🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ
باب: استنجاء کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 150 ترقیم الرسالہ : -- 154
نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي مُبَشِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" مَرَّ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ التَّغَوُّطِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَنَكَّبَ الْقِبْلَةَ، وَلا يَسْتَقْبِلُهَا وَلا يَسْتَدْبِرُهَا، وَلا يَسْتَقْبِلُ الرِّيحَ وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ، أَوْ ثَلاثَةِ أَعْوَادٍ، أَوْ ثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنْ تُرَابٍ" . لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ مُبَشِّرِ بْنِ عُبَيْدٍ. وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ سراقہ بن مالک مدلجی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ سے قضائے حاجت کے طریقے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ ہدایت کی: ”وہ قبلہ کی طرف سے ہٹ کر بیٹھے، اس کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے اور جس طرف ہوا چل رہی ہو اس طرف منہ نہ کرے، اور وہ تین پتھروں کے ذریعے استنجا کرے، جس میں کوئی مینگنی شامل نہ ہو یا تین لکڑیوں کے ذریعے کرے یا مٹی کے تین لپ کے ذریعے کرے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 154]
ترقیم العلمیہ: 150
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 545، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 154، وقال الدارقطني: لم يروه غير مبشر بن عبيد وهو متروك الحديث سنن الدارقطني:، 154»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 151 ترقیم الرسالہ : -- 155
نا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُضَرِيُّ ، نا أَبُو عَاصِمٍ ، نا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَضَى أَحَدُكُمْ حَاجَتَهُ فَلْيَسْتَنْجِ بِثَلاثَةِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ، أَوْ بِثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنَ التُّرَابِ" . قَالَ زَمْعَةُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ طَاوُسٍ ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ بِهَذَا سَوَاءً. لَمْ يُسْنِدْهُ غَيْرُ الْمُضَرِيِّ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ، وَغَيْرُهُ يَرْوِيهِ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، عَنْ زَمْعَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ طَاوُسٍ، مُرْسَلا لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَابْنُ وَهْبٍ، وَوَكِيعٌ، وَغَيْرُهُمْ عَنْ زَمْعَةَ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَوْلَهُ. وَقَدْ سَأَلْتُ سَلَمَةَ، عَنْ قَوْلِ زَمْعَةَ: إِنَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْهُ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی شخص قضائے حاجت کرے تو وہ تین لکڑیوں کے ذریعے یا تین پتھروں کے ذریعے یا تین مرتبہ مٹھی میں مٹی بھر کر اس کے ذریعے استنجا کرے۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہے اور اس کی سند میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 155]
ترقیم العلمیہ: 151
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 155»
«قال الدارقطني: لم يسنده غير المضري وهو كذاب متروك , سنن الدارقطني: (1 / 90) برقم: (155)_x000D_»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 152 ترقیم الرسالہ : -- 156
نا محَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ زَمْعَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْبَرَازَ فَلْيُكْرِمَنَّ قِبْلَةَ اللَّهِ فَلا يَسْتَقْبِلْهَا وَلا يَسْتَدْبِرْهَا، ثُمَّ لِيَسْتَطِبْ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ ثَلاثَةِ أَعْوَادٍ أَوْ ثَلاثِ حَثَيَاتٍ مِنَ التُّرَابِ، ثُمَّ لِيَقُلِ: الْحَمْدُ اللَّهِ الَّذِي أَخْرَجَ عَنِّي مَا يُؤْذِينِي وَأَمْسَكَ عَلَيَّ مَا يَنْفَعُنِي" .
سلمہ بن وہرام بیان کرتے ہیں: میں نے طاؤس کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”جب کوئی شخص پاخانہ کرنے لگے تو وہ اللہ تعالیٰ کے قبلے کا احترام کرے اور اس کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے، پھر تین پتھروں کے ذریعے طہارت حاصل کرے یا تین لکڑیوں کے ذریعے کرے یا پھر تین مرتبہ مٹھی بھر مٹی کے ذریعہ طہارت حاصل کرے اور پھر یہ پڑھے: ہر طرح کی حمد اس اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے میرے اندر سے اس چیز کو باہر نکال دیا جو مجھے اذیت دے سکتی تھی اور میرے اندر اس چیز کو باقی رکھا جو میرے لیے فائدہ مند ہے۔“ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 156]
ترقیم العلمیہ: 152
تخریج الحدیث: «ضعیف مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 542، 543، 544، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 156، 157، 158، 159، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12، 1617، 1651، 30528»
«المرسل أيضا ضعيف فإنه دائر على زمعة بن صالح وقد ضعفه أحمد بن حنبل وابن معين وأبو حاتم، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 102) _x000D__x000D_»

الحكم على الحديث:
ضعیف مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 153 ترقیم الرسالہ : -- 157
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ طاؤس کے حوالے سے ”مرسل“ حدیث کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 157]
ترقیم العلمیہ: 153
تخریج الحدیث: «ضعیف مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 542، 543، 544، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 156، 157، 158، 159، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12، 1617، 1651، 30528»
«المرسل أيضا ضعيف فإنه دائر على زمعة بن صالح وقد ضعفه أحمد بن حنبل وابن معين وأبو حاتم، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 102) _x000D__x000D_»

الحكم على الحديث:
ضعیف مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 154 ترقیم الرسالہ : -- 158
نا محَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا محَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، عَنْ زَمْعَةَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ طاؤس کے حوالے سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 158]
ترقیم العلمیہ: 154
تخریج الحدیث: «ضعیف مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 542، 543، 544، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 156، 157، 158، 159، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12، 1617، 1651، 30528»
«المرسل أيضا ضعيف فإنه دائر على زمعة بن صالح وقد ضعفه أحمد بن حنبل وابن معين وأبو حاتم، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 102) _x000D__x000D_»

الحكم على الحديث:
ضعیف مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 155 ترقیم الرسالہ : -- 159
نا إسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّفَّارِ ، وَحَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نا عَلِيٌّ ، نا سُفْيَانُ ، نا سَلَمَةُ بْنُ وَهْرَامَ ، أنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا ، يَقُولُ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ. قَالَ عَلِيٌّ: قُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَكَانَ زَمْعَةُ يَرْفَعُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَسَأَلْتُ سَلَمَةَ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، يَعْنِي لَمْ يَرْفَعْهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ طاؤس سے منقول ہے اور ان کے قول کے طور پر منقول ہے، انہوں نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل نہیں کیا ہے۔ علی نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سفیان سے دریافت کیا: کیا زمعہ نامی راوی نے اس روایت کو ”مرفوع“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ پھر میں نے سلمہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو وہ اس چیز سے واقف نہیں تھے، یعنی یہ روایت ”مرفوع“ حدیث کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 159]
ترقیم العلمیہ: 155
تخریج الحدیث: «ضعیف مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 542، 543، 544، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 156، 157، 158، 159، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 12، 1617، 1651، 30528»
«المرسل أيضا ضعيف فإنه دائر على زمعة بن صالح وقد ضعفه أحمد بن حنبل وابن معين وأبو حاتم، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 102) _x000D__x000D_»

الحكم على الحديث:
ضعیف مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں