🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الْخَلَاءِ
باب: بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 167 ترقیم الرسالہ : -- 171
نا إسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، قَالَ: قُلْتُ لِلشَّعْبِيِّ: عَجِبْتُ لِقَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَنَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَمَا قَالا؟ قُلْتُ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ :" لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا" . وَقَالَ وَقَالَ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ مَذْهَبًا مُوَاجِهَ الْقِبْلَةِ" فَقَالَ: أَمَّا قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَفِي الصَّحْرَاءِ:" إِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى خَلْقًا مِنْ عِبَادِهِ يُصَلُّونَ فِي الصَّحْرَاءِ فَلا تَسْتَقْبِلُوهُمْ وَلا تَسْتَدْبِرُوهُمْ، وَأَمَّا بُيُوتِكُمْ هَذِهِ الَّتِي يَتَّخِذُونَهَا لنَّتْنِ فَإِنَّهُ لا قِبْلَةَ لَهَا". عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ وَهُوَ عِيسَى بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
عیسیٰ بن ابوعیسیٰ بیان کرتے ہیں: میں نے امام شعبی سے یہ کہا: مجھے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول، اور نافع کی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل کردہ روایت، پر بڑی حیرت ہوتی ہے۔ امام شعبی نے دریافت کیا: ان دونوں حضرات نے کیا بات بیان کی ہے؟ تو میں نے جواب دیا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تو یہ فرماتے ہیں: (قضائے حاجت کے وقت) قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو۔ جبکہ نافع نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: آپ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا تشریف لے گئے، جس کا رخ قبلہ کی طرف تھا۔ تو امام شعبی نے یہ بات ارشاد فرمائی: جہاں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کا تعلق ہے، تو وہ صحرا کے بارے میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو صحرا میں نماز ادا کرتے ہیں، تو تم لوگوں کو استنجا کرتے ہوئے ان کی طرف رخ یا پیٹھ نہیں کرنی چاہیے، لیکن جہاں تک گھروں میں بنائے جانے والے بیت الخلا کا تعلق ہے، تو ان میں قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 171]
ترقیم العلمیہ: 167
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 446، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 171»
«قال الدارقطني: عيسى بن أبى عيسى هو الحناط وهو عيسى بن ميسرة ؛ وهو ضعيف»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 168 ترقیم الرسالہ : -- 172
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَكِيلُ ، قَالا: نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ ، سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ:" ظَهَرْتُ عَلَى إِجَّارٍ عَلَى بَيْتِ حَفْصَةَ فِي سَاعَةٍ لَمْ أَظُنَّ أَحَدًا يَخْرُجُ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى لَبِنَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ بَيْتَ الْمَقْدِسِ" .
واسع بن حبان بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو میں نے یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کی چھت پر چڑھا، ایک ایسے وقت میں جب مجھے یہ گمان تھا کہ اس وقت میں کوئی گھر سے نہیں نکلتا۔ جب میں نے توجہ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو اینٹوں پر بیٹھے ہوئے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے (قضائے حاجت) کر رہے تھے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 172]
ترقیم العلمیہ: 168
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 145، 148، 149، 3102، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 266، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 661، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 59، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1418، 1421، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 23، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 22، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 12، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 11، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 694، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 322، 323، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 169، 172، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4696»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں