مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
46. ما جاء في خلافة علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 38248 ترقیم الشثری: -- 39876
٣٩٨٧٦ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن آبي صالح قال: كان الحادي (يحدو) (١) بعثمان وهو يقول: إن الامير بعده علي … وفي الزبير خلف رضي قال: فقال كعب: ولكنه صاحب البغلة الشهباء -يعني معاوية، فقيل لمعاوية: إن (كعبا) (٢) يسخر بك ويزعم انك تلي هذا الامر، قال: فاتاه (فقال) (٣) : ⦗١٨١⦘ يا ابا إسحاق! وكيف وههنا علي والزبير واصحاب محمد (٤) ؟ قال: انت صاحبها (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تحدوا).
(٢) في [ع]: (كعب).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(٥) صحيح؛ أخرجه وكيع في نسخته (٣٥)، والخلال (٣٤٨).
حضرت ابو صالح سے روایت ہے کہ ایک حدی خوان حضرت عثمان کے لئے حدی پڑھ رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔ ”یقینا عثمان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہامیر ہیں اور زبیر میں پسندیدہ خلافت ہے۔“ راوی کہتے ہیں۔ حضرت کعب نے کہا۔ لیکن وہ جو بھورے رنگ کے خچر والے معاویہ ہیں۔ پس حضرت معاویہ سے کہا گیا کہ حضرت کعب آپ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ آپ اس امر خلافت کے ولی بنیں گے۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر یہ حضرت معاویہ کے پاس آئے تو معاویہ نے کہا۔ اے ابو اسحاق! یہ بات تم نے کیسے کہی جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زبیر اور دیگر اصحابِ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موجود ہیں۔ کعب نے کہا۔ آپ ہی اس خلافت کے حق دار ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39876]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39876، ترقيم محمد عوامة 38248)
ترقیم عوامۃ: 38249 ترقیم الشثری: -- 39877
٣٩٨٧٧ - حدثنا هشيم عن العوام عن إبراهيم التيمي قال: لما بويع ابو بكر (قال) (١) : قال سلمان: اخطاتم واصبتم، اما لو جعلتموها في اهل بيت نبيكم (٢) (لاكلتموها) (٣) رغدا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [جـ، ق]: زيادة ﷺ.
(٣) في [جـ]: (كلتموها).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك ذلك، وهشيم مدلس.
حضرت ابراہیم تیمی سے روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر کی بیعت کی گئی تو راوی کہتے ہیں۔ حضرت سلمان نے کہا۔ تم نے غلطی کی ہے اور درست (بھی) کیا ہے۔ اگر تم لوگ خلافت کو اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت کے حوالہ کرتے تو البتہ تم لوگ اس خلافت کو خوب آسودہ حالی کے ساتھ کھاتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39877]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39877، ترقيم محمد عوامة 38249)
ترقیم عوامۃ: 38250 ترقیم الشثری: -- 39878
٣٩٨٧٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن عيينة بن عبد الرحمن بن جوشن عن ابيه عن عبد الرحمن بن ابي بكرة قال: ما (رزا) (١) علي من بيت مالنا حتى فارقنا إلا جبة محشوة وخميصة (درا) (٢) (بجردية) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (زرأ).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (مجردة)، وفي [س]: (الجروبة).
(٤) صحيح؛ أخرجه أبو عبيد في الأموال (٦٧٠).
حضرت عبدالرحمان بن ابی بکرہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہم سے جدا ہونے تک بیت المال سے صرف ایک روئی بھرا چوغہ اور ایک کرتا جس میں سرخ دھاریاں تھیں، لیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39878]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39878، ترقيم محمد عوامة 38250)
ترقیم عوامۃ: 38251 ترقیم الشثری: -- 39879
٣٩٨٧٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن سعد بن إبراهيم قال: سمعت عبيد الله بن ابي رافع قال: رايت (عليا) (١) حين ازدحموا عليه حتى ادموا رجله، فقال: اللهم إني قد كرهتهم وكرهوني فارحني منهم وارحهم مني (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (حتى).
(٢) صحيح.
حضرت سعد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ میں نے عبید اللہ بن ابی رافع کو کہتے سناکہ جب لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ازدحام (رش) کیا اور انہوں نے آپ کے پاؤں کو خون آلود کردیا تو میں ان کو دیکھ رہا تھا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ اے اللہ! تحقیق میں ان لوگوں کو ناپسند کرتا ہوں اور یہ لوگ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔ پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت دے دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39879]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39879، ترقيم محمد عوامة 38251)
ترقیم عوامۃ: 38252 ترقیم الشثری: -- 39880
٣٩٨٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الاجلح عن الشعبي قال: اكتنف عبد الرحمن بن ملجم وشبيب الاشجعي عليا حين خرج إلى الفجر، فاما شبيب فضربه فاخطاه (وثبت) (١) سيفه في الحائط ثم (احصر) (٢) نحو ابواب (كندة) (٣) ، وقال الناس: عليكم صاحب السيف؛ فلما خشي ان يؤخذ رمى بالسيف ودخل في (عرض) (٤) الناس، واما عبد الرحمن فضربه (بالسيف) (٥) على قرنه، (ثم) (٦) (احصر) (٧) نحو باب الفيل؛ فادركه عريض او عويض الحضرمي فاخذه فادخله على علي، فقال علي: إن انا مت فاقتلوه، (٨) إن شئتم اودعوه، وإن انا نجوت كان القصاص (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فثبت).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (أحضر).
(٣) في [أ، ب]: (كنك)
(٤) في [ع]: (عوض).
(٥) في [ب]: (السيف).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [ع]: (أحضر).
(٨) في [هـ]: زيادة (و).
(٩) حسن؛ الأجلح بن عبد اللَّه بن حجية صدوق.
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ فجر کے لئے نکلے تو عبد الرحمن بن ملجم نے اور شبیب اشجعی نے آپ کو گھیر لیا۔ پس شبیب نے آپ پر وار کیا لیکن وہ خطا ہوگیا اور اس کی تلوار دیوار میں جا لگی پھر اس کو کندہ کے دروازوں کی طرف محصور کردیا گیا اور لوگ کہنے لگے۔ تلوار والے کو پکڑو پس جب شبیب نے پکڑے جانے کا خوف محسوس کیا تو اس نے تلوار پھینک دی اور عام لوگوں میں داخل ہوگیا۔ اور جو عبد الرحمان تھا اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک پر تلوار ماری پھر اس کو بھی باب الفیل کی جانب محصور کرلیا گیا اور اس کو عریض یا عویض حضرمی نے پکڑ لیا۔ پس اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اگر میں مر جاؤں تو تم چاہو تو اس کو قتل کردینا۔ یا اس کو چھوڑ دینا اور اگر میں بچ گیا تو پھر قصاص ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39880]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39880، ترقيم محمد عوامة 38252)
ترقیم عوامۃ: 38253 ترقیم الشثری: -- 39881
٣٩٨٨١ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن (سالم) (١) عن (عبد) (٢) الله بن سبيع قال: سمعت عليا يقول: لتخضبن هذه من هذا -فما ينتظر بالاشقى، (قالوا) (٣) : ⦗١٨٣⦘ (فاخبرنا) (٤) به (نبير عترته) (٥) ، قال: إذا تالله تقتلون غير قاتلي، قالوا: افلا تستخلف، قال: لا، ولكني اترككم إلى ما ترككم إليه رسول الله ﷺ، قالوا: فما (تقول) (٦) لربك إذا لقيته؟ قال: اقول: اللهم تركتني فيهم ثم قبضتني إليك وانت فيهم، فإن شئت اصلحتهم، وإن (شئت) (٧) افسدتهم (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (وسلم).
(٢) في [هـ]: (عبيد).
(٣) في [أ، ب]: (قال).
(٤) في [ع]: (فأخذنا).
(٥) أي: نقتله وجماعته، وفي [هـ]: (بنين عثرته)، وفي [ع]: (بزعرته).
(٦) في [ب]: (يقول).
(٧) في [ع]: (شيت).
(٨) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن سبيع، أخرجه أحمد (١٠٧٨)، وأبو يعلى (٣٤١)، والمزي ١٥/ ٦، والبزار (٨٧١)، وابن سعد ٣/ ٢٤.
حضرت عبد اللہ بن سبیع سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سُنا۔ ضرور بالضرور یہ (داڑھی) اس سے رنگ جائے گی۔ لوگوں نے کہا۔ آپ ہمیں اس کے (قاتل کے) بارے میں بتائیں ہم اس کے خاندان کو ہلاک کردیں گے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا۔ خدا کی قسم! تب تو تم میرے قاتل کے علاوہ کو قتل کرو گے۔ لوگوں نے پوچھا۔ آپ خلیفہ مقرر کیوں نہیں کرتے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! بلکہ میں تمہیں اسی طرح چھوڑ جاؤں گا جس طرح تمہیں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چھوڑ گئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا۔ تو پھر جب آپ اپنے پروردگار سے ملیں گے تو ان سے کیا کہیں گے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کہوں گا۔ اے اللہ! تو نے مجھے ان میں (ایک مدت) چھوڑے رکھا پھر تو نے مجھے اپنی طرف بلا لیا جبکہ تو خود ان میں موجود تھا۔ پس اگر تو چاہتا ان کو درست کردیتا اور اگر تو چاہتا تو ان کو خراب کردیتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39881]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39881، ترقيم محمد عوامة 38253)
ترقیم عوامۃ: 38254 ترقیم الشثری: -- 39882
٣٩٨٨٢ - حدثنا (هشيم) (١) عن ابي حمزة عن ابيه قال: سمعت عليا يقول: يا للدماء لتخضبن هذه من (هذا) (٢) -يعني لحيته من دم راسه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هشام).
(٢) في [ع]: (هذه).
(٣) مجهول؛ لجهالة والد أبي حمزة وهو: أبو عطاء الواسطي.
حضرت ابو حمزہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کہتے سُنا۔ اے خون ضرور بالضرور یہ اس سے رنگین ہوجائے گی یعنی آپ کی داڑھی آپ کے سر کے خون سے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39882]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39882، ترقيم محمد عوامة 38254)
ترقیم عوامۃ: 38255 ترقیم الشثری: -- 39883
٣٩٨٨٣ - حدثنا يزيد بن هارون عن هشام بن حسان عن محمد عن عبيدة قال: قال علي: ما يحبس (اشقاها) (١) ان يجيء فيقتلني، اللهم إني قد سئمتهم وسئموني فارحني منهم وارحهم (مني) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (بأشقاها).
(٢) سقط من: [ق].
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن سعد ٣/ ٣٤، وعبد الرزاق (٢٠٦٣٧)، والخطابي في العزلة (٧٧).
حضرت عبیدہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے تھے۔ امت کے بدبخت کو اس بات سے کس چیز نے روکا ہوا ہے کہ وہ آئے اور مجھے قتل کر دے؟ اے اللہ! تحقیق میں ان لوگوں سے اکتا گیا ہوں اور یہ لوگ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت نصیب فرما دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39883]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39883، ترقيم محمد عوامة 38255)