🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب النُّذُورُ
باب: نذر کے مسائل
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4268 ترقیم الرسالہ : -- 4347
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، نَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ: أَرْبَعَةٌ لا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلا حَرَمٍ: الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُقَيْدٍ، وَمَقِيسُ بْنُ ضَبَابَةَ، وَهِلالُ بْنُ خَطَلٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
عمر بن عثمان اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا: ”چار لوگ ایسے ہیں، جنہیں میں ’حل‘ اور ’حرم‘ میں کسی بھی جگہ پر امان نہیں دوں گا: حویرث بن نقید، مقیس بن ضبابہ، عبداللہ بن خطل اور عبداللہ بن سعد۔“ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4347]
ترقیم العلمیہ: 4268
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 2684، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 18347، 18850، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2793، 4347، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 5529»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4269 ترقیم الرسالہ : -- 4348
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التِّرْمِذِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، وَعَدِيُّ بْنُ بَدَّاءٍ وَكَانَا يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ بِالتِّجَارَةِ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَتَمْتُمَا وَلا اطَّلَعْتُمَا، ثُمَّ عُرِفَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، فَقَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيِّ بْنِ بَدَّاءٍ وَتَمِيمٍ، فَقَدِمَ رَجُلانِ مِنْ أَوْلِيَاءِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا بِاللَّهِ أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ، فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تمیم داری اور عدی بن بداء تجارت کے لیے مکہ آیا جایا کرتے تھے، اسی دوران بنو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جا رہا تھا، اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہو گیا، جہاں کوئی مسلمان نہیں رہتا تھا، اس نے مرتے وقت ان دونوں کو وصیت کی کہ وہ اس کا مال اس کے گھر والوں تک پہنچا دیں، ان لوگوں نے اس میں سے چاندی کا ایک پیالہ روک لیا، جس پر سونے کا کام کیا گیا تھا۔ جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قسم اٹھانے کے لیے کہا اور فرمایا: ”تم اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ بات کہو کہ تم نے اس میں سے کچھ بھی نہیں چھپایا ہے اور تمہیں اس کے بارے میں کوئی علم بھی نہیں ہے۔“ اس کے بعد مکہ میں وہ پیالہ مل گیا، تو جس شخص کے پاس سے ملا، اس نے بتایا کہ ”میں نے یہ عدی بن بداء اور تمیم سے خریدا ہے۔“ تو سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے وارثوں میں سے دو آدمی آگئے، انہوں نے یہ قسم اٹھائی کہ ”یہ پیالہ سہم قبیلے کے اس شخص کا ہے اور ہم دونوں کی گواہی ان کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ سچی ہے، ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی ہے، ورنہ ایسی صورت میں ہمیں ظالم شمار کیا جائے۔“ چنانچہ ان وارثوں نے وہ پیالہ حاصل کر لیا اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4348]
ترقیم العلمیہ: 4269
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2780، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3606، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3060، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20691، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4348، 4349»
«قال النسائي: غريب وهو حديث ابن أبي زائدة، تهذيب الكمال: (18 / 310)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4270 ترقیم الرسالہ : -- 4349
نَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ مُسْلِمٍ الْوَشَّاءُ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُرَنِيُّ ، نَا أَبُو كُدَيْنَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" كَانَ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، وَعَدِيُّ يَخْتَلِفَانِ إِلَى مَكَّةَ، فَخَرَجَ مَعَهُمَا فَتًى مِنْ بَنِي سَهْمٍ فَتُوُفِّيَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مُسْلِمٌ، فَأَوْصَى إِلَيْهِمَا فَدَفَعَا تَرِكَتَهُ إِلَى أَهْلِهِ وَحَبَسَا جَامًا مِنْ فِضَّةٍ مُخَوَّصًا بِالذَّهَبِ، فَاسْتَحْلَفَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّهِ مَا كَتَمْتُمَا وَلا اطَّلَعْتُمَا، ثُمَّ وُجِدَ الْجَامُ بِمَكَّةَ، قَالُوا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْ عَدِيٍّ وَتَمِيمٍ، فَجَاءَ رَجُلانِ مِنْ وَرَثَةِ السَّهْمِيِّ فَحَلَفَا أَنَّ هَذَا الْجَامَ لِلسَّهْمِيِّ وَلَشَهَادَتُهُمَا أَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لِمَنِ الظَّالِمِينَ، فَأَخَذُوا الْجَامَ وَفِيهِمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ تمیم داری اور عدی مکہ آیا جایا کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کے ساتھ بنو سہم قبیلے کا ایک نوجوان جا رہا تھا، اس کا انتقال ایسی جگہ پر ہوا جہاں کوئی مسلمان موجود نہیں تھا، اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور ان دونوں نے اس کا ترکہ اس کے گھر والوں تک پہنچا دیا، البتہ ان دونوں نے چاندی سے بنا ہوا ایک برتن رکھ لیا جس پر سونے کا کام ہوا تھا (جب یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے اللہ کے نام پر حلف لیا کہ ”ہم نے کسی چیز کو چھپایا نہیں ہے اور ہم ایسی کسی چیز سے واقف نہیں ہیں۔“ پھر بعد میں وہ برتن مکہ میں مل گیا تو ان لوگوں نے بتایا: ہم نے تو یہ عدی اور تمیم سے خریدا ہے، تو اس سہم قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کے ورثاء میں سے دو شخص آئے اور انہوں نے یہ قسم اٹھائی کہ یہ برتن اس شخص کا ہے جو سہم قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور ان دونوں کی گواہی ان دوسرے دونوں کے مقابلے میں زیادہ حق دار ہے (یعنی سچی ہے) اور اگر ہم کوئی زیادتی کریں تو ہمارا شمار ظالموں میں ہو، پھر ان لوگوں نے اس برتن کو حاصل کر لیا، انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی: (لشھادتنا احق من شھادتھما وما اعتدینا)۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4349]
ترقیم العلمیہ: 4270
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2780، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3606، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3060، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20691، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4348، 4349»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4271 ترقیم الرسالہ : -- 4350
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا: نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا، فَقَالَ لِلْيَهُودِ:" مَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تُقِيمُوا عَلَيْهِمَا الْحَدَّ؟، فَقَالُوا: كُنَّا نَفْعَلُ إِذْ كَانَ ذَلِكَ فِينَا فَلَمَّا ذَهَبَ مُلْكُنَا فَلا نَجْتَرِئُ عَلَى الْفِعْلِ، فَقَالَ لَهُمُ: ائْتُونِي بِأَعْلَمَ رَجُلٍ فِيكُمْ، فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا، فَقَالَ لَهُمَا: أَنْتُمْ أَعْلَمُ مَنْ وَرَاءَكُمَا، قَالا: يَقُولُونَ، قَالَ: فَأَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أنزل التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى كَيْفَ تَجِدُونَ حَدَّهُمَا فِي التَّوْرَاةِ؟، فَقَالا: الرَّجُلُ مَعَ الْمَرْأَةِ زِنْيَةٌ، وَفِيهِ عُقُوبَةٌ، وَالرَّجُلُ عَلَى بَطْنِ الْمَرْأَةِ زِنْيَةٌ، وَفِيهِ عُقُوبَةٌ، فَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُدْخِلُهُ فِيهَا كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَ، قَالَ: ائْتُونِي بِالشُّهُودِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَةٌ فَرَجَمَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، تَفَرَّدَ بِهِ مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا، ان دونوں نے زنا کا ارتکاب کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا: ”تم لوگوں نے ان دونوں پر حد جاری کیوں نہیں کی؟“ یہودیوں نے کہا: ”ایسا ہم اس وقت کرتے کہ جب یہ ہماری ملکیت میں ہوتے، لیکن جب ہماری ملکیت ختم ہو گئی، تو اب یہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے سب سے بڑے دو عالموں کو میرے پاس لے کر آؤ۔“ تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ”صوریا“ کے دو بیٹوں کو لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”باقی سب لوگوں کے مقابلے میں تم زیادہ بڑے عالم ہو؟“ انہوں نے جواب دیا: ”لوگ یہی کہتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، جس نے سیدنا موسیٰ پر تورات نازل کی تھی، تم نے ان دونوں (مجرموں) کی سزا تورات میں کیا پائی ہے؟“ تو ان دونوں نے کہا: ”جو شخص کسی عورت کے ساتھ ہوتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے، جو شخص کسی عورت کے پیٹ پر نظر آتا ہے، اس کو سزا دی جاتی ہے، لیکن جب چار آدمی یہ گواہی دے دیں گے کہ انہوں نے اس شخص کو اس عورت کے اندر اپنی شرمگاہ کو داخل کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح سرمہ دانی کے اندر سلائی کو داخل کیا جاتا ہے (تو ان کو سنگسار کیا جائے گا)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہوں کو لے کر آؤ!“ پھر چار آدمیوں نے گواہی دی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو سنگسار کروا دیا۔ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4350]
ترقیم العلمیہ: 4271
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1701، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4452، 4455، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2328، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14671، 15383، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1331، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22207، 22210»
«قال الدارقطني: تفرد به مجالد عن الشعبي وليس بالقوي، سنن الدارقطني: (5 / 299) برقم: (4350)»

الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4272 ترقیم الرسالہ : -- 4351
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ قَرِينٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ الزَّرَّادُ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْمِصْرِيُّ ، قَالُوا: نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُجَاوِزُ لأُمَّتِي عَنِ الْخَطَأِ، وَالنِّسْيَانِ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا کے طور پر بھول کر اور زبردستی ہونے والے گناہوں سے درگزر کیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4351]
ترقیم العلمیہ: 4272
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 7219، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2817، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2045، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15198، 15199، 20070، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4351، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 765، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11274، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 2137»
«قال البيهقي: جود إسناد هذا الحديث بشر بن بكر وهو من الثقات، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 177)»

الحكم على الحديث:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4273 ترقیم الرسالہ : -- 4352
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُجَاوِزُ عَنْ أُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا، وَمَا أُكْرِهُوا عَلَيْهِ، إِلا أَنْ يَتَكَلَّمُوا بِهِ وَيَعْمَلُوا بِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اللہ تعالیٰ نے میری امت سے بھول چوک اور زبردستی کیے گئے گناہوں سے درگزر کیا ہے، خواہ وہ بھول کر کریں یا جان بوجھ کر اس پر عمل کریں (تو انہیں سزا نہیں ملے گی)۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4352]
ترقیم العلمیہ: 4273
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2528، 5269، 6664، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 127، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 898، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4334، 4335، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3435، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2209، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1183، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2040، 2044، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4352، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7588، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1207،وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18366»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4274 ترقیم الرسالہ : -- 4353
نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْهَيَّاجِ ، نَا أَبِي ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ ، وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ عَلَى مَقْهُورٍ يَمِينٌ" .
سیدنا واثلہ بن اسقع اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے ساتھ زبردستی ہو، اس پر یمین لازم نہیں ہوتی (یعنی اس پر قسم کا کفارہ لازم نہیں ہوتا)۔“ [سنن الدارقطني/ النُّذُورُ/حدیث: 4353]
ترقیم العلمیہ: 4274
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4353، انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں