🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38284 ترقیم الشثری: -- 39912
٣٩٩١٢ - حدثنا ابو معاوية وابن نمير وحميد بن عبد الرحمن، عن الاعمش، عن شقيق، عن حذيفة قال: كنا جلوسا عند عمر فقال: ايكم يحفظ حديث رسول الله ﷺ في الفتنة كما قال؟ (١) فقلت: انا، قال: فقال: إنك لجريء، وكيف؟ قال: قلت: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"فتنة الرجل في اهله وماله ونفسه وجاره يكفرها الصيام والصدقة والامر بالمعروف والنهي عن المنكر"، فقال عمر: ليس هذا اريد، إنما اريد التي تموج (كـ) (٢) ــموج البحر، قال: قلت: مالك ولها يا امير المؤمنين؟ إن بينك وبينها بابا مغلقا، قال: (فيكسر) (٣) الباب، [ام يفتح؟ قال: قلت: لا، بل يكسر، قال: (ذاك) (٤) احرى ان لا يغلق ابدا، قال: قلنا لحذيفة: هل] (٥) كان (عمر) (٦) يعلم من الباب؟ قال: نعم، كما اعلم ان غدا دون الليلة، ⦗٢٠١⦘ (إني حدثته) (٧) حديثا ليس بالاغاليط، قال: فهبنا حذيفة ان نساله: من الباب؟ فقلنا لمسروق: سله، فساله فقال: عمر (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ع]: زيادة (قال).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [س، ص]: (فينكسر).
(٤) في [ع]: (ذلك).
(٥) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٦) سقط من: [أ، ب، س، ع].
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٥٨٦)، ومسلم (١٤٤).

حضرت شقیق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمر کے پاس بیٹھے تھے انہوں نے فرمایا تم میں کون ہے جسے فتنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ایسے ہی یاد ہے جیسے آپ نے ارشاد فرمائی میں نے عرض کیا کہ میں ہوں، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضرت عمر نے فرمایا یقینا تو جری ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیسے ارشاد فرمایا میں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آدمی کے گھر اور مال اور اپنی ذات اور پڑوسی میں فتنہ اس کا کفارہ ہوجائے گا روزہ اور صدقہ اور اچھائی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا، حضرت عمر نے فرمایا میری یہ مراد نہیں ہے میری مراد تو وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح زور پر ہوگا راوی کہتے ہیں میں نے کہا آپ کو اس سے کیا غرض امیر المؤمنین بلا شبہ آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے، حضرت عمر نے فرمایا کیا دروازہ توڑا جائے یا کھولا جائے گا راوی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جائے گا انہوں نے فرمایا یہ (دروازہ) زیادہ لائق ہے اس بات کے کہ اسے کبھی بند نہ کیا جائے۔ شقیق راوی کہتے ہیں ہم نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حضرت عمر جانتے تھے دروازہ کون ہے انہوں نے فرمایا ہاں جیسے میں جانتا ہوں کہ صبح رات سے پہلے ہے میں نے ان سے حدیث بیان کی ہے نہ کہ مغالطہ آمیز باتیں راوی حضرت شقیق کہتے ہیں ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے یہ بات کہ دروازہ کون ہے پوچھنے سے ڈر گئے ہم نے حضرت مسروق سے کہا آپ ان سے پوچھیں انہوں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا حضرت عمر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39912]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39912، ترقيم محمد عوامة 38284)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38285 ترقیم الشثری: -- 39913
٣٩٩١٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق عن حذيفة قال: لفتنة السوط اشد من فتنة السيف، قالوا: وكيف ذاك؟ قال: إن الرجل ليضرب بالسوط حتى يركب (الخشبة) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) أي: أن المراد يهرب من الضرب بالسوط ولو بالصعود في أخشاب الصلب، انظر: المبسوط ٢٤/ ٤٦.
(٢) صحيح؛ أخرجه في الغيلانيات (٨٧٠).

حضرت شقیق حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کوڑے کا فتنہ تلوار کے فتنے سے زیادہ سخت ہے تو ان کے اصحاب نے عرض کیا یہ کیسے ہوسکتا ہے انہوں نے فرمایا بیشک آدمی کو کوڑا مارا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ لکڑی پر سوار ہوجاتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39913]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39913، ترقيم محمد عوامة 38285)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38286 ترقیم الشثری: -- 39914
٣٩٩١٤ - حدثنا ابو الاحوص، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن سعيد ابن زيد قال: كنا عند النبي ﷺ فذكر فتنة (فعظم) (١) امرها، قال: فقلنا -او قالوا-: يا رسول الله لئن ادركنا هذا لنهلكن، قال:"كلا، إن بحسبكم القتل"، قال سعيد: فرايت إخواني قتلوا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يعظم).
(٢) صحيح؛ أخرجه أبو داود (٤٢٧٧)، وأبو يعلى (٩٤٨)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٠٧، والضياء في المختارة ٣/ (١١٠٠)، وبنحوه أحمد ١/ ١٨٩ (١٦٤٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٤٩٣)، والطبراني (٣٤٧).

حضرت سعید بن زید فرماتے ہیں ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک فتنے کا تذکرہ فرمایا اس کے معاملے کو بڑا جانا راوی فرماتے ہیں ہم نے یا انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ہم نے اسے پا لیا تو ہم ہلاک ہوجائیں گے ارشاد ہرگز نہیں تمہیں کافی ہوگا قتل حضرت سعید فرماتے ہیں میں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا کہ سب قتل کیے گئے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39914]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39914، ترقيم محمد عوامة 38286)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38287 ترقیم الشثری: -- 39915
٣٩٩١٥ - حدثنا عبد الله بن نمير عن الوليد بن جميع عن عامر بن واثلة قال: قال حذيفة: تكون ثلاث فتن، الرابعة تسوقهم إلى الدجال، التي ترمي (بالنشف) (١) ، والتي ترمي (بالرضف) (٢) ، والمظلمة التي تموج كموج البحر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (بالسين)، وفي [س]: (بالنسك).
(٢) في [أ، ب، ع]: (بالرصف)، والرضف: الحجارة المحماة.
(٣) صحيح؛ أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (٩٢)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٧٣، وابن عساكر ٣٩/ ٤٧٨، والحربي في الغريب ٢/ ٨٠٧.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین فتنے واقع ہونگے اور چوتھا فتنہ لوگوں کو دجال کی طرف لے جائے گا ان کے لیے پہلا فتنہ پانی خشک کرنے والے پتھر مارے گا اور دوسرا گرم پتھر پھینکے گا اور تیسرا وہ اندھیرا پھیلائے گا جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39915]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39915، ترقيم محمد عوامة 38287)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38288 ترقیم الشثری: -- 39916
٣٩٩١٦ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة قال: قال: حميد حدثنا نصر ابن عاصم قال: حدثنا اليشكري قال: سمعت حذيفة يقول: قال رسول الله ﷺ:"فتنة عمياء صماء عليها دعاة على ابواب النار، فإن (تموت) (١) يا حذيفة وانت عاض على (جذل) (٢) خير لك من ان تتبع احدا منهم" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تمته).
(٢) في [أ]: (جذر).
(٣) حسن؛ اليشكري صدوق، أخرجه أحمد (٢٣٢٨٢)، وأبو داود (٤٢٤٦)، وابن حبان (٥٩٦٣)، والنسائي في الكبرى (٨٠٣٢)، وأصله عند البخاري (٣٦٠٦)، ومسلم (١٨٤٧).

حضرت یشکری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک اندھا بہرہ فتنہ ہوگا جس کی طرف بلانے والے جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہونگے۔ اے حذیفہ رضی اللہ عنہ! تمہیں اس حال میں موت آئے کہ تم درخت کی جڑ کو کھانے والے ہو یہ بات بہتر ہے اس سے کہ تم ان میں سے کسی ایک کی پیروی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39916]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39916، ترقيم محمد عوامة 38288)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38289 ترقیم الشثری: -- 39917
٣٩٩١٧ - حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن ربعي قال: قال رجل لحذيفة: (كيف اصنع إذا اقتتل المصلون؟ قال: تدخل بيتك، قال: قلت) (١) : كيف اصنع إن دخل بيتي؟ قال: قل: إني (لن) (٢) اقتلك إني اخاف الله رب العالمين (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [هـ]: (إن)، وسقط من: [ط].
(٣) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٤٤٤، ونعيم بن حماد (٣٥٠)، والدولابي ١/ ٢٣٧.

حضرت ربعی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھاجب نمازی آپس میں جھگڑا کریں تو میں کیا کروں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے گھر میں پناہ پکڑنا اس صاحب نے کہا کہ اگر وہ میرے گھر میں بھی داخل ہوجائیں تو میں کیا صورت اختیار کروں تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہہ دینا تمہیں ہرگز نہیں قتل کرونگا کیونکہ میں تمام جہانوں کے پروردگار سے ڈرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39917]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39917، ترقيم محمد عوامة 38289)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38290 ترقیم الشثری: -- 39918
٣٩٩١٨ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد بن وهب عن حذيفة قال: وكلت الفتنة بثلاثة: بالجاد النحرير الذي لا يريد ان يرتفع له (شيء) (١) إلا قمعه بالسيف، وبالخطيب الذي (يدعو) (٢) إليه الامور، وبالشريف المذكور، فاما الجاد النحرير فتصرعه، واما هذان (فتبحثهما) (٣) فتبلو ما عندهما (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٢) في [أ، ب، س]: (تدعو).
(٣) في [ب، ط، هـ]: (فتجثهما)، وفي [أ، س]: (فتحتهما).
(٤) صحيح؛ أخرجه نعيم بن حماد (٣٥٢)، والداني في السنن الواردة في الفتن (٢٨)، وأبو نعيم ١/ ٢٧٤.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں فتنہ تین آدمیوں کی وجہ سے قائم ہوگا ایک تو محنتی صاحب بصیرت آدمی جب بھی اس کے سامنے کوئی چیز بلند ہوتی ہے تو وہ اسے تلوار سے ختم کردیتا ہے اور وہ خطیب جس کی طرف تمام امور دعوت دیتے ہیں اور مذکورہ شریف باقی وہ محنتی صاحب بصر ت اس فتنے کو پچھاڑ دیتا ہے اور باقی یہ دو فتنہ ان کو تلاش کرتا ہے اور جو ان کے پاس ہوتا ہے اسے پرانا کردیتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39918]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39918، ترقيم محمد عوامة 38290)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38291 ترقیم الشثری: -- 39919
٣٩٩١٩ - حدثنا مروان بن معاوية عن الصلت بن بهرام عن المنذر بن هوذة عن خرشة بن الحر قال: قال حذيفة: كيف انتم إذا بركت تجر خطامها فاتتكم من هاهنا (ومن هاهنا؟) (١) قالوا: لا ندري والله، قال: لكني -والله- ادري، انتم يومئذ كالعبد وسيده، إن سبه السيد لم يستطع العبد ان يسبه وإن ضربه لم يستطع العبد ان يضربه (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، س].
(٢) مجهول؛ لجهالة المنذر بن هوذة.

حضرت خرشہ بن حرر فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا حالت ہوگی تمہاری اس وقت جب وہ (فتنہ) تمہاری طرف آئے گا اپنی لگام کو کھینچتے ہوئے پس وہ تمہارے پاس اس طرف سے بھی آئیگا اور اس طرف سے بھی آئے گا۔ لوگوں نے عرض کیا بخدا ہم تو نہیں جانتے، تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن غلام اور آقا کی طرح ہوگے اگر آقا اسے برا بھلا کہے تو غلام اس کو برا بھلا نہیں کہہ سکتا اور اگر وہ اسے مارے تو غلام اس کو نہیں مار سکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39919]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39919، ترقيم محمد عوامة 38291)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38292 ترقیم الشثری: -- 39920
٣٩٩٢٠ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا الصلت بن بهرام عن منذر بن هوذة عن خرشة عن حذيفة قال: كيف انتم إذا انفرجتم عن دينكم كما تنفرج المراة عن قبلها لا تمنع من ياتيها؟ قالوا: لا ندري، قال: لكني -والله- ادري انتم يومئذ بين عاجز وفاجر، فقال رجل من القوم: قبح العاجز عن ذاك، قال: فضرب ظهره حذيفة مرارا، ثم قال: (قبحت انت، قبحت انت) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنت قبحت، أنت قبحت).
(٢) مجهول؛ لجهالة المنذر بن هوذة، وأخرجه الحاكم ٤/ ٥٠٦ (٨٤١٨).

حضرت خرشہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں انہوں نے فرمایا کیا حال ہوگا تمہارا اس وقت جب تم اپنے دین کو ارزاں کردو گے جیسے ارزاں کردیتی ہے وہ عورت اپنی شرم گاہ کو جو اپنے پاس آنے سے کسی کو نہیں روکتی، پھر لوگوں نے عرض کیا ہم نہیں جانتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن اللہ کی قسم میں جانتا ہوں تم اس دن عاجز اور فاجر کے درمیان ہوگے۔ لوگوں میں سے ایک صاحب نے کہا یہ عاجز اس فاجر کے مقابلے میں بھلائی سے دور کیا جائے، راوی فرماتے ہیں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کی پشت پر کئی مرتبہ ماراتو بھلائی سے دور کیا جائے تو بھلائی سے دور کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39920]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39920، ترقيم محمد عوامة 38292)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38293 ترقیم الشثری: -- 39921
٣٩٩٢١ - حدثنا عبد الله بن نمير قال: حدثنا الصلت بن بهرام قال: اخبرنا المنذر ابن هوذة عن خرشة ان حذيفة دخل المسجد، فمر على قوم يقرئ بعضهم بعضا (فقال) (١) : ان تكونوا على الطريقة، لقد سبقتم سبقا بعيدا، وان تدعوه فقد ضللتم، قال: ثم جلس إلى حلقة، فقال: إنا كنا قوما آمنا قبل ان نقرا، وإن قوما سيقراون قبل ان يؤمنوا، فقال رجل من القوم: تلك الفتنة، قال: اجل، قد اتتكم من امامكم حيث تسوء وجوهكم، ثم لتاتينكم ديما ديما، إن الرجل ليرجع فياتمر الامرين: احدهما عجز، والآخر فجور، قال خرشة: فما برحت إلا قليلا حتى ⦗٢٠٤⦘ رايت الرجل يخرج بسيفه يستعرض الناس (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) مجهول؛ لجهالة المنذر بن هوذة.

حضرت خرشہ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جن میں سے کچھ دوسروں کو قرآن پڑھا رہے تھے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تم درست طریقے پر قائم ہو تو تم بہت سبقت لے گئے ہو اور اگر تم اسے چھوڑ چکے ہو تو تم گمراہ ہوچکے ہو راوی فرماتے ہیں پھر ایک حلقہ میں تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا بلا شبہ ہم لوگ قرآن پڑھنے سے پہلے ایمان لائے اور آئندہ کچھ لوگ ایمان لانے سے پہلے قرآن پڑھیں گے لوگوں مں ئ سے ایک صاحب نے عرض کیا یہ فتنہ ہوگا ارشاد فرمایا ہاں وہ تمہارے سامنے سے جہاں سے تم رنجیدہ ہو وہاں سے آئے گا پھر رش کی طرح (آہستہ آہستہ ہمیشگی کے ساتھ) آتا رہے گا۔ بلا شبہ کوئی آدمی اس سے لوٹے گا اور دو کاموں کا حکم دے گا ایک ان میں سے عجز اور دوسرا فسق و فجور ہے۔ حضرت خرشہ فرماتے ہیں (اس بات کے) تھوڑی ہی مدت کے بعد میں نے دیکھا ایک آدمی کو کہ وہ اپنی تلوار لے کر نکلا لوگوں کا پیچھا کرتا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39921]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39921، ترقيم محمد عوامة 38293)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں