🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

71. بَابُ قَضَاءِ الصَّلَاةِ بَعْدَ وَقْتِهَا وَمَنْ دَخَلَ فِي صَلَاةٍ فَخَرَجَ وَقْتُهَا قَبْلَ تَمَامِهَا
باب: نماز کا وقت گزرجانے کے بعد قضاء نماز ادا کرنا جو شخص نماز پڑھناشروع کردے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے اس کا وقت گزر جائے (اس کا حکم)۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1424 ترقیم الرسالہ : -- 1441
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، أَوْ قَالَ: فِي سَرِيَّةٍ. فَلَمَّا كَانَ آخِرُ السَّحَرِ عَرَّسْنَا، فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا يَثِبُ فَزِعًا دَهِشًا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَضَى الْقَوْمُ حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَ فَأَقَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، فَقُلْنَا: يَا نَبِيُّ اللَّهِ، أَلا نَقْضِيهُمَا لِوَقْتِهِمَا مِنَ الْغَدِ؟ فَقَالَ لَهُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ؟" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) سریہ میں شرکت کے لیے ایک سفر میں شریک تھے، جب رات کا آخری حصہ ہوا، تو ہم نے پڑاؤ کیا (اور سو گئے)، ہم بیدار نہ ہو سکے، یہاں تک کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا، ہم لوگ خوف زدہ ہو گئے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو انہوں نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم وہاں سے روانہ ہو جائیں، پھر ہم نے کچھ سفر کیا، یہاں تک کہ سورج کچھ بلند ہو گیا، تو لوگوں نے قضائے حاجت کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ اذان دیں، پھر ہم نے دو رکعت ادا کیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت انہوں نے اقامت کہی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! کیا ہم اسے کل اس کے وقت میں قضاء نہ کریں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو سود سے منع کرے گا، اور خود اسے تم سے قبول کرے گا؟ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1441]
ترقیم العلمیہ: 1424
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1437، 1438، 1441، 1445، 1446، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1425 ترقیم الرسالہ : -- 1442
قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ: حَدَّثَكُمْ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، قَالا: نا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ حَدِيثَ الْمِيضَأَةِ بِطُولِهِ، وَقَالَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلاةِ الأُخْرَى، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا" .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے) جس میں یہ الفاظ ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے میں تفریط نہیں ہے، تفریط اس شخص کے لیے جو نماز ادا نہیں کرتا، یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت آ جاتا ہے، جو شخص ایسا کرے، تو وہ اس نماز کو اسی وقت ادا کرے، جب وہ اس پر متنبہ ہو جائے، یا پھر جب اگلا دن آئے، تو اس کے وقت میں اسے ادا کر لے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1442]
ترقیم العلمیہ: 1425
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 595، 7471، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 681، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 409، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1460، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 614، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 698، 3434، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1442، 1443، 1444، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22982»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1426 ترقیم الرسالہ : -- 1443
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنْ كَانَ أَمْرُ دُنْيَاكُمْ فَشَأْنُكُمْ، وَإِنْ كَانَ أَمْرُ دِينِكُمْ فَإِلَيَّ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَّطْنَا فِي صَلاتِنَا، فَقَالَ:" لا تَفْرِيطَ فِي النَّوْمِ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَصَلُّوهَا وَمِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا" .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اگر کوئی تمہارا دنیاوی کام ہو، تو یہ تمہارا معاملہ ہے اور اگر کوئی دینی معاملہ ہو، تو وہ میری طرف آئے گا۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اپنی نماز کے بارے میں تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوئے رہ جانے میں تفریط نہیں ہوتی، تفریط بیداری میں ہوتی ہے، جب ایسی صورت حال ہو جائے، تو اس نماز کو (بیدار ہونے کے بعد) ادا کر لو یا اگلے دن اس کے وقت میں ادا کر لو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1443]
ترقیم العلمیہ: 1426
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 595، 7471، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 681، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 409، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1460، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 614، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 698، 3434، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1442، 1443، 1444، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22982»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1427 ترقیم الرسالہ : -- 1444
حَدَّثَنَا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِيُّ ، ثنا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ وَاقِدٍ ، ثنا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَوْمُهُمْ عَنِ الصَّلاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ" . قَالَ: فَسَمِعَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَأَنَا أُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِي: يَا فَتًى، احْفَظْهَا كُنْتَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لوگوں کے نماز کے وقت سوئے رہ جانے کا ذکر کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سوئے رہ جانے میں تفریط نہیں ہے، تفریط بیداری میں ہے، جب کوئی شخص نماز بھول جائے یا نماز کے وقت سوئے رہ جائے، تو جیسے ہی اسے یاد آئے، اس وقت اسے ادا کر لے یا اگلے دن اسی نماز کے وقت میں (قضاء کے طور پر) اسے ادا کرے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، تو مجھ سے فرمایا: اے نوجوان! تم جو حدیث بیان کر رہے ہو، اسے یاد رکھنا، کیونکہ میں نے بھی یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوئی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1444]
ترقیم العلمیہ: 1427
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 595، 7471، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 681، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 409، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1460، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 614، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 177، 1894، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 698، 3434، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1442، 1443، 1444، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22982»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1428 ترقیم الرسالہ : -- 1445
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، قُلْنَا: أَلا نُصَلِّيهَا فِي غَدٍ؟ قَالَ:" يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الرِّبَا، وَيَأْخُذُهُ" .
یہی روایت ایک اور سند کے حوالے سے سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، جس میں اسی طرح کا قصہ ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ہم نے عرض کی: کیا ہم اسے کل ادا نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں سود سے منع کیا ہے اور خود وصول کرے گا؟ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1445]
ترقیم العلمیہ: 1428
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1437، 1438، 1441، 1445، 1446، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1429 ترقیم الرسالہ : -- 1446
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَقَالَ:" يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الرِّبَا، وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (اس کے بعد انہوں نے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں): نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں سود سے منع کیا ہے اور خود اسے تم سے قبول کرے گا؟ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1446]
ترقیم العلمیہ: 1429
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 682، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1301، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 320، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 306، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 443، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 770، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 861، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1437، 1438، 1441، 1445، 1446، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 730، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20189»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں