🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب ما ذكر في صفين
جنگ صفین کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39021 ترقیم الشثری: -- 40673
٤٠٦٧٣ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة قال: رايت عمارا يوم صفين (شيخا) (١) آدم طوالا (ويداه) (٢) ترتعش وبيده الحربة فقال: لو ضربونا حتى (يبلغوا) (٣) بنا سعفات هجر لعلمت ان (مصلحينا) (٤) ⦗٥٢٧⦘ على الحق وانهم على الباطل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (شيخ).
(٢) في [ع]: (ويديه).
(٣) في [هـ]: (بلغوا).
(٤) في [ع، هـ]: (مصلحتنا).
(٥) ضعيف؛ رواية عمرو عن ابن سلمة بعد اختلاطه، أخرجه أحمد (١٨٨٨٤)، وابن حبان (٧٠٨٠)، والحاكم ٣/ ٣٨٤، وابن سعد ٣/ ٢٥٦، والطيالسي (٦٤٣)، وأبو يعلى (١٦١٠)، والبزار (١٤١٠).

حضرت عبد اللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین میں حضرت عمار کو دیکھا کہ وہ انتہائی بوڑھے تھے، ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا اور ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دشمن اگر ہمیں مار کر تہس نہس بھی کردیں تو بھی مجھے یقین ہوگا کہ ہمارے مصلحین حق پر اور وہ لوگ باطل پر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40673]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40673، ترقيم محمد عوامة 39021)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39022 ترقیم الشثری: -- 40674
٤٠٦٧٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا عبد الملك بن قدامة الجمحي قال: حدثني (عمر) (١) بن شعيب (اخو عمرو بن شعيب) (٢) عن ابيه عن جده قال: لما رفع الناس ايديهم عن صفين قال عمرو بن (العاص) (٣) (٤) : شبت الحرب فاعددت لها … (مفرع) (٥) الحارك (مروي) (٦) (الثبج) (٧) يصل الشد بشد فإذا … (ونت) (٨) الخيل من (الشد) (٩) معج جرشع اعظمه جفرته … فإذا ابتل من الماء (خرج) (١٠) قال: وقال: عبد الله بن عمرو: لو شهدت جمل مقامي ومشهدي … بصفين يوما شاب منها الذوائب عشية جاء اهل العراق كانهم … سحاب ربيع (رفعته) (١١) الجنائب ⦗٥٢٨⦘ وجئناهم نردى كان صفوفنا … من البحر مد موجه متراكب فدارت رحانا واستدارت (رحاهم) (١٢) … سراه النهار ما تولى المناكب إذا قلت قد ولوا سراعا بدت لنا … كتائب منهم فارجحنت كتائب فقالوا: لنا إنا نرى ان تبايعوا … عليا فقلنا بل نرى ان نضارب (١٣)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، ع، هـ]: (عمرو)، وتقدم ٨/ ٧٠٩ وفيه: (عمر).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [أ، ب، س، ع]: (العاصي).
(٤) في [أ، ب]: زيادة (شعرًا).
(٥) في [أ]: (مفزع).
(٦) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٧) في [أ، ب]: (الشج)، وفي [س]: (الثج)، وفي [ع]: (الثبج).
(٨) في [أ، ب]: (دنت)، وفي [هـ]: (وثب).
(٩) سقط من: [أ، ب، جـ، س]، وفي [ع]: (الشج).
(١٠) في [س]: (جدح).
(١١) في [أ، ب، ع]: (دفقته)، وفي [س]: (دفعته).
(١٢) في [هـ]: (رجاهم).
(١٣) مجهول؛ لجهالة عمر بن شعيب، وأخرجه ابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (٩٨٨)، والحارث (٧٥٦/ بغية)، وكما في المطالب العالية (٤٤٢٦)، والخطيب في تالي تلخيص المتشابه ١/ ١٥٩، وابن عساكر ٣١/ ٢٧٦، والطبراني كما في مجمع الزوائد ٧/ ٢٤٠.

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب صفین میں لوگوں نے حملے کے لئے ہاتھ بلند کئے تو حضرت عمرو بن عاص نے یہ اشعار کہے:: لڑائی نے زور پکڑ لیا، میں نے اس لڑائی کے لیے ایک بہادر اور اعلیٰ نسل کا گھوڑا تیار کیا ہے۔ وہ سختی کا مقابلہ سختی سے کرتا ہے اور جب گھڑ سوار ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو وہ اور توانا ہوجاتا ہے، وہ تیز رفتار ہے اور بڑا ہے، جب پانی سے تر ہوجائے تو اور چست ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے شعر کہے:: اگر جوان صفین میں میرے کھڑے ہونے کو دیکھ لیں تو ان کے بال سفید ہوجائیں۔ یہ وہ رات تھی جب اہل عراق بادلوں کی طرح آئے تھے۔ اس وقت ہماری صفیں سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مار رہی تھیں۔ ان کی چکی بھی گھومی اور ہماری چکی بھی گھومی اور ہمارے کندھے ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے۔ جب میں کہتا کہ وہ بھاگ گئے تو ان کی ایک جماعت اچانک آکر حملہ کردیتی۔ وہ ہم سے کہتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرو اور ہم کہتے تھے کہ تم لڑائی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40674]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40674، ترقيم محمد عوامة 39022)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39023 ترقیم الشثری: -- 40675
٤٠٦٧٥ - حدثنا اسود بن عامر قال: (حدثنا) (١) حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن الحسن ان (جندبا) (٢) كان مع علي يوم صفين (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (جندب).
(٣) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد، أخرجه خليفة في التاريخ ص ١٩٦، ونعيم (٣٦٢).

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت جندب جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے لیکن انہوں نے لڑائی نہیں کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40675]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40675، ترقيم محمد عوامة 39023)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40676
٤٠٦٧٦ - (فقال) (١) حماد: لم يكن يقاتل (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (قال).
(٢) معضل؛ حماد بن سلمة لم يدرك ذلك.

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40676، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39024 ترقیم الشثری: -- 40677
٤٠٦٧٧ - حدثنا شريك عن منصور عن إبراهيم قال: قلت له: شهد علقمة صفين؟ قال: نعم، (خضب) (١) سيفه وقتل اخوه (ابي بن قيس) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (وخضب).
(٢) في [أ، ب]: زيادة (ابن قيس)، وسقط من: [هـ] وانظر: طبقات ابن سعد ٦/ ٨٧، والمحن ص ١٢٨.

حضرت منصور کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے پوچھا کہ کیا حضرت علقمہ جنگ صفین میں شریک ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا ہاں اور ان کی تلوار بھی رنگین ہوئی تھی اور ان کے بھائی ابی بن قیس مارے گئے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40677]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40677، ترقيم محمد عوامة 39024)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39025 ترقیم الشثری: -- 40678
٤٠٦٧٨ - حدثنا ابن نمير عن الاعمش عن مسلم عن ابي البختري قال: رجع علقمة يوم صفين وقد خضب سيفه مع علي.
حضرت ابو بختری فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ جنگ صفین سے واپس آئے تو ان کی تلوار رنگین تھی اور وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40678]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40678، ترقيم محمد عوامة 39025)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39026 ترقیم الشثری: -- 40679
٤٠٦٧٩ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق ابي وائل قال: قال سهل ابن حنيف يوم صفين: ايها الناس اتهموا رايكم، فإنه والله ما وضعنا سيوفنا على عواتقنا مع رسول الله ﷺ لامر (يفظعنا) (١) إلا اسهلن بنا إلى امر (نعرفه) (٢) غير هذا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يقطعنا)، وفي [جـ]: (فظعنا).
(٢) في [هـ]: (تعرفه).
(٣) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٨١)، ومسلم (١٧٨٥).

حضرت سہل بن حنیف نے جنگ صفین میں لوگوں سے کہا کہ لوگو! اپنی رائے کو یقینی نہ سمجھنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ہمیشہ ہمارے لئے معاملات کی حقیقت کو سمجھنا آسان رہا لیکن اس معاملے میں ہم کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرسکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40679]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40679، ترقيم محمد عوامة 39026)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39027 ترقیم الشثری: -- 40680
٤٠٦٨٠ - حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة سمعه يقول: رايت عمارا يوم صفين (شيخا) (١) آدم طوالا (آخذا) (٢) (حربة) (٣) بيده، ويده ترعد فقال: والذي نفسي بيده لو ضربونا حتى يبلغوا بنا سعفات هجو لعرفت ان (مصلحتنا) (٤) على الحق وانهم على الباطل (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (شيخ).
(٢) في [هـ]: (آخذ).
(٣) في [ع]: (لحربة)، وفي [هـ]: (خربة).
(٤) في المسند: (مصلحينا).
(٥) ضعيف؛ سماع عمرو من ابن سلمة بعد اختلاطه، أخرجه أحمد (١٨٨٨٤)، وابن حبان (٧٠٨٠)، والحاكم ٣/ ٣٨٤، وأبو يعلى (١٦١٠)، والطيالسي (٦٤٣)، وابن سعد ٣/ ٢٥٦، والبزار (١٤١٠).

حضرت عبد اللہ بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگ صفین میں حضرت عمار کو دیکھا کہ وہ انتہائی بوڑھے تھے، ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا اور ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ دشمن اگر ہمیں مار کر تہس نہس بھی کردیں تو بھی مجھے یقین ہوگا کہ ہمارے مصلحین حق پر اور وہ لوگ باطل پر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40680]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40680، ترقيم محمد عوامة 39027)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39028 ترقیم الشثری: -- 40681
٤٠٦٨١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن عاصم بن كليب الجرمي عن ابيه قال: إني لخارج من المسجد إذ رايت ابن عباس حين جاء من عند معاوية في امر الحكمين فدخل دار سليمان بن ربيعة فدخلت معه. فما زال (يرمي) (١) إليه (برجل) (٢) ثم رجل بعد رجل: يا ابن عباس كفرت ⦗٥٣٠⦘ واشركت (ونددت) (٣) ، قال (الله) (٤) في كتابه كذا، و (قال الله) (٥) كذا وقال الله كذا حتى دخلني من ذلك، قال: ومن هم؟ هم والله السن الاول اصحاب محمد، هم والله اصحاب البرانس والسواري. قال: فقال ابن عباس: انظروا اخصمكم واجدلكم واعلمكم بحجتكم فليتكلم، فاختاروا رجلا اعور يقال له: (عتاب) (٦) من بني (تغلب) (٧) ، فقام فقال: قال الله كذا، (وقال الله كذا) (٨) ، كانما ينزع بحاجته من القرآن في سورة واحدة. قال: فقال ابن عباس: إني اراك قارئا للقرآن عالما بما قد فصلت ووصلت، انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، هل علمتم ان اهل الشام سالوا القضية فكرهناها (وابيناها) (٩) ؟ فلما اصابتكم (الجراح) (١٠) وعضكم الالم ومنعتم ماء الفرات (١١) انشاتم تطلبونها. ولقد اخبرني معاوية انه اتي بفرس بعيد البطن من الارض (ليهرب) (١٢) عليه (ثم) (١٣) اتاه آت منكم، فقال: إني تركت اهل العراق يموجون مثل الناس ليلة النفر بمكة، يقولون مختلفين في كل وجه مثل ليلة النفر بمكة. ⦗٥٣١⦘ قال: ثم قال ابن عباس: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، اي رجل كان ابو بكر؟ فقالوا: (خيرا) (١٤) واثنوا، (فقال: عمر بن الخطاب؟ فقالوا: خيرا واثنوا) (١٥) ، فقال: افرايتم لو ان رجلا خرج حاجا او معتمرا فاصاب ظبيا او بعض هوام الارض فحكم فيه احدهما (وحده) (١٦) (١٧) اكان له والله يقول: ﴿يحكم به ذوا عدل﴾ [المائدة: ٩٥] فما اختلفتم فيه من امر (الامة اعظم) (١٨) ، يقول: فلا تنكروا حكمين في دماء الامة، وقد جعل الله في قتل طائر حكمين، وقد جعل بين اختلاف رجل وامراته حكمين لإقامة العدل والإنصاف بينهما فيما اختلفا (فيه) (١٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يرما)
(٢) في [هـ]: (رجل).
(٣) في [ع]: (وترددت).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (عتار).
(٧) في [ع]: (ثعلب).
(٨) في [ع]: تكررت.
(٩) في [ع]: (وأتيناها).
(١٠) في [هـ]: (الجروح).
(١١) في [هـ]: زيادة (و).
(١٢) في [ع]: (لهرب).
(١٣) في [ع]: (حتى).
(١٤) في [هـ]: (خير).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [س]: (وجده).
(١٧) في [س]: زيادة (الحال).
(١٨) في [ب]: (الأمر أعظم).
(١٩) حسن؛ كليب صدوق.

حضرت کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے باہر تھا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ حاکموں کے معاملے میں حضرت معاویہ کے پاس سے واپس آرہے تھے۔ وہ حضرت سلیمان بن ربیعہ کے گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا۔ انہیں ایک آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا اور کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! تم نے کفر کیا، تم نے شرک کیا اور تم نے اللہ کا ہم سر ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ فرماتا ہے، یہ فرماتا ہے اور یہ فرماتا ہے۔ راوی سے پوچھا گیا کہ وہ کون تھے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ تھے۔ (٢) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم اپنے میں سے سب سے زیادہ عالم اور سب سے بڑے مناظر کا انتخاب کرلو وہ مجھ سے بات کرے۔ انہوں نے ایک کانے شخص کا انتخاب کیا جن کا نام عتاب تھا اور وہ بنو تغلب سے تھے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ گویا وہ اپنی ضرورت کو قرآن کی ایک سورت سے ثابت کررہے تھے۔ (٣) ان کی بات سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو قرآن کا عالم سمجھتا ہوں، کیونکہ آپ نے بہت وضاحت سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ میں آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شام والوں نے فیصلے کا مطالبہ کیا اور ہم نے اسے ناپسند کیا اور انکار کیا۔ پھر جب تمہیں زخم پہنچے، الم پہنچے اور تمہیں فرات کے پانی سے محروم کیا گیا تو تم نے فیصلے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا؟ مجھے حضرت معاویہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک پتلی کمر والا گھوڑا لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوکر بھاگ جائیں یہاں تک کہ تم میں سے کوئی آنے والا آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اہل عراق کو ان لوگوں کی طرح چھوڑ دیا ہے جو مکہ میں نفر کی رات ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ (٤) پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابوبکر کیسے آدمی تھے؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ عمر بن خطاب کیسے آدمی تھے؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے لئے جائے اور کسی ہرن یا وہاں کے حشرات میں سے کسی کو مار ڈالے اور خود فیصلہ کرلے تو کیا اس کا فیصلہ معتبر ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ) جبکہ تمہارا جس معاملے میں اختلاف ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے لئے پرندے کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں، آدمی اور اس کی بیوی کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں تو تمہارے اختلاف میں جو ان سے بڑا ہے دو حاکم کیوں نہیں ہوسکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40681، ترقيم محمد عوامة 39028)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39029 ترقیم الشثری: -- 40682
٤٠٦٨٢ - حدثنا ابن إدريس (عن ليث) (١) عن عبد العزيز بن رفيع قال: لا سار علي إلى صفين استخلف ابا مسعود على الناس فخطبهم يوم الجمعة فراى فيهم قلة فقال: يا ايها الناس اخرجوا فمن خرج فهو آمن، إنا نعلم والله ان منكم الكاره لهذا الوجه (والمتثاقل) (٢) عنه، اخرجوا فمن خرج فهو آمن، والله ما نعدها عافية ان يلتقي هذان (الغاران) (٣) (يتقي) (٤) احدهما الآخر، ولكن (نعدها) (٥) عافية ان ⦗٥٣٢⦘ يصلح الله امة محمد (٦) ، ويجمع الفتها. الا اخبركم عن عثمان وما نقم الناس عليه؟ انهم (لم) (٧) يدعوه وذنبه حتى يكون الله (٨) يعذبه او يعفو عنه، ولم يدرك الذين (ظلموا) (٩) إذ حسدوه ما (آتاه) (١٠) الله إياه. فلما قدم علي قال (له) (١١) : انت القائل ما بلغني عنك (يا) (١٢) (فروخ) (١٣) ، إنك شيخ قد ذهب عقلك، قال: لقد سمتني امي باسم احسن من هذا، اذهب عقلي وقد وجبت لي الجنة من الله (ومن) (١٤) رسوله (١٥) ، تعلمه انت، وما بقي من عقلي فإنا كنا نتحدث: ان الآخر فالآخر (شر) (١٦) . قال: فلما كان (بالسيلحين) (١٧) او بالقادسية خرج عليهم وظفراه (يقطران) (١٨) (يرى) (١٩) انه قد تهيا للإحرام، فلما وضع رجله في الغرز واخذ بمؤخر ⦗٥٣٣⦘ واسطة (الرحل) (٢٠) قام إليه ناس من الناس فقالوا: لو عهدت إلينا يا ابا مسعود، (فقال) (٢١) : عليكم بتقوى الله والجماعة، فإن الله لا يجمع امة محمد على ضلالة، قال: فاعادوا عليه فقال: عليكم بتقوى الله والجماعة فإنما يستريح بر او يستراح من فاجر (٢٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (المتشاغل).
(٣) في [ع]: (القراءان)، وفي [س، هـ]: (العراءان)، وفي [أ]: (العران).
(٤) في [ع]: (فيقي).
(٥) في [أ، ب، س]: (بعدما).
(٦) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(٧) في [أ، ب]: (لن).
(٨) في [هـ]: زيادة (هو).
(٩) في [هـ]: (طلبوه).
(١٠) في [هـ]: (أتى).
(١١) سقط من: [هـ].
(١٢) سقط من: [جـ].
(١٣) في [جـ]: (أفروخ)، وفي [هـ]: (فروج).
(١٤) سقط من: [س].
(١٥) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١٦) سقط من: [س].
(١٧) في [أ، ب]: (بالسيلحين)، وفي [س]: (بالسليحين)، وفي [ع]: (بالسيحين).
(١٨) في [س]: (تقطران).
(١٩) في [ع]: (يرا).
(٢٠) في [أ، ب]: (الرجل).
(٢١) في [أ، ب]: (قال).
(٢٢) ضعيف منقطع؛ عبد العزيز بن رفيع لم يدرك عليًّا، وليث ضعيف.

حضرت عبد العزیز بن رفیع فرماتے ہیں کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ صفین گئے تو انہوں نے حضرت ابو مسعود کو لوگوں کا حاکم بنایا۔ انہوں نے جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا تو لوگوں کو کم پایا۔ تو فرمایا اے لوگو! باہر نکلو، جو باہر نکلا وہ مامون ہوگا۔ بخدا ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے بعض لوگ اس صورت کو ناپسند سمجھتے ہیں اور بوجھل خیال کرتے ہیں۔ باہر نکلو جو باہر نکلا وہ امن پائے گا۔ بخدا ہم اس چیز کو عافیت نہیں سمجھتے کہ یہ دو جماعتیں لڑیں اور ایک دوسرے سے ڈرے۔ بلکہ عافیت اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہ کی اصلاح فرمائے اور ان کو جمع کردے۔ میں تمہیں حضرت عثمان کے بارے میں بتاتا ہوں اور جو لوگوں نے ان سے انتقام لیا۔ لوگوں نے انہیں کسی حق کے ثابت کرنے کے لئے شہید نہیں کیا بلکہ وہ ان نعمتوں پر حسد کرتے تھے جو اللہ نے حضرت عثمان کو عطا فرمائی تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہائے تو آپ نے فرمایا کہ اے فروخ! کیا آپ نے وہ بات کی جو میں نے سنی ہے؟ آپ ایک ایسے بوڑھے ہیں جس کی عقل ختم ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری ماں نے میرا نام اس نام سے اچھا رکھا ہے جو آپ نے مجھے دیا ہے۔ کیا میری عقل چلی گئی ہے اور میرے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنت واجب ہوگئی ہے۔ آپ بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ میری عقل باقی نہیں رہی۔ ہم باہم گفتگو کیا کرتے تھے کہ آخر شر ہے۔ جب وہ سیلحین یا قادسیہ میں تھے تو لوگوں کے سامنے آئے اور ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ احرام کی تیاری کررہے ہیں۔ جب انہوں نے سواری پر سوار ہونے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ اے ابو مسعود! ہمیں کوئی نصیحت فرمادیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم پر تقویٰ لازم ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہو، کیونکہ مسلمانوں کی جماعت گمراہی پر جمع نہیں ہوسکتی۔ لوگوں نے پھر نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے فرمایا کہ تم پر تقویٰ لازم ہے اور مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہو، نیک آدمی راحت پاتا ہے یا برے سے راحت پائی جاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40682]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40682، ترقيم محمد عوامة 39029)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں