سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. بَابُ
مکاتب کے احکام
ترقیم العلمیہ : 4139 ترقیم الرسالہ : -- 4213
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، نَا هَمَّامٌ ، نَا عَبَّاسٌ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلا عَشَرَةَ أَوَاقٍ فَهُوَ عَبْدٌ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ كَاتَبَ عَلَى مِائَةِ دِينَارٍ فَأَدَّاهَا إِلا عَشَرَةَ دَنَانِيرَ فَهُوَ عَبْدٌ" ، وَقَالَ الْمُقْرِئُ، وَعَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص ایک سو اوقیہ کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کرتا ہے اور دس اوقیہ کے علاوہ باقی سب ادائیگی کر دیتا ہے، تو وہ شخص غلام شمار ہو گا اور جو غلام ایک سو دینار کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کرتا ہے اور دس دینار کے علاوہ باقی سب ادائیگی کر دیتا ہے، تو وہ بھی غلام شمار ہو گا (یعنی پوری ادائیگی سے پہلے وہ آزاد نہیں ہو گا)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4213]
ترقیم العلمیہ: 4139
تخریج الحدیث: «إسناده منقطع، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 654، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4321، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2196، 2197، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3504، 3927، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1234، 1260، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4615، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2188، 2519،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3073، 4213، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6738، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21834، 22471»
«لم يصح فإنه منقطع الإسناد، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
«لم يصح فإنه منقطع الإسناد، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
ترقیم العلمیہ : 4140 ترقیم الرسالہ : -- 4214
نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا أَوْ مِيرَاثًا، وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عُتِقَ مِنْهُ، وَأُقِيمَ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِحِسَابِ مَا عُتِقَ مِنْهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کتابت کا معاہدہ کرنے والا شخص کسی قابل حد جرم کا ارتکاب کرے یا وراثت میں حصہ دار بن رہا ہو، تو جتنا حصہ اس کا آزاد ہوا ہے، اسی حساب سے وہ وراثت کا حق دار بنے گا اور جتنا حصہ اس کا آزاد ہوا ہے، اسی حساب سے اس پر حد جاری کی جائے گی۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4214]
ترقیم العلمیہ: 4140
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1055، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 674، 274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2882، 2883، 2884، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4812، 4813، 4814، 4816، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4581، 4582، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1259،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3448، 3449، 4214، 4216، 4217، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 734، 833، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28439»
«قال ابن حزم: في غاية الصحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
«قال ابن حزم: في غاية الصحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 4141 ترقیم الرسالہ : -- 4215
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ بِسَبْعِمِائَةِ دِرْهَمٍ، ثُمَّ قَدِمْتُ فَكَاتَبَتْنِي عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفِ دِرْهَمٍ فَأَدَّيْتُ إِلَيْهَا عَامَّةَ الْمَالِ، ثُمَّ حَمَلْتُ مَا بَقِيَ إِلَيْهَا، فَقُلْتُ: هَذَا مَالُكِ فَاقْبِضِيهِ، قَالَتْ: لا وَاللَّهِ حَتَّى أَجِدَهُ مِنْكَ شَهْرًا بِشَهْرٍ وَسَنَةً بِسَنَةٍ، فَخَرَجْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ارْفَعْهُ إِلَى بَيْتِ الْمَالِ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: هَذَا مَالُكِ فِي بَيْتِ الْمَالِ، وَقَدْ عُتِقَ أَبُو سَعِيدٍ، فَإِنْ شِئْتِ فَخِذِي شَهْرًا بِشَهْرٍ، أَوْ سَنَةً بِسَنَةٍ، قَالَ: فَأَرْسَلَتْ فَأَخَذَتْهُ" .
سعید بن ابوسعید مقبری اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: بنو لیث سے تعلق رکھنے والی ایک عورت نے ذوالمجاز کے بازار سے مجھے سات سو درہم کے عوض میں خرید لیا، پھر جب میں آیا، تو اس نے چالیس ہزار درہم کے عوض میں میرے ساتھ کتابت کا معاہدہ کر لیا، میں نے اس کی اکثر ادائیگی کر دی، جب کچھ ادائیگی باقی رہ گئی اور میں وہ لے کر اس کے پاس پہنچا اور اس سے کہا: ”تم اپنی یہ رقم لے لو۔“ تو وہ بولی: ”اللہ کی قسم! میں اسے یوں نہیں لوں گی، بلکہ ہر مہینے لیا کروں گی یا ہر سال لیا کروں گی۔“ میں اسے ساتھ لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم اسے بیت المال میں جمع کروا دو۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو بلوایا اور بولے: ”تمہارا مال بیت المال میں جمع ہے، ابوسعید آزاد ہو گیا ہے، اب تمہاری مرضی ہے، اگر تم چاہو، تو ہر مہینے اور ہر سال کے حساب سے بیت المال میں سے وصولی کر لیا کرو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: وہ اسے بھجوایا گیا، تو اس نے وصول کر لیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4215]
ترقیم العلمیہ: 4141
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21749، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4215»
ترقیم العلمیہ : 4142 ترقیم الرسالہ : -- 4216
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يُودِي الْمُكَاتَبُ بِقَدْرِ مَا عُتِقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ، وَبِقَدْرِ مَا رُقَّ مِنْهُ دِيَةَ الْعَبْدِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کتابت کا معاہدہ کرنے والا شخص جتنا آزاد ہو چکا ہو، اسی حساب سے آزاد شخص کی دیت ادا کرے گا اور جتنا حصہ اس کا غلام ہے، اس حساب سے غلام کی دیت ادا کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4216]
ترقیم العلمیہ: 4142
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1055، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 674، 274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2882، 2883، 2884، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4812، 4813، 4814، 4816، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4581، 4582، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1259،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3448، 3449، 4214، 4216، 4217، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 734، 833، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28439»
«قال ابن حزم: في غاية الصحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
«قال ابن حزم: في غاية الصحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 4143 ترقیم الرسالہ : -- 4217
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ ، نَا أَبُو فَرْوَةَ ، نَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، نَا حَجَّاجٌ الصَّوَّافُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُكَاتَبِ يَقْتُلُ يُودِي مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتَبَتِهِ دِيَةَ الْحُرِّ، وَمَا بَقِيَ دِيَةَ الْعَبْدِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکاتب شخص کے بارے میں یہ فیصلہ دیا تھا، جسے قتل کر دیا گیا ہو کہ اس نے اپنی مکاتبت کے معاہدے میں سے جتنی ادائیگی کی تھی، اس حساب سے اس کی دیت آزاد شخص کی دیت ہو گی اور جو ادائیگی باقی رہ گئی تھی، اس کے حساب سے اس کی دیت غلام کی دیت ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4217]
ترقیم العلمیہ: 4143
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1055، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 674، 274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2882، 2883، 2884، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4812، 4813، 4814، 4816، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4581، 4582، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1259،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3448، 3449، 4214، 4216، 4217، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 734، 833، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 28439»
«قال ابن حزم: في غاية الصحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
«قال ابن حزم: في غاية الصحة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (9 / 742)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 4144 ترقیم الرسالہ : -- 4218
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ أَبُو نَشِيطٍ ، نَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ لَهُ شَرِيكٌ فِي عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ فَأَعْتَقَ نَصِيبَهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ عِتْقَ مَا بَقِيَ فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ مِنْ حِصَصِ شُرَكَائِهِ، يُقَامُ قِيمَةُ عَدْلٍ، وَيُودِي إِلَى شُرَكَائِهِ قِيمَةَ حِصَصِهِمْ، وَيَعْتِقُ الْعَبْدَ وَالأَمَةَ إِنْ كَانَ فِي مَالِ الْمُعْتَقِ بِقِيمَةِ حِصَصِ شُرَكَائِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کا کسی غلام یا کنیز میں کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے حصے کو آزاد کر دے، تو اب اس پر لازم ہے کہ وہ غلام یا کنیز کے بقیہ مالکان کے حصوں میں سے بھی اسے آزاد کر دے، انصاف کے مطابق اس کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ اپنے شراکت داروں کی طرف سے اس کی ادائیگی کر دے گا، جو ان کے حصوں کی قیمت کے مطابق ہو گی، وہ اس غلام یا کنیز کو آزاد کر دے گا، لیکن یہ اس وقت ہے کہ جب آزاد کرنے والے شخص کے مال میں اتنا مال موجود ہو، جو اس کے شراکت داروں کے حصے کی قیمت کے برابر ہو۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4218]
ترقیم العلمیہ: 4144
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2491، 2503، 2521، 2522، 2523، 2523 م، 2524، 2525، 2553، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1501، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4315، 4316، 4317، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4712، 4713،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3940، 3946، 3947، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1346، 1347، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2528،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4218، 4219، 4225، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 404، 4537، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 686، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22148، 22149، 22284»
«قال ابن عدي: عبد الرحمن بن يزيد من جملة من يكتب حديثه من الضعفاء، الكامل في الضعفاء: (5 / 478)»
«قال ابن عدي: عبد الرحمن بن يزيد من جملة من يكتب حديثه من الضعفاء، الكامل في الضعفاء: (5 / 478)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4145 ترقیم الرسالہ : -- 4219
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْكَعْبِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ أُقِيمَ عَلَيْهِ قِيمَةُ عَدْلٍ فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ، وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ، إِنْ كَانَ مُوسِرًا، وَإِلا عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ، وَرَقَّ مَا بَقِيَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص کسی مشترکہ غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو اس غلام کی انصاف کے مطابق قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا اور پھر وہ شخص اپنے دیگر شراکت داروں کو ادائیگی کر دے گا اور غلام اس شخص کی طرف سے آزاد سمجھا جائے گا، اگر وہ شخص خوشحال ہو، ورنہ اس کی طرف سے وہ حصہ آزاد ہو گا، جو آزاد کیا تھا اور غلام کا بقیہ حصہ غلام رہے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4219]
ترقیم العلمیہ: 4145
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2491، 2503، 2521، 2522، 2523، 2523 م، 2524، 2525، 2553، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1501، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4315، 4316، 4317، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4712، 4713،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3940، 3946، 3947، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1346، 1347، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2528،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4218، 4219، 4225، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 404، 4537، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 686، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22148، 22149، 22284»
«قال ابن حزم: أقدم بعضهم فزاد هذه اللفظة ورق ما بقي وهي موضوعة مكذوبة لا نعلم أحدا رواه لا ثقة ولا ضعيف، البدر المني
«قال ابن حزم: أقدم بعضهم فزاد هذه اللفظة ورق ما بقي وهي موضوعة مكذوبة لا نعلم أحدا رواه لا ثقة ولا ضعيف، البدر المني
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4146 ترقیم الرسالہ : -- 4220
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ يُعْتِقُ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ، قَالَ: يَضْمَنُ" ، وَافَقَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ فَلَمْ يَذْكُرِ الاسْتِسْعَاءَ، وَشُعْبَةُ وَهِشَامٌ أَحْفَظُ مَنْ رَوَاهُ، عَنْ قَتَادَةَ. وَرَوَاهُ هَمَّامٌ فَجَعَلَ الاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ قَتَادَةَ، وَفَصَلَهُ مِنْ كَلامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، فَجَعَلَ الاسْتِسْعَاءَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَأَحْسَبُهُمَا وَهِمَا فِيهِ لِمُخَالَفَةِ شُعْبَةَ، وَهِشَامٍ، وَهَمَّامٍ إِيَّاهُمَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو غلام دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، ان میں سے ایک اپنے حصے کو آزاد کر دیتا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ’وہ شخص ضامن ہو گا۔‘“ ہشام نامی راوی نے اس کی موافقت کی ہے اور انہوں نے اس بات کا تذکرہ نہیں کیا کہ اس غلام سے مزدوری کروائی جائے گی۔ شعبہ اور ہشام، قتادہ کے حوالے سے روایات نقل کرنے میں دیگر راویوں سے زیادہ حافظ ہیں۔ ہمام نامی راوی نے اس روایت کو نقل کرتے ہوئے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ قتادہ نے یہ کہا: ”ایسے غلام سے مزدوری کروائی جائے گی۔“ انہوں نے قتادہ کے اس قول کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے الگ طور پر ذکر کیا ہے، جبکہ دیگر راویوں نے قتادہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ مزدوری کروانے کا حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس بارے میں ان راویوں کو وہم ہوا ہے، کیونکہ یہ روایت شعبہ اور ہشام کی نقل کردہ روایت کے مقابلے میں مختلف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4220]
ترقیم العلمیہ: 4146
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2492، 2504، 2526، 2527، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1502،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4318، 4319،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3934، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1348، 1348 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2527، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4220، 4221، 4222، 4223، 4224، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7586، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1124،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22147»
ترقیم العلمیہ : 4147 ترقیم الرسالہ : -- 4221
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مثل قَوْلِ شُعْبَةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں کہ یہ وہی روایت ہے، جس طرح شعبہ نے نقل کی ہے، انہوں نے اس کی سند میں نضر بن انس کا تذکرہ نہیں کیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4221]
ترقیم العلمیہ: 4147
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2492، 2504، 2526، 2527، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1502،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4318، 4319،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3934، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1348، 1348 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2527، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4220، 4221، 4222، 4223، 4224، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7586، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1124،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22147»
ترقیم العلمیہ : 4148 ترقیم الرسالہ : -- 4222
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، نَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ،" أَنَّ رَجُلا أَعْتَقَ شِقْصًا مِنْ مَمْلُوكٍ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِتْقَهُ، وَغَرَّمَهُ بَقِيَّةَ ثَمَنِهِ"، قَالَ قَتَادَةُ: إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتَسْعَى الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ. سَمِعْتُ النَّيْسَابُورِيَّ، يَقُولُ: مَا أَحْسَنَ مَا رَوَاهُ هَمَّامٌ وَضَبَطَهُ، وَفَصْلَ بَيْنَ قَوْلِ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَيْنَ قَوْلِ قَتَادَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے ایک غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کر دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے آزاد کرنے کو درست قرار دیا اور اسے اس غلام کی بقیہ قیمت بطور تاوان ادا کرنے کا حکم دیا۔ قتادہ کہتے ہیں: اگر شخص کے پاس مال موجود نہ ہو، تو اس غلام سے مزدوری کروائی جائے گی، تاہم اس بارے میں اسے مشقت کا شکار نہیں کیا جائے گا۔ نیشاپوری نے یہ بات بیان کی ہے کہ بہترین روایت وہ ہے، جسے ہمام نے نقل کیا ہے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان اور قتادہ کے قول کے درمیان فرق واضح کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 4222]
ترقیم العلمیہ: 4148
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2492، 2504، 2526، 2527، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1502،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4318، 4319،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3934، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1348، 1348 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2527، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4220، 4221، 4222، 4223، 4224، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7586، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1124،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22147»