🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ
باب: نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1204 ترقیم الرسالہ : -- 1219
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ الْحِمْصِيُّ ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَأَلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ مَعِيَ وَأَنَا أُصَلِّي؟"، قُلْنَا: إِنَّا نَقْرَأُ نَهُذُّهُ هَذًّا وَنَدْرُسُهُ دَرْسًا، قَالَ:" فَلا تَقْرَءُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ سِرًّا فِي أَنْفُسَكُمْ" . هَذَا مُرْسَلٌ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے ساتھ قراءت کرتے ہو، جب میں نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں؟ ہم نے عرض کیا: ہم قراءت کرتے ہیں لیکن ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم قراءت نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو اور وہ بھی دل میں پڑھا کرو۔ یہ روایت مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1219]
ترقیم العلمیہ: 1204
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1219، وقال الدارقطني: هذا مرسل، سنن الدارقطني:، 1219»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1205 ترقیم الرسالہ : -- 1220
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو قَالا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ حَرَامِ بْنِ حَكِيمٍ ، وَمَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، كَذَا قَالَ إِنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَقُلْتُ: رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ فِي صَلاتِكَ شَيْئًا، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، قَالَ: نَعَمْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يَقْرَأُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟"، قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ فَلا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ" . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ. وَرَوَاهُ يَحْيَى الْبَابَلُتِّيُّ، عَنْ صَدَقَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ.
نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو (باجماعت نماز میں) سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا، ابونعیم (امام صاحب) بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے سیدنا عبادہ سے کہا) میں نے آپ کو نماز کے دوران ایک ایسا عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے (جس پر مجھے حیرانگی ہوئی ہے)۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کون سا ہے؟ نافع نے کہا: میں نے آپ کو سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے حالانکہ امام بلند آواز میں قراءت کر رہے تھے۔ تو سیدنا عبادہ نے فرمایا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں آپ نے بلند آواز میں قراءت کی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: ’جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا تھا کیا تم میں سے کوئی شخص قرآن کی تلاوت کر رہا تھا؟‘ ہم نے عرض کی: ’جی ہاں یا رسول اللہ!‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن میں میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے، تم میں سے کوئی بھی شخص قرآن کا کوئی بھی حصہ نہ پڑھے اس وقت جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔‘ اس روایت کی سند ’حسن‘ ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1220]
ترقیم العلمیہ: 1205
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1206 ترقیم الرسالہ : -- 1221
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَيْفٍ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الضَّحَّاكِ ، ثنا صَدَقَةُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ:" فَلا يَقْرَأَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ إِلا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا".
نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی ہے (اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے) تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا): تم میں سے کوئی بھی شخص ہرگز قراءت نہ کرے البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرے کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1221]
ترقیم العلمیہ: 1206
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1207 ترقیم الرسالہ : -- 1222
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ الْعَتِيقُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَامَ إِلَى جَنْبِي عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَرَأَ مَعَ الإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لَهُ: أَبَا الْوَلِيدِ، تَقْرَأُ وَتَسْمَعُ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّا قَرَأْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَبَّحَ، فَقَالَ لَنَا حِينَ انْصَرَفَ:" هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ؟"، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" قَدْ عَجِبْتُ، قُلْتُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُنَازِعُنِي الْقُرْآنَ، إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ فَلا تَقْرَءُوا مَعَهُ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" . مُعَاوِيَةُ، وَإِسْحَاقُ بْنُ أَبِي فَرْوَةَ ضَعِيفَانِ.
سیدنا محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ میرے ساتھ آکر کھڑے ہوئے اور انہوں نے امام کی اقتداء میں قراءت شروع کر دی، حالانکہ امام بھی اس وقت قراءت کر رہا تھا۔ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو میں نے ان سے کہا: ابوولید! آپ بھی قراءت کرنے لگ پڑے تھے، حالانکہ آپ سن رہے تھے کہ امام بلند آواز میں قراءت کر رہا ہے۔ تو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جی ہاں، ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں اسی طرح قراءت کی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قراءت میں دشواری ہوئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ کہا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: کیا کوئی شخص میرے ساتھ قراءت کر رہا تھا؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی حیران ہو رہا تھا، میں یہ سوچ رہا تھا کہ کون شخص میرے ساتھ قرآن میں مقابلہ کر رہا ہے۔ جب امام قراءت کر رہا ہو، تو تم اس کے ساتھ قراءت نہ کیا کرو، البتہ سورۃ فاتحہ پڑھ لیا کرو، کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا، اس کی نماز نہیں ہوتی۔ معاویہ رحمہ اللہ اور اسحاق بن ابوفروہ رحمہ اللہ نامی راوی ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1222]
ترقیم العلمیہ: 1207
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: ابن أبي فروة ضعيف، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 593)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1208 ترقیم الرسالہ : -- 1223
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلاةً مَكْتُوبَةً أَوْ تَطَوُّعًا فَلْيَقْرَأْ فِيهَا بِ أُمِّ الْكِتَابِ وَسُورَةً مَعَهَا، فَإِنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْكِتَابِ فَقَدْ أَجْزَى، وَمَنْ صَلَّى صَلاةً مَعَ إِمَامٍ يَجْهَرُ، فَلْيَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي بَعْضِ سَكَتَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَصَلاتُهُ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ" . مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ضَعِيفٌ.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص فرض یا نفل نماز ادا کر رہا ہو، وہ اس میں سورہ فاتحہ پڑھے اور اس کے ساتھ ایک سورت کی تلاوت کرے اگر وہ صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے تو یہ بھی اس کے لیے کافی ہو گی، اور جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کر رہا ہو جس میں امام بلند آواز سے قراءت کر رہا ہو تو اسے چاہیے کہ امام کے سکوت کے دوران سورہ فاتحہ پڑھ لے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اس کی نماز نامکمل ہو گی پوری نہیں ہو گی۔ محمد بن عبداللہ بن عبید بن عمیر نامی راوی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1223]
ترقیم العلمیہ: 1208
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1223، وقال الدارقطني: فيه محمد بن عبد الله بن عبيد بن عمير وهو ضعيف، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: 244/5»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1209 ترقیم الرسالہ : -- 1224
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مَيْمُونٍ ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَخْرُجَ يُنَادِي فِي النَّاسِ أَنْ لا صَلاةَ إِلا بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، فَمَا زَادَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت کی تھی کہ وہ جا کر لوگوں میں یہ اعلان کریں: نماز اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک سورہ فاتحہ نہ پڑھ لی جائے اور مزید تلاوت نہ کی جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1224]
ترقیم العلمیہ: 1209
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 395، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 278، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 489، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 776، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 875، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 908، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 821، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2953، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 838، 3784، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1189، 1209، 1224، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1003، 1004، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7411»
«قال الدارقطني: ابن سمعان هو عبد الله بن زياد بن سمعان وهو متروك الحديث، سنن الدارقطني: (2 / 84) برقم: (1189)»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1210 ترقیم الرسالہ : -- 1225
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَوَّارٍ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ" . قَالَ زِيَادٌ فِي حَدِيثِهِ:" لا تُجْزِيءُ صَلاةٌ لا يَقْرَأُ الرَّجُلُ فِيهَا بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ"، هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد بن ربیع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے یہ بات نقل کی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔ زیاد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس شخص کی نماز درست نہیں ہوتی جو شخص اس میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1225]
ترقیم العلمیہ: 1210
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1211 ترقیم الرسالہ : -- 1226
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ" . هَذَا صَحِيحٌ أَيْضًا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، وَمَعْمَرٌ، وَالأَوْزَاعِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا محمود بن ربیع، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا۔ (یہ روایت بھی مستند ہے) یہی روایت بعض دیگر راویوں نے بھی نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1226]
ترقیم العلمیہ: 1211
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1212 ترقیم الرسالہ : -- 1227
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ شَيْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كُلَيْبٍ هُوَ ابْنُ جَابِرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَابِرٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الإِمَامُ ضَامِنٌ فَمَا صَنَعَ فَاصْنَعُوا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا تَصْحِيحٌ لِمَنْ قَالَ بِالْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام ضامن ہوتا ہے جو وہ کرتے تم بھی وہ کرو۔ شیخ ابوحاتم نے یہ بات بیان کی ہے اس روایت سے ان لوگوں کے موقف کی تصدیق ہوتی ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ امام کی اقتداء میں قراءت کی جائے گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1227]
ترقیم العلمیہ: 1212
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1227، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3545»
«في إسناده مقال، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (4 / 239) _x000D_»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1213 ترقیم الرسالہ : -- 1228
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ ، ثنا أَشْهَبُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُمُّ الْقُرْآنِ عِوَضٌ مِنْ غَيْرِهَا وَلَيْسَ غَيْرُهَا مِنْهَا بِعِوَضٍ" . تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ، عَنْ أَشْهَبَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
محمود بن ربیع، سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سورہ فاتحہ دیگر تمام سورتوں کا عوض ہے، لیکن کوئی دوسری سورت اس کا عوض نہیں ہو سکتی۔ اس روایت کو نقل کرنے میں محمد بن خلاد نامی راوی منفرد ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1228]
ترقیم العلمیہ: 1213
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 874، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1228»
«سند حسن، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (5 / 219)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں