🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب الْحُدُودُ كَفَّارَاتٌ لأَهْلِهَا:
باب: حد لگانے سے گناہ مٹ جاتا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4461
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ "،
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے ابوادریس خولانی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم مجلس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (موجود) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس بات پر میرے ساتھ بیعت کرو کہ تم لوگ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، زنا نہیں کرو گے، چوری نہیں کرو گے اور کسی زندہ (انسان) کو، جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے، ناحق قتل نہیں کرو گے۔ تم میں سے جس نے اس (عہد) کو پورا کیا، اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے سزا مل گئی تو وہ اس کا کفارہ ہے۔ جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اللہ نے (دنیا میں) اس کی پردہ داری کی تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر چاہے تو اسے معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4461]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے اس پر بیعت کرو کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور زنا نہیں کرو گے اور چوری نہیں کرو گے اور اللہ تعالیٰ نے جس جان کو محترم ٹھہرایا ہے، اس کو ناحق قتل نہیں کرو گے تو تم میں سے جو اس بیعت پر وفا کرے گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر ملے گا اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے اس پر سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اس پر اللہ نے پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے معاف کر دے اور چاہے اسے سزا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4462
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، فَتَلَا عَلَيْنَا آيَةَ النِّسَاءِ أَنْ لا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا سورة الممتحنة آية 12 الْآيَةَ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا: اس کے بعد آپ نے ہمارے سامنے عورتوں (کے احکام) والی (سورۃ الممتحنہ کی) یہ آیت تلاوت کی: کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4462]
امام صاحب ایک اور استاد کی سند سے زہری ہی کی مذکورہ بالا سند سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، جس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی بیعت پر یہ آیت ہمیں سنائی: وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4462]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4463
وحَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: " أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَخَذَ عَلَى النِّسَاءِ، أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا بَعْضًا، فَمَنْ وَفَى مِنْكُمْ، فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ وَمَنْ أَتَى مِنْكُمْ حَدًّا، فَأُقِيمَ عَلَيْهِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ ".
ابواشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے (اسی طرح) عہد لیا جس طرح آپ نے عورتوں سے عہد لیا تھا: ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے۔ تم میں سے جس نے ایفا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ایسا کام کیا جس پر حد ہے اور اس کو حد لگا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گی، اور جس کا اللہ نے پردہ رکھا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4463]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بھی اس طرح عہد لیا، جس طرح عورتوں سے لیا تھا کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی قرار نہ دیں، چوری نہ کریں، زنا نہ کریں، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں، ایک دوسرے پر بہتان اور الزام تراشی نہ کریں، تم میں سے جو اس عہد کا ایفا کرے گا اس کو اللہ کی طرف سے اجر ملے گا اور جس کسی نے قابل حد گناہ کا ارتکاب کیا اور اس پر حد جاری کر دی گئی ہو تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس کے جرم پر اللہ نے پردہ ڈالا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اگر وہ چاہے تو اسے سزا دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4463]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1709 ترقیم شاملہ: -- 4464
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي لَمِنْ النُّقَبَاءِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: " بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نُشْرِكَ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا نَنْتَهِبَ وَلَا نَعْصِيَ، فَالْجَنَّةُ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِكَ، فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَانَ قَضَاءُ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ "، وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ: كَانَ قَضَاؤُهُ إِلَى اللَّهِ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے (عبدالرحمان) صنابحی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں ان نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ اور کہا: ہم نے اس بات پر آپ کے ساتھ بیعت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے، زنا نہ کریں گے، چوری نہ کریں گے، کسی زندہ (انسان) کو ناحق قتل نہ کریں گے جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے، ڈاکے نہ ڈالیں گے اور نافرمانی نہ کریں گے۔ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو جنت ہے اور اگر ہم نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا۔ ابن رمح نے اس کا فیصلہ کے بجائے اس شخص کا فیصلہ اللہ عزوجل کے سپرد ہو گا کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4464]
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، میں ان فقہاء میں ہوں، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور انہوں نے بتایا، ہم نے (بعد میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر بیعت کی تھی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے، زنا نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے اور جس شخص کو اللہ نے قتل کرنا حرام ٹھہرایا ہے، ہم اس کو ناحق قتل نہیں کریں گے، ہم ڈاکہ نہیں ڈالیں گے اور ہم نافرمانی کا کام نہیں کریں گے، ہم نے اگر اس کی پابندی کی تو جنت ملے گی اور اگر ہم نے ان میں سے کسی جرم کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا، ابن رمح نے قضاء ذالك [صحيح مسلم/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4464]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1709
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں