🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. غزوة حنين وما جاء فيها
غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38147 ترقیم الشثری: -- 39766
٣٩٧٦٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) إسماعيل بن ابي خالد قال: رايت عبد الله بن (ابي) (٢) اوفى بيده ضربة فقلت: ما هذا؟ فقال: ضربتها يوم حنين، قال: قلت له: وشهدت مع رسول الله ﷺ حنينا؟ قال: نعم (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) سقط من: [أ، س، ق، هـ].
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣١٤)، والحاكم (٦٤٣٣)، وأحمد ٤/ ٣٥٥ (١٩١٥٤).

حضرت اسمعیل بن ابی خالد روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں زخم کے آثار تھے تو میں نے پوچھا۔ یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا۔ غزوہ حنین کے دن میرے اس ہاتھ پر ضرب لگ گئی تھی۔ اسماعیل کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا: آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حنین میں حاضر ہوئے تھے۔ انہوں نے جواب دیا۔ ہاں! [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39766]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39766، ترقيم محمد عوامة 38147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38148 ترقیم الشثری: -- 39767
٣٩٧٦٧ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: اخبرنا موسى عن اخيه عبد الله بن عبيدة ان نفرا من هوازن جاؤا بعد الوقعة فقالوا: يا رسول الله إنا نرغب في رسول الله (١) ، قال:"في اي ذلك ترغبون افي الحسب ام في المال"، قالوا: (بل) (٢) في الحسب ⦗٩٥⦘ (والامهات) (٣) والبنات، واما المال فسيرزقنا الله، قال:"اما انا فارد ما في يدي وايدي بني هاشم من عورتكم، واما الناس (فساشفع) (٤) لكم إليهم إذا صليت إن شاء الله، (فقوموا) (٥) فقولوا: كذا وكذا"، فعلمهم ما يقولون، (ففعلوا) (٦) (ما) (٧) امرهم به، وشفع لهم، فلم يلق احد من (المسلمين) (٨) إلا رد ما في يديه من عورتهم غير الاقرع ابن حابس وعيينة بن حصن، امسكا امراتين كانتا في ايديهما (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٢) في [ي]: (بلى).
(٣) في [ع]: (للأمهات).
(٤) في [أ، ب، ط، هـ]: (فأشفع).
(٥) في [أ]: (فقوا).
(٦) في [أ، ب]: (ففعا).
(٧) في [أ، ب]: (وما).
(٨) في [ع]: (الناس).
(٩) مرسل ضعيف؛ عبد اللَّه تابعي، وأخوه موسى ضعيف.

حضرت عبد اللہ بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے بعد قبیلہ ہوازن کے کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمیں آپ سے ایک رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ”تمہاری رغبت کس چیز میں ہے۔ حسب (رشتہ داروں میں) یا مال میں“ انہوں نے جواب دیا (مال میں نہیں) بلکہ حسب میں، ماؤں میں اور بیٹیوں میں۔ رہا مال تو وہ اللہ تعالیٰ ہمیں پھر دے دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ میرے اور بنو ہاشم کے قبضہ میں موجود ہے وہ تو میں واپس کرتا ہوں اور باقی لوگوں سے میں تمہارے لئے سفارش کروں گا جب میں نماز پڑھ لوں گا۔ انشاء اللہ۔ پس تم کھڑے ہوجانا اور یوں یوں کہنا۔ پس جو انہوں نے کہنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں وہ سکھا دیا۔ چناچہ انہوں نے وہی کچھ کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی سفارش فرمائی۔ چناچہ جو کچھ عورتوں میں سے مسلمانوں کے قبضے میں موجود تھیں وہ سارا کچھ مسلمانوں نے واپس کردیا سوائے حضرت اقرع بن حابس کے اور عیینہ بن حصن کے۔ جو عورتیں ان دونوں کے پاس تھیں انہوں نے انہیں اپنے پاس ہی رکھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39767]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39767، ترقيم محمد عوامة 38148)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38149 ترقیم الشثری: -- 39768
٣٩٧٦٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن اشعث عن الحكم بن (عتيبة) (١) قال: لما فر الناس عن النبي ﷺ يوم حنين جعل النبي ﷺ يقول:"انا النبي لا كذب … انا ابن عبد المطلب" قال: فلم يبق معه إلا اربعة: ثلاثة من بني هاشم، ورجل من غيرهم: علي ابن ابي طالب والعباس وهما بين يديه، وابو سفيان بن (الحارث) (٢) آخذ بالعنان، وابن مسعود من جانبه الايسر، قال: فليس يقبل نحوه احد إلا قتل، والمشركون حوله صرعى بحساب الاكليل (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ع، هـ]: (عيينة).
(٢) في [هـ]: (الحرث).
(٣) مرسل؛ الحكم من تابعي التابعين، وأشعث بن سوار ضعيف.

حضرت حکم بن عتیبہ روایت کرتے ہیں کہ جب غزوہ حنین کے دن بہت سے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے بھاگ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں جھوٹا نبی نہیں ہوں میں تو عبد المطلب کا بیٹا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صرف چار آدمی رہ گئے۔ تین آدمی بنو ہاشم میں سے تھے اور ایک آدمی ان کے سوا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب اور حضرت عباس، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تھے اور حضرت ابو سفیان، (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خچر کی) لگام پکڑے ہوئے تھے۔ اور ابن مسعود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب تھے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جو کافر بھی بڑھتا تھا وہ قتل کردیا جاتا تھا۔ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد قتل ہوئے پڑے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39768]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39768، ترقيم محمد عوامة 38149)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38150 ترقیم الشثری: -- 39769
٣٩٧٦٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) حميد عن انس بن مالك ⦗٩٦⦘ قال: اعطى رسول الله ﷺ من غنائم (حنين) (٢) ؛ الاقرع بن (حابس) (٣) مائة من الإبل وعيينة بن حصن مائة من الإبل؛ فقال ناس من الانصار: يعطي رسول الله غنائمنا ناسا تقطر سيوفنا من دمائهم او سيوفهم من دمائنا، فبلغ ذلك النبي ﷺ، فارسل إليهم فجاءوا فقال (لهم) (٤) :" (٥) فيكم غيركم؟" قالوا: لا إلا ابن اختنا، قال:"ابن اخت القوم منهم"، فقال:"قلتم كذا وكذا، اما ترضون ان يذهب الناس بالشاء والبعير، وتذهبون بمحمد (٦) إلى دياركم"، قالوا: بلى يا رسول الله، فقال رسول الله ﷺ:"الناس دثار والانصار شعار، الانصار كرشي وعيبتي، ولولا الهجرة لكنت امرا من الانصار" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ع]: (خمس).
(٣) في [أ]: (جابس).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) في [هـ]: زيادة (هل).
(٦) في [جـ، ي]: ﷺ.
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣١)، ومسلم (١٠٥٩).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کی غنائم میں سے اقرع بن حابس کو ایک سو اونٹ عطا فرمائے اور عیینہ بن حصن کو بھی ایک سو اونٹ عطا فرمائے۔ انصار میں سے بعض لوگوں نے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہماری (حاصل کردہ) غنائم ایسے لوگوں کو عطاء فرمائی ہیں جن کے (رشتہ داروں کے) خون سے ہماری تلواریں تر ہیں یا ان کی تلواریں ہمارے (رشتہ داروں کے) خون سے تر ہیں؟ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان انصار کی طرف قاصد بھیجا چناچہ یہ تمام انصار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: کیا تم میں تمہارے (انصار کے) سوابھی کوئی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں! لیکن ہمارے بھانجے (ہمارے ساتھ ہیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کے بھانجے بھی قوم کا حصہ ہیں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ”تم لوگوں نے یہ یہ بات کہی ہے؟ کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم لوگ اپنے گھروں میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لے جاؤ؟“ انصار نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور انصار جسم کے ساتھ والا کپڑا ہیں۔ انصار میرے مخلص دوست اور راز دار ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39769]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39769، ترقيم محمد عوامة 38150)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38151 ترقیم الشثری: -- 39770
٣٩٧٧٠ - حدثنا عبيد الله بن موسى قال: (اخبرنا) (١) موسى بن عبيدة عن عبد الله بن عبيدة ان ابا سفيان وحكيم بن حزام وصفوان بن امية خرجوا يوم حنين ينظرون على من تكون (الدبرة) (٢) ، فمر بهم اعرابي فقالوا: يا عبد الله ما فعل الناس؟ قال: (لا) (٣) (يستقبلها) (٤) محمد ابدا، قال: و (ذلك) (٥) حين تفرق عنه ⦗٩٧⦘ اصحابه، فقال بعضهم لبعض: لرب من قريش احب إلينا من رب (من) (٦) الاعراب، يا فلان اذهب فاتنا بالخبر -لصاحب لهم-، قال: فذهب حتى كان بين ظهراني القوم، فسمعهم يقولون: يا للاوس، يا للخزرج وقد (علوا) (٧) القوم، وكان شعار النبي ﷺ (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [ع، ي]: (الدايرة)، وفي [أ]: (الدبزة).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) أي: لا ينتصر بعدها، وفي [جـ]: (يستقيلها).
(٥) في [هـ]: (كذلك).
(٦) سقط من: [هـ].
(٧) في [أ، ب]: (علقوا).
(٨) مرسل ضعيف؛ موسى ضعيف وأخوه عبد اللَّه تابعي.

حضرت عبد اللہ بن عبیدہ سے روایت ہے کہ غزوہ حنین کے دن ابو سفیان، حکیم بن حزام اور صفوان بن امیہ (اس ارادہ سے نکلے کہ) وہ دیکھیں کس کو شکست ہوتی ہے۔ (اس دوران) ان کے پاس سے ایک دیہاتی گزراتو انہوں نے پوچھا۔ اے عبد اللہ! لوگوں کا کیا بنا؟ اس نے جواب دیا۔ محمد کبھی بھی حنین سے آگے نہیں جاسکتا۔ راوی کہتے ہیں: یہ اس وقت کا تاثر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متفرق ہوگئے تھے … تو ان میں سے بعض نے بعض سے کہا۔ قریش میں سے کوئی رب (بڑا) بن جائے یہ بات ہمیں اس سے زیادہ محبوب ہے کہ دیہاتیوں میں سے کوئی رب (بڑا) بنے۔ پھر آپس میں سے ایک سے کہا۔ اے فلاں! جاؤ اور ہمارے پاس کوئی خبر لاؤ۔ راوی کہتے ہیں؛ وہ آدمی چل پڑا یہاں تک کہ جب وہ قوم کے درمیان پہنچا تو اس نے انہیں یہ کہتے ہوئے سُنا۔ اے اوس، اے خزرج! وہ لوگوں پر بلند ہوگئے۔ وہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شعار تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39770]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39770، ترقيم محمد عوامة 38151)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38152 ترقیم الشثری: -- 39771
٣٩٧٧١ - حدثنا ابن إدريس عن محمد بن إسحاق عن عاصم بن عمر بن قتادة عن محمود بن لبيد عن ابي سعيد الخدري قال: لما قسم رسول الله ﷺ السبي بالجعرانة اعطى عطايا قريشا وغيرها من (العرب) (١) ، ولم يكن في الانصار منها شيء، (فكثرت) (٢) (القالة) (٣) وفشت حتى قال قائلهم: اما رسول الله (فقد) (٤) لقي قومه. قال: فارسل إلى سعد بن عبادة فقال:"ما مقالة بلغتني عن قومك اكثروا فيها؟" قال: فقال له سعد: فقد كان ما بلغك. قال:"فاين انت من (ذاك؟) (٥) " قال: ما انا إلا رجل من قومي، قال: فاشتد غضبه، وقال:"اجمع قومك، ولا يكن معهم غيرهم". قال: فجمعهم في حظيرة من حظائر (السبي) (٦) ، وقام على بابها وجعل لا ⦗٩٨⦘ يترك إلا من كان من قومه، وقد ترك رجالا من المهاجرين، (ورد) (٧) اناسا. قال: ثم جاء النبي ﷺ (٨) يعرف في وجهه الغضب (فقال) (٩) :"يا معشر الانصار، [الم اجدكم ضلالا فهداكم الله"، فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله و (من) (١٠) غضب رسوله:"يا معشر الانصار [الم اجدكم عالة فاغناكم الله؟"، فجعلوا يقولون: نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله،"يا معشر الانصار] (١١) [الم اجدكم اعداء فالف الله بين قلوبكم"، فيقولون: نعوذ بالله من غضب الله (١٢) وغضب رسوله] (١٣) ، (فقال) (١٤) :"الا تجيبون؟" قالوا: الله ورسوله امن وافضل، فلما سري عنه قال:"ولو شئتم لقلتم فصدقتم (وصدقتم) (١٥) : الم نجدك طريدا فآويناك، ومكذبا فصدقناك، وعائلا فآسيناك، ومخذولا فنصرناك"، فجعلوا يبكون ويقولون: الله ورسوله امن وافضل، (١٦) "اوجدتم من شيء من دنيا اعطيتها قوما اتالفهم على الإسلام، (و) (١٧) وكلتكم إلى اسلامكم، لو سلك الناس واديا او شعبا وسلكتم واديا او شعبا لسلكت واديكم (او) (١٨) شعبكم، انتم شعار، والناس دثار، ولولا الهجرة لكنت امرا من الانصار". ⦗٩٩⦘ ثم رفع يديه حتى إني لارى ما تحت منكبيه فقال:"اللهم اغفر للانصار (ولابناء الانصار) (١٩) ولابناء ابناء الانصار، اما ترضون ان يذهب الناس بالشاة والبعير، وتذهبون برسول الله (٢٠) إلى بيوتكم"، فبكى القوم حتى (اخضلوا) (٢١) لحاهم وانصرفوا وهم يقولون: رضينا بالله ربا، وبرسوله (٢٢) حظا ونصيبا (٢٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (الغرب).
(٢) في [جـ، ق، ي]: (وكثرت).
(٣) سقط من: [ب].
(٤) في [ع]: (قد).
(٥) في [ق، هـ]: (ذلك).
(٦) في [هـ]: (النبي ﷺ).
(٧) في [هـ]: (زاد).
(٨) سقط من: [ع].
(٩) في [أ، ب]: (قال).
(١٠) سقط من: [ق، هـ].
(١١) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(١٢) في [أ، ب، ي]: زيادة (قال).
(١٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ق].
(١٤) في [ع]: (قال).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [ق، هـ]: زيادة (قال).
(١٧) سقط من: [ق، هـ].
(١٨) في [ع]: (و).
(١٩) سقط من: [هـ].
(٢٠) في [أ، ب، جـ، ي]: زيادة ﷺ.
(٢١) في [ع]: (أخلصوا).
(٢٢) في [جـ، ق، ي]: زيادة ﷺ.
(٢٣) حسن؛ ابن إسحاق صدوق صرح بالسماع عند أحمد، أخرجه أحمد (١١٧٣٠)، وأبو يعلى (١٠٩٢)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ١٧٦، وعبد الرزاق (١٩٩١٨)، وعبد بن حميد (٩١٥)، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ٢/ ٧٢، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٧٢٠)، وابن سعد ٢/ ٢٥١.

حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام جعرانہ میں قیدیوں کو تقسیم فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قریش وغیرہ کو قیدی عطا فرمائے لیکن ا ن قیدیوں میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار صحابہ کو کچھ بھی نہ دیا۔ اس پر بہت سی باتیں کہی گئیں اور پھیلائی گئیں۔ یہاں تک کہ ایک کہنے والے نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! تو اپنی قوم کے ساتھ مل گئے ہیں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن عبادہ کی طرف قاصد بھیجا اور استفسار فرمایا کہ ”مجھے تمہاری جانب سے کیسی بات پہنچی ہے جو وہ بہت زیادہ کر رہے ہیں؟“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جواب دیا۔ یقینا ایسی بات ہوئی ہوگی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں تو اپنی قوم کا محض ایک فرد ہوں۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ زیادہ ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اپنی قوم کو جمع کرو اور ان کے ساتھ کوئی اور (قوم) نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں: حضرت سعد نے انصار کو قیدیوں کے باڑوں میں سے ایک باڑہ میں جمع کیا اور خود اس باڑہ کے دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور جو ان کی قوم میں سے آتا تھا یہ اسی کو (اندر جانے کے لئے) چھوڑتے تھے۔ اور کچھ مہاجرین کو بھی انہوں نے (اندر جانے کے لئے) چھوڑ دیا۔ اور کچھ کو واپس کردیا۔ راوی کہتے ہیں: پھر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، غصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں گمراہ نہیں پایا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں ہدایت دی؟“ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں تنگدست نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں غنی بنادیا؟“ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غصہ سے۔ ”اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں (باہم) دشمن نہیں پایا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا“ انصار کہنے لگے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کے غصہ سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ تم جواب کیوں نہیں دیتے؟ انصار نے کہا۔ اللہ اور اس کے رسول زیادہ بڑے محسن ہیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (یہ غصہ کی حالت) ختم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہتے تو تم یہ بات کہتے اور سچ کہتے، تمہاری تصدیق بھی کی جاتی کہ: ”کیا ہم نے آپ کو نکالا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کو ٹھکانا دیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو جھٹلایا ہوا نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی تصدیق کی۔ اور کیا ہم نے آپ کو تنگدست نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کے ساتھ موالات کیا۔ اور کیا ہم نے آپ کو بےیارو مدد گار نہیں پایا تھا پھر ہم نے آپ کی مدد کی؟“ اس پر انصار نے رونا شروع کیا اور کہنے لگے۔ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ بڑے محسن اور فضیلت والے ہیں۔“ کیا تم نے دنیا کی اس چیز کو جو میں نے کسی قوم کو اس لئے دی تاکہ میں انہیں اسلام کے ساتھ مضبوط کر سکوں… محسوس کیا ہے … اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپرد کردیا (یعنی تم پختہ ایمان والے ہو) اگر سب لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور تم انصار ایک دوسری وادی یا گھاٹی میں چلو تو البتہ میں تمہاری وادی یا گھاٹی میں چلوں گا۔ تم لوگ جسم سے متصل کپڑے (کی طرح) ہو اور بقیہ لوگ جسم کے اوپر والے کپڑے (کی طرح) ہیں۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک فرد ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند فرمائے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مونڈھوں کے نیچے کا حصہ (بغلیں) دکھائی دینے لگیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بچوں کی مغفرت فرما۔ اور انصار کے بچوں کے بچوں کی مغفرت فرما۔ کیا تم لوگ اس بات پر راضی نہیں ہو کہ باقی لوگ تو بکریاں، اونٹ لے کر جائیں اور تم اپنے گھروں میں اللہ کے رسول کو لے کر جاؤ؟“ اس پر تمام صحابہ رونے لگے یہاں تک کہ ان کی داڑھیاں تر ہوگئیں۔ اور وہ لوگ یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حصہ اور نصیب ہونے پر راضی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39771]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39771، ترقيم محمد عوامة 38152)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38153 ترقیم الشثری: -- 39772
٣٩٧٧٢ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة قال: (اخبرنا) (٢) يعلى ابن عطاء عن ابي همام عبد الله بن يسار عن ابي عبد الرحمن الفهري قال: كنت مع رسول الله ﷺ في غزوة حنين، فسرنا في يوم قائظ شديد الحر، فنزلنا تحت ظلال الشجر، فلما زالت الشمس لبست لامتي وركبت (٣) فرسي، فانطلقت إلى رسول الله ﷺ وهو في فسطاطه فقلت: السلام عليك يا رسول الله ورحمة الله، الرواح حان الرواح، فقال:" اجل"، فقال:"يا بلال"، فثار من تحت (سمرة) (٤) كان ظله ظل طائر، فقال: لبيك وسعديك وانا فداؤك، فقال:"اسرج لي فرسي"، فاخرج سرجا دفتاه من ليف، ليس فيهما اشر ولا بطر، قال: فاسرج، (قال) (٥) : فركب ⦗١٠٠⦘ وركبنا (وصاففناهم) (٦) عشيتنا وليلتنا، فتشامت الخيلان، فولى المسلمون مدبرين كما قال الله (٧) ، فقال رسول الله ﷺ:"يا عباد الله انا عبد الله ورسوله"، (ثم قال:"يا معشر المهاجرين انا عبد الله ورسوله") (٨) ، ثم اقتحم رسول الله ﷺ عن فرسه فاخذ كفا من تراب، فاخبرني الذي كان ادنى إليه مني انه ضرب به وجوههم، وقال:"شاهت الوجوه"، (قال) (٩) : فهزمهم الله (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب، ع، ي]: (أنبأنا).
(٣) في [س]: زيادة (سمرة).
(٤) في [ع]: (الشجرة)، وفي [س]: (شجرة).
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) في [ق، هـ]: (فصاففناهم).
(٧) في [أ، ب]: زيادة (تعالى).
(٨) في [ب]: تكررت.
(٩) سقط من: [ع].
(١٠) مجهول؛ لجهالة أبي همام عبد اللَّه بن يسار، أخرجه أحمد (٢٢٤٦٧)، وأبو داود (٥٢٣٣)، والدارمي (٢٤٥٢)، وابن سعد ٢/ ١٥٦، والطبراني ٢٢/ (٧٤١)، والدولابي ١/ ٤٢، والطيالسي (١٣٧١)، والمزي ١٦/ ٣٢٨، وابن الأثير في أسد الغابة ٦/ ٢٠٠.

حضرت عبد الرحمن الفہری سے روایت ہے۔ کہتے ہیں: کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا۔ ہم ایک انتہائی سخت گرمی والے دن میں چلے پھر ہم نے درختوں کے سایہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر جب سورج زوال کر گیا تو میں نے اپنا سامان حرب پہن لیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چل دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خیمہ میں تھے۔ میں نے (جا کر) کہا: السَّلاَمُ عَلَیْک یَا رَسُولَ اللہِ، وَرَحْمَۃُ اللہِ روانگی! روانگی کا وقت ہوگیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے بلال! پس وہ بھی ایک ایسے درخت کے نے چن سے گرد جھاڑتے ہوئے اٹھے جس کا سایہ پرندے کے سایہ کی طرح تھا۔ اور انہوں نے (آ کر) عرض کیا۔ میں آپ پر فدا ہوں۔ میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا؛ میرے گھوڑے پر زین کس دو۔ چناچہ حضرت بلال نے ایک زین نکالی جس کے اطراف میں گھاس لگا ہوا تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر حضرت بلال نے گھوڑے پر زین کس دی۔ ٢۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی سوار ہوگئے اور ہم بھی سوار ہوگئے اور ہم نے رات، دن ان کے سامنے صف بندی کی اور مسلمانوں اور کافروں کے گھڑ سواروں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی۔ جیسا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے … مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی۔ ”اے خدا کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے گروہ مہاجرین! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھوڑے اترے اور ایک مٹھی مٹی کی لی … مجھے اس صحابی نے بتایا جو مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ مٹی ان کے چہروں کی طرف پھینکی اور فرمایا۔ ”چہرے بگڑ جائیں۔“ راوی کہتے ہیں: پس اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔ ٣۔ یعلی رضی اللہ عنہ بن عطاء کہتے ہیں۔ مجھ سے مخالفین کے بیٹوں نے اپنے آباء کی سند سے بیان کیا کہ ہم میں سے کوئی بھی نہیں بچا مگر یہ کہ ا س کی آنکھیں اور منہ مٹی سے بھر گیا اور ہم نے آسمان اور زمین کے درمیان ایک گھنٹی کی آواز سُنی جیسا کہ لوہے کی طشت پر لوہا مارنے سے نکلتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39772]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39772، ترقيم محمد عوامة 38153)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 39773
٣٩٧٧٣ - قال يعلى بن عطاء: فحدثني (ابناؤهم) (١) عن آبائهم انهم قالوا: لم يبق منا احد إلا امتلات عيناه وفمه ترابا، وسمعنا صلصلة بين السماء والارض كإمرار الحديد على (الطست) (٢) (الجديد) (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ي]: (آباؤهم).
(٢) في [أ، ب، ع، ي]: (المست).
(٣) في [أ، ب، ش، ع]: (الحديد).
(٤) مجهول؛ لجهالة الأبناء، أخرجه أحمد ٥/ ٢٨٦ (٢٢٤٦٧)، وابن سعد ٢/ ١٥٦، وابن أبي عاصم في الآحاد (٨٦٣)، والطيالسي (١٣٧١)، وأبو نعيم في الدلائل (٣٢٩)، والبيهقي في الدلائل ٥/ ١٤١، والدولابي ١/ ١٢٥، وابن الجوزي في المنتظم ٣/ ٣٣٥، والمزي ١٦/ ٣٢٨.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39773، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38154 ترقیم الشثری: -- 39774
٣٩٧٧٤ - حدثنا عفان قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن إسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة عن انس بن مالك ان هوازن (جاءت يوم حنين بالصبيان) (٢) ⦗١٠١⦘ والنساء والإبل والغنم، فجعلوها صفوفا يكثرون على رسول الله ﷺ فلما التقوا ولى المسلمون كما قال الله، فقال رسول الله ﷺ:"يا عباد الله! انا عبد الله ورسوله"، ثم قال:"يا معشر المهاجرين! انا عبد الله ورسوله"، قال: فهزم الله المشركين ولم يضرب بسيف (ولم) (٣) يطعن برمح، قال: وقال رسول الله ﷺ يومئذ:"من قتل كافرا فله سلبه"، قال: فقتل ابو طلحة يومئذ عشرين رجلا، فاخذ اسلابهم، وقال ابو قتادة: يا رسول الله إني ضربت رجلا على (حبل العاتق) (٤) وعليه درع له (فاتخفضت) (٥) عنه، وقد قال حماد: فاعجلت عنه، قال:"فانظر من اخذها؟" قال: فقام رجل فقال: انا اخذتها فارضه منها واعطنيها، وكان رسول الله ﷺ لا يسال شيئا إلا اعطاه او سكت، فسكت رسول الله ﷺ، قال: فقال عمر: لا والله لا (يفيئها) (٦) الله على اسد من اسده ويعطيكها، قال: فضحك رسول الله ﷺ، (و) (٧) قال:"صدق عمر"، ولقي ابو طلحة ام سليم ومعها خنجر فقال ابو طلحة: يا ام سليم (ما) (٨) هذا معك؟ قالت: اردت إن دنا مني بعض المشركين ان ابعج به بطنه، فقال ابو طلحة: يا رسول الله! الا تسمع ما تقول ام سليم؟ قالت: يارسول الله (قتل) (٩) (من) (١٠) بعدنا من الطلقاء، انهزموا بك يا رسول الله فقال:"إن الله قد كفى واحسن" (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع، ي]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (جاءت بالصبيان يوم حنين).
(٣) في [ع]: (فلم).
(٤) في [س]: (جبل العانق).
(٥) في [أ، جـ، ي]: (فانخفضت)، وفي [ع]: (قد انخفصت)، وفي [ب]: (فانخفنت)، وفي [ق، هـ]: (فأجهضت).
(٦) في [س]: (يغنيها).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [ب]: (جا).
(٩) في [ق]: (أقتل).
(١٠) سقط من: [ع].
(١١) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٣٩٧٥)، ومسلم (١٨٠٩).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ ہوازن والے غزوہ حنین کے موقع پر (اپنے) بچوں عورتوں، اونٹوں اور بکریوں کو ساتھ لائے اور انہیں صفوں کی حالت میں جمع کردیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے زیادہ لگیں۔ پس جب آمنا سامنا ہوا۔ اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ مسلمان بھاگ نکلے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ مہاجرین! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول (موجود) ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کیا۔ کوئی تلوار نہیں ماری گئی اور نہ ہی کوئی نیزہ بازی کی گئی۔ راوی کہتے ہیں: اور رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس دن ارشاد فرمایا: ”جو کسی کافر کو قتل کرے گا وہی اس کا سامان لے گا۔“ حضرت انس کہتے ہیں، چناچہ اس دن حضر ت ابو طلحہ نے بیس (٢٠) آدمیوں کو قتل کیا اور ان کے سامان کو لے لیا۔ حضرت ابو قتادہ کہتے ہیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میں نے ایک آدمی کو گردن پر تلوار مار کر ہلاک کیا اس کے جسم پر زرہ تھی لیکن مجھ سے پہلے ہی کسی نے وہ زرہ اتار لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دیکھ لو کس نے وہ زرہ لی ہے۔ راوی کہتے ہیں: ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا۔ میں نے وہ زرہ لی ہے۔ آپ اس کو اس زرہ سے راضی کردیں۔ (یعنی چھوڑنے پر) اور یہ زرہ مجھے دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب بھی کسی شئی کا سوال کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ چیز عطا فرما دیتے یا خاموش رہتے (یعنی انکار نہ کرتے)۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یہ بات سن کر) خاموش ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں۔ حضرت عمر کہنے لگے۔ نہیں خدا کی قسم! اللہ تعالیٰ اپنے شیروں میں سے ایک شیر پر سے یہ غنیمت نہیں ہٹائیں گے اور نہ یہ تجھے دیں گے۔ راوی کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”عمر نے سچ کہا ہے۔“ حضرت ابو طلحہ کی ام سلیم سے ملاقات ہوئی۔ حضرت ام سلیم کے پاس چھُرا تھا۔ حضرت ابو طلحہ نے پوچھا۔ اے اُم سلیم! یہ آپ کے پاس کیا ہے؟ وہ فرمانے لگیں۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ اگر مشرکنا میں سے کوئی میرے قریب آیا تو میں اس چھرے کے ذریعہ سے پیٹ پھاڑ کر اس کی آنتیں باہرنکال دوں گی۔ حضرت ابو طلحہ نے (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! اُم سلیم جو کچھ کہہ رہی ہیں۔ آپ نے نہیں سُنا۔ حضرت ام سلیم کہنے لگیں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے بعد طلقاء میں سے جو لوگ ہیں ان کو خوب قتل کریں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ لوگ آپ کے ذریعہ (خوب) شکست کھاچکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا: ”یقینا اللہ کافی ہے اور خوب ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39774]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39774، ترقيم محمد عوامة 38154)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38155 ترقیم الشثری: -- 39775
٣٩٧٧٥ - حدثنا هاشم بن القاسم قال: (حدثنا) (١) عكرمة بن عمار قال: حدثنا إياس بن سلمة قال: حدثني ابي قال: غزوت مع رسول الله ﷺ هوازن فبينما نحن نتضحى، وعامتنا مشاة فينا ضعفة، إذ جاء رجل على جمل احمر، فانتزع طلقا من (حقبه) (٢) فقيد به جمله رجل شاب، ثم جاء يتغدى مع القوم، فلما راى ضعفهم وقلة (ظهرهم) (٣) خرج يعدو إلى جمله فاطلقه ثم اناخه فقعد عليه ثم خرج يركضه، واتبعه رجل من اسلم من صحابة النبي ﷺ على ناقة ورقاء هي امثل ظهر القوم، فقعد فاتبعه، فخرجت (اعدو) (٤) فادركته وراس الناقة عند ورك الجمل وكنت عند ورك الناقة، (ثم) (٥) تقدمت حتى اخذت بخطام الجمل فانخته، فلما وضع ركبتيه بالارض اخترطت سيفي فاضرب راسه، فندر فجئت (براحلته) (٦) وما عليها (اقوده) (٧) فاستقبل رسول الله ﷺ مقبلا فقال:"من قتل الرجل؟" فقالوا: ابن الاكوع، فنفله سلبه (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع، ي]: (أخبرنا).
(٢) في [أ، ب]: (جفنة).
(٣) في [س]: (سهرهم).
(٤) في [أ، ب]: (أغذو)، وفي [ع]: (أعذوا)، وفي [هـ]: (أعد).
(٥) في [ق، هـ]: (وكنت).
(٦) في [ع]: (براحلتها).
(٧) في [ق]: (أقودها).
(٨) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٥٤)، وأحمد (١٦٥٢٣)، وأصله عند البخاري (٣٠٥١).

حضرت ایاس بن سلمہ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوازن کے جہاد میں شرکت کی تھی۔ ہم صبح کا کھانا کھا رہے تھے اور ہمارے اکثر لوگ پیدل تھے اور ہم میں کمزور لوگ بھی تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اس نے اپنے (اونٹ) کے کجاوہ سے ایک چمڑے کی رسی کو پھینکا اور ایک نوجوان آدمی نے اس کے ساتھ اس کے اونٹ کو باندھ دیا۔ پھر وہ آیا اور اس نے لوگوں کے ہمراہ کھانا کھایا۔ جب اس نے لوگوں کی کمزوری اور کمی کو دیکھا تو وہ اپنے اونٹ کی طرف بھاگ نکلا اور اس نے اس کو کھول لیا پھر اس کو بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا اور پھر اس اونٹ کو مہمیز کرنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک آدمی … جن کا تعلق بنو اسلم سے تھا … ایک اونٹنی پر ان کے پیچھے گئے۔ میں نے بھاگتے ہوئے اس شخص کا پیچھا کیا۔ ابھی بنو اسلم کے آدمی کی اونٹنی اس آدمی کے اونٹ کے قریب ہی پہنچی تھی کہ میں نے آگے بڑھ کر اونٹ کی لگام کو پکڑ لیا۔ جونہی وہ نیچے ہوئے میں نے اس آدمی کو قتل کردیا۔ پھر میں وہ سواری اور اس کا سامان لے کر حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ اس آدمی کو کس نے مارا؟ لوگوں نے بتایا کہ ابن اکوع نے۔ پس آپ نے اس کا ساز و سامان مجھے دے دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39775]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39775، ترقيم محمد عوامة 38155)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں