الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابٌ فِي مَسْحِ الرَّأْسِ وَالْأُذُنَيْنِ وَالصُّدْغَيْنِ
سر، دونوں کانوں اور دونوں کنپٹیوں کے مسح کا بیان
حدیث نمبر: 670
عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا (قَالَتْ:) فَرَأَيْتُهُ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ مَجَارِيَ الشَّعْرِ مَا أَقْبَلَ مِنْهُ وَمَا أَدْبَرَ وَمَسَحَ صُدْغَيْهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس وضو کیا، وہ کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے سامنے والے اور پچھلے حصے پر اس طرح مسح کیا کہ جس سمت میں بال پڑے تھے، اسی سمت میں ہاتھ پھیر دیا اور اپنی کنپٹیوں اور کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے پر بھی مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 670]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل وقد انفرد به، واضطرب في متنه۔ أخرجه ابوداود: 129، والترمذي: 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27562»
وضاحت: فوائد: … مَجَارِی الشَّعْر کے معانی اس باب کی آخری حدیث کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 671
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْنَا لَهُ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ مَرْتَيْنِ بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: فِي جُحْرِ أُذُنَيْهِ)
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے برتن رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین بار وضو کیا اور دو دفعہ سر کا مسح اس طرح کیا کہ سر کے پچھلے حصے سے شروع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کانوں کے مسح کے دوران) کانوں میں اور ایک روایت کے مطابق کانوں کے سوراخوں میں انگلیاں ڈالیں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 671]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27558»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 672
(وَعَنْهَا أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى) قَالَتْ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَا بَقِيَ مِنْ وَضُوئِهِ فِي يَدَيْهِ مَرْتَيْنِ، بَدَأَ بِمُؤَخَّرِهِ ثُمَّ رَدَّ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَمَسَحَ أُذُنَيْهِ مُقَدَّمَهُمَا وَمُؤَخَّرَهُمَا
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے سر کا دو دفعہ مسح اس طرح کیا کہ پچھلے حصے سے شروع کر کے پیشانی کی طرف ہاتھوں کو لوٹایا اور کانوں کے اگلے اور پچھلے حصوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 672]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27556»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 673
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ عِنْدَهَا فَمَسَحَ الرَّأْسَ كُلَّهُ مِنْ فَوْقِ الشَّعْرِ كُلَّ نَاحِيَةٍ لِمُنْصَبِّ الشَّعْرِ لَا يُحَرِّكُ الشَّعْرَ عَنْ هَيْئَتِهِ
سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: بیشک رسول اللہ FRIEND صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں وضو کیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے سر کا اس طرح مسح کیا کہ اوپر سے جس طرف بال گر رہے تھے، اسی طرف ان کے اوپر ہاتھ پھیر دیے اور بالوں کو ان کی ہیئت اور کیفیت سے حرکت نہیں دی۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 673]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27564»
الحكم على الحديث: ضعیف