مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
37. غزوة حنين وما جاء فيها
غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
ترقیم عوامۃ: 38156 ترقیم الشثری: -- 39776
٣٩٧٧٦ - حدثنا عفان (حدثنا) (١) وهيب (حدثنا) (٢) عمرو بن يحيى عن عباد بن تميم عن عبد الله بن زيد قال: لما افاء الله على رسوله يوم حنين ما افاء قسم في ⦗١٠٣⦘ الناس في المؤلفة قلوبهم، ولم يقسم ولم يعط الانصار شيئا، فكانهم وجدوا إذ لم يصيبهم ما اصاب الناس، فخطبهم فقال:"يا معشر الانصار! الم اجدكم ضلالا فهداكم الله بي، وكنتم متفرقين فجمعكم الله بي، وعالة فاغناكم الله بي"، قال: كلما قال شيئا قالوا: الله ورسوله امن، قال:"فما يمنعكم ان تجيبوا؟" قالوا: الله ورسوله امن، قال:"لو شئتم قلتم: جئتنا كذا وكذا، اما ترضون ان يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول (٣) الله إلى رحالكم، (لولا) (٤) الهجرة لكنت امرا من الانصار، لو سلك الناس واديا او شعبا لسلكت وادي الانصار وشعبهم، الانصار شعار والناس دثار، وإنكم ستلقون بعدي اثرة فاصبروا حتى تلقوني على الحوض" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ي]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (أخبرنا).
(٣) في [جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٤) في [أ]: (لولى).
(٥) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٠)، ومسلم (١٠٦١).
حضرت عبد اللہ بن زید سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو غزوہ حنین میں جو مال غنیمت میں دینا مقصود تھا وہ عطا فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مال لوگوں میں اور مؤلفۃ القلوب میں تقسیم فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار میں کوئی مال بھی تقسیم نہیں فرمایا اور ان کو نہیں دیا۔ اس پر گویا جب انہیں حصہ نہیں ملا تو انہوں نے محسوس کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو خطبہ ارشاد فرمایا اور کہا۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے ہدایت بخشی اور تم لوگ پراگندہ و منتشر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اکٹھا فرمایا۔ اور کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے غنی کردیا۔“ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی کوئی بات پوچھتے تو صحابہ جوا ب میں کہتے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں جواب دینے سے کیا چیز مانع ہے؟ صحابہ نے عرض کیا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو یوں کہو۔ آپ ایسی ایسی حالت میں ہمارے پاس آئے تھے۔ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے کجاو وں کی طرف اللہ کے رسول کو لے جاؤ؟ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔ اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ انصار لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی مانند) ہیں اور بقیہ لوگ جسم سے اوپر کے کپڑے (کی مانند) ہیں۔ تم لوگ میرے بعد ترجیح نفس کا مشاہدہ کرو گے لیکن تم صبر کرنا، یہاں تک کہ تم میرے ساتھ حوض پر آ ملو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39776]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39776، ترقيم محمد عوامة 38156)