سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. توريث الجدات
تَوْرِيثُ الْجَدَّاتِ
ترقیم العلمیہ : 4068 ترقیم الرسالہ : -- 4140
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، نَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَأَذِنَ لَهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِ جَارِيَةٍ لَهُ تُرَجِّلُهُ فَنَزَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: دَعْهَا تُرَجِّلُكَ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" لَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ جِئْتُكَ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّمَا الْحَاجَةُ لِي إِنِّي جِئْتُكَ لِنَنْظُرَ فِي أَمْرِ الْجَدِّ، فَقَالَ زَيْدٌ:" لا وَاللَّهِ مَا تَقُولُ فِيهِ؟"، فَقَالَ عُمَرُ: لَيْسَ هُوَ بِوَحْيٍ حَتَّى نَزِيدَ فِيهِ وَنُنْقِصَ إِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ تَرَاهُ فَإِنْ رَأَيْتَهُ وَافَقْتَنِي تَبِعْتُهُ وَإِلا لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ فِيهِ شَيْءٌ، فَأَبَى زَيْدٌ فَخَرَجَ مُغْضَبًا، وَقَالَ: قَدْ جِئْتُكَ وَأَنَا أَظُنُّكَ سَتَفْرُغُ مِنْ حَاجَتِي، ثُمَّ أَتَاهُ مَرَّةً أُخْرَى فِي السَّاعَةِ الَّتِي أَتَاهُ الْمَرَّةَ الأُولَى فَلَمْ يَزَلْ بِهِ، حَتَّى قَالَ:" فَسَأَكْتُبُ لَكَ فِيهِ"، فَكَتَبَهُ فِي قِطْعَةِ قَتَبٍ وَضَرَبَ لَهُ مثلا: إِنَّمَا مَثَلُهُ مثل شَجَرَةٍ تُنْبِتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ فَخَرَجَ فِيهَا غُصْنٌ، ثُمَّ خَرَجَ فِي غُصْنٍ غُصْنٌ آخَرُ، فَالسَّاقُ يَسْقِي الْغُصْنَ فَإِنْ قَطَعْتَ الْغُصْنَ الأَوَّلَ رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الْغُصْنِ، وَإِنْ قَطَعْتَ الثَّانِي رَجَعَ الْمَاءُ إِلَى الأَوَّلِ، فَأُتِيَ بِهِ فَخَطَبَ النَّاسَ عُمَرُ، ثُمَّ قَرَأَ قِطْعَةَ الْقَتَبِ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَالَ فِي الْجَدِّ قَوْلا وَقَدْ أَمْضَيْتُهُ، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ أَوَّلَ جَدٍّ كَانَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ الْمَالَ كُلَّهُ مَالَ ابْنِ ابْنِهِ دُونَ إِخْوَتِهِ، فَقَسَمَهُ بَعْدَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" .
عقیل بن خالد بیان کرتے ہیں: سعید بن سلیمان نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی، انہیں اجازت مل گئی (وہ اندر آئے، تو دیکھا) ان کا سر ایک کنیز کے ہاتھ میں ہے، جو ان کے بالوں کو کنگھی کر رہی ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اپنا سر الگ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسے کنگھی کرنے دو۔“ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! آپ مجھے پیغام بھجوا دیتے، میں آپ کے پاس آ جاتا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں ایک کام سے آپ کے پاس آیا ہوں، میں دادا کے بارے میں حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔“ تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نہیں! اللہ کی قسم! آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس بارے میں کوئی وحی کا حکم تو ہے نہیں کہ ہم کسی اضافے یا کمی کے مرتکب ہوں، یہ تو ایک ایسا معاملہ ہے، جس میں تم نے اپنی رائے دینی ہے، اگر میں اس کے بارے میں یہ سمجھوں گا کہ تمہاری رائے میری رائے کے مطابق ہے، تو میں اس کو مان لوں گا، ورنہ تم پر اس بارے میں کوئی الزام نہیں ہو گا۔“ لیکن سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غصے کے عالم میں تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا: ”میں تو یہاں اس لیے آیا تھا کہ تم میرا مسئلہ حل کر دو گے۔“ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دوبارہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کے پاس اسی وقت آئے، جس وقت وہ پہلے دن آئے تھے اور ان کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرتے رہے، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس بارے میں آپ کو کچھ لکھ کر دے دیتا ہوں۔“ تو انہوں نے پالان کے ٹکڑے کے اوپر تحریر کر کے دیا اور اسے ایک مثال کے ذریعے واضح کیا، اس کی مثال ایک درخت کی طرح ہے، جو ایک ہی تنے کے اوپر اگتا ہے، اس میں سے ایک ٹہنی نکلتی ہے، پھر اس میں سے ایک اور ٹہنی نکلتی ہے، وہ تنا اس ٹہنی تک پانی کو پہنچاتا ہے، اگر پہلی ٹہنی کو کاٹ دیا جائے، تو پانی اس ٹہنی کی طرف آ جائے گا اور اگر دوسری کو کاٹ دیا جائے، تو پانی پہلی والی ٹہنی کی طرف چلا جائے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے لے کر آ گئے، تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کیا اور انہیں اس ٹکڑے پر لکھی ہوئی تحریر سنائی، پھر ارشاد فرمایا: ”زید نے دادا کے بارے میں جو بات کہی ہے، میں اسے लागو کرتا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ وہ پہلے دادا تھے، جن کے ساتھ یہ صورت حال پیش آئی، انہوں نے اس کا سارا مال لے لیا، یعنی اپنے پوتے کا مال لے لیا اور اس کی بہنوں کا (یعنی پوتیوں کا) مال نہیں لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد اس مال کو تقسیم کروا دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4140]
ترقیم العلمیہ: 4068
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8074، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12555، 12556، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4140، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37071»
«قال ابن حجر: الدارقطني بسند قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 19)»
«قال ابن حجر: الدارقطني بسند قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (12 / 19)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
زيد بن ثابت الأنصاري ← عمر بن الخطاب العدوي