🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. من كره الخروج في الفتنة وتعوذ منها
جن حضرات کے نزدیک فتنہ میں نکلنا ناپسندیدہ ہے اور انہوں نے س سے پناہ مانگی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38314 ترقیم الشثری: -- 39942
٣٩٩٤٢ - حدثنا ابو الاحوص عن ابي إسحاق عن زيد بن يثيع قال: قال حذيفة: كيف انتم (إذا) (١) (سئلتم الحق فاعطيتموه، و (منعتم) (٢) حقكم؟ قال: إذن نصبر، (قال: دخلتموها) (٣) ورب الكعبة (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (منعكم).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٤) مجهول؛ لجهالة زيد بن يثغ، أخرجه عبد الرزاق (٢٠٧١٢)، والحاكم ٤/ ٥٩١.

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری کیسی حالت ہوگی جب تم سے حق مانگا جائے گا اور تم حق دو گے اور تم سے تمہارا حق روک لیا جائے گا۔ عرض کیا: تب ہم صبر کریں گے۔ فرمایا تب تم لوگ جنت میں داخل ہو گے۔ رب کعبہ کی قسم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39942]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39942، ترقيم محمد عوامة 38314)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38315 ترقیم الشثری: -- 39943
٣٩٩٤٣ - حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن ابي صالح الحنفي قال: جاء رجل إلى (١) حذيفة وإلى (ابي) (٢) مسعود الانصاري وهما جالسان في المسجد وقد طرد اهل الكوفة سعيد بن العاص، فقال: ما (يجلسكم) (٣) وقد خرج الناس؟ فوالله إنا لعلى السنة، فقالا: وكيف تكونون على السنة وقد طردتم إمامكم؟ (والله) (٤) لا تكونون على السنة حتى يشفق الراعي وتنصح الرعية، قال: فقال له رجل: فإن لم يشفق الراعي وتنصح الرعية فما تامرنا؟ قال: نخرج (وندعكم) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (أبي).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (ابن).
(٣) في [ب]: (يحبكم)، وفي [أ، ط، هـ]: (يحبسكم).
(٤) في [أ، ب]: (وواللَّه).
(٥) في [أ، ب، س]: (يدعكم).
(٦) صحيح؛ وسيأتي بنحوه في ١٥/ ٦١ برقم [٤٠٠٥٢].

حضرت ابو صالح حنفی سے روایت ہے کہ ایک صاحب حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ایوب انصاری کے پاس آئے وہ دونوں مسجد میں تشریف فرما تھے اور کوفہ والوں نے سعید بن العاص کو نکال دیا تھا تو اس آدمی نے کہا کس چیز نے تمہیں بٹھایا ہوا ہے، حالانکہ لوگ تو نکل چکے ہیں بخدا ہم سنت پر ہیں تو ان دونوں حضرات نے فرمایا تم کیسے سنت پر ہوسکتے ہو جبکہ تم نے اپنے امام کو نکال دیا ہے۔ اللہ کی قسم تم سنت پر قائم نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ حکمران مہربانی کرے اور رعایا خیر خواہی چاہتی ہو راوی کہتے ہیں کہ ان سے اس آدمی نے کہا کہ اگر امیر نرمی نہ کرے اور رعایا خیر خواہی کرے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں تو انہوں نے ارشاد فرمایا ہم نکلیں گے اور تمہیں بھی دعوت دینگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39943]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39943، ترقيم محمد عوامة 38315)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38316 ترقیم الشثری: -- 39944
٣٩٩٤٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر عن (يزيد) (١) بن صهيب الفقير قال: بلغني انه ما تقلد رجل سيفا في فتنة إلا لم يزل مسخوطا عليه حتى يضعه.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (زيد).
حضرت یزید بن صہیب فقیر فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ کوئی آدمی کسی فتنے میں تلوار گلے میں نہیں لٹکاتا مگر وہ مسلسل (اللہ کی) ناراضگی میں رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے رکھ دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39944]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39944، ترقيم محمد عوامة 38316)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38317 ترقیم الشثری: -- 39945
٣٩٩٤٥ - حدثنا ابو الاحوص عن شبيب بن غرقدة عن سليمان بن عمرو عن ابيه قال: سمعت النبي ﷺ يقول في حجة الوداع:"اي يوم (احرم) (١) ؟" ثلاث مرات، فقالوا: يوم الحج الاكبر، قال:"فإن دماءكم واموالكم واعراضكم حرام كحرمة يومكم هدا في شهركم هذا في بلدكم هذا، الا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده، ولا مولود على والده، الا يا (امتاه) (٢) هل بلغت؟" قالوا: نعم، قال:"اللهم اشهد" -ثلاث مرات (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (هذا).
(٢) سقط من: [س].
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٥٥٠٧)، وأبو داود (٣٣٣٤)، والترمذي (٢١٥٩)، والنسائي في الكبرى (٤١٠٠)، وابن ماجه (٢٦٦٩)، والبيهقي ٨/ ٢٧، والطبراني ١٧/ (٥٨).

حضرت عمر سے روا یت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کس دن میں نے احرام باندھا ہے؟ تین مرتبہ یہ سوال فرمایا صحابہ کرام j نے جواب دیا حج والے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن (یعنی عرفہ کی) کی حرمت کی طرح اس مہینے میں اس شہر میں خبردار نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ہی ذات پر نہ جنایت کرے جنایت کرنے والا مگر اپنی ذات پر زیادتی کرے والد اپنی اولاد پر اور نہ اولاد اپنے والد پر، خبردار اے میری امت کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام j نے جواب دیا جی ہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا یہ تین مرتبہ فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39945]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39945، ترقيم محمد عوامة 38317)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38318 ترقیم الشثری: -- 39946
٣٩٩٤٦ - حدثنا وكيع عن عبد المجيد (١) ابي عمرو قال: سمعت العداء بن خالد ابن هوذة قال: حججت مع النبي ﷺ حجة الوداع، فرايت النبي ﷺ قائما في الركابين وهو يقول:"تدرون: اي شهر هذا؟ اي بلد هذا؟ قال: فإن دماءكم واموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم (هذا) (٢) في شهركم هذا في بلدكم هذا، هل بلغت؟" قالوا: نعم قال:"اللهم اشهد" (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (عن).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ٣٠ (٢٠٣٣٦)، وأبو داود (١٩١٧)، وابن سعد ٧/ ٥١، والبخاري في التاريخ ٧/ ٨٥، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٥٠٢)، وابن قانع ٢/ ٢٧٩، والطبراني ١٨/ (١٣)، والمزي ١٨/ ٢٧٧.

حضرت عداء بن خالد بن ھوذہ فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے موقع پر حج کیا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا وہ (اونٹ کی) رکابوں میں کھڑے ارشاد فرما رہے تھے کیا تم جانتے ہو یہ کو نسا مہینہ ہے کون سا شہر ہے (پھر) ارشاد فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے اموال آپس ایک دوسرے پر حرام ہیں تمہارے اس دن کی حرمت کی طرح تمہارے اس مہینے کی حرمت کی طرح۔ تمہارے اس شہر کی حرمت کی طرح۔ کیا میں نے پہنچا دیا صحابہ کرام j نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہنا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39946]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39946، ترقيم محمد عوامة 38318)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38319 ترقیم الشثری: -- 39947
٣٩٩٤٧ - حدثنا الثقفي عن ايوب عن ابن سيرين (عن ابن ابي بكرة) (١) (عن ابي بكرة) (٢) عن النبي ﷺ انه قال:"اي شهر هذا؟" قلنا: الله ورسوله اعلم، ⦗٢١٣⦘ (قال) (٣) : فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه، قال:"اليس (ذا الحجة؟" قلنا: بلى، قال:"فاي بلد هذا؟" قلنا: الله ورسوله اعلم، فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه) (٤) ، قال:"اليس البلد (الحرام؟) (٥) " قلنا: نعم، قال:"اي يوم هذا؟" قلنا: الله ورسوله اعلم، قال: فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه، قال:"اليس يوم النحر؟"، قلنا: بلى، يا رسول الله، قال:"فإن دماءكم واموالكم" -قال محمد: واحسبه (قال) (٦) :"واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، وستلقون ربكم فيسالكم عن اعمالكم" (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) سقط من: [جـ، ط].
(٣) سقط من: [أ، ب، س].
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٦) سقط من: [أ، ب].
(٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (١٠٥)، ومسلم (١٦٧٩).

حضرت ابو بکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں، راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہونے لگا کہ آپ اس مہینے کو اس کے نام کے علاوہ دوسرا نام دیں گے پھر ارشاد فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں، ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ارشاد فرمایا یہ کونسا شہر ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس شہر کو کوئی اور نام سے موسوم کریں گے ارشاد فرمایا کیا یہ بامد حرام نہیں ہے ہم نے عرض کیا جی ہاں ارشاد فرمایا یہ کونسا ہے دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہتر جانتے ہیں راوی فرماتے ہیں آپ خاموش رہے یہاں تک کہ ہمیں یہ گمان ہوا کہ اس دن کو کوئی اور نام دیں گے ارشاد فرمایا کیا یہ یوم النحر نہیں ہے ہم نے عرض کیا ہاں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر ارشاد فرمایا بلا شبہ تمہارے خون اور تمہارے اموال محمد بن سیرین راوی فرماتے ہیں میرا گمان ہے کہ یہ بھی فرمایا اور تمہاری عزتیں آپس میں ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت اس شہر میں اس مہینے میں اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39947]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39947، ترقيم محمد عوامة 38319)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38320 ترقیم الشثری: -- 39948
٣٩٩٤٨ - حدثنا (ابو معاوية) (١) عن الاعمش عن (ابي) (٢) صالح عن جابر قال: قال النبي ﷺ في (حجته) (٣) :"اتدرون اي يوم اعظم حرمة؟" قال: فقلنا: يومنا هذا، قال:"فاي بلد اعظم حرمة؟" (قال) (٤) : قلنا (٥) : بلدنا هذا، قال:"فاي شهر اعظم حرمة؟" (٦) (قلنا: شهرنا هذا) (٧) ، قال: قال رسول الله ﷺ:"فإن دماءكم واموالكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في بلدكم هذا، في شهركم هذا" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (منصور).
(٢) سقط من: [ع].
(٣) في [أ، ط، هـ]: (حجة).
(٤) في [أ، ب]: (قالوا).
(٥) في [ع]: (فافقلنا).
(٦) في [جـ]: زيادة (قال).
(٧) سقط من: [أ، ق، ع].
(٨) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٣٦٥)، وابن أبي عاصم في الديات ص ٣.

حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کونسا شہر حرمت کے اعتبار سے عظیم ہے حضرت جابر کہتے ہیں ہم نے عرض کیا ہمارا مہینہ حضرت جابر فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ تمہارے خون اور تمہارے مال آپس میں ایک دوسرے پر حرام ہیں اس دن کی حرمت کی طرح اس شہر میں اس مہینے میں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39948، ترقيم محمد عوامة 38320)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38321 ترقیم الشثری: -- 39949
٣٩٩٤٩ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن مرة عن رجل من اصحاب النبي ﷺ قال: قام فينا رسول الله ﷺ على ناقة حمراء مخضرمة فقال:"اتدرون اي يومكم هذا؟ اتدرون اي شهركم هذا؟ (اتدرون) (١) اي بلدكم هذا؟" - قال:"فإن دماءكم واموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا (في بلدكم هذا في شهركم هذا) (٢) " (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ع]: تقديم تأخير (في شهركم هذا في بلدكم هذا).
(٣) صحيح؛ أخرجه أحمد ٥/ ٤١٢ (٢٣٥٤٤)، والنسائي (٤٠٩٩)، والطحاوي في شرح المشكل (٤٢)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٩٣٢)، والعقيلي ٢/ ٩٥، وورد من حديث مرة قال: حدثنا صاحب هذا القصر يعني ابن مسعود، أخرجه أبو الشيخ في طبقات أصبهان ٣/ ٢٣٣، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان ١/ ٤٣٠.

ماقبل والی حدیث اس سند سے بھی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39949، ترقيم محمد عوامة 38321)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38322 ترقیم الشثری: -- 39950
٣٩٩٥٠ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن زيد قال: لما كان يوم (الجرعة) (١) قيل لحذيفة: الا تخرج مع الناس؟ قال: ما يخرجني معهم؟ قد علمت انهم لم يهريقوا بينهم محجما من دم حتى يرجعوا، ولقد ذكر في حديث (الجرعة) (٢) حديث كثير: ما احب ان لي به ما في بيتكم، إن الفتنة تستشرف من استشرف لها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (الجزعة).
(٢) سقط من: [س]، وفي [أ، ب]: (الجزعة).
(٣) صحيح؛ أخرجه الحاكم ٤/ ٦٣٦، وورد بنحوه من حديث جندب عن حذيفة، أخرجه مسلم (٢٨٩٣)، وأحمد ٥/ ٣٩٩ (٢٣٤٣٦).

حضرت زید بن وہب سے روایت ہے کہ جب جرعہ والے دن حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں نکلتے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کونسی چیز مجھے ان کے ساتھ نکالے گی حالا ن کہ میں جانتا ہوں کہ انہوں نے آپس میں لوٹنے تک پچھنا لگانے کے برابر خون بھی نہیں بہایا اور جرعہ کے بارے میں بہت ساری باتیں ذکر کی گئی ہیں مجھے یہ پسند نہیں کہ ان کے بدلے میں… مجھے وہ چیزیں ملیں جو تمہارے گھر میں ہیں بلا شبہ فتنہ اس آدمی کی طرف جھانکتا ہے جو فتنے کی طرف سر اٹھا کر دیکھے (یوم الجرعہ سے مراد وہ دن ہے جس دن کوفے والے حضرت سعدب بن العاص کی زیارت کے لیے نکلے اور حضرت عثمان نے انہیں والی مقرر کیا تھا پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری کو والی مقرر کیا) [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39950، ترقيم محمد عوامة 38322)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38323 ترقیم الشثری: -- 39951
٣٩٩٥١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عدي عن (زر) (١) بن حبيش عن حذيفة قال: وددت ان عندي مائة رجل قلوبهم من ذهب، (فاصعد) (٢) على صخرة ⦗٢١٥⦘ فاحدثهم حديثا لا تضرهم فتنة بعده ابدا، ثم اذهب (قليلا) (٣) قليلا، فلا اراهم ولا يرونني (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (زيد).
(٢) في [أ، ب]: (فأصحك).
(٣) سقط من: [أ، ب].
(٤) صحيح؛ أخرجه نعيم بن حماد في الفتن (١٢٩)، وابن أبي الدنيا في العزلة (١٢٩).

حضرت زربن حبیش حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے ارشاد فرمایا میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے پاس سو آدمی ہوں جنکے قلوب سونے کی طرح ہوں میں کسی چٹان پر چڑھ کر جاؤں اور ان کے سامنے ایسی حدیث بیان کروں جس کے بیان کے بعد کوئی فتنہ کبھی بھی نقصان نہ پہنچائے پھر میں آہستہ آہستہ وہاں سے چلا جاؤں پس میں نہ ان کو دیکھوں اور نہ وہ مجھے دیکھیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 39951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39951، ترقيم محمد عوامة 38323)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں