سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
18. بَابُ الْغُسْلِ لِلْمُحْرِمِ
باب: محرم کے لیے غسل کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2636 ترقیم الرسالہ : -- 2673
ثنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا يَحْيَى بْنُ حَكِيمِ الْمُقَوِّمِيُّ ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: اخْتَلَفَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فِي غَسْلِ الْمُحْرِمِ رَأْسَهُ فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَسْأَلُهُ كَيْفَ رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟" فَصَبَّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ، وَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا" .
ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا مسور بن مخرمہ کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ حالت احرام والا شخص اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ تو ان حضرات نے مجھے حصہ ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں یہ دریافت کروں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے دیکھا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کو حالت احرام میں دھو لیتے تھے (یا نہیں)، تو سیدنا ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اپنے سر پر پانی بہایا، اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے کی طرف لے کر گئے اور پیچھے سے واپس لے کر آئے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2673]
ترقیم العلمیہ: 2636
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1840، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1205، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 656، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2650، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3948، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5998، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2667، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1840، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1834، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2934، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 9224، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2673، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24012، 24031، 24062، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 383، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 13002»
ترقیم العلمیہ : 2637 ترقیم الرسالہ : -- 2674
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ الْكِنْدِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أُمُّهُ كَبْشَةُ بِنْتُ مَعْدِي كَرِبَ عَمَّةُ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، فَقَالَتْ أُمُّهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي آلَيْتُ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ حَبْوًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" طُوفِي عَلَى رِجْلَيْكَ سَبْعَيْنِ، سَبْعًا عَنْ يَدَيْكِ وَسَبْعًا عَنْ رِجْلَيْكَ" .
سیدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے ساتھ ان کی والدہ کبشہ بنت معدی کرب موجود تھیں، ان کی والدہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں نے یہ نذر مانی ہے، میں سیرین کے بیت اللہ کا طواف کروں گی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے پاؤں پر چل کر طواف کرو، سات مرتبہ اپنے دونوں ہاتھوں کی طرف سے اور سات مرتبہ دونوں پاؤں کی طرف سے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2674]
ترقیم العلمیہ: 2637
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم:2674»