🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. غزوة الحديبية
غزوہ حدیبیہ
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38003 ترقیم الشثری: -- 39618
٣٩٦١٨ - حدثنا عفان قال: حماد بن سلمة عن ثابت عن انس ان قريشا صالحوا النبي ﷺ فيهم سهيل بن عمرو، فقال النبي ﷺ لعلي:"اكتب: بسم الله الرحمن الرحيم"، فقال سهيل: اما"بسم الله الرحمن الرحيم"، (فما ندري) (١) ما"بسم الله الرحمن الرحيم"، ولكن (اكتب) (٢) بما نعرف"باسمك اللهم" فقال:"اكتب: من محمد رسول الله (٣) "، قالوا: لو علمنا انك رسول الله اتبعناك، ولكن اكتب اسمك واسم ابيك، فقال النبي ﷺ:"اكتب: من محمد بن عبد الله"، فاشترطوا على النبي ﷺ ان من جاء منكم لم نرده عليكم، ومن جاءكم (منا) (٤) رددتموه علينا، فقالوا: يا رسول الله اتكتب هذا؟ قال:"نعم، إنه من ذهب منا إليهم فابعده ⦗٥٢٧⦘ الله، ومن جاءنا منهم سيجعل الله (له) (٥) فرجا ومخرجا" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [جـ]: زيادة (س).
(٤) في [ع]: (منكم).
(٥) سقط من: [أ، ب]، وفي [س، ع، ي]: (لهم).
(٦) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٤)، وأحمد (١٣٨٢٧).

حضرت انس سے روایت ہے کہ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مصالحت کی جبکہ ان (مصالحت کرنے والوں) میں سہیل بن عمر و بھی تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: لکھو! بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ سہیل نے کہا یہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ ہم نہیں جانتے۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ کیا ہے۔ ہاں وہ بات لکھو جس کو ہم جانتے ہیں۔ بِاسْمِکَ اللّٰھُمَّ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لکھو! محمد رسول اللہ کی طرف سے۔ وہ کہنے لگے۔ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مانتے تو ہم آپ کی اتباع ہی کرلیتے۔ ہاں اپنا اور اپنے والد کا نام لکھو۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لکھو! محمد بن عبد اللہ کی طرف سے۔ پھر مشرکین قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ شرط لگائی کہ تم میں سے جو آدمی (ہمارے پاس) آئے گا ہم اس کو تمہیں واپس نہیں کریں گے۔ اور ہم میں سے جو آدمی تمہارے پاس آئے گا تو تم اس کو ہماری طرف واپس کرو گے۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا یہ بات بھی لکھی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! جو آدمی ہم میں سے ان ی طرف جائے گا تو اللہ اس کو دور کر دے گا۔ اور جو ہمارے پاس ان میں سے آئے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ اور مخرج پیدا کر دے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39618]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39618، ترقيم محمد عوامة 38003)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38004 ترقیم الشثری: -- 39619
٣٩٦١٩ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو سمع جابرا يقول: كنا يوم الحديبية الفا واربع مائة، فقال لنا: انتم اليوم خير اهل الارض (١) . حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن المسور ومروان ان رسول الله ﷺ (عام الحديبية خرج) (٢) في بضع عشرة مائة من اصحابه، فلما كان بذي الحليفة قلد الهدي (واشعر) (٣) واحرم (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٥٤)، ومسلم (١٨٥٦).
(٢) في [ع]: (خرج عام الحديبية).
(٣) في [أ، ب]: (أو أشعر).
(٤) صحيح؛ رواية المسور لها حكم الاتصال، أخرجه البخاري (٤١٥٧)، وأحمد (١٨٩٠٩).

حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ہم یوم الحدیبیہ کو چودہ سو کی تعداد میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا: آج کے دن تم لوگ اہل زمین میں سب سے زیادہ بہتر ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39619]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39619، ترقيم محمد عوامة 38004)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38006 ترقیم الشثری: -- 39620
٣٩٦٢٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن موسى بن عبيدة عن إياس (بن سلمة) (١) عن ابيه قال: بعثت قريش سهيل بن عمرو وحويطب بن عبد العزى و (٢) حفص إلى النبي ﷺ ليصالحوه، فلما رآهم رسول الله ﷺ فيهم سهيل، قال:"قد سهل من امركم، القوم ياتون إليكم (بارحامهم) (٣) ، (وسائلوكم) (٤) الصلح فابعثوا الهدي، واظهروا بالتلبية، (لعل ذلك يلين قلوبهم"، فلبوا من نواحي العسكر حتى ارتجت اصواتهم بالتلبية) (٥) [قال: فجاؤه فسالوا الصلح. ⦗٥٢٨⦘ قال: فبينما الناس قد توادعوا، وفي المسلمين ناس من المشركين، وفي المشركين ناس من المسلمين] (٦) (ففتك) (٧) ابو سفيان فإذا الوادي يسيل بالرجال والسلاح. قال: قال: (إياس) (٨) : قال (سلمة) (٩) : (فجئت) (١٠) (بستة) (١١) من المشركين مسلحين اسوقهم، ما يملكون لانفسهم نفعا ولا ضرا، فاتينا بهم النبي ﷺ فلم يسلب ولم يقتل وعفا، قال: فشددنا على ما في ايدي المشركين منا، فما تركنا فيهم رجلا منا إلا استنقذناه، قال: وغلبنا على من في ايدينا منهم. ثم إن قريشا اتت سهيل بن عمرو (وحويطب) (١٢) بن عبد العزى فولوا صلحهم، وبعث النبي ﷺ عليا وطلحة، فكتب علي بينهم:"بسم الله الرحمن الرحيم هذا ما صالح عليه محمد رسول الله (١٣) قريشا: صالحهم على انه: لا إغلال ولا إسلال، (و) (١٤) على انه: (من) (١٥) قدم مكة [من اصحاب محمد (١٦) حاجا او ⦗٥٢٩⦘ معتمرا او يبتغي من فضل الله فهو آمن (على) (١٧) دمه وماله، [ومن قدم المدينة من قريش مجتازا إلى مصر (او) (١٨) إلى الشام يبتغي من فضل الله فهو آمن على دمه وماله] (١٩) وعلى انه من جاء محمدا (٢٠) من قريش فهو رد، ومن جاءهم] (٢١) من اصحاب محمد (٢٢) [فهو لهم. فاشتد ذلك على المسلمين فقال رسول الله ﷺ] (٢٣) :"من جاءهم منا فابعده الله، ومن جاءنا منهم (رددناه) (٢٤) إليهم -يعلم الله الإسلام من نفسه- يجعل الله (له) (٢٥) مخرجا". وصالحوه على (انه) (٢٦) يعتمر عاما قابلا في مثل هذا الشهر، لا يدخل علينا بخيل ولا سلاح إلا ما يحمل المسافر في قرابه، فيمكث فيها ثلاث ليال، وعلى ان هذا الهدي حيث حبسناه فهو محله لا يقدمه علينا، فقال رسول الله ﷺ:"نحن نسوقه وانتم تردون وجهه" (٢٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (وسلمة).
(٢) كذا في النسخ؛ ولعله من أوهام موسى، وفي [ق، هـ]: زيادة (مكرز بن).
(٣) في [أ]: (بأرحامكم).
(٤) في [أ، ب، ع، ي]: (وسايلوكم)، وفي [ق]: (ويسألونكم).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [ع]: أخرها عن الجملة التي بعدها، ثم ذكر الجملة التي بعدها ثم ذكرها مرة أخرى.
(٧) في [ق]: (فأقبل)، وفي [جـ، ع]: (فقبل)، وفي تفسير ابن جرير ٢٦/ ٩٦: (فقيل به)، وفي تاريخه ٢/ ١٢٠: (ففتك به).
(٨) في [أ، ب، ع]: (أناس).
(٩) في [أ، ب]: (سلمت).
(١٠) في [أ، ب]: (بحيث).
(١١) في [ي]: (بسيه)، وفي [أ، ب]: (بسنه).
(١٢) في [س]: (وحوطب).
(١٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٤) سقط من: [أ].
(١٥) في [أ]: (أن).
(١٦) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(١٧) سقط من: [ي].
(١٨) في [س، ع، ي]: (وإلى).
(١٩) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٢٠) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٢) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ي].
(٢٤) في [جـ]: تكررت.
(٢٥) سقط من: [أ، ب].
(٢٦) في [أ، ب]: (أن).
(٢٧) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، وأخرجه الطبراني (١٤٤)، وابن جرير في التفسير ٢٦/ ٨٦ و ٩٦، وفي التاريخ ٢/ ١٢٠.

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے سہیل بن عمرو، حویطب ابن عبد العزی اور مکرز بن حفص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صلح کریں۔ پس جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سہیل کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا معاملہ آسان ہوگیا ہے۔ لوگ تمہارے پاس اپنے رشتوں کے ہمراہ آ رہے ہیں۔ اور تم سے صلح کا سوال کر رہے ہیں۔ پس ہدی کے جانوروں کو کھڑا کردو اور تلبیہ کو ظاہر کرو۔ شاید کہ یہ ان کے دلوں کو نرم کر دے۔ صحابہ کرام نے لشکر کے اطراف سے تلبیہ بلند کیا یہاں تک کہ ان کے تلبیہ میں ان کی آوازوں سے گونج پیدا ہوگئی۔ راوی کہتے ہیں: پس مشرکین آئے اور انہوں نے صلح کی بات کی۔ ٢۔ راوی کہتے ہیں: اس دوران جبکہ یہ لوگ باہم۔ مسلمانوں کے لشکر میں مشرکین اور مشرکین کے لشکر میں مسلمان موجود تھے۔ کہا گیا: ابو سفیان!!! اچانک وادی لوگوں اور اسلحہ سے بہنے لگی۔ راوی کہتے ہیں: ایاس بیان کرتے ہیں کہ سلمہ نے کہا۔ میں نے مشرکین میں سے چھ مسلح افراد کو ہانک لیا درآنحالیکہ وہ اپنے لئے کسی نفع اور نقصان کے مالک نہیں تھے۔ ہم انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں قتل کیا اور نہ مال چھینا بلکہ معاف فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر مشرکین کے قبضہ میں ہمارے جو ساتھی تھے ہم نے ان کے بارے میں سختی کی اور مشرکین کے قبضہ میں ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑا بلکہ چھڑا لیا۔ راوی کہتے ہیں: ہمارے قبضہ میں جو ان کے افراد تھے ہم ان پر غالب رہے۔ ٣۔ پھر قریش، سہیل بن عمرو اور حویطب بن عبد العزی کے پاس گئے اور انہیں اپنی صلح کا متولی بنایا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت طلحہ کو بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان فیصلہ تحریر کیا۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَن الرَّحِیمِ۔ یہ وہ تحریر ہے جس پر محمد رسول اللہ نے قریش سے صلح کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس بات پر صلح کی ہے کہ نہ تو دھوکہ دہی ہوگی اور نہ ہی شرائط کی خلاف ورزی اور یہ بھی شرط ہے کہ اصحابِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے جو آدمی حج وعمرہ کرنے یا اللہ کی رضا کے لئے مکہ مکرمہ آئے گا تو اس کے خون اور مال کو امن ہوگا۔ اور قریش میں سے جو شخص مدینہ میں مصر یا شام کی طرف جانے کے لئے آئے اور اللہ کے فضل کا متلاشی ہو تو اس کا مال اور خون بھی مامون ہوگا۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ قریش میں سے جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے گا تو واپس کیا جائے گا اور جو شخص محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے قریش کی طرف آئے گا تو وہ انہی کے پاس ہوگا۔ ٤۔ یہ بات اہل اسلام پر بہت شاق گزری۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ان میں سے ہماری طرف آئے گا تو ہم اس کو ان کی طرف واپس کردیں گے (حالانکہ) اللہ تعالیٰ اس کے دل سے اسلام کو جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے راہ بنا دے گا۔ ٥۔ قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئندہ سال انہی مہینوں میں عمرہ کریں گے (لیکن) ہمارے پاس گھوڑے اور اسلحہ لے کر نہیں آئیں گے سوائے اس مقدار کے جو ایک مسافر اپنے تھیلے میں رکھتا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (آئندہ سال) مکہ میں تین دن قیام کریں گے۔ اور یہ شرط بھی تھی کہ اس ہدی کو جہاں پر ہم نے روکا ہے وہیں پر اس کو حلال کریں۔ ان کو مزید آگے نہیں ہانکیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ہم تو اس کو ہانکیں گے اور تم اس کو واپس موڑدینا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39620]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39620، ترقيم محمد عوامة 38006)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38007 ترقیم الشثری: -- 39621
٣٩٦٢١ - حدثنا عبيد الله بن موسى عن موسى بن عبيدة قال: حدثني إياس ابن سلمة عن ابيه قال: بعثت قريش خارجة بن كرز يطلع (لهم) (١) طليعة، فرجع حامدا (يحسن) (٢) الثناء، فقالوا له: إنك اعرابي قعقعوا لك السلاح فطار فؤادك فما دريت ما قيل لك وما قلت. ثم (ارسلوا) (٣) عروة بن مسعود فجاءه فقال: يا محمد ما هذا الحديث؟ تدعو إلى ذات الله، ثم جئت قومك باوباش الناس، من (تعرف ومن لا تعرف) (٤) ، لتقطع ارحامهم وتستحل حرمتهم ودماءهم واموالهم، فقال:"إني لم آت قومي إلا لاصل ارحامهم، يبدلهم الله بدين خير من دينهم، ومعائش خير من معائشهم"، فرجع حامدا يحسن الثناء. قال: قال إياس عن ابيه: فاشتد البلاء على من (كان) (٥) في يد المشركين من المسلمين، قال: فدعا رسول الله ﷺ عمر فقال:"يا عمر هل انت مبلغ عني إخوانك من اسارى المسلمين؟" فقال: (لا) (٦) يا نبي الله، والله ما لي بمكة من عشيرة، غيري اكثر عشيرة مني. فدعا عثمان فارسله إليهم فخرج عثمان على راحلته حتى جاء عسكر المشركين، (فعيبوا) (٧) به (واساءوا) (٨) (له) (٩) القول، ثم (اجاره) (١٠) ابان بن ⦗٥٣١⦘ (سعيد) (١١) بن العاص بن عمه وحمله على السرج وردفه، فلما قدم قال: يا ابن (ابي) (١٢) ما لي اراك (متحشفا) (١٣) اسبل، قال: وكان إزاره إلى نصف ساقيه، فقال له عثمان: هكذا إزرة صاحبنا. فلم يدع احدا بمكة من اسارى المسلمين إلا ابلغهم ما قال رسول الله ﷺ. قال سلمة: فبينما نحن قائلون نادى منادي رسول الله ﷺ:"ايها الناس، البيعة، البيعة، نزل روح القدس"، قال: (فسرنا) (١٤) إلى رسول الله ﷺ، وهو تحت (الشجرة) (١٥) (سمرة) (١٦) فبايعناه، وذلك قول الله: ﴿لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة﴾ [الفتح: ١٨] . قال: فبايع لعثمان إحدى يديه على الاخرى، فقال الناس: هنيئا لابي عبد الله يطوف بالبيت ونحن ها هنا، فقال رسول الله ﷺ:"لو مكث كذا وكذا سنة ما (طاف) (١٧) حتى اطوف" (١٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ق، هـ]: (عليهم).
(٢) في [س]: (بحسن).
(٣) في [أ، ب]: (فأرسلوا).
(٤) في [س]: (يعرف ومن لا يعرف).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب، ق، هـ]: (بلى).
(٧) في [ق، هـ]: (فعتبوا).
(٨) في [أ، ب]: (أسلوا)، وفي [س]: (أشاؤا).
(٩) في [ي]: (إليه).
(١٠) في [أ، ب، ط]: (أجازه).
(١١) في [ع]: (سعد).
(١٢) في [ق، هـ]: (عم)، وفي [ع]: (لي).
(١٣) في [ق، هـ]: (متخشعًا)، وفي [س، ط]: (متحشنًا).
(١٤) في [ق، هـ]: (فثرنا).
(١٥) في [ق، هـ]: (شجرة).
(١٦) في [أ، ب]: (سهرة).
(١٧) في [أ، ب]: (طاق).
(١٨) ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة، أخرجه الترمذي في الشمائل (١٢٢)، وابن سعد ١/ ٤٦١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٥)، والبزار (٣٥٣)، والطبراني (١٤٤)، والروياني (١١٥٥)، وابن عساكر ٣٩/ ٧٤، وابن جرير في التفسير ٢٦/ ٨٦، وابن أبي حاتم كما في تفسير ابن كثير ٤/ ١٩٢، والحربي في غريب الحديث ١/ ٥٤.

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قریش نے خارجہ بن کرز کو اپنے لئے جاسوسی کرنے کے لئے بھیجا۔ تو وہ (صحابہ کرام کی) تعریفیں کرتے ہوئے واپس پلٹا۔ تو قریش نے اس سے کہا۔ تو دیہاتی آدمی ہے۔ انہوں نے تجھے اسلحہ کی جھنکار سنائی تو تیرا دل اڑ گیا۔ پس تجھے کچھ پتہ نہیں چلا کہ تجھے کیا کیا گیا اور تو نے کیا کہا۔ پھر قریش نے عروہ بن مسعود کو بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اے محمد! یہ کیا بات ہے؟ تو خدا کی ذات کی طرف بلاتا ہے اور پھر تو اپنی قوم کے پاس اوباش لوگوں کو لاتا ہے۔ جن میں سے بعض کو تو جانتا ہے اور بعض کو نہیں جانتا… تاکہ تو ان سے قطع رحمی کرے اور ان کی حرمتوں، خون اور اموال کو حلال کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تو اپنی قوم کے پاس صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ میں ان سے صلح رحمی کروں۔ اللہ ان کو ان کے دین کے بدلہ ایک اس سے بہتر دین اور ان کی معیشت سے بہتر معیشت دیتا ہے۔ پس (یہ بات سن کر) وہ بھی تعریفیں کرتے ہوئے لوٹا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ایاس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، مشرکین کے قبضہ میں جو مسلمان موجود تھے ان پر مصائب کی شدت اور بڑھ گئی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر کو بلایا اور اشارہ فرمایا۔ اے عمر! کیا اپنے مسلمان قیدی بھائیوں کو تم اپنی طرف سے پیغام پہنچا (آؤ) گے۔ حضرت عمر نے عرض کیا۔ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرا تو مکہ میں کوئی بڑا خاندان نہیں ہے۔ جبکہ میرے علاوہ لوگ مجھ سے زیادہ وہاں خاندانی روابط رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کو بلایا اور ان کو اہل مکہ کی طرف روانہ کیا۔ حضرت عثمان، اپنی سواری پر سوار ہو کر نکلے یہاں تک کہ آپ مشرکین کے لشکر کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آپ سے لا یعنی باتیں شروع کیں۔ اور بیہودہ گفتگو کی۔ لیکن پھر حضرت عثمان کو ابان بن سعد بن العاص نے … جو حضرت عثمان کا چچا زاد تھا … پناہ دی۔ اور انہیں اپنی زین پر سوار کیا اور خود آپ کے پیچھے سوار ہوگیا پھر جب یہ کچھ آگے بڑھے تو اس نے کہا۔ اے چچا زاد! کیا وجہ ہے کہ میں تجھے پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھ رہا ہوں؟ شلوار نیچے کرو (یعنی ٹخنے ڈھانپ لو)۔ راوی کہتے ہیں: حضرت عثمان کی ازار نصف پنڈلی تک تھی … حضرت عثمان نے جواباً اس کو ارشاد فرمایا: ہمارے صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازار بھی اسی طرح ہوتی ہے۔ پھر حضرت عثمان نے مسلمان قیدیوں میں سے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پہنچائے بیرے نہیں چھوڑا (یعنی سب کو پیغام دیا) حضرت سلمہ فرماتے ہیں۔ اس دوران جبکہ ہم قیلولہ کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منادی نے آواز دی۔ اے لوگو! بیعت (محمد) بیعت! روح القدس نازل ہوئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک کیکر کے درخت کے نیچے تشریف فرما تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی۔ اسی کا ذکر اس آیت میں ہے۔ { لَقَدْ رَضِیَ اللَّہُ عَنِ الْمُؤْمِنِینَ إِذْ یُبَایِعُونَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ } راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمان کے لئے بیعت اس طرح لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ لیا۔ لوگ کہنے لگے۔ ابو عبد اللہ کی خوش قسمتی ہے۔ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے اور ہم یہاں پر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ کئی سال بھی وہاں رہے تب بھی طواف نہیں کرے گا جب تک میں طواف نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39621]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39621، ترقيم محمد عوامة 38007)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38008 ترقیم الشثری: -- 39622
٣٩٦٢٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن محمد بن ابي يحيى عن ابيه عن ابي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ يوم الحديبية:"لا توقدوا نارا بليل"، ثم قال: ⦗٥٣٢⦘" (اوقدوا) (١) (واصطنعوا) (٢) فإنه لن يدرك قوم بعدكم مدكم ولا صاعكم" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أقدوا).
(٢) في [أ، ب]: (واحطنعوا).
(٣) حسن؛ أبو يحيى سمعان صدوق، أخرجه أحمد (١١٢٠٨)، والنسائي (٨٨٥٤)، والحاكم ٣/ ٣٦، وأبو يعلى (٩٨٤)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ١٣٨، وأبو الشيخ في طبقات المحدثين بأصبهان ١/ ٣٩١، والفاكهي في أخبار مكة (٢٨٧٧).

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے دن ارشاد فرمایا: تم لوگ رات کے وقت آگ نہ جلانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ جلاؤا ور (کھانا) بناؤ۔ تمہارے بعد کوئی قوم تمہارے مُد اور صاع (کے ثواب) کو نہیں پا سکے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39622]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39622، ترقيم محمد عوامة 38008)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38009 ترقیم الشثری: -- 39623
٣٩٦٢٣ - حدثنا ابن إدريس عن حصين عن سالم عن جابر قال: اصاب الناس عطش يوم الحديبية، قال: فهش الناس إلى رسول الله ﷺ، قال: فوضع يده في الركوة، فرايت الماء مثل العيون، قال: قلت: كم كنتم؟ قال: لو كنا مائة الف لكفانا، كنا (خمس عشرة مائة) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (خمسمائة عشر)، وفي [ب]: (خمسائة عشر).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤١٥٢)، ومسلم (١٨٥٦).

حضرت جابر سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی۔ راوی کہتے ہیں: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لپکے۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ چمڑے کے برتن میں رکھا تو میں نے پانی کو چشموں کی طرح دیکھا۔ حضرت سالم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے پوچھا: تم لوگ کتنی تعداد میں تھے۔ انہوں نے جواب دیا۔ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کرجاتا (ویسے) ہم پندرہ سو کی تعداد میں تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39623]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39623، ترقيم محمد عوامة 38009)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38010 ترقیم الشثری: -- 39624
٣٩٦٢٤ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) عبد الرحمن بن عبد العزيز الانصاري قال: (حدثني) (٢) ابن شهاب قال: حدثني عروة بن الزبير ان رسول الله ﷺ خرج عام الحديبية في الف وثمانمائة، وبعث بين يديه عينا له من خزاعة يدعى ناجية ياتيه بخبر القوم. حتى نزل رسول الله ﷺ غديرا بعسفان (يقال: له غدير الاشطاط، فلقيه) (٣) عينه بغدير (الاشطاط) (٤) فقال: يا محمد، تركت قومك كعب بن لؤي وعامر بن ⦗٥٣٣⦘ لؤي قد استنفروا لك الاحابيش ومن اطاعهم قد سمعوا بمسيرك، وتركت عبدانهم يطعمون الخزير في دورهم، وهذا خالد بن الوليد في (خيل) (٥) بعثوه. (فقام) (٦) رسول الله ﷺ فقال:"ماذا تقولون؟ ماذا (تامرون؟) (٧) اشيروا علي، قد جاءكم خبر قريش مرتين وما صنعت، فهذا خالد بن الوليد بالغميم، قال لهم رسول الله ﷺ:"اترون ان (نمضي) (٨) لوجهنا، ومن صدنا عن البيت (قاتلناه) (٩) ، ام ترون ان نخالف هؤلاء إلى من تركوا وراءهم، فإن اتبعنا منهم عنق قطعه الله"، قالوا: يا رسول الله (الامر) (١٠) امرك والراي رايك. فتيامنوا في هذا الفعل، فلم يشعر به خالد ولا الخيل التي معه حتى (جاوزهم) (١١) قترة الجيش واوفت به ناقته على ثنية تهبط على غائط القوم يقال له: بلدح، فبركت فقال:"حل حل"، فلم تنبعث. فقالوا: خلات القصواء، قال:"إنها والله ما خلات، ولا هو لها بخلق، ولكن حبسها حابس الفيل، اما والله، لا يدعوني اليوم إلى خطة يعظمون فيها حرمة ولا يدعوني فيها إلى صلة إلا اجبتهم إليها"، ثم زجرها فوثبت. فرجع من حيث جاء عوده على (بدئه) (١٢) حتى نزل بالناس على ثمد من ثماد ⦗٥٣٤⦘ الحديبية ظنون قليل الماء يتبرض (الناس) (١٣) (ماءها) (١٤) تبرضا، فشكوا إلى رسول الله ﷺ قلة الماء، فانتزع سهما من (كنانته) (١٥) ، فامر رجلا فغرزه في جوف القليب، فجاش بالماء حتى ضرب الناس عنه بعطن. فبينما هو (على) (١٦) ذلك إذ مر به بديل بن ورقاء الخزاعي في ركب من قومه من خزاعة، فقال: يا محمد هؤلاء قومك قد خرجوا (بالعوذ) (١٧) المطافيل، يقسمون بالله ليحولن بينك وبين مكة حتى لا يبقى منهم احد، قال:"يا بديل! إني لم آت لقتال احد، إنما جئت اقضي نسكي واطوف بهذا البيت، وإلا فهل لقريش في غير ذلك، هل لهم إلي ان امادهم مدة يامنون فيها ويستجمون ويخلون (فيها) (١٨) بيني وبين الناس، فإن ظهر (١٩) امري على الناس كانوا فيها بالخيار ان يدخلوا فيما دخل (فيه) (٢٠) الناس، وبين ان يقاتلوا وفد (جموا) (٢١) (واعدوا) (٢٢) "، قال بديل: ساعرض هذا على قومك. فركب بديل حتى مر بقريش فقالوا: من اين قال: جئتكم من عند رسول الله ﷺ وإن شئتم اخبرتكم (ما) (٢٣) سمعت منه فعلت، فقال (ناس) (٢٤) من سفهائهم: ⦗٥٣٥⦘ لا تخبرنا عنه شيئا، وقال ناس من ذوي اسنانهم وحكمائهم: بل اخبرنا، ما الذي رايت؟ وما الذي سمعت؟ فاقتص عليهم بديل قصة رسول الله ﷺ وما عرض عليهم من المدة. قال: وفي كفار قريش يومئذ عروة بن مسعود الثقفي فوثب فقال: يا معشر قريش هل تتهمونني في شيء؟ الست بالولد ولستم بالوالد؟ (او لست) (٢٥) قد استنفرت لكم اهل عكاظ، فلما (بلحوا) (٢٦) علي (نفرت) (٢٧) إليكم بنفسي وولدي ومن اطاعني، قالوا: بلى، قد فعلت، (قال) (٢٨) : فاقبلوا من بديل ما جاءكم به وما عرض عليكم رسول الله ﷺ (٢٩) وابعثوني حتى آتيكم (بمصادقها) (٣٠) من عنده، قالوا: فاذهب. فخرج عروة حتى نزل برسول الله ﷺ بالحديبية فقال: يا محمد هؤلاء قومك كعب بن لؤي وعامر بن لؤى قد خرجوا بالعوذ المطافيل، يقسمون لا يخلون بينك وبين مكة حتى تبيد خضراءهم، وإنما انت من قتالهم بين احد امرين: ان (تجتاح) (٣١) (قومك) (٣٢) فلم تسمع برجل قط (اجتاح) (٣٣) اصله قبلك وبين ان (يسلمك) (٣٤) من ارى معك، فإني لا ارى معك إلا اوباشا من الناس، لا اعرف ⦗٥٣٦⦘ اسماءهم ولا وجوههم، فقال: ابو بكر -وغضب: امصص بظر اللات، انحن نخذله او نسلمه، فقال عروة: اما والله لولا يد لك عندي لم اجزك بها لاجبتك فيما قلت-، وكان عروة قد (تحمل) (٣٥) بدية فاعانه ابو بكر فيها بعون حسن. والمغيرة بن شعبة قائم على رسول الله ﷺ وعلى وجهه المغفر، فلم (يعرفه) (٣٦) عروة، وكان عروة يكلم رسول الله ﷺ، (فكلما) (٣٧) مد يده يمس (لحية) (٣٨) رسول الله ﷺ قرعها المغيرة بقدح كان في يده، حتى إذا (احرجه) (٣٩) قال:"من هذا؟" قالوا: هذا المغيرة بن شعبة، قال عروة: انت بذاك يا غدر، (و) (٤٠) هل غسلت عنك غدرتك (إلا امس) (٤١) بعكاظ. فقال النبي ﷺ لعروة بن مسعود مثل ما قال لبديل، فقام عروة فخرج حتى جاء إلى قومه (فقال) (٤٢) : يا معشر قريش، إني قد وفدت على الملوك على قيصر في ملكه بالشام، وعلى النجاشي بارض الحبشة، وعلى كسرى بالعراق، وإني والله ما رايت ملكا هو اعظم (فيمن هو بين) (٤٣) ظهريه من محمد (٤٤) في اصحابه، والله ما يشدون إليه النظر وما يرفعون عنده الصوت، وما (يتوضا) (٤٥) من وضوء إلا ⦗٥٣٧⦘ ازدحموا عليه: ايهم (يظفر) (٤٦) منه بشيء، فاقبلوا الذي جاءكم به بديل، فإنها خطة رشد، قالوا: اجلس. ودعوا رجلا من بني الحارث بن عبد (مناف) (٤٧) يقال له: (الحليس) (٤٨) [ (فقالوا) (٤٩) : انطلق فانظر ما (قبل) (٥٠) هذا الرجل وما يلقاك به، فخرج (الحليس) (٥١) ] (٥٢) فلما رآه رسول الله ﷺ مقبلا عرفه، قال:"هذا (الحليس) (٥٣) وهو من قوم يعظمون الهدي، فابعثوا الهدي في وجهه"، فبعثوا الهدي في وجهه. قال ابن شهاب: فاختلف الحديث في (الحليس) (٥٤) ، فمنهم من يقول: جاءه فقال له مثل ما قال لبديل وعروة، ومنهم من قال: لما (راى) (٥٥) الهدي رجع إلى قريش. فقال: لقد رايت امرا لئن (صددتموه) (٥٦) إني لخائف عليكم ان يصيبكم عنت فابصروا بصركم، قالوا: اجلس. ⦗٥٣٨⦘ (ودعوا) (٥٧) رجلا (من قريش) (٥٨) يقال له: مكرز بن حفص بن الاحنف من بني عامر بن لؤي، فبعثوه فلما رآه النبي ﷺ قال:"هذا رجل فاجر ينظر بعين"، فقال له مثل ما قال لبديل ولاصحابه في المدة، فجاءهم فاخبرهم. فبعثوا سهيل بن عمرو من بني عامر بن لؤي (يكاتب) (٥٩) رسول الله ﷺ على الذي دعا إليه، فجاءه سهيل بن عمرو (فقال) (٦٠) : قد (بعثتني) (٦١) قريش إليك اكاتبك على قضية نرتضي انا وانت، فقال النبي ﷺ:"نعم اكتب:"بسم الله الرحمن الرحيم"، قال: ما اعرف الله ولا اعرف الرحمن، ولكن اكتب كما كنا نكتب:"باسمك (اللهم) (٦٢) " فوجد الناس من ذلك وقالوا: لا نكاتبك على (خط) (٦٣) حتى تقر بالرحمن الرحيم، قال سهيل: إذا لا اكاتبه على (خط) (٦٤) حتى ارجع، قال رسول الله ﷺ:"اكتب:"باسمك اللهم"، هذا ما (قاضى) (٦٥) عليه محمد رسول الله (٦٦) "، قال: لا اقر لو اعلم انك رسول الله ما خالفتك ولا عصيتك، ولكن (٦٧) محمد بن عبد الله، فوجد الناس منها ايضا، قال:"اكتب: محمد بن عبد الله (سهيل) (٦٨) بن عمرو". ⦗٥٣٩⦘ (فقام) (٦٩) عمر بن الخطاب (٧٠) فقال: يا رسول الله السنا على الحق؟ او ليس عدونا على الباطل؟ قال:"بلى"، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا؟ قال:"إني رسول الله، ولن اعصيه، ولن يضيعنى"، وابو بكر (متنح) (٧١) (ناحية) (٧٢) فاتاه عمر فقال: يا ابا بكر، فقال: نعم، قال: السنا على الحق؟ او ليس عدونا على الباطل؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا؟ قال: دع عنك ما ترى يا عمر، فإنه رسول الله ﷺ (٧٣) ولن يضيعه الله ولن يعصيه. وكان في شرط الكتاب (انه) (٧٤) "من كان منا فاتاك فإن كان على دينك رددته إلينا ومن (جاءنا) (٧٥) من قبلك رددناه إليك"، قال:"اما من جاء من قبلي فلا حاجة لي برده، واما التي اشترطت لنفسك (فتلك) (٧٦) بيني وبينك". فبينما الناس على ذلك الحال (إذ) (٧٧) طلع عليهم ابو جندل بن سهيل بن عمرو (يرسف) (٧٨) في الحديد قد (خلا) (٧٩) له اسفل مكة متوشحا السيف، (فرفع) (٨٠) سهيل راسه فإذا هو بابنه ابي جندل، فقال: (هذا) (٨١) اول من قاضيتك ⦗٥٤٠⦘ على رده، فقال النبي ﷺ:"يا سهيل! إنا لم نقض الكتاب بعد"، قال: ولا اكاتبك على (خط) (٨٢) حتى (ترده) (٨٣) ، قال:"فشانك به". قال: (فبهش) (٨٤) ابو جندل (إلى) (٨٥) الناس فقال: يا معشر المسلمين ارد إلى المشركين يفتنونني في ديني، (فلصق) (٨٦) به عمر -وابوه آخذ بيده يجتره- وعمر يقول: إنما هو رجل، ومعك السيف، فانطلق به ابوه، فكان النبي ﷺ يرد عنهم من جاء من (قبلهم) (٨٧) يدخل في دينه، فلما اجتمعوا نفر: منهم ابو بصير (و) (٨٨) ردهم (إليهم) (٨٩) واقاموا ساحل البحر (فكانهم) (٩٠) قطعوا على قريش متجرهم إلى الشام، فبعثوا إلى رسول الله ﷺ: إنا نراها منك صلة: ان تردهم إليك وتجمعهم، فردهم إليه. (وكان) (٩١) فيما ارادهم النبي ﷺ في الكتاب ان يدعوه يدخل مكة فيقضي نسكه وينحر هديه بين (ظهريهم) (٩٢) ، فقالوا: لا تحدث العرب انك اخذتنا ضغطة ابدا، ولكن ارجع عامك هذا، فإذا كان قابل اذنا لك فاعتمرت واقمت ثلاثا. وقام رسول الله ﷺ فقال للناس:"قوموا فانحروا هديكم واحلقوا وحلوا"، فما قام رجل ولا تحرك، فامر رسول الله ﷺ الناس بذلك ثلاث مرات، فما تحرك ⦗٥٤١⦘ (رجل) (٩٣) ولا قام من مجلسه، فلما راى النبي ﷺ ذلك دخل على ام سلمة، وكان خرج بها في تلك الغزوة، فقال:"يا ام سلمة، ما بال الناس! امرتهم ثلاث (مرار) (٩٤) ان ينحروا وان يحلقوا وان يحلوا (فما قام) (٩٥) (رجل) (٩٦) إلى ما امرته به"، قالت: يا رسول الله، اخرج انت فاصنع ذلك. فقام رسول الله ﷺ (٩٧) حتى (يمم) (٩٨) هديه فنحره ودعا حلاقا فحلقه، فلما راى الناس ما صنع رسول الله ﷺ (وثبوا) (٩٩) إلى هديهم فنحروه، واكب بعضهم يحلق بعضا حتى كاد بعضهم ان يضم بعضا من الزحام (١٠٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (حدثنا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) في [ع، هـ]: (الأسطاط).
(٥) في [أ، ب]: (خبيل).
(٦) في [ي]: (فقال).
(٧) في [ط، هـ]: (ترون).
(٨) في [أ، ب]: (مضى).
(٩) في [ع، ي]: (كابلناه).
(١٠) في [أ، ب]: (للأمر).
(١١) في [هـ]: (جاوز بهم).
(١٢) في [ع، ي]: (يديه).
(١٣) سقط من: [أ، ب، س].
(١٤) في [أ، ب]: (ما بها).
(١٥) في [س]: (كنانة).
(١٦) سقط من: [ي].
(١٧) في [أ، ب]: (بالفواذ).
(١٨) سقط من: [أ، ب].
(١٩) في [ق، هـ]: زيادة (فيها).
(٢٠) سقط من: [ي].
(٢١) في [ق، هـ]: (جمعوا).
(٢٢) في [أ، ب]: (وأغدرا).
(٢٣) في [ق، هـ]: (بما).
(٢٤) في [ق، هـ]: (أناس)، وفي [س]: (الناس).
(٢٥) في [س]: (ألست).
(٢٦) أي: امتنعوا، وفي [ق، هـ]: (يلجوا)، وفي (يلحوا).
(٢٧) في [أ، ب]: (لعرن).
(٢٨) سقط من: [أ، ب، س].
(٢٩) سقط من: [ع].
(٣٠) في [س]: (بمصافيها).
(٣١) في [هـ]: (يحتاج).
(٣٢) في [أ، ب]: (بقومك).
(٣٣) في [س]: (إجتاج).
(٣٤) في [أ، ب]: (سلمك).
(٣٥) في [ع]: (حمل).
(٣٦) في [أ، ب]: (يعفده).
(٣٧) في [ع]: (كلما).
(٣٨) في [أ، ب، جـ]: (لحيته).
(٣٩) في [أ، ب، س]: (أحرقه)، وفي [ق، هـ]: (أخرجه).
(٤٠) سقط من: [أ، ب].
(٤١) في [جـ، ي]: (لا أمس)، وفي [ط، هـ]: (الأمس).
(٤٢) في [أ، ب]: (قال).
(٤٣) في [ع]: (ممن)، وفي [أ، ب]: (فيما بين).
(٤٤) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٤٥) في [أ، ب، ع]: (يتوضئ).
(٤٦) في [أ، ب]: (يفطر).
(٤٧) في [أ، ب]: (هناة)، وفي [جـ، س، ي]: (مناة).
(٤٨) في [أ، ب]: (الجليس).
(٤٩) في [ع]: (قالوا).
(٥٠) في [س]: (قيل).
(٥١) في [أ، ب]: (الجليس).
(٥٢) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٥٣) في [أ، ب]: (الجليس).
(٥٤) في [أ، ب]: (الجليس).
(٥٥) سقط من: [أ، ب].
(٥٦) في [أ، ب]: (صدرتموه).
(٥٧) في [ق]: (وعدوا).
(٥٨) سقط من: [ع].
(٥٩) في [ب]: (وكاتب)، وفي [جـ]: (يكان).
(٦٠) في [أ، ب]: (وقال).
(٦١) في [هـ، ق]: (بعثني).
(٦٢) في [أ، ب]: (اللَّه).
(٦٣) في [ق، ع، هـ]: (خطة).
(٦٤) في [ق، ع، هـ]: (خطة).
(٦٥) في [أ، ب]: (قضى)، وفي [ع]: (قاضا).
(٦٦) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٦٧) في [أ، ب]: زيادة (اكتب).
(٦٨) في [ق]: (وسهيل).
(٦٩) في [أ، ب]: (وقام).
(٧٠) في [س]: زيادة ﷺ.
(٧١) في [س]: (منح).
(٧٢) في [ق، ع، هـ]: (بناحية).
(٧٣) سقط من: [جـ، س، ع، ي].
(٧٤) سقط من: [ق].
(٧٥) في [س، ق]: (جاء).
(٧٦) في [أ، ق، هـ]: (قبلك).
(٧٧) في [س]: (إذا).
(٧٨) في [أ، ب، ع]: (ترسف).
(٧٩) في [أ، ب، هـ]: (خلي).
(٨٠) في [أ، ب]: (ترفع).
(٨١) سقط من: [س].
(٨٢) في [ق، هـ]: (خطة).
(٨٣) في [ق، هـ]: (نرده).
(٨٤) أي: أسرع، وفي [أ، ط، هـ]: (فهش)، وفي [س]: (فنهش)، وفي [ع]: (فهبش).
(٨٥) سقط من: [ق].
(٨٦) في [ق]: (فلحق).
(٨٧) في [ق]: (قومهم).
(٨٨) سقط من: [ق، هـ].
(٨٩) في [أ، ط، هـ]: (إليه).
(٩٠) في [أ، ي]: (فكانوا).
(٩١) في [ع]: (فكان).
(٩٢) في [ق]: (ظهرانيهم).
(٩٣) سقط من: [ع]، وفي [هـ]: (رجلًا).
(٩٤) في [س، ق]: (مرات).
(٩٥) في [أ]: (ما قام)، وفي [ب]: (ما قال).
(٩٦) في [ي]: (زجل).
(٩٧) في [أ، ب]: زيادة (وسبق إلى هديهم).
(٩٨) في [ع]: (تمم)، وفي [ي]: (يتمم)، وفي [س]: (تيمم).
(٩٩) في [أ، ب]: (وسبق).
(١٠٠) مرسل؛ عروة تابعي، وفيه بعض الخالفة فناجية سائق البدن، والعدد مختلف، وورد من حديث عروة عن المسور بن مخرمة ومروان، أخرجه البخاري (٢٧٣١).

حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیبیہ کے دن اٹھارہ سو کی تعداد کو لے کر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آگے بنو خزاعہ کے ایک شخص … جس کا نام ناجیہ تھا… کو بھیجا تاکہ وہ لوگوں کی خبر لائے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام عسفان کے کنویں پر پہنچے جس کا نام غدیر اشطاط تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا جاسوس غدیر اشطاط پر ملا اور اس نے کہا: اے محمد! میں نے تیری قوم … کعب بن لؤی اور عامر بن لؤی … کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انہوں نے آپ کے لئے متفرق لوگوں کو اور جو کوئی ان کی مانتا ہے ان کو نفیر عام کیا ہے۔ انہوں نے تیرے چلنے کی خبر سن لی ہے۔ اور میں نے ان کے غلاموں کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ انہیں گھروں میں خزیر (خاص کھانا) کھلایا جاتا ہے۔ اور خالد بن ولید کو تو انہوں نے یہ سامنے گھڑ سواروں کی جماعت کے ہمراہ بھیجا ہے۔ ٢۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) پوچھا۔ تم کیا کہتے ہو؟ تمہارا کیا حکم ہے؟ مجھے بتاؤ۔ قریش اور ان کی تیاریوں کی خبر تمہیں دو مرتبہ پہنچ چکی ہے۔ اور یہ مقام غمیم میں خالد بن ولید بھی پہنچ چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا۔ کیا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم اپنے رُخ پر چلتے رہیں اور جو کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکے ہم اس سے لڑائی کریں۔ یا تمہاری رائے یہ ہے کہ ہم ان کے برخلاف ان کے پچھلوں کی طرف بڑھیں۔ پھر اگر ان میں سے کوئی جماعت پیچھے آئے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دے گا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! حُکم، آپ کا حکم ہے۔ اور رائے بھی آپ کی رائے ہے۔ پھر یہ لوگ اس ٹیلے کے دائیں بائیں چل دیئے۔ اس بات کا خالد اور اس کے ہمراہ لشکر کو پتہ نہیں چلا۔ یہاں تک کہ یہ لوگ لشکر کے غبار کو کر اس کر گئے۔ ٣۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک بلند ٹیلے سے ایک پست زمین کی طرف لے گئی۔ جس کا نام بلدح تھا۔ اور (وہاں جا کر) بیٹھ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حَلْ حَلْ۔ لیکن وہ اونٹنی نہیں اٹھی۔ لوگوں نے کہا۔ قصوائ (اونٹنی کا نام ہے) اڑ گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخدا یہ اونٹنی نہں ں اَڑی اور نہ ہی اڑنا اس کی عادت ہے لیکن اس کو ہاتھیوں کو روکنے والے نے روک دیا ہے۔ سنو! بخدا اگر آج کے دن وہ مجھے کسی مقام کی طرف …جس کا وہ بہت احترام کرتے ہیں … بلائیں گے یا مجھے وہ کسی صلہ رحمی کی طرف بلائیں گے تو میں انہیں مثبت جواب دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کو دوڑایا تو وہ اچھل پڑی پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے قدم کے نشانات پر وہیں واپس ہوگئے جہاں سے تشریف لائے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو لے کر حدیبیہ کے ایک مقام پر فروکش ہوئے جہاں پر پانی اتنا قلیل تھا کہ لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لے رہے تھے۔ تو (اس پر) لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پانی کی قلت کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور ایک آدمی کو حکم دیا اور اس نے اس تیر کو کنویں کے درمیان میں گاڑ دیا۔ پس پانی نے اتنا جوش مارا کہ لوگ اس پانی سے خوب سیراب ہوگئے۔ ٤۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی اسی حالت میں تھے کہ بدیل بن ورقاء خزاعی، اپنی قوم خزاعہ کے ایک گروہ کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا اور اس نے کہا۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! یہ تیری قوم کے لوگ عورتوں اور بچوں سمیت نکل چکے ہیں اور وہ خدا کے نام پر اس بات کی قسم کھا رہے ہیں کہ ضرور بالضرور تیرے اور مکہ کے درمیان حائل ہوں گے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک بھی نہ بچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بدیل! میں تو کسی کے ساتھ بھی لڑنے نہیں آیا۔ میں تو صرف اس لئے آیا ہوں تاکہ اپنے افعال عبادت ادا کرسکوں اور اس خانہ خدا کا طواف کروں۔ اور اگر یہ کام نہ ہو تو پھر کیا قریش کا کوئی اور ارادہ ہے؟ کیا وہ اس بات پر راضی ہیں کہ میں ان کے ساتھ ایک مدت طے کرلوں جس میں وہ مامون رہیں گے اور اتنی مدت تک وہ اکٹھے بھی ہوجائیں۔ اور اس دوران وہ مجھے اور لوگوں کو کھلا چھوڑ دیں۔ اگر میرا معاملہ لوگوں پر غالب آگیا تو انہیں اس بات کا اختیار ہوگا۔ چاہے تو لوگوں کی طرح یہ بھی دین میں داخل ہوجائیں اور چاہے تو یہ لڑائی کرلیں درآنحالیکہ انہوں نے اپنی تعداد بڑھا کر خوب تیاری کرلی ہوگی۔ بدیل نے کہا۔ میں یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کو پیش کروں گا۔ ٥۔ پس بدیل سوار ہو کر (چل پڑا) یہاں تک کہ وہ قریش کے پاس سے گزرا تو ق [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39624]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39624، ترقيم محمد عوامة 38010)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39625
٣٩٦٢٥ - قال ابن شهاب: وكان الهدي (الذي) (١) (ساق) (٢) رسول الله ﷺ واصحابه (سبعين) (٣) بدنة، قال ابن شهاب: فقسم رسول الله ﷺ (خيبر) (٤) على اهل الحديبية على ثمانية عشر سهما، لكل مائة رجل سهم (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ق].
(٢) في [ق، هـ]: (ساقه).
(٣) سقط من: [ي].
(٤) في [س]: (الخيبر).
(٥) مرسل؛ ابن شهاب الزهري من تابعي التابعين.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39625، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38011 ترقیم الشثری: -- 39626
٣٩٦٢٦ - حدثنا ابو اسامة عن ابي العميس عن عطاء قال: كان منزل النبي ﷺ يوم الحديبية في الحرم (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل؛ عطاء تابعي.
حضرت عطاء سے روایت ہے کہ حدیبیہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پڑاؤ کا مقام حرم تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39626]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39626، ترقيم محمد عوامة 38011)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38012 ترقیم الشثری: -- 39627
٣٩٦٢٧ - حدثنا الفضل عن شريك عن ابي إسحاق عن البراء قال: كنا يوم الحديبية الفا واربعمائة (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ شريك صدوق، أخرجه البخاري (٤١٥١)، وأحمد (١٨٥٦٣).
حضرت براء بیان فرماتے ہیں۔ کہ حدیبیہ کے روز ہم لوگوں کی تعداد چودہ سو تھی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39627]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39627، ترقيم محمد عوامة 38012)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں