سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ
باب چاند دیکھنے کی گواہی
ترقیم العلمیہ : 2175 ترقیم الرسالہ : -- 2201
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، بِإِسْنَادِهِ مثل حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2201]
ترقیم العلمیہ: 2175
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 2176 ترقیم الرسالہ : -- 2202
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُسَدَّدٌ ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ ، قَالا: نا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ، فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ لأَهَلا الْهِلالَ أَمْسِ عَشِيَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا" . زَادَ خَلْفٌ: وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاهُمْ. هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ثَابِتٌ.
ربعی بن حراش ایک صحابی کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: رمضان کے آخری دن کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا، دو دیہاتی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دی کہ ان دونوں نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت کی: ”وہ روزہ توڑ دیں اور عیدالفطر منائیں۔“ خلف نامی راوی نے یہ بات اضافی نقل کی تھی: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی: لوگ عیدگاہ کی طرف (عید کی نماز کے لیے) آئیں۔“ یہ سند حسن ہے اور ثابت ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2202]
ترقیم العلمیہ: 2176
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 435، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2339، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8283، 8284، 8285، 8295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2194، 2202، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19126، 23538، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 662»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن ثابت، سنن الدارقطني: (3 / 123) برقم: (2202)»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن ثابت، سنن الدارقطني: (3 / 123) برقم: (2202)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 2177 ترقیم الرسالہ : -- 2203
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الصَّانِعُ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسَ ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عُمُومَتِهِ ، قَالُوا:" قَامَتِ الْبَيِّنَةُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَغْدُوا مِنَ الْغَدِ إِلَى عِيدِهِمْ" . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَمَا بَعْدَهُ أَيْضًا.
ابوعمیر بن انس اپنے چچاؤں کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ گواہی دی گئی کہ لوگوں نے چاند دیکھ لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا: ”وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن صبح عید کی نماز کے لیے جائیں۔“ یہ روایت حسن ہے اور اس کے بعد والی روایت بھی حسن ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2203]
ترقیم العلمیہ: 2177
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3456، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2521، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1556، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1768، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1157، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1653، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6372، 8292، 8293، 8294، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2203، 2204»
«قال الدارقطني: إسناده حسن، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 211)»
«قال الدارقطني: إسناده حسن، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 211)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 2178 ترقیم الرسالہ : -- 2204
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ . ح وَثنا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا أَبُو النَّضْرِ ، قَالُوا: ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُمَيْرِ بْنَ أَنَسٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ عُمُومَتِهِ مِنَ الأَنْصَارِ، وَقَالَ النَّضْرُ عَنْ عُمُومَةٍ لَهُ مِنَ الأَنْصَارِ" أَنَّهُمْ كَانُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَجَاءَ رَكْبٌ، فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ، فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرُوا، وَإِذَا أَصْبَحُوا أَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاهُمْ" .
ابوبشر بیان کرتے ہیں: میں نے ابوعمیر بن انس کو اپنے بعض چچاؤں کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے سنا ہے، ابونضرہ اپنے انصاری چچاؤں کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: وہ لوگ دن کے آخری حصے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے، کچھ سوار وہاں آئے اور انہوں نے گواہی دی کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ ہدایت کی: ”وہ روزہ توڑ دیں اور اگلے دن عیدگاہ کی طرف عید کی نماز کی ادائیگی کے لیے جائیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2204]
ترقیم العلمیہ: 2178
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3456، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2521، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1556، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1768، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1157، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1653، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6372، 8292، 8293، 8294، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2203، 2204»
«قال الدارقطني: إسناده حسن، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 211)»
«قال الدارقطني: إسناده حسن، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 211)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم العلمیہ : 2179 ترقیم الرسالہ : -- 2205
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أُخْتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ رَجُلا شَهِدَ عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَلَى رُؤْيَةِ هِلالِ رَمَضَانَ فَصَامَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَصُومُوا، وَقَالَ:" أَصُومُ يَوْمًا مِنْ شَعْبَانَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُفْطِرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ" . قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ لَمْ تَرَ الْعَامَّةُ هِلالَ رَمَضَانَ وَرَآهُ رَجُلٌ عَدْلٌ، رَأَيْتُ أَنْ أَقْبَلَهُ لِلأَثَرِ وَالاحْتِيَاطِ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ بَعْدُ: لا يَجُوزُ عَلَى رَمَضَانَ إِلا شَاهِدَانِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: لا أَقْبَلُ عَلَيْهِ إِلا شَاهِدَيْنِ، وَهُوَ الْقِيَاسُ عَلَى كُلِّ مَغِيبٍ.
فاطمہ بنت حسین بیان کرتی ہیں: ایک شخص نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے سامنے رمضان کا چاند دیکھنے کی گواہی دی، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: انہوں نے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا اور فرمایا: ”میں شعبان کے دن میں روزہ رکھ لوں، یہ میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں رمضان کے دن میں روزہ نہ رکھوں۔“ امام شافعی فرماتے ہیں: اگر عام لوگوں نے رمضان کا چاند نہ دیکھا ہو اور ایک عادل شخص اسے دیکھ لے، تو میں اس بات کو جائز دوں گا کہ میں اس کی گواہی قبول کر لوں، کیونکہ اثر سے بھی یہ بات منقول ہے اور احتیاط بھی اسی میں ہے، لیکن اس کے بعد امام شافعی نے یہ فتویٰ دیا: رمضان کے لیے کم از کم دو آدمیوں کی گواہی شرط ہے۔ امام شافعی اور ہمارے بعض اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے: میں اس بارے میں کم از کم دو آدمیوں کی گواہی قبول کروں گا، قیاس یہی ہے، ہر غائب چیز کے بارے میں گواہی کا یہی حکم ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2205]
ترقیم العلمیہ: 2179
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8079، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2205،»
ترقیم العلمیہ : 2180 ترقیم الرسالہ : -- 2206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، نا الرَّبِيعُ، قَالَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " مَنْ رَأَى هِلالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ رَأَى هِلالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلْيُفْطِرْ، وَلْيُخْفِ ذَلِكَ" .
امام شافعی فرماتے ہیں: ”جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے، تو وہ اس دن روزہ رکھے اور جو شخص شوال کا چاند دیکھ لے، وہ اس دن روزہ نہ رکھے اور اس بات کو مخفی رکھے (لیکن اس کی گواہی پر دوسرے لوگ روزہ رکھنے یا نہ رکھنے والے نہیں ہوں گے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2206]
ترقیم العلمیہ: 2180
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2206»
ترقیم العلمیہ : 2181 ترقیم الرسالہ : -- 2207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَرَى هِلالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ:" أَنَّهُ يَصُومُ لأَنَّهُ لا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُفْطِرَ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى هِلالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلا يُفْطِرُ، لأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا، ثُمَّ يَقُولُ أُولَئِكَ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ: قَدْ رَأَيْنَا الْهِلالَ" .
امام مالک بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے، تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اب اس کے لیے روزہ نہ رکھنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ یہ بات جانتا ہے، یہ دن رمضان کا حصہ ہے، جو شخص اکیلا شوال کا چاند دیکھ لے، وہ روزہ نہ چھوڑے، کیونکہ لوگ اس بارے میں اس پر الزام لگائیں گے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا، کیونکہ اس میں سے بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں، جو مامون نہیں ہوتے۔ پھر وہ یہ بات اس وقت بیان کرے، جب چاند لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ یہ کہیں: ہم نے چاند دیکھ لیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2207]
ترقیم العلمیہ: 2181
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2207»
ترقیم العلمیہ : 2182 ترقیم الرسالہ : -- 2208
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الْكِنْدِيُّ الصَّيْرَفِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ وَهُوَ الدَّالانِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلالَ ذِي الْحِجَّةِ قَمَرًا ضَخْمًا، الْمُقِلُّ يَقُولُ لِلَيْلَتَيْنِ، وَالْمُكْثِرُ يَقُولُ لِثَلاثٍ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ لَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلَهُ عَنْ يَوْمِ التَّرْوِيَةِ فَعَدّ لِي مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّا أَهْلَلْنَا قَمَرًا ضَخْمًا، فَقَالَ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَدَّهُ إِلَى رُؤْيَتِهِ" . هَذَا صَحِيحٌ وَمَا بَعْدَهُ.
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم نے ذوالحج کا چاند دیکھا، تو وہ ہمیں بڑا لگا، جس شخص نے اس کو کم قرار دیا تھا، اس نے دوسری رات کا چاند کہا اور جو زیادہ بیان کر رہا تھا، اس نے اسے تیسری رات کا چاند کہا، جب ہم مکہ آئے اور ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی، تو ہم نے جب ان سے یہ بیان کیا، تو انہوں نے ہمارے سامنے جو گنتی اس حساب تھی (جس میں ہم نے چاند دیکھا تھا)، میں نے ان سے کہا: ہم نے تو چاند کو بڑا دیکھا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند کے دیکھے جانے کے ساتھ (مہینے کے آغاز کو) مشروط کیا ہے۔“ یہ روایت اور اس کے بعد والی روایت مستند ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2208]
ترقیم العلمیہ: 2182
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2208، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2228»
«قال الدارقطني: هذا صحيح وما بعده، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2208)»
«قال الدارقطني: هذا صحيح وما بعده، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2208)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2183 ترقیم الرسالہ : -- 2209
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ رِفَاعَةَ أَبُو هِشَامٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، ثنا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بَطْنَ نَخْلَةَ رَأَيْنَا الْهِلالَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ لِثَلاثٍ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لِلَيْلَتَيْنِ، فَلَقِيَنَا ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلالَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ لِلَيْلَتَيْنِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لِثَلاثٍ، قَالَ:" أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ؟"، قُلْنَا: لَيْلَةَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" هُوَ لِلَّيْلَةِ الَّتِي رَأَيْتُمُوهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّهُ إِلَى الرُّؤْيَةِ" . وَهَذَا صَحِيحٌ.
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم لوگ عمرہ کرنے کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم نے بطن نخلہ میں پڑاؤ کیا، تو ہم نے چاند دیکھ لیا، بعض نے کہا: یہ دوسری کا چاند ہے اور بعض نے کہا: یہ تیسری کا چاند ہے، پھر ہماری ملاقات سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہوئی، ہم نے انہیں بتایا: ہم نے چاند دیکھا تھا، بعض نے کہا: دوسری رات کا چاند ہے اور بعض نے کہا: تیسری رات کا چاند ہے، انہوں نے کہا: تم نے کس رات میں اسے دیکھا تھا، تو ہم نے کہا: فلاں رات کو، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اسی رات کا ہے، جس رات میں تم نے دیکھا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حکم کو دیکھنے کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔“ یہ روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2209]
ترقیم العلمیہ: 2183
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1088، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1919، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2209، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9120، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 12687»
«قال الدارقطني: وهذا صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2209)»
«قال الدارقطني: وهذا صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 126) برقم: (2209)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2184 ترقیم الرسالہ : -- 2210
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَمَدَّهُ لَكُمْ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ" . وَهَذَا صَحِيحٌ.
ابوبختری بیان کرتے ہیں: ہم نے رمضان کا چاند دیکھا، ہم ذات عرق میں موجود تھے، ہم نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس دریافت کرنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”بیشک اللہ تعالیٰ اسے دیکھنے کے لیے تمہارے سامنے پھیلا دیتا ہے، اگر تم پر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تم تعداد پوری کر لو۔“ یہ روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2210]
ترقیم العلمیہ: 2184
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1088، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1915، بدون ترقيم، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8033، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2172، 2210، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3079، 3269، 3584، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 2844، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9121، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2533، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 3766»
«قال الدارقطني: وهذا صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 127) برقم: (2210)»
«قال الدارقطني: وهذا صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 127) برقم: (2210)»
الحكم على الحديث: صحيح