سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
ترقیم العلمیہ : 4059 ترقیم الرسالہ : -- 4131
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُوسَى بْنُ عِيسَى بْنِ الْمُنْذِرِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، نَا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ:" أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثَ جَدَّاتٍ السُّدُسَ، اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ" .
سیدنا عبدالرحمن بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دادیوں اور نانیوں کو چھٹا حصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4131]
ترقیم العلمیہ: 4059
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12478، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4131»
«قال ابن الملقن: مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 211)»
«قال ابن الملقن: مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (7 / 211)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4060 ترقیم الرسالہ : -- 4132
قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: جَاءَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ، دُونَ أُمِّ الأَبِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَارِثَةَ، وَقَدْ كَانَ شَهِدَ بَدْرًا، أَوْ قَالَ مَرَّةً: رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ هِيَ لَمْ تَرِثْهَا،" فَجَعَلَهُ بَيْنَهُمَا" .
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ دو دادیاں (یا نانیاں یا دادی اور نانی) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دادی کی بجائے نانی کو وارث قرار دیا، تو عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: یہ غزوہ بدر میں شریک ہو چکے ہیں (راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں)، بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے یہ کہا: ”اے سیدنا ابوبکر! اے خلیفہ رسول! آپ نے وراثت اسے دے دی ہے کہ اگر یہ مر جاتی، تو (مرحومہ عورت) اس کی وارث نہ بنتی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں (دادی اور نانی) کو (مرحومہ عورت کا) وارث قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4132]
ترقیم العلمیہ: 4060
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1026، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 81، 82، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12471، 12472، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4132، 4133، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19084، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31942»
«قال ابن حجر: وهو منقطع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 186)»
«قال ابن حجر: وهو منقطع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 186)»
الحكم على الحديث: منقطع
ترقیم العلمیہ : 4061 ترقیم الرسالہ : -- 4133
قُرِئَ عَلَى أَبِي قُرِئَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ، حَدَّثَكُمْ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ جَدَّتَيْنِ أَتَيَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أُمَّ الأُمِّ، وَأُمَّ الأَبِ" فَأَعْطَى الْمِيرَاثَ أُمَّ الأُمِّ، دُونَ أُمِّ الأَبِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، أَخُو بَنِي حَارِثَةَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ أَعْطَيْتَ الَّتِي لَوْ أَنَّهَا مَاتَتْ لَمْ تَرِثْهَا، فَجَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ بَيْنَهُمَا" ، يَعْنِي: السُّدُسَ.
قاسم بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ایک دادی اور ایک نانی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آئیں، ایک نانی تھی اور ایک دادی تھی، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نانی کو وراثت ادا کرنے کا حکم دیا، دادی کے لیے حکم نہیں دیا، تو عبدالرحمن بن سہل، جو بنو حارثہ سے تعلق رکھتے تھے، ان سے کہا: ”اے خلیفہ رسول! آپ نے اسے ادائیگی کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر یہ مر جاتی، تو وہ مرحومہ اس کی وارث نہ بنتی۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ادائیگی کرنے کا حکم دیا (راوی کہتے ہیں:) یعنی چھٹے حصے کی ادائیگی کا حکم دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4133]
ترقیم العلمیہ: 4061
تخریج الحدیث: «منقطع، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1026، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 81، 82، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12471، 12472، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4132، 4133، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19084، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31942»
«قال ابن حجر: وهو منقطع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 186)»
«قال ابن حجر: وهو منقطع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 186)»
الحكم على الحديث: منقطع
ترقیم العلمیہ : 4062 ترقیم الرسالہ : -- 4134
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا الرَّمَادِيُّ ، نَا أَبُو مُجَاهِدٍ الْخُرَاسَانِيُّ اسْمُهُ هِشَامٌ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ أَعْطَى الْجَدَّةَ أُمَّ الأُمِّ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٍّ السُّدُسَ" .
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے نانی کو چھٹا حصہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، جبکہ اس سے نیچے کے مرتبے میں کوئی ماں موجود نہ ہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4134]
ترقیم العلمیہ: 4062
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1033، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6304، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2895، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12419، 12468، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4134، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31924»
«وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 180)»
«وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 180)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 4063 ترقیم الرسالہ : -- 4135
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْطَى الْجَدَّةَ السُّدُسَ" .
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی (یا دادی) کو چھٹا حصہ عطا کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4135]
ترقیم العلمیہ: 4063
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12469، 12470، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4135، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 448، 461، 464»
ترقیم العلمیہ : 4064 ترقیم الرسالہ : -- 4136
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَرَّثَ ثَلاثَ جَدَّاتٍ، اثْنَتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ" .
ابراہیم بن یزید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جدات کو وارث قرار دیا تھا، ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی (یعنی دو دادیاں تھیں اور ایک نانی تھی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4136]
ترقیم العلمیہ: 4064
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2977، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 79، 94، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12477، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4136، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19079، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31926، 31935، وأبو داود فى "المراسيل"، 355، 356»
«قال ابن حجر: سند مرسل، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 180)»
«قال ابن حجر: سند مرسل، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 180)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4065 ترقیم الرسالہ : -- 4137
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا بَحْرُ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ،" أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ إِذَا اسْتَوَيْنِ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأَبِ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأُمِّ" .
خارجہ بن زید اپنے والد سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: انہوں نے تین دادیوں، نانیوں کو وارث قرار دیا تھا، جبکہ وہ ایک ہی مرتبے کی تھیں، ان میں سے دو باپ کی طرف سے تھیں اور ایک ماں کی طرف سے تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4137]
ترقیم العلمیہ: 4065
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2982، 2983، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 84، 88، 92، 100، 101، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12411، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4137، 4138، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19090، 19099، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31937»
ترقیم العلمیہ : 4066 ترقیم الرسالہ : -- 4138
نَا نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ،" أَنَّهُ كَانَ يُوَرِّثُ ثَلاثَ جَدَّاتٍ، ثِنْتَيْنِ مِنْ قِبَلِ الأُمِّ، وَوَاحِدَةً مِنْ قِبَلِ الأَبِ" ، كَذَا قَالَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے تین دادیوں اور نانیوں کو وارث قرار دیا تھا، جن میں سے دو ماں کی طرف سے تھیں اور ایک باپ کی طرف سے تھی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4138]
ترقیم العلمیہ: 4066
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2982، 2983، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 84، 88، 92، 100، 101، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12411، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4137، 4138، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 19090، 19099، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31937»
ترقیم العلمیہ : 4067 ترقیم الرسالہ : -- 4139
نَا نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَابِرٍ الْقَطَّانُ ، نَا عُمَرُ بْنُ خَالِدٍ، نَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ مَرْوَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقَ ،" أَنَّهُ جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا" .
سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات گواہی دے کر کہتا ہوں کہ انہوں نے دادا کو باپ کا درجہ دیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4139]
ترقیم العلمیہ: 4067
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 3658، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8073، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2945، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4139، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16357، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31853، 31854»
ترقیم العلمیہ : 4068 ترقیم الرسالہ : -- 4140
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ، فَقَالَ زَيْدٌ:" لا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ؟"، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، وَقَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ، حَتَّى قَالَ:" فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ"، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مثلا: إِنَّمَا مَثَلُهُ مثل شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ، ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" .
عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں: سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، انہیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے، تو دیکھا) ان کا سر ایک کنیز کے ہاتھ میں ہے، جو ان کے بالوں کو کنگھی کر رہی ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اپنا سر الگ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے کنگھی کرنے دو۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے، میں آپ کے پاس آ جاتا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ایک کام سے آپ کے پاس آیا ہوں، میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔“ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں! اللہ کی قسم! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یا کمی کے مرتکب ہوں، یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے، جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے، اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے، تو میں اس کو مان لوں گا، ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہو گا۔“ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: ”میں تو یہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کر دو گے۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت آئے، جس وقت وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کر دے دیتا ہوں۔“ تو انہوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کر کے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا، اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے، جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے، اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے، پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے، وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے، اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے، تو پانی اس ٹہنی کی طرف آ جائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے، تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آ گئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی، پھر ارشاد فرمایا: ”زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے، میں اسے लागو کرتا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے دادا تھے، جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، انہوں نے اس کا سارا مال لے لیا، یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروا دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْفَرَائِضِِ/حدیث: 4140]
ترقیم العلمیہ: 4068
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8074، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12555، 12556، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4140، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37071»
«قال ابن حجر: الدارقطني بسند قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 19)»
«قال ابن حجر: الدارقطني بسند قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 19)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح