا) (٢) ، [يعني تكلموا، قال: فاستيقظ النبي ﷺ (فقال) (٣) :"افعلوا كما كنتم (تفعلون) (٤) ] (٥) ، (قال) (٦) : ففعلنا، قال:"كذلك فافعلوا (لمن) (٧) نام او نسي"، قال: (وضلت) (٨) ناقة رسول الله ﷺ فطلبتها، (قال) (٩) : فوجدت حبلها (قد) (١٠) تعلق بشجرة، فجئت إلى (النبي) (١١) ﷺ فركب فسرنا، قال (١٢) : وكان النبي ﷺ إذا نزل عليه الوحي اشتد ذلك عليه، وعرفنا ذلك فيه، قال: فتنحى منتبذا خلفنا، قال: فجعل يغطي راسه بثوبه ويشتد ذلك عليه حتى عرفنا انه قد انزل عليه فاتونا فاخبرونا انه قد انزل عليه: ﴿إنا فتحنا لك فتحا مبينا﴾ [الفتح: ١] (١٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (ننم)، وفي [س، ي]: (تنام)، وفي [ع]: (نم).
(٢) في [ب]: (أهصنيوا)، وفي [س]: (انمصبوا).
(٣) في [ب]: (قال).
(٤) في [س]: (تعقلون).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٦) في [هـ]: (قالوا).
(٧) في [أ، ب]: (كمن).
(٨) في [س]: (دخلت).
(٩) سقط من: [أ، ب].
(١٠) في [أ، ب]: (قال).
(١١) في [هـ]: (رسول اللَّه).
(١٢) في [جـ، ي]: تكررت.
(١٣) حسن؛ عبد الرحمن بن أبي علقمة صدوق، أخرجه أحمد (٤٤٢١)، وأبو داود (٤٤٧)، والنسائي في الكبرى (٨٨٥٣)، وابن حبان (١٥٨٠)، والبزار (٤٠٠/ كشف)، وأبو يعلى (٥٠١٠)، والطبراني (١٠٣٤٩)، والطيالسي (٣٧٧)، والشاشي (٨٣٩)، والطحاوي ١/ ٤٦٥، والبيهقي ٢/ ٢١٨.

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ سے (واپس) آئے۔ صحابہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ریتلی زمین پر اترے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیں کون بیدار کرے گا؟ حضرت بلال نے عرض کیا۔ میں بیدار کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر تو ہم سوتے ہیں۔ تمام لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ تو کچھ لوگ … جن میں فلاں، فلاں اور حضرت عمر تھے … بیدار ہوگئے۔ ہم نے کہا (آپس میں) باتیں کرو۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی آنکھ مبارک کھل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جس طرح کر رہے تھے ویسے ہی کرتے رہو (یعنی باتیں کرلو)۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے پھر وہی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی سویا ہو یا اس کو نماز بھول گئی ہو تو تم اس کے ساتھ یہی کچھ کرو۔ راوی بیان کرتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی تو میں اس کی تلاش میں نکلا فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کی رسی ایک درخت کے ساتھ اڑی ہوئی تھی۔ پس میں (اسے لے کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور ہم روانہ ہوگئے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کو اس حالت میں شدت ہوتی تھی۔ اور ہمیں یہ شدت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر محسوس ہوتی تھی۔ فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پیچھے ایک طرف ہو کر کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے سر مبارک کو اپنے کپڑے سے ڈھانپ لیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سخت شدت کے آثار ظاہر ہوئے یہاں تک کہ ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ے ہمیں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوئی ہے۔ {إِنَّا فَتَحْنَا لَک فَتْحًا مُبِینًا }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39632]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39632، ترقيم محمد عوامة 38017)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں