🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

70. بَابٌ فِي جَوَازِ التَّيَمُّمِ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ سِنِينَ كَثِيرَةً
باب: جو شخص کئی برس تک پانی نہ پائے، اس کے لیے تیمم کا جائز ہونا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 710 ترقیم الرسالہ : -- 721
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، نا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَهَامِ ، نا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ" .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو کا ذریعہ ہے اگرچہ اسے دس برس تک پانی نہ ملے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 721]
ترقیم العلمیہ: 710
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
«‏‏‏‏قال الترمذي: حسن صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (2 / 63)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 711 ترقیم الرسالہ : -- 722
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا ابْنُ عُلَيَّةَ ، نا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: نُعِتَ لِي أَبُو ذَرٍّ فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ؟ قَالَ: إِنَّ أَهْلِي لَيَزْعُمُونَ ذَلِكَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟"، قُلْتُ: إِنِّي أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِيَ أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ بَشْرَتَكَ" .
ابوقلابہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: مجھے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے بارے میں بتایا گیا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے ان سے دریافت کیا: آپ سیدنا ابوذر ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: میرے گھر والے مجھے تو یہی کہتے ہیں۔ پھر سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا: ایک مرتبہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کر دیا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں پانی نہیں مل سکتا تھا۔ میرے پاس میری بیوی بھی تھی۔ مجھے جنابت لاحق ہو گئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جب تک آدمی کو پانی نہ ملے اگرچہ دس برس گزر جائیں۔ جب تمہیں پانی مل جائے تو وہ اپنے جسم پر ڈال لو۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 722]
ترقیم العلمیہ: 711
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
«‏‏‏‏قال الدارقطني: صححه . فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (2 / 63)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 712 ترقیم الرسالہ : -- 723
قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ الْقَلُوسِيُّ يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالا: نا خَلَفُ بْنُ مُوسَى الْعَمِّيُّ ، نا أَبِي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ طَهُورٌ لِمَنْ لَمْ يَجِدِ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ بَشْرَتَكَ" .
مہلب، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: وہ فرماتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر! بیشک مٹی اس شخص کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جسے پانی نہیں ملتا خواہ دس برس تک نہ ملے۔ جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈال لو۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 723]
ترقیم العلمیہ: 712
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
«‏‏‏‏قال ابن القطان: هذا حديث ضعيف لا شك فيه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (2 / 650)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 713 ترقیم الرسالہ : -- 724
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وُضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ، فَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيَمَسَّ بَشْرَتَهُ الْمَاءَ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ" .
عمرو بن بجدان بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: بیشک پاک مٹی مسلمان کے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اگر دس سال تک ایسا ہوتا رہا۔ جب آدمی پانی پالے تو اسے اپنے جسم پر پانی بہا لینا چاہیے۔ یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہو گا۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 724]
ترقیم العلمیہ: 713
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
«‏‏‏‏قال الدارقطني: صححه . فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (2 / 63)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 714 ترقیم الرسالہ : -- 725
وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا أبُو الْبَخْتَرِيِّ ، نا قبِيصَةُ ، نا سفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مِحْجَنٍ أَوْ أَبِي مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ. وَقَالَ لَهُ:" فَإِنَّ ذَلِكَ طَهُورٌ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: یہ طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 725]
ترقیم العلمیہ: 714
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
«‏‏‏‏قال ابن القطان: هذا حديث ضعيف لا شك فيه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (2 / 650)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 715 ترقیم الرسالہ : -- 726
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ ، نا ابْنُ حَنَانٍ ، قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ حَنَانٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَنَانٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ ، نا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وُضُوءٌ وَلَوْ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَامْسَسْهُ جِلْدَكَ" . كَذَا قَالَ رَجَاءُ بْنُ عَامِرٍ، وَالصَّوَابُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، كَمَا قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ.
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے اگرچہ دس برس تک آدمی کو پانی نہ ملے۔ جب تم پانی پالو اسے اپنی جلد پر بہا لو۔ رجاء بن عامر نامی راوی نے اس طرح بیان کیا ہے تاہم درست یہ ہے کہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات منقول ہے جیسے کہ ابن علیہ نے ابن ایوب نامی راوی سے اسے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 726]
ترقیم العلمیہ: 715
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2292، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1311، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 632، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 321، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 332، 333، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 124، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 723، 724، 725، 726، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21699، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 1673»
«‏‏‏‏قال ابن القطان: هذا حديث ضعيف لا شك فيه، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (2 / 650)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 716 ترقیم الرسالہ : -- 727
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلانِ فِي سَفَرٍ فَحَضَرَتْهُمَا الصَّلاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمَا مَاءٌ فَتَيَمَّمَا صَعِيدًا طَيِّبًا، ثُمَّ وَجَدَا الْمَاءَ بَعْدُ فِي الْوَقْتِ فَأَعَادَ أَحَدُهُمَا الصَّلاةَ بِوَضُوءٍ وَلَمْ يُعِدِ الآخَرُ، ثُمَّ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَا ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لِلَّذِي لَمْ يُعِدْ:" أَصَبْتَ وَأَجْزَأَتْكَ صَلاتُكَ"، وَقَالَ لِلَّذِي تَوَضَّأَ وَأَعَادَ:" لَكَ الأَجْرُ مَرَّتَيْنِ" . تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعِ، عَنِ اللَّيْثِ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مُتَّصِلا. وَخَالَفَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ دو آدمی سفر پر روانہ ہوئے۔ ان دونوں کے سامنے نماز کا وقت آ گیا۔ ان کے پاس پانی نہیں تھا، ان دونوں نے پاک مٹی کے ذریعے تیمم کیا پھر اس نماز کے وقت کے دوران ان دونوں کو پانی مل گیا۔ ان دونوں میں سے ایک شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز ادا کی، جب کہ دوسرے شخص نے دوبارہ نماز ادا نہ کی۔ پھر یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے جس نے نماز کا اعادہ نہیں کیا تھا، یہ فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے، تمہاری نماز درست ہوئی ہے۔ جس دوسرے شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے یہ فرمایا: تمہیں دوگنا اجر ملے گا۔ اس روایت کو لیث نامی راوی کے حوالے سے نقل کرنے میں، عبداللہ بن نافع نامی راوی منفرد ہے۔ ابن مبارک اور دیگر محدثین نے اس کے برعکس روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 727]
ترقیم العلمیہ: 716
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 637، 638، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 431، برقم: 432، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 338، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 727، 728، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 8116، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1842، 7922»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں