الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي النَّهْيِ عَنِ الِاسْتِجْمَارِ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ
تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے نہی کا بیان
حدیث نمبر: 521
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ، إِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ: ( (لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ) )
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ مشرکوں نے ان سے مذاق کرتے ہوئے کہا: ”ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارا نبی تو تمہیں قضائے حاجت کے آداب کی بھی تعلیم دیتا ہے،“ انہوں نے آگے سے کہا: ”جی بالکل، بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا ہے کہ کوئی آدمی دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلہ رخ ہو کر قضائے حاجت کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لید اور ہڈی سے استنجا کرنے سے منع کیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’کوئی آدمی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔‘“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 262، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24109»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 522
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا اسْتَجْمَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَجْمِرْ ثَلَاثًا) )
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی پتھروں سے استنجا کرے تو وہ تین پتھر استعمال کرے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 239، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15370»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 523
عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْإِسْتِطَابَةَ، (وَفِي رِوَايَةٍ: الْإِسْتِنْجَاءَ) فَقَالَ: ( (ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ) )
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استنجے کا ذکر کیا اور فرمایا: ”تین پتھر ہوں اور ان میں لید نہ ہو۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 315، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22205»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 524
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِلْحَاجَةِ فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ فَإِنَّهَا تُجْزِئُهُ) )
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ تین پتھروں سے استنجا کیا کرے، پس بیشک یہ اس کو کفایت کریں گے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 40، والنسائي: 1/ 41، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24771 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25280»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 525
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا أَنَا لَكُمْ مِثْلُ الْوَالِدِ أُعَلِّمُكُمْ، فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَقْبِلُوهَا وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے والد کی طرح ہوں اور تمہیں اسی طرح تعلیم دیتا ہوں، پس جب کوئی آدمی قضائے حاجت کے لیے جائے تو نہ وہ قبلہ کی طرف منہ کرے اور نہ پیٹھ کرے اور کوئی آدمی تین پتھروں سے کم سے استنجا نہ کرے۔“ [الفتح الربانی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي۔ أخرجه ابوداود: 8، وابن ماجه: 312، وأخرجه مختصرا مسلم: 265، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7403»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں واضح طور پر تین پتھروں سے کم پر اکتفا کرنے سے منع کیا گیا ہے، اگر اس سے زیادہ پتھروں کی ضرورت پڑے تو بھی طاق کا خیال رکھا جائے۔ امام احمد اور امام شافعی نے کم از کم تین پتھروں کو واجب قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ اور امام مالک نے اس لحاظ سے عدد کا کوئی اعتبار نہیں کیا، البتہ طاق تعداد کا خیال رکھا ہے، وہ ایک ہو یا تین، لیکن ان احادیث ِ مبارکہ سے ان کی رائے کی تائید نہیں ہوتی۔
الحكم على الحديث: صحیح