Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ
باب چاند دیکھنے کی گواہی
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2185 ترقیم الرسالہ : -- 2211
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بِنْتَ الْحَارِثِ، بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ رَمَضَانُ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلالَ، فَقَالَ:" مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلالَ؟"، فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ، فَقَالَ:" لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ فَلا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلاثِينَ أَوْ نَرَاهُ"، فَقُلْتُ: أَوَلا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ قَالَ:" لا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
کریب بیان کرتے ہیں: سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا، وہ فرماتے ہیں: میں شام آیا، سیدہ ام الفضل کا کام پورا کیا، اسی دوران رمضان کا چاند نظر آ گیا، میں شام میں ہی موجود تھا، میں نے جمعے کی رات میں چاند دیکھا، پھر میں مہینے کے آخر میں مدینہ منورہ آیا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے بات چیت کی، پھر جب میں نے پہلی کے چاند کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے پوچھا: تم نے پہلی کا چاند کب دیکھا تھا؟ تو میں نے جواب دیا: میں نے اسے جمعہ کی رات میں دیکھا تھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم نے خود اسے دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں! اور لوگوں نے بھی اسے دیکھا تھا، میں نے روزہ بھی رکھا تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی روزہ رکھا تھا، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے تو اسے ہفتے کی رات دیکھا تھا اور ہم مسلسل روزے رکھیں گے، یہاں تک کہ تیس کی تعداد پوری کر لیں یا شوال کا چاند دیکھ لیں۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا چاند کو دیکھنا اور روزہ رکھنا کافی نہیں ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہی ہدایت کی ہے۔ یہ روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2211]
ترقیم العلمیہ: 2185
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1087، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1916، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2432، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2332، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 693، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8301، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2211، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2834، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 480، 481»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 127) برقم: (2211)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2186 ترقیم الرسالہ : -- 2212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ خَرَّزَاذَ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ:" أَصْبَحْنَا صَبِيحَةَ ثَلاثِينَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ رَجُلانِ يَشْهَدَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ، فَأَمَرَ النَّاسَ، فَأَفْطَرُوا" .
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: (رمضان کے مہینے میں) تیسویں دن کی صبح کی بات ہے، دو دیہاتی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کی گواہی دی کہ انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا: وہ روزہ ختم کریں اور عیدالفطر منائیں۔ باب رات کے وقت ہی (روزے کی) نیت کر لینا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2212]
ترقیم العلمیہ: 2186
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1107، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8286، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2212، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 997، وأخرجه الطبراني فى((الكبير)) برقم: 663»
«قال الدارقطني: فقال عن منصور عن ربعي أن أعرابيين شهدا مرسلا وخالفهم ابن عيينة من رواية إسحاق بن إسماعيل عنه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (6 / 182)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں