الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

صحيح مسلم کل احادیث 3033 :ترقیم فواد عبدالباقی
صحيح مسلم کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح مسلم
كِتَاب الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَالْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ
قتل کی ذمہ داری کے تعین کے لیے اجتماعی قسموں، لوٹ مار کرنے والوں (کی سزا)، قصاص اور دیت کے مسائل
The Book of Muharibin, Qasas (Retaliation), and Diyat (Blood Money)
1. باب الْقَسَامَةِ:
باب: قسامت کا بیان۔
Chapter: Qasamah (Oaths)
حدیث نمبر: 4342
Save to word اعراب
حدثنا قتيبة بن سعيد ، حدثنا ليث ، عن يحيي وهو ابن سعيد ، عن بشير بن يسار ، عن سهل بن ابي حثمة ، قال يحيى: وحسبت، قال: وعن رافع بن خديج انهما ، قالا: " خرج عبد الله بن سهل بن زيد، ومحيصة بن مسعود بن زيد، حتى إذا كانا بخيبر تفرقا في بعض ما هنالك، ثم إذا محيصة يجد عبد الله بن سهل قتيلا فدفنه، ثم اقبل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم هو وحويصة بن مسعود، وعبد الرحمن بن سهل وكان اصغر القوم، فذهب عبد الرحمن ليتكلم قبل صاحبيه، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كبر الكبر في السن، فصمت فتكلم صاحباه وتكلم معهما، فذكروا لرسول الله صلى الله عليه وسلم مقتل عبد الله بن سهل، فقال لهم: اتحلفون خمسين يمينا فتستحقون صاحبكم او قاتلكم، قالوا: وكيف نحلف ولم نشهد؟، قال: فتبرئكم يهود بخمسين يمينا، قالوا: وكيف نقبل ايمان قوم كفار؟، فلما راى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم اعطى عقله ".حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ، قَالَ: وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا ، قَالَا: " خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَبِّرِ الْكُبْرَ فِي السِّنِّ، فَصَمَتَ فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ؟، قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا، قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ ".
‏‏‏‏ سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے، یحییٰ نے کہا: شاید بشیر نے رافع بن خدیج کا بھی نام لیا کہ ان دونوں نے کہا: سیدنا عبداللہ بن سہل بن زید رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہ دونوں نکلے جب خیبر میں پہنچے تو الگ الگ ہو گئے۔ پھر سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو کسی نے مار کر ڈال دیا ہے۔ انہوں نے دفن کیا عبداللہ کو پھر آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل۔ عبدالرحمٰن سے سب سے چھوٹے تھے انہوں نے چاہا بات کرنا اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سن میں بڑا ہے اس کی بڑائی کر۔ (یعنی اس کو بات کرنے دے حالانکہ عبدالرحمٰن مقتول کے حقیقی بھائی تھے اور محیصہ اور حویصہ چچا کے بیٹے تھے پر یہاں دعویٰ سے غرض نہ تھی صرف واقعات سننے تھے۔) عبدالرحمٰن چپ ہو رہا اور حویصہ اور محیصہ نے باتیں کیں، عبدالرحمٰن بھی ان کے ساتھ بولا، پھر بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سہل کے مارے جانے کے مقام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان تینوں سے تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے مورث کا خون حاصل کرتے ہو۔ (یعنی قصاص یا دیت اور وارث تو صرف عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تینوں کی طرف خطاب کیا اور غرض یہی تھی کہ عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ قسم کھائیں) تینوں نے کہا: ہم کیونکر قسم کھائیں؟ خون کے وقت ہم نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر اس الزام سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: ہم کافروں کی قسمیں کیونکر قبول کریں گے؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھا تو دیت دی۔ (اپنے پاس سے)۔
حدیث نمبر: 4343
Save to word اعراب
وحدثني عبيد الله بن عمر القواريري ، حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا يحيى بن سعيد ، عن بشير بن يسار ، عن سهل بن ابي حثمة ، ورافع بن خديج " ان محيصة بن مسعود، وعبد الله بن سهل انطلقا قبل خيبر، فتفرقا في النخل فقتل عبد الله بن سهل، فاتهموا اليهود، فجاء اخوه عبد الرحمن، وابنا عمه حويصة، ومحيصة إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فتكلم عبد الرحمن في امر اخيه وهو اصغر منهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كبر الكبر، او قال: ليبدا الاكبر، فتكلما في امر صاحبهما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقسم خمسون منكم على رجل منهم فيدفع برمته، قالوا: امر لم نشهده كيف نحلف؟، قال: فتبرئكم يهود بايمان خمسين منهم "، قالوا: يا رسول الله قوم كفار، قال: فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من قبله، قال سهل: فدخلت مربدا لهم يوما، فركضتني ناقة من تلك الإبل ركضة برجلها، قال: حماد هذا او نحوه،وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ " أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرِ الْكُبْرَ، أَوَ قَالَ: لِيَبْدَأْ الْأَكْبَرُ، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ، قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ؟، قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ، قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ، قَالَ سَهْلٌ: فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا، فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا، قَالَ: حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ،
‏‏‏‏ سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہما دونوں خیبر کی طرف گئے اور کھجور کے درخت میں جدا ہو گئے۔ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مارے گئے۔ لوگوں نے یہود پر گمان کیا (یعنی یہودیوں نے مارا ہو گا) پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بھائی عبدالرحمٰن آیا۔ اور اس کے چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما سے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ عبدالرحمٰن اپنے بھائی کا حال بیان کرنے لگا اور وہ تینوں میں چھوٹا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑائی کر بڑے کی یا بڑے کو کہنا چاہیئے۔ پھر حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما نے حال بیان کیا عبداللہ بن سہل کا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے پچاس آدمی یہود کے کسی آدمی پر قسم کھائیں کہ وہ قاتل ہے وہ اپنے گلے کی رسی دے دے گا (یعنی اپنے تئیں سپرد کر دے گا تمہارے قتل کے لیے) انہوں نے کہا: جب یہ واقعہ ہوا تو ہم نے نہیں دیکھا، ہم کیونکر قسم کھائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود پچاس قسمیں کھا اپنے تئیں پاک کریں گے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہ تو کافر ہیں۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے دیت دی عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کی۔ سہل نے کہا: میں ان اونٹوں کے باندھنے کی جگہ گیا تو ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
حدیث نمبر: 4344
Save to word اعراب
وحدثنا القواريري ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا يحيى بن سعيد ، عن بشير بن يسار ، عن سهل بن ابي حثمة ، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه، وقال في حديثه فعقله رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده، ولم يقل في حديثه " فركضتني ناقة "،وحَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ " فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ "،
‏‏‏‏ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے دی اور اس میں یہ نہیں ہے کہ ایک اونٹنی نے مجھ کو لات ماری۔
حدیث نمبر: 4345
Save to word اعراب
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 4346
Save to word اعراب
حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب ، حدثنا سليمان بن بلال ، عن يحيى بن سعيد ، عن بشير بن يسار " ان عبد الله بن سهل بن زيد، ومحيصة بن مسعود بن زيد الانصاريين، ثم من بني حارثة خرجا إلى خيبر في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي يومئذ صلح واهلها يهود، فتفرقا لحاجتهما، فقتل عبد الله بن سهل فوجد في شربة مقتولا فدفنه صاحبه، ثم اقبل إلى المدينة فمشى اخو المقتول عبد الرحمن بن سهل، ومحيصة، وحويصة، فذكروا لرسول الله صلى الله عليه وسلم شان عبد الله وحيث قتل، فزعم بشير وهو يحدث عمن ادرك من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال لهم: تحلفون خمسين يمينا وتستحقون قاتلكم او صاحبكم، قالوا يا رسول الله، ما شهدنا ولا حضرنا، فزعم، انه قال: فتبرئكم يهود بخمسين "، فقالوا: يا رسول الله، كيف نقبل ايمان قوم كفار؟، فزعم بشير ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عقله من عنده،حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ " أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا يَهُودُ، فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَوُجِدَ فِي شَرَبَةٍ مَقْتُولًا فَدَفَنَهُ صَاحِبُهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَشَى أَخُو الْمَقْتُولِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَحَيْثُ قُتِلَ، فَزَعَمَ بُشَيْرٌ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ، قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَهِدْنَا وَلَا حَضَرْنَا، فَزَعَمَ، أَنَّهُ قَالَ: فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ "، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟، فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ،
‏‏‏‏ بشر بن یسار سے روایت ہے، عبداللہ بن سہل بن زید انصاری اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری رضی اللہ عنہما جو بنی حارثہ میں سے تھے خیبر کو گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اور ان دنوں وہاں امن و امان تھا اور یہودی وہاں رہتے تھے، پھر وہ دونوں جدا ہوئے اپنے کاموں کو تو عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ مارے گئے اور ایک حوض میں ان کی نعش ملی۔ محیصہ رضی اللہ عنہ نے اس کو دفن کیا، پھر مدینہ میں آیا اور عبدالرحمٰن بن سہل مقتول کا بھائی اور محیصہ اور حویصہ رضی اللہ عنہم (چچا زاد بھائی) ان تینوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ رضی اللہ عنہ کا حال بیان کیا اور جہاں وہ مارا گیا تھا تو بشیر نے روایت کی ان لوگوں سے جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے اس نے پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے تم پچاس قسمیں کھاتے ہو اور اپنے قاتل کو لیتے ہو۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم نے نہیں دیکھا نہ ہم وہاں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود اپنے تئیں صاف کر لیں گے تمہارے الزام سے پچاس قسمیں کھا کر۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم کیونکر قبول کریں گے قسمیں کافروں کی۔ آخر بشیر نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ کی دیت اپنے پاس سے دی۔
حدیث نمبر: 4347
Save to word اعراب
وحدثنا يحيى بن يحيى ، اخبرنا هشيم ، عن يحيى بن سعيد ، عن بشير بن يسار ، ان رجلا من الانصار من بني حارثة يقال له عبد الله بن سهل بن زيد، انطلق هو وابن عم له يقال له محيصة بن مسعود بن زيد، وساق الحديث بنحو حديث الليث إلى قوله فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده، قال يحيى : فحدثني بشير بن يسار ، قال: اخبرني سهل بن ابي حثمة ، قال: لقد ركضتني فريضة من تلك الفرائض بالمربد،وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ مُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى قَوْلِهِ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ يَحْيَى : فَحَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ بِالْمِرْبَدِ،
‏‏‏‏ وہی جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ سہل نے یہ کہا: مجھ کو ایک اونٹنی نے ان اونٹنیوں میں سے لات ماری باڑے میں۔
حدیث نمبر: 4348
Save to word اعراب
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير ، حدثنا ابي ، حدثنا سعيد بن عبيد ، حدثنا بشير بن يسار الانصاري ، عن سهل بن ابي حثمة الانصاري ، انه اخبره ان نفرا منهم انطلقوا إلى خيبر، فتفرقوا فيها، فوجدوا احدهم قتيلا وساق الحديث، وقال فيه فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ان يبطل دمه فوداه مائة من إبل الصدقة ".حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ".
‏‏‏‏ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، چند لوگ ان کی قوم میں سے خیبر کو گئے وہاں الگ الگ ہو گئے پھر ایک ان میں سے مقول ملا اور بیان کیا حدیث کو اخیر تک اور کہا کہ برا جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون ضائع ہونا تو سو اونٹ دیئے صدقے کے اونٹوں میں سے دیت کے لیے۔
حدیث نمبر: 4349
Save to word اعراب
حدثني إسحاق بن منصور ، اخبرنا بشر بن عمر قال: سمعت مالك بن انس ، يقول: حدثني ابو ليلى عبد الله بن عبد الرحمن بن سهل ، عن سهل بن ابي حثمة ، " انه اخبره عن رجال من كبراء قومه، ان عبد الله بن سهل، ومحيصة خرجا إلى خيبر من جهد اصابهم، فاتى محيصة فاخبر ان عبد الله بن سهل قد قتل وطرح في عين او فقير، فاتى يهود فقال: انتم والله قتلتموه، قالوا: والله ما قتلناه، ثم اقبل حتى قدم على قومه، فذكر لهم ذلك ثم اقبل هو واخوه حويصة وهو اكبر منه وعبد الرحمن بن سهل، فذهب محيصة ليتكلم وهو الذي كان بخيبر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمحيصة: كبر كبر يريد السن، فتكلم حويصة ثم تكلم محيصة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إما ان يدوا صاحبكم وإما ان يؤذنوا بحرب، فكتب رسول الله صلى الله عليه وسلم إليهم في ذلك، فكتبوا إنا والله ما قتلناه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحويصة، ومحيصة، وعبد الرحمن: اتحلفون وتستحقون دم صاحبكم؟، قالوا: لا، قال: فتحلف لكم يهود، قالوا: ليسوا بمسلمين، فواداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده، فبعث إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم مائة ناقة حتى ادخلت عليهم الدار، فقال سهل: " فلقد ركضتني منها ناقة حمراء ".حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، " أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ فَأَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي عَيْنٍ أَوْ فَقِيرٍ، فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: كَبِّرْ كَبِّرْ يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: " فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ".
‏‏‏‏ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کو خبر دی اس کی قوم کے بڑے لوگوں نے کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما دونوں خیبر کی طرف گئے تکلیف کی وجہ سے جو ان پر آئی تو محیصہ سے کسی نے کہا: عبداللہ بن سہل مارے گئے اور ان کی نعش چشمہ یا کنواں میں پھینک دی ہے۔ وہ یہود کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: قسم اللہ کی تم نے اس کو مارا ہے۔ یہودیوں نے کہا: قسم اللہ کی ہم نے اس کو نہیں مارا۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے بیان کیا، پھر سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اور ان کا بھائی حویصہ رضی اللہ عنہ جو اس سے بڑا تھا اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ تینوں آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنا چاہیی وہی خیبر کو گیا تھا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا محیصہ رضی اللہ عنہ سے بڑے کی بڑائی کر اور بڑے کو کہنے دے۔ پھر حویصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی بعد اس کے محیصہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود تمہارے ساتھی کی دیت دیں یا جنگ کریں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا اس بارے میں۔ انہوں نے جواب میں لکھا، قسم اللہ کی! ہم نے نہیں مارا اس کو تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہم سے فرمایا: تم قسم کھاتے ہو اور اپنے ساتھی کا خون لیتے ہو۔ انہوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو یہود قسم کھائیں گے تمہارے لیے۔ انہوں نے کہا: وہ مسلمان نہیں ہیں ان کی قسم کیا کیا اعتبار، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے دی اور سو اونٹ ان کے پاس بھیجے یہاں تک کہ ان کے گھر میں گئے۔ سیدنا سہل رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
حدیث نمبر: 4350
Save to word اعراب
حدثني ابو الطاهر ، وحرملة بن يحيى ، قال ابو الطاهر حدثنا، وقال حرملة، اخبرنا ابن وهب ، اخبرني يونس ، عن ابن شهاب ، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن ، وسليمان بن يسار مولى ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، عن رجل من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم من الانصار، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اقر القسامة على ما كانت عليه في الجاهلية "،حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا، وقَالَ حَرْمَلَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى ميمونة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ "،
‏‏‏‏ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کو اسی طور باقی رکھا جیسے جاہلیت کے زمانہ میں تھی۔
حدیث نمبر: 4351
Save to word اعراب
وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا عبد الرزاق ، قال: اخبرنا ابن جريج ، حدثنا ابن شهاب بهذا الإسناد مثله، وزاد وقضى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بين ناس من الانصار في قتيل ادعوه على اليهود "،وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَيْنَ نَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ "،
‏‏‏‏ ابن شہاب سے ایسی ہی روایت ہے اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کا حکم کیا درمیان انصاری کے ایک مقتول پر کہ جس کے قتل کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا یہود پر۔
حدیث نمبر: 4352
Save to word اعراب
وحدثنا حسن بن علي الحلواني ، حدثنا يعقوب وهو ابن إبراهيم بن سعد ، حدثنا ابي ، عن صالح ، عن ابن شهاب ، ان ابا سلمة بن عبد الرحمن ، وسليمان بن يسار اخبراه، عن ناس من الانصار ، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثل حديث ابن جريج.وحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَاهُ، عَنْ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.