سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
12. بَابُ مَنْ قَدَّمَ شَيْئًا قَبْلَ شَيْءٍ فِي حَجِّهِ
باب: حج کے مسائل
ترقیم العلمیہ : 2541 ترقیم الرسالہ : -- 2575
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْأَلُ، فَيَقُولُ:" لا حَرَجَ"، فَقَالَ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، قَالَ:" لا حَرَجَ"، قَالَ: رَمَيْتُ بَعْدَمَا أَمْسَيْتُ، قَالَ:" لا حَرَجَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے شام کے بعد کنکریاں ماری ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2575]
ترقیم العلمیہ: 2541
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 84، 1721، 1722، 1723، 1734، 1735، 6666، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1307، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2950، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3069، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1983، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3049، 3050، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2571، 2572، 2574، 2575، 2576، 2754، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1882»
ترقیم العلمیہ : 2542 ترقیم الرسالہ : -- 2576
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي زُرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، فَقَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ"، قَالَ: إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ، قَالَ:" ارْمِ وَلا حَرَجَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے طواف زیارت کر لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اب کنکریاں مار لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے رمی کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اگر رمی کر لو، کوئی حرج نہیں ہے۔“ ایک شخص نے عرض کی: ”میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں ہے، تم اب رمی کر لو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2576]
ترقیم العلمیہ: 2542
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 84، 1721، 1722، 1723، 1734، 1735، 6666، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1307، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2950، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3069، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1983، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3049، 3050، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2571، 2572، 2574، 2575، 2576، 2754، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1882»