سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
10. بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ
باب دن میں نفلی نماز کا وقت
ترقیم العلمیہ : 1833 ترقیم الرسالہ : -- 1857
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيٍّ حَدِّثْنَا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَمَنْ يُطِيقُهُ، قُلْنَا: حَدِّثْنَا بِهِ نُطِيقُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُمْهِلُ فَإِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَطَلَعَتْ فَكَانَتْ مِقْدَارُهَا مِنَ الْعَصْرِ مِنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ فِيهِنَّ بِالسَّلامِ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الضُّحَى فَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الظُّهْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ صَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهِنَّ مثل الْقَوْلِ الأَوَّلِ، ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهَا بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ" .
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں، تو انہوں نے فرمایا: ”ان کی طاقت کون رکھ سکتا ہے؟“ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کی کہ آپ ہمیں اس بارے میں بتائیں، جہاں تک ہماری طاقت ہو گی، ہم اتنے ادا کر لیا کریں گے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (نماز ادا کر لینے کے بعد) انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج بلند ہو جاتا اور مشرق کی سمت میں اتنا بلند ہو جاتا، جتنا عصر کے وقت (مغرب کی سمت میں بلند ہوتا ہے)، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت ادا کرتے، آپ ان کے درمیان فصل کرتے ہوئے فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مومنین اور مسلمانوں پر سلام بھیجتے، پھر اس کے بعد آپ انتظار کرتے رہتے، یہاں تک کہ چاشت کے وقت وہ اتنا بلند ہو جاتا کہ جتنی ظہر کے وقت مشرق کی سمت اس کی مقدار ہوتی، پھر آپ چار رکعت ادا کرتے، جن کے درمیان سابقہ طریقے کے مطابق فصل کرتے، پھر آپ انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جاتا، تو آپ چار رکعت نماز ادا کرتے اور ان میں آپ مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مومنوں اور مسلمانوں پر سلام فصل کرتے، اس کے بعد آپ ظہر کی نماز کے بعد دو رکعت (سنت) ادا کرتے اور اس کی مانند فصل کرتے، پھر آپ سے پہلے چار رکعات (سنت) ادا کرتے اور ان کے درمیان بھی اسی طرح فصل کرتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1857]
ترقیم العلمیہ: 1833
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1211، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 873، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 330، 333، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1272، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 424، 429، 598، 599، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1161، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4560، 4992، 4993، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1857، 1858، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1124، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 660»
«قال عبداللہ بن المبارک: ضعف هذا الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 137)»
«قال عبداللہ بن المبارک: ضعف هذا الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 137)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1834 ترقیم الرسالہ : -- 1858
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ أَبِي حَيَّةَ ، ثنا عِيسَى بْنُ يُوسُفَ بْنِ الطَّبَّاعِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟ قُلْنَا: مَا أَطَقْنَا، قَالَ:" كَانَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلِعِهَا قَدْرَ مَغْرِبِهَا صَلاةَ الْعَصْرِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ مَطْلِعِهَا قَدْرَ مَغْرِبِهَا صَلاةَ الظُّهْرِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الزَّوَالِ أَرْبَعًا وَبَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ وَقَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا" .
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”اس کی کون طاقت رکھتا ہے؟“ ہم نے عرض کی: ہم طاقت نہیں رکھتے (لیکن آپ ہمیں اس بارے میں بتائیں)، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے مقام سے اتنا دور ہو جاتا، جتنا عصر کے وقت غروب ہونے کی جگہ سے دور ہوتا ہے، اس وقت آپ دو رکعت نماز ادا کرتے، پھر آپ انتظار کرتے، یہاں تک کہ سورج طلوع ہونے کے مقام سے اتنا دور ہو جاتا، جتنا غروب ہونے کے مقام سے دور ہوتا (یعنی زوال کا وقت ہو جاتا)، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت سنت ادا کرتے، ظہر کے بعد آپ دو رکعت سنت ادا کرتے اور پھر سے پہلے چار رکعت ادا کرتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 1858]
ترقیم العلمیہ: 1834
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1211،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 873، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 330، 333، أبو داود فى ((سننه)) برقم: 1272، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 424، 429، 598، 599، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1161، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1858، 1857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 660»