🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِيمَا يَجُوزُ الِاسْتِجْمَارُ بِهِ وَمَا لَا يَجُوزُ
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ فَقَالَ: ( (الْتَمِسْ لِي ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ) ) قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ وَقَالَ: ( (إِنَّهَا رِكْسٌ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے اور فرمایا: میرے لیے تین پتھر تلاش کر کے لاؤ۔ پس میں دو پتھر اور ایک لید لے کر آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا: یہ گندی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 156، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3966 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3966»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پتھروں کے ساتھ استنجا کیا تھا، کیونکہ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ زیادتی ہے: ((اِئْتِنِیْ بِحَجَرٍ۔)) … ایک پتھر اور لے آ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 527
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَقَالَ: ( (ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَسْتَنْجِي بِهِ وَلَا تُقْرِبْنِي حَائِلًا وَلَا رَجِيعًا) )
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے کوئی ایسی چیز لے آؤ، جس سے میں استنجا کروں اور کسی بوسیدہ ہڈی اور لید کو میرے قریب نہ کرو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 527]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم، لكنه له شواهد صحيحة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4053»
وضاحت: فوائد: … حَائِل کا معنی بدل جانے والی چیز ہے، یہاں اس سے مراد وہ ہڈی ہے، جو اصلی حالت سے تبدیل ہو کر بوسیدہ ہو چکی ہو۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 528
وَعَنْهُ أَيْضًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ وَمَعَهُ عَظْمٌ حَائِلٌ وَبَعْرَةٌ وَفَحْمَةٌ فَقَالَ: ( (لَا تَسْتَنْجِيَنَّ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا، إِذَا خَرَجْتَ إِلَى الْخَلَاءِ) )
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں والی رات کو ان کے پاس آئے، جبکہ ان کے پاس بوسیدہ ہو جانے والی ہڈی، اونٹ کی مینگنی اور کوئلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو قضائے حاجت کے لیے جائے تو ان میں سے کسی چیز سے استنجا نہیں کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 528]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابوداود: 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4375»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 529
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِبَعْرَةٍ أَوْ بِعَظْمٍ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اونٹ کی مینگنی یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 529]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14668»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنَا دَاوُدُ وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: ثَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ وَلَكِنَّا قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: أُغْتِيَلَ؟ أُسْتُطِيرَ؟ مَا فَعَلَ؟ قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ: فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ فَقَالَ: ( (إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ فَأَتَيْتُهُمْ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ) ) قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا فَأَرَانِي آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ، قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: سَأَلُوهُ الزَّادَ، قَالَ ابْنُ أَبِي الزَّائِدَةَ: قَالَ عَامِرٌ: فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذِ الزَّادَ وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ فَقَالَ: ( (كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْ فَرْمَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا فَإِنَّهَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ) )
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا جنوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غار حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!، پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پر قرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرہ عرب کے جنوں میں سے تھے اور انہوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر ہڈی جس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ ایسی حالت میں لگے گی کہ اس پر بہت زیادہ گوشت ہو گا، (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 530]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4149»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ ان چیزوں سے استنجا کرنا منع ہے: ہڈی، مینگنی، لید، گوبر، کوئلہ۔ ہر خوب گوشت دار ہڈی، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس ہڈی پر گوشت پیدا کر دیتا ہے، جو جنات کھاتے ہیں، باقی مینگنی اور لید کو مطلق طور پر جنوں کے چوپائیوں کی خوراک قرار دیا گیا۔صحیح بخاری میں سیدناابوہریرہؓ سے مروی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗ قَدْ اَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبِیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی، یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں